ہر چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
Al-Risala, February 1990, pp. 35–36
By Maulana Wahiduddin Khan
طرابلس سے ایک ہفتہ وار عربی اخبار نکلتا ہے جس کا نام ہے الدعوۃ الاسلامیہ۔ اس کے شمارہ ۲۹ مارچ ۱۹۸۹ء میں صفحۂ اول کی پہلی سرخی یہ تھی : نصف ملیون کا نومسیکی فی ایطالیا یزید خلون الاسلام اٹلی کے پانچ لاکھ کیتھولک مسیحی اسلام میں داخل ہو گئے ) ، یہ خبر ایک اطالوی ہفتہ رہنہ میگزین ایسپریسو (Espresso) کے حوالہ سے دی گئی ہے۔
اطالوی میگزین کی یہ رپورٹ اٹلی کے مسلمانوں کے بارے میں ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اٹلی میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے ، حال میں ان کی تعداد نصف ملین افراد تک پہنچ گئی ہے۔ اٹلی میں مسلمانوں کی تعداد اب وہاں کے یہودیوں سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اس طرح اب اٹلی میں اسلام تعداد کے اعتبار سے مسیحیت کے بعد نمبر ۲ پر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان نکاح کی صورت میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مسیحی (عورت یا مرد) اپنے دین کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیتے ہیں رفی حالات الزواج بین المسلمین والمسیحیین، فان المسیحیین هم الذین یتخلون عن دینهم)
اسلام کی فکری اور نظریاتی طاقت ناقابل تسخیر حد تک عظیم ہے۔ مگر اسلام کا یہی وہ امتیازی وصف ہے جس سے موجودہ زمانہ کے فریادی مسلم رہنما سب سے زیادہ بے خبر ہیں۔
۲۲۴ ستمبر کی شام کو میری طبیعت خراب ہو گئی۔ کانفرنس کے منتظمین مجھ کو قریب کے ایک اسپتال میں لے گئے۔ یہ نسبتاً ایک چھوٹا اسپتال تھا۔ وہاں ایک مصری ڈاکٹر نے میرا بلڈ پریشر وغیرہ دیکھا اور ایک انجکشن اور ایک دوا تجویز کی۔ پورا اسپتال تو میں نہ دیکھ سکا، تاہم اسپتال کے اندر چلتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ وہاں کوئی مریض نہیں۔ ڈاکٹر اور کمپاؤنڈ رو وغیرہ تو مجھے نظر آئے۔ مگر وہاں مجھے کوئی مریض دکھائی نہ دیا۔ ہندوستان میں مریض ہیں مگر اسپتال نہیں۔ یہاں اسپتال ہیں مگر مریض نہیں۔ ۲۴ ستمبر کو دن کا کھانا کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ میں تھا۔ یہ بہت بڑے رقبہ میں جدید طرز پر بنائی آجکل "کلیۃ الدعوۃ" کے نام پر اکثر مسلم ملکوں میں تعلیمی ادارے قائم ہیں جن کا مقصد اسلام کے داعی تیار کرنا ہے۔ یہ بلاشبہ ایک نہایت مفید کام ہے۔ مگر موجودہ صورت وہ عیسائی مبشرین فروری ۱۹۹۰ء البرھان 35
اور مبلغین کے رد عمل میں شروع ہوا ہے۔ اس لئے کسی بھی کلیہ میں پورے معنی میں صحیح دعوتی ماحول موجود نہیں۔ کانفرنس کی طرف سے ہوٹل کے ایک کمرہ میں رزرویشن آفس کھلا ہو اتھا ۲۷ ستمبر کو میں وہاں گیا تاکہ واپسی کے رزرویشن کے لئے ان کو اپنا ٹکٹ دے دوں۔ انھوں نے کہا کہ واپسی کے لئے ہم آپ کا رزرویشن کویت کے راستہ سے کر رہے ہیں۔ چوں کہ کویت میں اگلی پرواز کے لئے اچھا کنکشن نہیں تھا، اس لئے میں نے کہا کہ نہیں، اس کے بجائے آپ کراچی کے راستہ سے میرا رزرویشن کریں۔ نے دوبارہ کویت کے راستہ سے رزرویشن کرانے کی بات کی اس پر میری زبان سے نکل گیا:
اس کے بعد اچانک مجھے خیال آیا کہ دنیا کے سفر میں تو میں اپنی پسند کے خلاف راستہ پر سفر کرنے کے لئے ”لا ابداً“ کہہ کر انکار کر رہا ہوں۔ مگر آخرت کے سفر کا معاملہ سراسر اس سے مختلف ہوگا۔ وہاں کسی شخص کے لئے انکار کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ آخرت کا سفر، دنیا کے سفر سے کتنا زیادہ مختلف ہوگا۔ مگر کتنے کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں۔
ہوٹل کے ریسپشن میں ایک بہت بڑی تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس کے ایک طرف معمرقذافی کا مسکراتا ہوا چہرہ تھا۔ پس منظر میں "مصنوعی دریا" کا پانی موجیں مارتا ہوا بڑا دکھایا گیا تھا۔ کے نیچے لکھا ہوا تھا۔ انسانی دریا بنانے والا عظیم انسان: