The great man-river builder.
Al-Risala, February 1990, pp. 36–46
By Maulana Wahiduddin Khan
لیبیا میں پانی سپلائی کا نیا تجربہ کیا گیا ہے۔ چشموں کے پانی کو ذخیرہ کرکے اس کو بہت بڑے پائپ میں داخل کیا جاتا ہے۔ یہ پائپ صحراؤں سے گزرتا ہوا سیکڑوں میل دور کے مقام پر پہنچتا ہے اور خشک زمینوں کی آب پاشی کرتا ہے۔
پہلی نظر میں دیکھئے تو یہ "مصنوعی دریا" ایک انسان (معمّر قذافی)نے نے بنایا۔ مزید غور کیجئے تو یہ پڑ ڈلڑ کا کارنامہ نظر آئے گا۔ اور زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ یہ سراسر خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ کیوں کہ اسی نے پانی کے ذخائر پیدا کئے۔ پھر اسی نے وہ تمام امکانات پیدا کئے جن کو استعمال کرکے کوئی شخص اس قابل ہوتا ہے کہ وہ صحراؤں میں دریائیں اور نہریں جاری کرے۔ واقعہ بالآخر خدا وند ذو الجلال کا کارنامہ ہے۔ مگر بے خبر انسان اس کو دوسری چیزوں
لے جارہے ہیں۔ مگر دنیا میں سب سے کم وہ لوگ ہیں جو واقعات سے شکر کی غذا لیتے ہوں۔ ہوٹل میں میرا قیام اس کی نویں منزل میں تھا۔ ۲۸ ستمبر کی صبح کو مجھے نیچے اترنا تھا۔ داخل ہو کر میں نے نمبر 9 کا بٹن دبایا۔ مگر لفٹ حرکت میں نہیں آئی۔ میں بار بار دباتا رہا مگر وہ مطلق متحرک نہ ہو سکی۔ میں نے سمجھا کہ یہ خراب ہے۔ اور ارادہ کیا کہ اس کو چھوڑ کر دوسری لفٹ میں چلا جاؤں۔ اچانک خیال ہوا کہ میں غلط بٹن دبا رہا ہوں۔ نمبر ۹ تو اس منزل کا بٹن تھا جس پر ہر وقت میں موجود تھا۔ مجھ کو دراصل صفر (٠) والا بٹن دبانا چاہئے۔ چنانچہ اگلے لمحہ میں نے صفر کا بٹن دبایا تو فوراً لفٹ نے مجھے نیچے پہنچا دیا۔
اس دنیا میں کوئی حقیقی نتیجہ پیدا کرنے کے لئے صرف حرکت کافی نہیں۔ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ حرکت صحیح ہو۔ غیر صحیح حرکت کبھی اس دنیا میں نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی، خواہ اس کو سیکڑوں سال تک جاری رکھا جائے۔
۲۸ ستمبر کو جمعہ تھا۔ جمعہ کی نماز مسجد مولای محمد میں پڑھی۔ وہاں پہنچ کر مسجد کی سیڑھیوں پر چڑھ رہا تھا کہ ایک صاحب تیزی سے چلتے ہوئے میری طرف آئے۔ انھوں نے میرے قریب آکر کہا: يا شيخ ادع لى ولدريتي ۱۰۰۰ اسمى محمد الاحتمال اصل یہ ہے کہ ہر شخص کی زندگی میں کوئی نہ کوئی گوشہ ایسا ہوتا ہے جہاں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ جہاں اس کے وسائل اس کو ناکافی نظر آتے ہیں۔ جہاں وہ کسی بر تر مدد کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اس جذبہ کا صحیح استعمال اللہ کو پکارنا ہے۔ مگر انسان جب اللہ کو نہیں پاتا تو وہ زندہ یا مردہ انسانوں کو پکارنے لگتا ہے۔
