Al-Risala · February 1990

اعجب من كل ما رأينا ان وزيرين في بلاد

Al-Risala, February 1990, pp. 13–15

By Maulana Wahiduddin Khan

سب سے عجیب بات جو ہم نے دیکھی وہ یہ کہ ایک ملک میں دو وزیر ہیں ابن مقلہ کے یہ مناصب اس کے فن کی ترقی میں بے حد مددگار ثابت ہو سکتے تھے۔ اگر ان ملے ہوئے مواقع کو وہ فن تحریر اور اس سلسلے کی دوسری چیزوں کی ترقی اور تحقیق میں لگاتا تو نہ صرف یہ کہ عربی رسم الخط

بہت پہلے اپنے معراج کمال کو پہنچ جاتا، بلکہ ہو سکتا ہے کہ تحریر اور کتاب کے میدان کی بہت سی دوسری ایجادیں جو اس کے بہت بعد سامنے آئیں اسی کے زمانے میں وجود میں آگئی ہوتیں۔

مثال کے طور پر کاغذ ابن مقلہ سے آٹھ سو برس پہلے ۱۰۵ء میں چین میں ایجاد ہوا۔ اس کا ایجاد کرنے والا سائی لون تھا جو ابن مقلہ کی طرح چینی شہنشاہ ہوئی کا وزیر تھا۔ روسی ترکستان میں عربوں اور چینیوں کی جنگ میں کچھ چینی قیدی جو مسلمانوں کے ہاتھ آئے وہ کاغذ بنانا جانتے تھے۔ سمرقند میں ان سے کاغذ بنوایا گیا۔ کے بعد ۷۹۵ء میں دستی کاغذ کی صنعت بغداد میں قائم ہوئی۔ تاہم مشین کے ذریعے کاغذ بنانے کا کام پہلی بار ۱۶۵۰ء، ۱۶۶۱ء میں ہالینڈ میں کیا گیا۔ مسلسل رول کی شکل میں کاغذ بنانے کی صنعت ۱۴۹۸ء میں فرانس میں شروع

اسی طرح پرنٹنگ پریس پہلی بار غالباً چینیوں نے ۷۷۶ء میں دریافت کیا۔ یہ ابن مقلہ (۹۴۰-۸۸۵ء) کی پیدائش سے ۱۱۵ سال پہلے کا زمانہ تھا۔ پرنٹنگ کا قدیم ترین نمونہ اس سے بھی پہلے پانچویں صدی عیسوی کا چین میں دریافت ہوا ہے۔ یورپ میں ترقی یافتہ پرنٹنگ پریس ۱۵ ویں صدی میں گوٹن برگ نے بنایا اور بائبل تاہم مسلم دنیا میں پرنٹنگ پریس نپولین کے ذریعے ۱۷۹۸ء میں پہلی بار مصر پہنچا۔ ابن مقلہ جو نہ صرف فن تحریر کا ماہر رہتا بلکہ حیرت انگیز تخلیقی صلاحیت رکھتا تھا۔ اگر وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو اپنے میدان میں لگاتا تو کاغذ اور چھپائی اور اس طرح کی دوسری نعمتیں جو عالم اسلام کو بہت بعد کو ملیں، شاید ابن مقلہ کے زمانہ ہی میں وہ اس کو مل چکی ہوتیں۔ ابن مقلہ ہزار سال پہلے دنیا کو دور پریس میں داخل کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔ مگر وہ اس پر قانع نہ رہ سکا کہ اپنے آپ کو اپنے مخصوص میدان میں محدود وزارت کے ملے ہوئے مواقع کو وہ تحریر اور کاغذ اور چھپائی کی ترقی میں استعمال کر سکتا تھا۔ کے برعکس اس نے ان مواقع کو عزت و ناموری کی طرف چھلانگ لگانے کے لیے ایک زینہ کے طور پر اس کے نتیجہ میں وہ خود بھی برباد ہوا، اور ملت بھی اس قیمتی فائدہ سے محروم رہ گئی جو اس کی خداداد صلاحیت کے ذریعہ ملت کو پہنچ سکتا تھا۔

ابن مقلہ جب وزیر (یا وزیر اعظم) کے منصب پر پہنچ گیا تو اس کے لیے صحیح ترین بات یہ تھی کہ وہ اس اعلیٰ موقع کو تعمیری میدان میں استعمال کرے۔ مگر وہ حب جاہ کی اسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہو گیا جس میں اکثر وہ لوگ مبتلا ہو جاتے ہیں جن کو حالات کسی بلند مقام پر پہنچا دیں۔ اس کے فنی اور تعمیری حوصلے اب سیاسی

عزائم میں تبدیل ہو گئے ۔ خاموش خدمت میں مشغول رہنے کے بجائے اب وہ خفیہ قسم کی سیاسی اور فوجی تحریکوں کا لیڈر بن گیا۔ اب اس نے چاہا کہ حکومت کے نظام میں اپنے مفید مطلب انقلاب لائے۔ ایک خفیہ منصوبے کے تحت یہ کوشش شروع کر دی کہ خلیفہ قاہر باللہ کو تخت سے اتار کر ابو احمد بن مکتفی کو عباسی سلطنت کا تاج پہنایا جائے ۔

کسی چیز کی محبت آدمی کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے (حبک الشیئ یعمی ویصم) ابن مقلہ بھی اپنی ساری ذہانت کے باوجود اسی کمزوری کا شکار ہوا۔ وہ اپنے حالات کا اور اس کے مقابلے میں خلیفہ کی طاقت کا صحیح اندازہ نہ کر سکا ۔ چنانچہ راز کھل گیا ۔ ابن مقلہ پر یہ الزام لگا کہ اس نے فوجی سردار مونس خادم کے ساتھ مل کر قاہر باللہ کی حکومت کو ختم کرنے کی سازش کی تھی ۔

سازش کے انکشاف کے بعد ابن مقلہ کا گھر جلوا دیا گیا ۔ ابو احمد بن مکتفی کو دیوار میں چن دیا گیا۔ ابن مقلہ کی ذہانت اس کے کام آئی ۔ وہ فرار ہو کر بچ گیا اور اس کے بعد پانچ لاکھ دینار خلیفہ کو نذر کر کے دوبارہ وزارت حاصل کر لی ۔ مگر اس کے سیاسی عزائم نے دوبارہ اس کے لیے مسائل پیدا کئے ۔ تک کی راضی باللہ نے اس کو وزارت سے معزول کر کے اس کے گھر میں نظر بند کر دیا اور اس کا دایاں ہاتھ بلاشبہ یہ ایک سخت ترین سزا تھی جو کسی فن کار کو دی جاسکتی تھی۔ گھر کی قید میں جو اشعار وہ پڑھا کرتا تھا، اس میں سے ایک شعر یہ تھا :

Printed page