Al-Risala · January 1991

قدرت کا پیغام

Al-Risala, January 1991, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں سے میں قدرت کی زبان میں کہوں گا کہ زمین و آسمان کے اشاروں کو سمجھو، اور کائنات میں نشر ہونے والے پیغام کو سنو۔ کیوں کہ یہ دنیا ہر آن تمہارے لیے امید کی خبریں نشر کر رہی ہے۔ یاد رکھو، تاریک رات کا آنا روشن صبح کے آنے کی تمہید ہے۔ خزاں کا موسم یہ خبر دیتا ہے کہ جلد ہی بہار کا موسم آنے والا ہے۔ یہ قدرت کا اٹل قانون ہے۔ یہ قانون جس طرح مادی دنیا کے لیے ہے اسی طرح وہ انسانی دنیا کے لیے ہے، اور یقینی طور پر خود تمہارے لیے بھی۔

بظاہر اس وقت مسلمانوں کو صبر آزما حالات کا سامنا ہے۔ مگر یہ حالات عین خدا کی رحمت ہیں۔ کے مس خام کو کندن بنانے کا خدائی انتظام ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ صبر مومن کا ہتھیار ہے (الصبر معول المومن) صبر ایک قسم کا تربیتی کورس ہے جو آدمی کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو جگاتا ہے۔ صبر آدمی کے اندر پختگی کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ صبر آدمی کو بلند انسانی اوصاف کا حامل بناتا ہے۔ صبر آدمی کو یہ طاقت دیتا ہے کہ وہ اعلیٰ اسلامی اخلاقیات پر قائم ہو سکے۔ آدمی کو معمولی انسان کے درجہ سے اٹھا کر غیر معمولی انسان کے درجہ میں پہنچا دیتا ہے۔ صبر کسی فرد یا قوم کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔

صبر مایوسی کی بات نہیں، صبر خوش خبری کا لمحہ ہے۔ صبر اس بات کی علامت ہے کہ خدا کی مدد قریب آگئی ہے۔ کیوں کہ قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، اللہ صبر کا ثبوت دینے والوں کو دنیا کا امام بنا دیتا ہے۔

Printed page