امام صاحب نے طویل خطبہ دیا۔ اس عربی خطبہ میں انھوں نے مختلف باتیں بتائیں۔ نے یہ حدیث سنائی: قليل العلم خير من كثير العبادة (تھوڑا علم زیادہ عبادت سے بہتر ہے)، اس کی تشریح انھوں نے خالص روایتی اور تقلیدی انداز میں کی۔ اس قسم کی تشریح آج کے انسان کے ذہن کو نہیں جھنجھوڑتی۔ وہ اس کے فکر کا جزو نہیں بنتی۔ وہ تقدس اور احترام کے جذبہ کے تحت اس کو سن لیتا ہے، اور اس کے بعد اٹھ کر چلا جاتا ہے۔
اس حدیث میں علم سے مراد عام علم نہیں، بلکہ اس سے مراد دینی شعور یا معرفت حق ہے۔ حدیث دراصل یہ بتاتی ہے کہ اسلام میں اصل اہمیت کی چیز کیا ہے۔ اسلام میں اصل اہمیت کی چیز کیفیت (Quality) ہے۔ مجرد کمیت یا مقدار (Quantity) کی اسلام میں کوئی اہمیت
سبرا تہ (Sabratha) دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ ایک تاریخی شہر ہے جو طرابلس کے مغرب میں واقع اس کو قرطاجنہ والوں (Carthaginians) نے تجارتی مرکز کے طور پر چوتھی صدی قبل مسیح میں آباد کیا تھا۔ ۵۲ م ا ق م میں یہاں رومی آئے۔ انھوں نے یہاں اپنا مشہور تھیٹر تعمیر کیا جس کے عظیم کھنڈر اب بھی سمندر کے کنارے موجود ہیں۔ عربوں نے اس کو ۶۴۳ ویں میں فتح کیا۔ یہ تھیٹر وہ مقام ہے جہاں رومی لوگ شاہانہ تفریح کیا کرتے تھے۔ آج اس کے ٹوٹے ہوئے کھنڈر صرف تاریخی عبرت کا سامان بنے ہوئے ہیں۔ شاید اسی طرح کی یادگاروں کے بارہ میں قرآن میں کہا گیا ہے کہ زمین میں چلو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا (الأنعام (11) یہاں کے کچھ حضرات مجھ کو اٹھا لے جانا چاہتے تھے۔ یہ طرابلس اور روم کے درمیان ایک ان لوگوں کا خیال تھا کہ وہاں عرب نوجوانوں کا ایک اجتماع کریں اور اسلامی دعوت کے موضوع پر ان سے گفتگو کی جائے۔ مگر وقت کی کمی کی بنا پر میں ان لوگوں کی اس پیش کش کو قبول نہ آئندہ کسی موقع پر انشاء اللہ اٹھا جانے کی کوشش کروں گا۔
کچھ لوگوں نے تیونس جانے کی بھی پیش کش کی۔ وہاں بہت سے عرب نوجوان الرسالہ کے مشن سے متاثر ہیں۔ وہ عربی اور فرانسیسی زبان میں الرسالہ کے مضامین کا ترجمہ شائع کر رہے ہیں۔ سفر کے تحت میں تیونس کا پروگرام بھی نہ بنا سکا۔ انشاء اللہ آئندہ کسی وقت وہاں جانے کی کوشش کچھ لوگ دمشق سے آئے تھے، وہ واپسی میں مجھ کو دمشق لے جانا چاہتے تھے۔ مگر میں اس فرمائش کو بھی پورا نہ کر سکا۔
تیونس میں ایک تاریخی شہر ہے جس کا نام سوسہ ہے۔ یہاں تاریخی یادگاریں ہیں جن کو دیکھنے کے لئے یورپ کے سیاح کثرت سے آتے ہیں۔ عبدالمنعم محمد الماتوری (۲۱ سال) نے بتایا کہ وہ اگست ۱۹۸۹ میں سوسہ گئے۔ ان کے ساتھ جمیعتہ الدعوة کی طرف سے چھپی ہوئی انگریزی اور فرانسیسی
کتابیں (قرآن کا ترجمہ، موریس بکائی کی کتاب، وغیرہ) تھیں۔ وہ ان کتابوں کو یورپی سیاحوں کے درمیان تقسیم کرنے لگے۔ دو دن تقسیم کرنے کے بعد جب وہ تیسرے دن وہاں گئے تو کچھ لوگ ان پر غضب ناک ہوگئے، وہ عبد المنعم باقوری کو مارنے لگے۔
