Al-Risala · February 1990

رحمت للعالمين

Al-Risala, February 1990, pp. 25–33

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں رحمتہ للعالمین (سارے عالم کے لئے رحمت) کہا گیا اسی بات کو خواجہ الطاف حسین حالی نے اپنی مسدس میں اس طرح نظم کیا ہے: وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا پیغمبر اسلام رحمت کا اعلیٰ ترین نمونہ تھے۔ ایک مورخ کے الفاظ میں، رحمت آپ کی شخصیت کو سمجھنے کی کنجی ہے۔ آپ کا تمام قول اور تمام عمل جس بنیادی اصول کے ماتحت ہوتا تھا وہ یہی رحمت کا پہلو آپ وہی بات بولتے تھے جس میں انسانوں کے لئے رحمت کا سامان ہو۔ آپ اسی طریقہ کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کرتے تھے جو انسانی معاشرہ میں رحمت والا نتیجہ پیدا کرے۔ آپ جس دین کو لائے اس کی بابت قرآن میں یہ الفاظ ہیں کہ اللہ اس دین کے ذریعہ لوگوں کو سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ اسی لئے آپ کے لائے ہوئے دین کا نام اسلام قرار پایا جس میں سلامتی کا مفہوم شامل ہے۔ آپ مکمل سلامتی تھے اور آپ نے لوگوں کو سلامتی کی طرف دعوت دی۔ آپ نے انسان کو جس جنت کا طالب بننے کی دعوت دی، اس کی تصویر قرآن میں یہ ہے کہ اس میں کوئی لغو بات یا گناہ کی بات نہ ہوگی۔ وہاں ہر طرف صرف سلامتی کا قول سنائی دے گا۔ آپ نے لوگوں کو بتایا کہ اگر تم موت کے بعد والی دنیا میں جنت کے ماحول میں رہنا چاہتے ہو تو موت سے پہلے کی زندگی میں تم کو لغو باتوں اور گناہ والے کاموں سے بچنا ہوگا۔ تم کو دنیا کے لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ تمہارے دل میں لوگوں کے لئے سلامتی اور خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اگر تم نے اپنے بارہ میں اس اخلاقی صفت کا حامل ہونے کا ثبوت نہیں دیا تو تم جنت کی نفیس آبادیوں میں بسائے جانے کے لئے نااہل ٹھہرو گے۔

آپ نے انسان کو یہ تعلیم دی کہ جب ایک آدمی دوسرے آدمی سے ملے تو وہ اس سے کہے: السلام علیکم ورحمۃ اللہ (تمہارے اوپر اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو)، یہ صرف ایک لفظی کلمہ نہیں، بلکہ یہ دوسرے کے بارہ میں اپنے دل کی کیفیت کا اظہار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کہنے والا یہ کہہ رہا ہے کہ تمہارے لئے میرے دل میں صرف سلامتی کا جذبہ ہے۔ میں تمہارا اتنا زیادہ خیر خواہ ہوں کہ

میرے دل سے تمہارے لئے امن و عافیت کی دعائیں نکلتی ہیں۔ مجھ سے تم کوئی اندیشہ محسوس نہ کرو، بلکہ میری طرف سے مامون رہو۔ کیوں کہ مجھ سے تم کو سلامتی اور رحمت کے سوا کوئی اور تجربہ ہونے والا

آپ نے لوگوں کو تلقین کی کہ ہر شخص دوسروں کے لئے نفع بخش بننے کی کوشش کرے، اگر وہ نفع بخش نہ بن سکے تو وہ اس کے حق میں اچھی بات کہے۔ اگر یہ بھی اس کے بس میں نہ ہو تو وہ کم از کم یہ کرے کہ وہ اپنے شر سے دوسروں کو بچائے۔ آپ نے راستہ سے پتھر یا کانٹا ہٹانے کو بھی ایمان کا جزو قرار دیا۔

