Al-Risala · February 1990

لیس بعد الیمین لذۃ عیش یا حیاتی بانت یمینی فبینی

Al-Risala, February 1990, pp. 15–16

By Maulana Wahiduddin Khan

دایاں ہاتھ کٹ جانے کے بعد زندگی میں کوئی لطف نہیں، اے میری زندگی جب میرا دایاں ہاتھ مجھ سے جدا ہو گیا تو تو بھی جدا ہو جا۔

ابن مقلہ کی غیر معمولی صلاحیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ جب اس کا دایاں ہاتھ کٹ گیا تو اس نے بائیں ہاتھ سے لکھنے کی مشق کی۔ یہاں تک کہ بائیں ہاتھ سے بھی وہ اتنا ہی اچھا لکھ لیتا تھا جیسا وہ دائیں ہاتھ سے لکھتا پھر اس نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ میں ایک قلم باندھا اور اس سے لکھنے لگا۔ کہا جاتا ہے کہ ہاتھ کٹنے سے پہلے کے خط اور ہاتھ کٹنے کے بعد کے خط میں کوئی تمیز نہیں کر سکتا تھا۔ یہ باکمال انسان اپنے گھر کے قید خانے میں ۵۶ سال کی عمر میں مر گیا۔ (ہٹی ، صفحہ ۴۴۷)

ابن مقلہ شاعر بھی تھا۔ اس نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کے ماتم میں بہت سے اشعار موزوں کیے ۔ وہ کہتا تھا :

وہ ہاتھ جس نے قرآن کے فلاں فلاں نسخے لکھے، جس نے رسول اللہ کی فلاں فلاں حدیثوں کی کتابت کی، جس نے مشرق اور مغرب میں احکام لکھ کر بھیجے، وہ چوروں کے ہاتھ کی طرح کاٹ دیا گیا۔

مگر اس دنیا میں اس قسم کے جذباتی الفاظ کی کوئی قیمت نہیں۔ ابن مقلہ کی غلطی یہ تھی کہ وہ قرآن اور حدیث لکھنے ہی پر نہیں رکا، اس نے حد سے نکل کر ایسے مقام پر اپنا ہاتھ ڈال دیا جو اس کا مقام نہ تھا۔ اور جو شخص اس طرح حد سے نکل جائے، اُس کا اس دنیا میں یہی انجام ہوتا ہے۔

ابن مقلہ مر گیا مگر اس کا کردار آج بھی زندہ ہے۔ آج بھی بہت سے لوگ ہیں جو عین ابن مقلہ کے راستہ پر چل رہے ہیں۔ وہ اپنے ملے ہوئے مواقع کو تعمیر ملت کی بجائے ذاتی جاہ کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ملت کی تاریخ تعمیر کی تاریخ بننے کے بجائے تخریب کی تاریخ بن رہی ہے۔ ماضی کے ابن مقلہ کو تاریخ معاف کر سکتی ہے، مگر حال کے "ابن مقلہ" جو اپنے مناصب کو تعمیری جدوجہد میں نہیں لگاتے بلکہ اشتہاری قسم کے ذاتی عزائم میں اپنے قیمتی مواقع کو برباد کر رہے ہیں، ان کے پاس دوسری بار اس اندوہناک غلطی میں مبتلا ہونے کا کیا عذر ہے۔ کیا انہیں یاد نہیں کہ مومن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ ایک بل سے دوبار نہیں ڈسا جاتا ( المومن لا يلدغ من جحر مرتين)

یہ ایک حقیقت ہے کہ بہترین صلاحیتیں ہمیشہ سیاسی عزائم میں برباد ہوئی ہیں۔ سیاست بازی کے کام میں عام طور پر وہی لوگ حصہ لیتے ہیں جو قدرت سے اعلیٰ صلاحیت لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ وہ اپنی اعلیٰ صلاحیت کو کسی تعمیری خدمت میں لگانے کے بجائے سیاسی حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی کوشش میں لگ اس کے نتیجہ میں بے شمار انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ بے شمار اقتصادی وسائل برباد ہوتے اور عملاً اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ کچھ لوگوں کو لیڈرانہ شہرت حاصل ہو جائے اور عوام کے حصہ میں صرف یہ نتیجہ آئے کہ ایک "ظالم" کی جگہ دوسرا ظالم "تخت سلطنت پر بیٹھ گیا ہو۔

تاریخ میں کوئی مثال نہیں ہے کہ مقابلہ آرائی کی سیاست سے کبھی کوئی حقیقی نتیجہ برآمد ہوا ہو۔ کو اٹھانے کا راز یہ ہے کہ قوم کے رہنما اپنے سیاسی جھنڈے کو نیچا کر لیں۔ انفرادی حوصلوں کا بیج " جہاں زمین میں دفن ہوتا ہے وہیں سے قومی مستقبل کا شاندار درخت" اگتا ہے۔ آج ہماری تاریخ کو اسی قسم کی نفسیاتی شہادت کا انتظار ہے نہ کہ جسمانی قتل اور ہلاکت کا۔

Printed page