میں نے پوچھا کہ جس وقت وہ لوگ ماررہے تھے، اس وقت آپ کے اندرونی احساسات کیا انھوں نے کہا کہ میں نے مار کی کوئی پروا نہیں کی اور اپنے عمل (اسلامی کتابوں کی تقسیم) کو جاری اور میں اس کو اپنی سعادت سمجھ رہا تھا (لكنى امال بالضرب وواصلت عملى وكنت سعيد أبذالك) انھوں نے کچھ یورپی نوجوانوں کو اسلام میں داخل کیا ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دعوت کا عمل آدمی کے اندر کس طرح دوسرے تمام عمدہ اوصاف پیدا کر دیتا ہے۔ یہ احساس کہ میرے پاس نجات انسانی کا پیغام ہے اور میں اس کو دوسروں تک پہنچارہا ہوں، وہ اعلیٰ ترین احساس ہے جس سے اعلیٰ احساس اور کوئی نہیں۔ کے اندر داعیانہ جذبہ جاگ اٹھے وہ اسی کے ساتھ خود بخود شریف اور خیر خواہ اور جری اور بہادر اور حوصلہ مند انسان بن جائیں گے۔ حق کو پانے کا احساس ان کو ہر دوسری چیز کو کھونے کے قابل بنا دے گا، خواہ وہ کتنی ہی بڑی چیز کیوں نہ ہو۔
عرب نوجوانوں میں بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ پیدا ہوچکے ہیں جو اسلامی مرکز اور الرسالہ مشن سے بخوبی واقف ہیں۔ چنانچہ وہی سوالات وہاں بھی کئے گئے؛ جو ہندوستان میں اس کے بارے میں کئے مثلاً ایک مجلس میں الجزائر کے ایک نوجوان نے پوچھا کہ آپ باتیں تو بہت صحیح اور اچھی کہتے ہیں، مگر آپ کے پاس کوئی عملی پروگرام (برنامج) نہیں۔
میں نے کہا کہ وہ چیز جس کو عملی پروگرام کہا جاتا ہے، اس سے زیادہ آسان اور کوئی کام ہر آدمی جس کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ہو، وہ کاغذ پر ایک ایسا نظام مرتب کرکے پیش کرسکتا ہے جو لوگوں کو پروگرام دکھائی دینے لگے۔ مگر حقیقی اسلامی دعوت اس سے زیادہ بڑا کام ہے کہ وہ کسی پروگرام کے اندر سما سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرت اور حدیث کی کتابوں میں ہم نہیں دیکھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو موجودہ مفہوم میں کوئی پروگرام تلقین کرتے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ تخریب کے لئے پروگرام بنائے جاسکتے ہیں، لیکن تعمیر کے لئے کوئی لگابندھا
وگرام نہیں ۔ گہری تعمیر کے کام میں لوگوں کے شعور کو اتنا ابھارنا پڑتا ہے کہ وہ خود حالات کے اعتبار سے پروگرام کی تخلیق کر سکیں۔ ہمارا پر پروگرام یہ ہے کہ ہم پروگرام ساز انسان تیار کریں (رہنما سمجھنا هو اعداد المبرمجين)
ایک مجلس میں میں نے اپنی "غیر عرب عربی" پر معذرت کی۔ ایک تعلیم یافتہ عرب نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ آپ کی عربی، زبان کے اعتبار سے، عربوں جیسی نہیں ہوتی۔ مگر وہ ہم کو زیادہ سمجھ میں آتی ہے۔ کیوں کہ وہ محدد زبان (Precise language) میں ہوتی ہے۔ جب کہ عام بولنے والوں کا فہم ان کی خطابت اور الفاظ کی کثرت میں گم ہو جاتا ہے۔ آدمی ان کی لمبی چوڑی تقریر سن کر اس حال میں اٹھتا ہے کہ اس کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کہنے والے نے کیا کہا۔