آپ نے اپنے پیروؤں کے لئے جو عبادتی احکام مقرر کئے، ان میں سے ایک زکواۃ ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی کمائی کا ایک حصہ ہر سال دوسرے حاجت مندوں کو دیا جائے۔ یہ گویا مال کے ذریعہ اس بات کی تصدیق کرنا ہے کہ میں سنجیدگی کی حد تک دوسروں کا خیر خواہ ہوں۔ انسانی اخلاقیات کی بنیاد آپ نے جس اصول پر رکھی وہ یہ تھا کہ ــــــــــ دوسروں کے لئے بھی وہی پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ یہ اصول پوری سماجی زندگی کے لئے رحمت ہے۔ ہر آدمی کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہوتی ہے کہ اس کو کیا چیز پسند ہے اور کیا چیز ناپسند۔ مثلاً ہر آدمی چاہتا ہے کہ مجھ سے محبت کی جائے، مجھ سے نفرت نہ کی جائے۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ امانت داری کا معاملہ کیا جائے، اس کے ساتھ دغا بازی کا معاملہ نہ کیا جائے۔ ہر آدمی کو پسند ہے کہ لوگ اس سے میٹھا بول بولیں، کڑوا بول نہ بولیں۔ بس پسند اور ناپسند کا یہی معاملہ ہر آدمی دوسرے کے ساتھ بھی کرنے لگے۔ اگر ہر آدمی ایسا کرے کہ دوسروں کے ساتھ وہ وہی سلوک کرے جو سلوک وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے تو سارا سماج امن اور سلامتی کا گہوارہ بن جائے۔

آپ نے لوگوں کو جن باتوں کی تعلیم دی، ان میں سے ایک اہم تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے ساتھ برا سلوک کرے، تب بھی تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ تم لوگوں کے ساتھ برابر کا اخلاق نہ برتو بلکہ بر تر اخلاق کا طریقہ اختیار کرو۔ دوسروں کے ساتھ تمہارابرتاؤ ان کے عمل کے رد عمل میں نہ ہو، بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی روشنی میں ہو۔

اس تعلیم میں بہت بڑی حکمت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی کا یہی واحد راز

یہاں دوسروں کی طرف سے بدی کا تجربہ پیش آنے کے باوجود ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا پڑتا جو لوگ ”باوجود“ کے اس اصول کو نہ مانیں وہ اس دنیا میں کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے، وہ کبھی اس اعلیٰ اخلاقی رویہ پر قائم نہیں رہ سکتے، جس کا انھوں نے اپنی زبان سے اقرار

موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں ہر آدمی آزاد ہے۔ ہر آدمی کو کھلا موقع حاصل ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ اس صورت حال کا یہ نتیجہ ہے کہ اس دنیا میں ایسا نہیں ہو سکتا کہ تمام لوگ ایک جیسے ایسی یکسانیت پتھر کے بنے ہوئے مجسموں میں ہو سکتی ہے مگر زندہ انسانوں میں ایسی یکسانیت

اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے ایک کو دوسرے سے شکایت ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر لوگوں کا نظریہ یہ ہو کہ جو شخص ہم سے اچھا سلوک کرے، اس کے ساتھ ہم اچھا سلوک کریں گے، اور جو شخص ہم سے برا سلوک کرے، اس کے ساتھ ہم بھی برا سلوک کریں گے۔ اگر یہ نظریہ ہو تو سماجی زندگی میں کبھی امن و سلامتی کا ماحول قائم نہیں ہو سکتا۔ لئے آپ نے کہا کہ لوگوں کی برائی کے باوجود تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ دوسروں سے تم کو ظلم کا تجربہ ہو تب بھی تم ان کے ساتھ ظلم نہ کرو۔

اس اخلاق کو قرآن میں خلق عظیم (برتر اخلاق) کہا گیا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات بتاتے ہیں کہ آپ اس برتر اخلاق کا کامل نمونہ تھے۔

اس برتر اخلاق پر قائم ہو نا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لئے ایک برتر مقصد کا ہونا ضروری ہے آپ نے لوگوں کو ایک انتہائی اعلیٰ اور پاکیزہ مقصد دیا ، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جن لوگوں کے دل میں یہ برتر مقصد پوری طرح بیٹھ جائے وہ اسی کے ساتھ ضرور اعلیٰ اخلاق والے بن جائیں گے۔ یہ برتر مقصد خدا کی معرفت ہے۔ اپنے آپ کو خدا تک پہنچانا ہے۔ اپنے آپ کو خدا کے قریب کرنا جو لوگ اس مقصد کی اہمیت کو سمجھیں اور صحیح معنوں میں اللہ کے طالب بن جائیں، ان کی نظروں ہر دوسری چیز ہیچ ہو جائے گی۔ کڑوے بول کو سہنا، نقصان کو برداشت کرنا، وقار کھو نے کو گوارا کر لینا،

