I was very much impressed.
Al-Risala, February 1990, pp. 46–47
By Maulana Wahiduddin Khan
۷- کویت کے عربی مجلہ المجتمع کے نمائندہ عبدالعزیز محمد ۱۵ نومبر ۱۹۸۹ کو مرکز میں آئے اور صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع زیادہ تر فلسطین کا مسئلہ تھا۔ ۸- ایک امریکی ادارہ انٹرنیشنل ریلیجس فاونڈیشن (نیویارک)، نے ۹۲۱ صفحات پر مشتمل ایک انگریزی کتاب تیار کی ہے۔ اس کا نام (World Scripture) ہے۔ اس کتاب کو نیویارک کا اشاعتی ادارہ نیو ایرا بک (New Era Book) شائع کر رہا ہے۔ اس کتاب میں دوسرے مذاہب کے علاوہ اسلام کا مفصل تعارف ہے۔ اس تعارف میں اس کے ایڈیٹر نے دوسرے انگریزی تراجم قرآن کے علاوہ صدر اسلامی مرکز کے مشوروں اور ان کی فراہم کردہ معلومات سے بھی مدد لی ہے جس کا ذکر مذکورہ کتاب کے دیباچہ میں کیا گیا ہے۔ ۹- مسڑ موکیش کوٹھک نے اخبار پانچ جنیہ کے لیے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا خاص موضوع یہ تھا کہ مسلم ملکوں میں غیر مسلم اقلیتوں کی سماجی اور اقتصادی حالت کیا ہے۔ ۱۵ نومبر ۱۹۸۹ کو اسلامی مرکز کے دفتر میں لیا گیا۔
۱۰- مسڑ انیس جنگ ٹائمس آف انڈیا کی کالم نگار ہیں۔ انھوں نے ٹائمس آف انڈیا کے لیے ۲۷ نومبر ۱۹۸۹ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا خاص موضوع یہ تھا کہ کیا
مسلمانوں کی مشکلات اور پس ماندگی کا ذمہ دار اسلام ہے ۔ ان کے مختلف سوالات کے جواب میں جو بات کہی گئی ، اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کی مشکلات و مسائل کی ذمہ داری صرف دو چیزوں پر ہے ۔ (۱) ان کی حد درجہ نااہل قیادت (۲) ان کا تعلیم میں پیچھے یہ انٹرویو ٹائمز آف انڈیا ۱۰ دسمبر ۱۹۸۹ میں شائع ہوا ہے۔
تببت ہاؤس نئی دہلی کی طرف سے ۲۵ نومبر ۱۹۸۹ کو ایک کل ہند سیمینار تھا جس کا عنوان تھا (Religion and Ecology) اس موقع پر اسلامی مرکز کو اسلام کا نقطہ نظر پیش کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ ڈاکٹر ثانی اثنین خاں نے اسلامی مرکز کی نمائندگی کرتے ہوئے مذکورہ موضوع پر ایک پیپر پیش کیا۔ اس سیمینار کی کارروائیاں انڈیا انٹرنیشنل سنٹر نئی دہلی) میں انجام پائیں۔
ارشاد احمد صاحب (بنگلور) نے بتایا کہ بنگلور میں انگریزی الرسالہ کے ذریعہ غیر مسلموں میں دعوت پہنچانے کا کام منظم انداز میں کیا جا رہا ہے ۔ مقامی قارئین الرسالہ نے ایک فنڈ بنایا اس فنڈ کے ایک جز ر سے ہر ماہ ۲۵ - ۳۰ تعلیم یافتہ غیر مسلموں کو انگریزی الرسالہ بذریعہ پوسٹ بھیجا جاتا ہے۔ اس طرح چند مہی تک بھیجنے کے بعد انہیں خط لکھا جاتا ہے اور ان کا تاثر پوچھا جاتا ہے۔ جن لوگوں کی طرف سے جوابات موصول ہوتے ہیں ان سے ملاقات کر کے مزید گفت گو کی جاتی ہے ۔ اسی طرح دستی طور پر بھی انگریزی الرسالہ پہونچانے کی مہم چلائی جارہی ہے۔ اس مہم کے مثبت نتائج ظاہر ہورہے ہیں۔
ایک صاحب لکھتے ہیں : میں نے آپ کے الرسالہ کے مضامین سے کافی استفادہ کیا ہے۔ میرا ذاتی مزاج انتقامی تھا۔ دینی کام بھی بطور رسم ادا کرتا نہ تھا۔ لیکن آج اللہ کے کرم سے اور دعوت الرسالہ سے بالکل ہی زندگی میں تبدیلی واقع ہوگئی۔ اکثر جگہ دوران گفتگو الرسالہ کے مضامین سے لوگوں کو دعوت دیتا ہوں (حفیظ اللہ اعوان، پونچھ)
ایک صاحب لکھتے ہیں : الرسالہ میری روح کی غذا ہے ۔ جہاں ہر طرف مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی فتنے سر اٹھارہے ہیں ، الرسالہ اسلام کی صحیح تصویر پیش کر کے گویا اتمام حجت کر رہا ہے ۔ عام جماعتیں نوجوانوں کو جذباتی اور سطحی بنا کر ان کا استحصال کر رہی ہیں ۔ الرسالہ ان میں سنجیدگی ، صحیح فکر اور حقیقت پسندی پیدا کر کے انہیں کامیابیوں سے ہم کنار کر رہا ہے (قاری محمد اسماعیل ۔