اس سفر میں بہت سے عربوں سے اسلامی دعوت کے بارہ میں گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ یافتہ عرب نوجوانوں کی ایک مجلس میں تقریبا تین گھنٹہ تک گفتگو رہی۔ گفتگو کا موضوع زیادہ تر موجودہ زمانہ میں دعوت کے مسائل اور حکمت دین تھا۔ اس سلسلہ میں میں نے ایک بار کہا: نصف العلم ان تعرف الفرق والبقية نصفه ان تعرف المماثلة۔ یعنی نصف علم یہ ہے کہ آدمی دو چیزوں کے درمیان فرق کو جانے، علم کا بقیہ نصف یہ ہے کہ آدمی دو چیزوں کے درمیان مشابہت کو جانے۔
لوگوں کے مزید سوالات کے درمیان میں نے اس فقرہ کی تفصیلی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ پہلے "فرق" کو جاننے کے معاملہ کو لیجئے ۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ پچھلے زمانہ میں جو پیغمبر توحید کی دعوت لے کر اٹھے، ان کا اپنے زمانہ کے حکمراںوں سے ٹکراؤ ہو گیا۔ اس بنا پر آج کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی دینی دعوت کے پیغمبرانہ دعوت ہونے کی پہچان یہ ہے کہ وقت کے حکمران طبقہ کے ساتھ فوراً ہی اس کا ٹکراؤ پیش آجائے ۔ اب الرسالة مشن (یا تبلیغی جماعت کا چونکہ حکومت سے ٹکراؤ نہیں ہو رہا ہے اس لئے ان کے نزدیک یہ اس کے غیر پیغمبرانہ نہج پر ہونے کی دلیل ہے۔ یہ غلط فہمی "فرق" کو جاننے کی بنا پر ہے۔ قدیم زمانہ کے بادشاہ اپنا حق حکومت مشرکانہ ) عقائد کے ذریعہ حاصل کرتے تھے۔ چنانچہ توحید کی دعوت انہیں براہ راست اپنی حاکمانہ حیثیت سے ٹکراتی ہوئی نظر آتی تھی، وہ فوراً توحید کی دعوت کو کچلنے کی کوشش کرتے تھے۔
میں جمہوری انقلاب کے نتیجہ میں یہ صورت حال ختم ہو چکی ہے۔ اس بنا پر اب قدیم طرز کے ٹکراؤ کا کوئی سوال نہیں۔ جو لوگ قدیم بادشاہت اور موجودہ حکومت کے فرق کو نہ جانیں وہ اس معاملہ میں صحیح رائے قائم نہیں کر سکتے۔
اب اس مشابہت کے معاملہ کو لیجئے موجودہ زمانہ کے اسلام پسند لوگ سیکولرزم کو اسلام کا دشمن نظریہ سمجھتے ہیں اور غیر ضروری طور پر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ عین صلح حدیبیہ کے مثل ایک واقعہ حدیبیہ کا واقعہ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ تھا کہ وقت کے اقتدار نے دس سال کے لئے اپنے آپ کو اس کا پابند کر لیا تھا کہ وہ اسلامی دعوت کے مقابلہ میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کار بند عین یہی موجودہ زمانے میں سیکولر حکومت کا مطلب بھی ہے۔ موجودہ زمانہ میں جدید افکار کے زیر دنیا کی تمام حکومتوں نے اپنے آپ کو اس کا پابند کیا ہے کہ وہ مذہب کے معاملہ میں عدم مداخلت کا طریقہ اختیار کریں گے۔ اقوام متحدہ کی سطح پر اسی عالمی عہد کا نام "حقوق انسانی کا منشور" یہ صورت حال گویا ابدی صلح حدیبیہ ہے۔ دونوں کے درمیان "حدیبیہ اسپرٹ" مشترک طور پر موجود ہے۔ مگر اس مشابہت کو نہ جاننے کی وجہ سے لوگ اس کے خلاف بھڑک اٹھے۔ ایک مجلس میں کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کے اندر غیر جہادی اور غیر انقلابی ذہن بنا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل لغو اور سطحی بات ہے۔ ایسا کہنے والوں نے ابھی تک ہمارے مشن کو نہیں سمجھا۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے نام نہاد اسلامی مفکرین نے اپنی سیاسی تعبیر کے ذریعہ دعوت کا نشانہ بدل دیا ہے۔ انھوں نے انقلاب نظام کو اسلامی دعوت کا نشانہ بنا دیا ہے۔ انقلاب انسان اسلامی دعوت کا نشانہ ہے۔ اسی تعبیری فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ ہمارے دعوتی عمل میں "سیاسی انقلاب" بطور نشانہ حذف ہے، دوسری طرف ان کے دعوتی عمل میں "تو جہ الی اللہ بطور نشانہ حذف
اب جو لوگ سیاست رخی تعبیر سے مت ہیں، وہ ہمارے معاملہ کو سمجھ نہیں پاتے اور ہمارے اوپر غیر انقلابی ہونے کا الزام دینے لگتے ہیں۔ مگر یہ غلط فہمی قرآن کے زیر اثر تاثر نہیں بنی ہے بلکہ بعض لوگوں کی سیاسی تعبیروں کے زیر اثر تاثر بنی ہے۔ ایسی حالت میں ہمیں ان الزامات سے غیر متاثر
ایک تعلیم یافتہ عرب نوجوان نے کہا کہ میں نے آپ کی تمام عربی کتابیں پڑھی ہیں۔ پوچھا کہ ان کتابوں کے پڑھنے سے آپ پر کیا اثر ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ان کتابوں نے مجھ کو نہایت اونچے مقام تک پہنچا دیا (انها رفعتني الى مقام عظيم)
ایک عرب نوجوان نے کہا کہ میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں جس میں بڑی تعداد میں غیر مسلم یورپین میں ان کو آپ کی انگریزی کتابیں پڑھارہا ہوں۔ ایک مسیحی خاتون جو مذکورہ کمپنی میں سکریٹری کے درجہ پر ہیں۔ ان کو " پرافٹ آف ریولیوشن " انھوں نے پڑھنے کے لئے دی۔ اس کو پڑھ کر خاتون نے جو کچھ کہا وہ عرب نوجوان کے الفاظ میں یہ تھا کہ میں نے جو کتابیں پڑھی ہیں، ان میں یہ بہترین کتاب ہے (انه احسن كتاب قرأته)
ایک مجلس میں ایک عرب نوجوان نے دعوت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ تکمیل اعتبار سے اسلامی دعوت کے چار مراحل ہیں۔ اعلان، ہجرت، جہاد، حکومت ۔ میں نے کہا کہ اسلامی دعوت کی یہ تعبیر صحیح صحیح تعبیر وہ ہوتی ہے جو دوسرے متعلق حقائق سے نہ ٹکرائے، جب کہ یہ تعبیر دوسری معلوم حقیقتوں سے ٹکرا رہی ہے۔ مثلاً ہمارے عقیدہ کے مطابق، تمام انبیاء کا مل معنوں میں داعی تھے۔ مگر اس تعبیر میں بیشتر انبیاء ناقص داعی قرار پاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کی دعوت ان چاروں مراحل سے نہیں گزری۔ عقیدہ ہے کہ خدا نے پیغمبر کی مخاطب امتوں کو جو عذاب دیا وہ عین عدل تھا۔ مگر اس تعبیر میں وہ غیر عادلانہ قرار پاتا ہے۔ کیوں کہ اس کے مطابق بیشتر مثالوں میں خدا نے ان قوموں کو قبل از وقت عذاب دے دیا۔
اصل یہ ہے کہ دعوت تمام تر اعلان ہی کا نام ہے۔ البتہ اعلان کے شرائط ہیں مثلاً مدعو کے لئے خیر خواہ ہونا، اس کی ایذاء پر صبر کرنا، اس کی سرکشی کے باوجود مسلسل اس کو پکارتے رہنا۔ اس کی اپنی لغت میں دعوت کو اس کے لئے قابل فہم بنانا، مدعو سے اجر دنیوی کا طالب نہ ہونا وغیرہ۔ اسی کا نام دعوت ہے۔ اس کے بعد ہجرت یا جہاد، یا قتال یا حکومت جیسے واقعات جو کبھی پیش آتے ہیں اور کبھی پیش نہیں آتے، وہ سب تاریخ کے مراحل ہیں نہ کہ دعوت کے مراحل۔ ایک مجلس میں موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں کا ذکر آیا۔ پھر یہ سوال ہوا کہ یہ تمام تحریکیں اپنے
مقصد میں ناکام کیوں ہوگئیں۔ ایک صاحب ان رکاوٹوں کی فہرست بتانے لگے جنہوں نے ان اسلامی تحریکوں کو ناکام کر دیا۔ میں نے کہا کہ یہ سوچ صحیح نہیں۔ اس دنیا میں تو لازماً یہی ہونا ہے کہ یہاں رکاوٹیں پیش آئیں، ہمیں رکاوٹوں کے باوجود اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ ایک مستشرق کے الفاظ میں، آپ نے رکاوٹوں کو اپنے لئے زینہ بنا لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام تحریکیں صرف اس لئے ناکام ہو گئیں کہ وہ رکاوٹوں یاڈس ایڈوانٹیج کو اپنے لئے ایڈوانٹیج نہ بناسکیں ( هذه الحركات الاسلاميه كلها فشلت بسبب واحد، انهم لا تستطع ان تستغل الموانع لَهُم كفرص )
ایک عرب نوجوان مختا ر احمد (۲۶ سال) سے ملاقات ہوئی۔ وہ اس سے پہلے سیاسی اسلامی جماعتوں سے متاثر تھے۔ ان کے دماغ میں مار دھاڑ والا اسلام بسا ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے بعد آپ کی عربی کتابیں پڑھنے کو ملیں ۔ ان کو پڑھنے کے بعد میرا ذہن بالکل بدل گیا۔ کو پڑھ کر میرے دماغ کا بوجھ اتر گیا۔ اب میں اپنے ماضی اور حال کو سوچتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کہ میں قید خانے سے باہر آگیا ہوں (مانی خرجت من السجن)
عرب ممالک میں بہت بڑا دعوتی موقع پٹرول ڈالر کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ آجکل کثرت سے بیرونی ملکوں سے غیر مسلم ماہر ین اور کارکن عرب ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان کے درمیان آسانی کے ساتھ دعوتی کام کیا جا سکتا ہے۔
ایسے کئی عرب نوجوان ملے جو اس دعوتی امکان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ محمد المجانی (۳۰سال نے بتایا کہ وہ جس کمپنی میں کام کرتے ہیں ، اس میں ایک برطانی ایکسپرٹ ہے جس کا نام برائن کو پنگ (Brain Copping) ہے۔ محمد المجانی نے اس برطانی کی کو گارڈ ارائز نز اور دوسری کتابیں پڑھنے کے لئے دیں۔ اس کے بعد اس کا تاثر پوچھا۔ سوال سن کر وہ کچھ دیر خاموش رہا۔ اس کے بعد بولا : جو کچھ اس میں لکھا ہے وہ بالکل حق ہے۔ اس نے مزید کہا کہ مجھے برطانیہ کا کوئی شخص نہیں معلوم جو اتنی طاقت کے ساتھ خدا اور مذہب کے اثبات پر کتاب لکھ سکے۔