اور اونچی سطح پر جئے وہ کبھی چھوٹی باتوں کی پروا نہیں کرتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمۃ للعالمین ہونے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ معلوم تاریخ میں پہلی بار آپ نے جنگ اور صلح کا صحیح انسانی اصول مقرر کیا اور اس پر خود عمل فرمایا۔ آپ نے جارحانہ جنگ کو مطلق طور پر ممنوع قرار دیا۔ آپ نے بتایا کہ جنگ صرف اس وقت کی جائے جب کہ دفاعی طور پر جنگ لڑنے کی ضرورت پیش آجائے۔ یعنی اپنی طرف سے کبھی جنگ میں پہل نہ کی جائے۔ البتہ اگر دوسرا فریق جارحیت کر دے تو اس سے بچاؤ کے لئے لڑا جاسکتا ہے۔ دوسرا ضروری اصول آپ نے یہ مقرر کیا کہ جنگ کے مقابلہ میں امن ہر حال میں بہتر اور مطلوب اس لئے جنگ پیش آجانے کی صورت میں بھی مسلسل امن کی تلاش جاری رکھی جائے۔ فریق ثانی صلح پر آمادہ ہو تو فوراً جنگ کو ختم کرکے اس سے صلح کر لی جائے ، خواہ یہ صلح خود فریق ثانی کی یک طرفہ شرط پر کیوں نہ ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام اصولوں کے نہ صرف داعی تھے بلکہ وہ ان کے عامل بھی تھے۔ آپ نے ان تمام اصولوں پر انتہائی اعلیٰ اور معیاری صورت میں عمل فرمایا ، حتی کہ آپ کی زندگی ہمیشہ کے لئے ان تمام اصولوں کا معیاری عملی نمونہ قرار پائی۔ آپ کا کلام بھی سراسر رحمت تھا اور آپ کی زندگی بھی سراسر رحمت۔

نمبر ۱ ایمان نمبر ۵ تعمیر ملت نمبر ۲ اسلامی دعوت کے جدید امکانات نمبر ۶ سنت رسول نمبر ۳ اسلامی اخلاق نمبر ۷ میدان عمل نمبر ۴ اتحاد نمبر ۸ پیغمبرانہ رہنمائی (زیر تیاری)

(ہدیہ فی کیسٹ ۲۵ روپیہ)

اس دنیا میں زندگی کی صورت صرف ایک ہے۔ ممکن (Possible) پر راضی ہو کر اس کو وقفہ عمل کے طور پر استعمال کرنا، تاکہ مستقبل میں ناممکن (Impossible) تک پہنچنے کی راہ ہموار ہو سکے۔ پر راضی ہونے سے ناممکن ملتا ہے۔ جو شخص ممکن پر راضی نہ ہو اس کا سفر ہی شروع نہ ہوگا۔ پھر وہ کسی منزل تک کس طرح پہنچ سکتا ہے۔

۲۴ ستمبر کی شام کو کانفرنس کے تمام شرکاء خصوصی ہوائی جہاز کے ذریعہ لے جائے گئے۔ وہاں انھوں نے رات کا کھانا کھایا اور صدر قذافی سے ان کی ملاقات ہوئی۔ تاہم میں طبیعت کی خرابی کی بنا پر بن غازی نہ جا سکا اور اس پروگرام میں شرکت نہ کر سکا۔ اس اجتماعی ملاقات کا اہتمام معمرقذافی کے روایتی خیمہ میں کیا گیا تھا۔ اس خیمہ کو اور وہاں کے آداب کو اس سے پہلے میں دیکھ چکا ہوں۔ عربی کی ایک مثل ہے: خَالِفْ تُعْرَفْ رواج کے خلاف کام کرو، تم مشہور ہو جاؤ گے۔ قذافی اس اصول کی دلچسپ مثال ہیں۔ وہ اپنے کو ”فرزند صحرا“ کہتے ہیں اور اکثر حالات میں وہ اس مثل کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں بلغراد (Belgrade) میں ناوا بستہ ممالک (NAM) کی نویں اس موقع پر معمر قذافی اس طرح پہنچے کہ وہاں ان کے لئے چار اونٹ، دو عربی گھوڑے اور اسی کے ساتھ ان کا مخصوص عربی خیمہ بھی لے جایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چیزوں کے ذریعہ انہیں بلغرادمیں قیام کے دوران سادگی کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ معمر قذافی ہر روز صبح کو اونٹ کا دودھ ایک گلاس پیتے ہیں۔ اس کو وہ حیات بخش اور اکسیر سمجھتے ہیں۔ ان کی قیام گاہ باب العزیزی کے پاس ہر وقت کچھ اونٹ چرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

سری لنکا کے ڈاکٹر محمد شکری (۴۸ سال)، سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے مسلم ڈویلپمنٹ بنک جدہ کے تعاون سے کولمبو میں ایک بڑا تعلیمی ادارہ قائم کیا ہے جس کا نام الجامعۃ النظیمیۃ الاسلامیہ ہے۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کے اردو اخبارات میں میں نے اس قسم کے مضامین پڑھے ہیں جن سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ سری لنکا میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ انھوں نے اس سے مکمل انکار کیا۔ انھوں نے کہا کہ سری لنکا میں اس قسم کی کوئی منظم کارروائی کا قطعا کوئی وجود نہیں :

There is no organised oppression against Muslims in Sri Lanka.

انہوں نے بتایا کہ سری لنکا ر یڈیو میں مسلم سیکشن " کے نام سے ایک مستقل شعبہ ہے۔ اس کے تحت ریڈیو سیلون پر روزانہ دو گھنٹہ کے لئے اسلامی پروگرام ہوتے ہیں۔ میں خود ہر جمعہ کو ریڈیو میں اسلامی تعلیمات کے بارے میں تقریر کرتا ہوں۔ ہمارے یہاں کثرت سے مسلم اسکول ہیں۔ مسلم معاملات کے لئے باقاعدہ " قاضی " وغیرہ وغیرہ ۔

میں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان آزاد مسلم لینڈ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی خبریں بالکل بے بنیاد ہیں۔ آزاد لینڈ کا مطالبہ تامل لوگوں کا ہے نہ کہ مسلمانوں کا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان شمالی ہند میں اسلام سلاطین کے ذریعہ آیا۔ وہاں جو ہندو مسلم کشمکش ہے وہ اسی تاریخی بیک گراؤنڈ کی وجہ ہے۔ اس کے برعکس سری لنکا میں اسلام تاجروں کے ذریعہ پہنچا۔ اس لئے وہاں کی تاریخ مختلف ہے اور اسی بنا پر وہاں کے دونوں فرقوں میں کوئی کشمکش بھی نہیں ۔

طرابلس میں ایک افریقی خاتون بھی آئی ہوئی تھیں۔ ان کا نام ڈاکٹر زینب سعید کبیر ہے ۔ یونیورسٹی (Bayero University) کی سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں پروفیسر ہیں۔ یہ یونیورسٹی کانو نائیجیریا میں واقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں انگریزی الہ رسالہ منگاتی ہوں اور اس کی مستقل قاری انہوں نے مزید بتایا کہ ہم انگریزی الرسالہ کے مضامین کو کانو (Kano) کے پرچوں میں دوبارہ چھپواتے ہیں تاکہ وہ عوام تک پہنچ سکیں ۔ ان میں سے دو انگریزی زبان کے پرچے یہ ہیں : 1. The Pen Weekly 2. The Sunday Triumph Weekly اس کے علاوہ وہ انگریزی الرسالہ کے مضامین کا مقامی زبان (Hausa) میں ترجمہ کرتی ہیں اور ان کو مقامی ہو سا زبان کے پرچوں میں چھپواتی ہیں ۔

1. Al-Kalam Bi-weekly 2. Al-Fijr Weekly ایک صاحب کناڈا سے آئے تھے۔ انہوں نے کچھ لٹریچر دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کناڈا میں سرکاری سطح پر ایک تحریک چلائی جا رہی ہے جس کو وہ لوگ ملٹی کلچر لزم (Multiculturalism) کہتے ہیں۔ اسی قومی ایکتا کے لئے ہے جس کو ہندوستان میں نیشنل انٹی گریشن (National integration)

کہا جاتا ہے۔ مگر مجھے کناڈا کی اصطلاح، ہندوستان کی اصطلاح سے زیادہ پسند آئی۔ اصطلاح میں بظاہر شبہ ہوتا ہے کہ مختلف گروہوں کے درمیان یک جہتی کو کلچر ل یکسانیت کے ذریعہ حاصل کرنا مقصود ہے۔ جب کہ کنا ڈا کی اصطلاح واضح طور پر کلچرل تعددیت کو تسلیم کرتے ہوئے سماج کے اندر ہم آہنگی لانا چاہتی ہے۔

جس طرح ہندوستان میں مختلف تہذیبی گروہ ہیں، اسی طرح کناڈا اور دوسرے ملکوں میں بھی مختلف تہذیبی گروہ ہیں۔ اس اختلاف کو اتحاد میں تبدیل کرنے کا راز یہ نہیں ہے کہ خود اختلاف کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کی جائے۔ اس کا راز صرف یک ہے، وہ یہ کہ اختلاف کو بطور واقعہ تسلیم کیا جائے اور اسی کے ساتھ لوگوں کے اندر یہ مزاج پیدا کیا جائے کہ وہ باہمی طور پر رواداری اور احترام کے ساتھ رہیں۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ پاکستانی ہیں مگر آجکل یورپ کی ایک یونیورسٹی میں کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کا الرساله پڑھتا ہوں۔ آپ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے مکی دور کو ماڈل قرار دیتے اس سے مجھے اتفاق نہیں۔ کیوں کہ مکی دور کا مسلمان مظلومیت کی حالت میں تھا۔ اس کا کوئی قانونی اور سیاسی حق نہیں تھا۔ جب کہ ہندوستانی مسلمانوں کی یہ پوزیشن نہیں ہے۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک وہاں دستور اور قانون کا نظام ہے جو مسلمانوں کے لئے یکساں شہری حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ مکی دور کو ہم اپنے لئے ماڈل سمجھتے ہیں۔ مگر اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ بھی مظلوم تھے اور ہم بھی مظلوم ہیں۔ ہندوستانی مسلمان اور مکہ کے مسلمانوں میں جو مشابہت ہے وہ مرحلہ دعوت کے اعتبار سے ہے نہ کہ مرحلہ مظلومی کے اعتبار سے۔ کہ میرے نزدیک دار دعوت تھا۔ وہاں مسلمان داعی کی حیثیت میں تھے اور اہل مکہ مدعو کی حیثیت میں۔ اسی طرح ہندوستان میں بھی مسلمان داعی کی حیثیت رکھتے ہیں اور بقیہ اہل ملک ان کے لئے مدعو کا درجہ رکھتے ہیں۔ جب میں کہتا ہوں کہ ہندوستانی مسلمانوں کو ایک طرفہ طور پر صبر واعراض کی پالیسی اختیار کرنا چاہئے تو اس سے مراد مظلومانہ اخلاق نہیں ہوتا بلکہ داعیانہ اخلاق ہوتا ہے۔ کیوں کہ داعی کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ مدعو کی زیادتیوں سے اعراض کرتے ہوئے اس کو اپنی دعوت حق کا طالب بنائے۔ اس وضاحت کے بعد وہ خاموش ہو گئے۔

شیخ محمد عبدہ (۱۹۰۵ - ۱۸۴۹) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فرانس گئے۔ وہاں انھوں نے چند سال قیام کیا۔ جب وہ اپنے وطن مصر واپس آئے تو ان سے تاثرات پوچھے گئے۔ انھوں نے کہا کہ میں

