Al-Risala · February 1990

Our wondrous Brain

Al-Risala, February 1990, pp. 18–19

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مضمون کے مرتب یو ایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ کے سینیر ایڈیٹر مسٹر ولیم ایف آل مین (William F. Allman) ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ دماغی تحقیق کا کام موجودہ زمانہ میں اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب اس کی ایک علیحدہ علمی شاخ وجود میں آچکی ہے جس کو دماغ کی سائنس (Brain science) کہا جاتا ہے۔ اس سائنس کے تحت جو بے شمار نئی معلومات سامنے آئی ہیں وہ ایک قسم کے انفجار کی حیثیت

ایک سائنس داں نے دماغ کو فکری انجن (Engine of thought) سے تعبیر کیا ہے۔ یہ تعبیر بے حد ناقص ہے ۔ کیونکہ دماغ کے ایک لاکھ ملین نیوران (100,000 million neurons) جس طرح متحدہ طور پر کام کرتے ہیں، اور ایک لمحہ کے اندر اشیاء کے مابین تمیز کر لیتے ہیں، وہ کوئی بڑی سے بڑی امکانی مشین بھی نہیں کر سکتی۔ اپنی حیرت ناک کارکردگی کے اعتبار سے ایک فرد واحد کا دماغ دنیا کی تمام مشینوں اور تمام کمپیوٹروں پر بھاری ہے :

An explosion of recent findings in brain science — aided by new computer programs that can simulate brain cells in action — is now revealing that the brain is far more intricate than any mechanical device imaginable اس سلسلہ میں جدید تحقیقات کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے آخر میں مضمون نگار نے لکھا ہے کہ اگرچہ بیسویں صدی کے سائنس دانوں نے اس بات کی کافی کوشش کی کہ وہ ایسی مشینیں بنائیں جو انسانی دماغ جیسا کام کر سکیں۔ مگر انتہائی طاقتور قسم کا سپر کمپیوٹر بھی ابھی تک انسانی دماغ سے بہت پیچھے ہے : Though 20th-century scientists have tried to make machines that mimic the brain’s functioning, even the most powerful supercomputer falls far short of the real thing (p. 28). انسانی دماغ طاقت کا اتھاہ خزانہ ہے۔ یہ خزانہ ہر آدمی کو پیدائشی طور پر حاصل ہے۔ وہ کسب اور

کوشش کے بغیر ہر آدمی کو اپنے آپ ملا ہوا ہے۔ دماغ کے ہوتے ہوئے کوئی بھی شخص مفلس نہیں ، کوئی بھی شخص دوسروں سے کمزور نہیں ، خواہ ظاہری سامان کے اعتبار سے وہ کتناہی زیادہ مفلس اور کمزور دکھائی دیتا ہو۔ دماغ کی صورت میں سب سے زیادہ طاقت ور مشین آپ کے پاس موجود ہے، ایسی مشین جس کے مثل کوئی دوسری چیز ساری معلوم کائنات میں کہیں موجود نہیں۔ اس طاقت ور مشین خزانہ کو استعمال کیجئے، اس کے اندر چھپے ہوئے امکانات کو بر روئے کار لانے کی کوشش کیجئے ۔ اور پھر کبھی آپ کو ناکامیابی کی شکایت نہ ہوگی۔

دنیا میں کسی بھی شخص نے جو بھی ترقی یا کامیابی حاصل کی ہے ، وہ اسی دماغ کی طاقت کو استعمال کر کے حاصل کی ہے۔ فطرت کی دی ہوئی یہی عظیم طاقت آپ کے پاس بھی موجود ہے۔ امکانی طور پر آپ بھی عین اسی ترقی کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں جہاں کوئی بھی شخص کبھی پہنچنا ہے۔ پھر مایوسی کیوں اور شکایت اپنے امکان کو واقعہ بنائیے۔ کامیابی کی ہر بلندی اس انتظار میں ہے کہ آپ وہاں پہنچیں اور اپنے آپ کو اس کے اوپر کھڑا کر دیں۔

Printed page