طارق الکردی (۲۶ سال) ایک عرب نوجوان ہیں۔ وہ الجزائر میں تھے۔ وہاں انھوں نے آئرلینڈ کی ایک عیسائی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس کا نام گر الڈین (Geraldine Sheehan) ہے۔
شادی کے بعد وہ برابر اس کو ترغیب دیتے رہے کہ وہ اسلام قبول کرلے۔ مگر وہ راضی نہ ہوئی۔ حتی کہ اسلام سے نفرت کا اظہار کرتی رہی۔
۲۷ ستمبر کو ایک ملاقات میں طارق الکر دی نے بتایا کہ پہلے میں اسلام کو اس کے سامنے فقہی اور تقلیدی انداز میں پیش کرتا تھا۔ اس کے بعد مجھے انگریزی الرسالہ ملا۔ میں نے اس کو انگریزی الرسالہ کے کچھ شمارے پڑھائے۔ ان کا بیان ہے کہ جب میں نے اس کو انگریزی الرسالہ پڑھایا تو اس کو پڑھ کر وہ رو پڑی (فبکت) اب اسلام اس کو عین فطرت کا دین نظر آیا۔ اس نے پوری رضامندی کے ساتھ اسلام قبول کر لیا اور کہا:
I feel I knew this before. It's not a new thing for me. مذکورہ خاتون کو تعدد ازدواج کے مسئلہ پر سخت اعتراض تھا۔ طارق الکردی نے اس کو انگریزی الرسالہ (اگست ۱۹۸۹) پڑھنے کے لئے دیا۔ اس کو پڑھ کر خاتون نے کہا کہ اب میں نے اسلام کے اس مسئلہ کو اب مجھے اسلام کے بارہ میں کوئی شک نہیں۔
۲۸ ستمبر کو دوپہر کا کھانا "ذات العماد" میں تھا۔ کھانے کی میز پر میرے علاوہ تین عرب تھے۔ ایک عرب بزرگ نے اپنی گفتگو کا آغاز اس عربی مثل سے کیا: ان کان الکلام من الفضۃ فالسکوت من الذھب (بولنا اگر چاندی ہے تو چپ رہنا سونا ہے) اس کے بعد انھوں نے بولنا شروع کیا تو وہ مسلسل بولتے رہے۔
کافی دیر تک وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔ آخر میں میں نے ان سے کہا : یا اخی ا تحبُّ الذھب ام الفضۃ (آپ سونا پسند کرتے ہیں یا چاندی) انھوں نے ایک لمحہ سوچا۔ اس کے بعد سنجیدگی کے ساتھ بولے: أفضل الذھب ولكن عندی الفضة (میں سونے کو اچھا سمجھتا ہوں، مگر میرے پاس چاندی ہے)
یہ عربوں کی ممتاز خصوصیت ہے کہ وہ فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتے ہیں۔ مگر یہی بات ہندوستان اور پاکستان میں تقریباً معدوم کے درجہ میں ہے۔ یہاں ہر آدمی اسلام کے نام پر بے تکان بول رہا لیکن اس کی کسی کمزوری یا غلطی کی طرف توجہ دلائیے تو وہ کبھی اس کا اعتراف نہیں کرے گا، خواہ
احمد الصاوی ۲۰ نومبر ۱۹۸۹ کو مرکز میں آئے اور صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ کا موضوع یہ تھا : " قرآن کی صداقت پر جدید سائنسی دلائل "