اس سفر میں میری ملاقات ڈاکٹر عبد المنعم خطاب سے ہوئی۔ وہ مصری عالم ہیں اور ۲۰ سال سے امریکہ کی ریاست اوہائیو کے شہر ٹالیڈو میں رہتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ شیخ محمد عبدہ نے جو کچھ کہا ہے اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ بالکل درست ہے (هذا حق ) شیخ محمد عبدہ نے یہ بات کردار کے اعتبار سے کہی۔ میرے ذاتی تجربہ کے مطابق بھی یہ ایک حقیقت موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انھوں نے کردار کی طاقت کھو دی ہے۔ اور مغربی قوموں کی سب سے طاقت یہ ہے کہ وہ کردار کی طاقت سے مسلح ہیں۔ یہی وہ فرق ہے جس نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو مغلوب اور اہل مغرب کو غالب بنا دیا ہے نہ کہ وہ نام نہاد سازشیں مؤامرات) جن کا ذکر مسلمانوں کی ہر تقریر و تحریر میں جوش و خروش کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ موریس بکائی کی کتاب (بائبل قرآن اور سائنس کا عربی ترمگر ہو گیا ہے۔ چنانچہ بڑی تعداد میں عربوں نے اس کو پڑھا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عرب نے کہا کہ موریس بکائی نے قرآن کا تو پوری طرح اعتراف کیا ہے ، مگر انھوں نے حدیث کا انکار کر دیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس انکار کی وجہ یہ ہے کہ موریس بکائی نے ایک نکتہ کو نہیں سمجھا۔

اصل یہ ہے کہ جس زمانہ میں قرآن اترا اس زمانہ میں ساری دنیا میں تمثیلی اسلوب رائج تھا۔ اس بنا پر حدیث میں زمانی رعایت کی بنا پر کہیں کہیں تمثیل کا اسلوب بھی ملتا ہے۔ جمہ قرآن میں تمثیل کا اسلوب موجود نہیں۔ مثلاً حدیث میں ہے کہ آگ کی شدت جہنم کی سانس کی وجہ سے ہے (ان شدة الحر من فيح جَھَنَّمَ یہ تمثیل ہے نہ کہ حقیقت۔ چنانچہ قرآن میں یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی ؛ قل نار جهنم اشد حراً (التوبه ۸۱)

موریس بکائی نے اس قسم کی حدیثوں کو حقیقت پر محمول کیا اور ان کا انکار کر دیا۔ کیوں کہ ( سائنسی اعتبار سے یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آئی کہ مئی جون کی گرمی جہنم کی پھونک سے ہو سکتی ہے۔ یہ سن کر ایک صاحب نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کے کلام میں زمانی تائید پایا جاتا ہے۔ الرمان / فروری ۱۹۹۰ء 32

میں نے کہا کہ یہ تاثر نہیں ہے بلکہ رعایت ہے۔ "رعایت" کا لفظ اگرچہ ایک عربی لفظ ہے۔ مگر مذکورہ عرب دوست اس کو نہ سمجھ سکے۔ آخر کار میں نے "مراعاة" کا لفظ استعمال کیا تو وہ فوراً سمجھ گئے۔ کے لئے ہم رعایت کا لفظ بولتے ہیں، اس کے لئے موجودہ عرب مراعاة کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بات وہی ہے جو مخاطب کی فہم سے جو بات مخاطب کی فہم کے مطابق نہ ہو، وہ کہے جانے کے باوجود مخاطب کے لئے لا معلوم بنی ایسی بات متکلم کی نسبت سے کہی جا چکی ہوگی، مگر مخاطب کی نسبت سے وہ ابھی تک آن کہی پڑی

شیخ امجد حیدر آبادی (۲۱ سال، طرابلس میں ایک جاپانی فرم میں کام کرتے ہیں۔ وہ اس سے پچھلے ۴ سال سے وابستہ ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جاپانیوں کی ترقی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں چار سال سے جاپانیوں کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہوں۔ ان لوگوں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ کام کرتے وہ تھکنے کو کوئی عذر نہیں سمجھتے۔ مقرر وقت سے زیادہ کام کریں گے۔ رات کو اپنے گھر میں ہوں، کوئی کام یاد آ جائے تو رات کو اٹھ کر دفتر میں آ جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر وہ چند آدمی ایک کمرہ میں ہوں تو بات زیادہ کریں گے اور کام کم۔ مگر کئی جاپانی ایک کمرہ میں ہوں تو وہ کبھی بات نہیں کریں گے۔ صرف اپنے کام میں مشغول ہوگا۔ جب تک وہ کام کی میز پر ہیں، وہ کام کے سوا کبھی اور کچھ نہیں کریں گے۔ ان کا نعرہ ہے ۔ کرو یا مر جاؤ :

Printed page