الرسالة کی دعوت اس حد تک پھیل چکی ہے کہ اب تمام لوگ اسی کی بولی بولتے ہوئے نظر آتے مثلاً تعمیر حیات ( ۲۵ نومبر ۱۹۸۹ ) میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کا بیان چھپا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بابری مسجد کے قضیہ کو شرک پر لانا غلط تھا۔ موجودہ دھماکہ خیز صورت حال پر قابو پانے کا یہ نسخہ تجویز کیا ہے کہ " مسلمان اس موقع پر فریقِ ثانی کی تقریروں سے اشتعال میں نہ آئیں ۔ وہ پر امن رہیں ۔ مسلمانوں کے سیاسی قائدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ملکی فضا کو " اس قابل رہنے دیں کہ برادرانِ وطن اسلام کی تعلیمات کا ٹھنڈے دل و دماغ سے مطالعہ کر سکیں " یہ سب عین الرسالة کی باتیں ہیں ۔ اللہ کا فضل ہے کہ الرسالة کی ۱۳ سالہ جدوجہد اب کامیابی کے نئے مرحلہ میں داخل ہو گئی ۔
-۲ نئی دہلی کے علاقہ میں ایک عیسائی چرچ ہے جس کا نام (St. Michael's Church) ہے ۔ اس چرچ کے منتظمین کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے ۱۴ نومبر ۱۹۸۹ کو وہاں ایک تقریر یہ تقریر اسلام کے تعارف پر تھی۔ تقریر میں سادہ طور پر بتایا گیا کہ اسلام کیا ہے اور اس کی تعلیمات کیا ہیں ۔ تقریر آدھ گھنٹہ تک جاری رہی۔ اس کے بعد حاضرین کی طرف سے سوالات کیے گئے جن کا جواب صدر اسلامی مرکز نے دیا۔ حاضرین میں زیادہ تر عیسائی اور ہندو صاحبان تھے۔
-۴ مالدیپ کے ہفت روزہ اخبار ہویر (Haveer) کے نمائندہ مسٹر محمد وحید ۲۵ نومبر ۱۹۸۹ کو مرکز میں آئے اور صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو مذکورہ مالدیپ ہفت روزہ میں شائع ہوگا۔ انٹرویو کا موضوع زیادہ تر عصرِ حاضر میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل" وہ مرکز کی کچھ انگریزی مطبوعات اپنے ساتھ لے گئے۔
-۵ جناب بلال الدین صاحب بھوپالی نے بتایا کہ جناب قمر عالم صاحب جو سعودی عرب میں انجینیر ہیں، وہ الرسالہ انگریزی پابندی سے منگواتے ہیں اور ہر ماہ اس کی پچاس کاپی نکال کر تعلیم یافتہ
مسلمانوں اور غیر مسلموں میں تقسیم کرتے ہیں۔ یہ کام وہ جدید قسم کی فوٹو کاپی مشین کے ذریعہ کرتے ہیں۔ الرسالہ کی سلائی کھول کر اس کے اوراق اس میں رکھ دینا کافی ہوتا ہے۔ اس کے بعد ۵ کا بٹن دبانے سے اپنے آپ تمام اوراق دونوں طرف چھپ کر نکل آتے ہیں۔ اس طرح وہ ایک رسالہ سے ۵۰ رسالہ بنا کر اس کو ہر ماہ لوگوں کے درمیان پھیلا رہے ہیں۔
۶- ڈاکٹر شمس الآفاق الٰہ آبادی دو مہینے (اکتوبر۔ نومبر ۱۹۸۹) کے لیے باہر کے ملکوں کے سفر اس سلسلہ میں انھوں نے امریکہ، کوریا، چین وغیرہ کا سفر کیا۔ وہ اپنے ساتھ انگریزی الرسالہ اور مرکز کی انگریزی کتابیں بھی لے گئے تھے۔ ہر جگہ انھوں نے لوگوں سے گفتگو کی اور رسالہ اور کتابیں پڑھنے کے لیے دیں۔ امریکہ کی ایک کانفرنس میں بہت سے پروفیسر شریک تھے۔ ان سب کو انھوں نے ایک ایک رسالہ دیا۔ ایک امریکی پروفیسر نے مذہب کے بارہ میں بے اعتمادی کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کو مرکز کی کچھ انگریزی مطبوعات ان کو پڑھ کر مذکورہ پروفیسر نے کہا: