فرسٹ ہا سیکنڈ
Al-Risala, March 1991, pp. 3–4
By Maulana Wahiduddin Khan
رابرٹ ہومز (Robert Holmes Court) آسٹریلیا کا ایک تاجر تھا۔ اس نے 1962 میں مغربی آسٹریلیا میں ایک اونی مل سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا۔ وہ تیزی سے ترقی کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی ایک اقتصادی سلطنت (Fanancial empire) بنالی۔ اس کی لت ایک بلین ڈالر سے زیادہ ($ 1.1 billion) تک پہنچ گئی۔ 1980ء سے اس کو زوال شروع ہوا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی آدھی دولت ستمبر 1990 میں اس کو ہارٹ اٹیک ہوا۔ پرتھ (Perth) کے پاس اپنے ہارس فارم میں اس کا بوقت وفات اس کی عمر 53 سال تھی۔
ٹائم (۷ ستمبر 1990) نے اس کی موت کی خبر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک وقت وہ ملک کا فرسٹ دولت مند سمجھا جاتا تھا۔ مگر جب وہ مرا تو وہ اپنے ملک کا سکنڈ دولت مند شخص تھا جس کی دولت گھٹ کر 650 ملین ڈالر ہوگئی تھی :
Once the country's wealthiest man, he died the second richest (after fellow enterpreneur Kerry Packer), with an estimated fortune of $ 650 اس دنیا میں ہر آدمی کا معاملہ ایسا ہی ہے۔ یہاں ہر آدمی موت سے پہلے فرسٹ بنارہتا ہے۔ موت ہر آدمی کو سکنڈ بنا دیتی ہے۔ موت سے پہلے آدمی سمجھتا ہے کہ یہاں صرف میں ہوں، میرے سوا یہاں کوئی دوسرا نہیں۔ مگر موت آدمی کو بتاتی ہے کہ یہاں حقیقی وجود صرف خدا کا ہے ، کسی دو میں کی یہاں کوئی حقیقی حیثیت نہیں۔
موت ہر آدمی کے لیے بے رحم معلم ہے۔ عقل مند وہ ہے جو اُس حقیقت کو خود جان لے جو بے رحم معلم کے ذریعہ اسے بتائی جانے والی ہے۔ خود جاننے والا شخص اللہ تعالیٰ کے یہاں بینا قرار پائے گا۔ اور جو شخص اس بات کو بے رحم معلم کے ذریعہ جانے ، وہ اندھا ہے۔ اس کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ اندھا بن کر ابدتک اندھیری وادیوں میں بھٹکتا رہے ۔ اور کبھی ان سے نکلنے کا راستہ نہ پائے ۔
کیسا عجیب ہو گا وہ لمحہ جب ایک مسٹر فرسٹ اپنے آپ کو مسٹر سکنڈ کے مقام پر کھڑا ہوا پائے۔
یہ بات بظاہر سادہ سی ہے مگر وہ بے حد اہم ہے۔ آج انسان کے پاس صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا کلام نہیں ہے بلکہ دوسرے انبیاء کا کلام بھی موجود ہے۔ مثلاً تورات اور انجیل میں بہت سے نبیوں کے کلام درج ہیں۔ مگر ان کتابوں کے بارہ میں نہیں کہا جا سکتا کہ جس گھر میں یہ کتابیں موجود ہوں، اس گھر میں انبیاء ربات کرتے ہوئے موجود ہیں، جب کہ پیغمبر اسلام کے بارہ میں یہ بات بالکل لفظی طور پر درست ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے انبیاء کا جو کلام آج مذہبی کتابوں میں موجود ہے، وہ معتبر نہیں ہے۔ ان میں تحریف، ملاوٹ اور نقل کے نتیجہ میں کثرت سے تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔ اس بنا پر بظاہر اگر چہ پیغمبر کا کلام موجود ہے، مگر وہ اس صورت میں نہیں ہے کہ ان پر اعتبار اور اعتماد کیا جا سکے۔ جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ سراسر مختلف ہے۔ آپ کا کلام پوری طرح پیغمبر کا کلام ہے، آپ کے کلام کی جمع و تدوین میں اتنی زیادہ محنت اور احتیاط کی گئی ہے اور اس کی صحت نقل میں اتنا زیادہ اہتمام کیا گیا ہے کہ آج جو "مجموعہ حدیث" ہمارے پاس موجود ہے، اس کی بابت پورے اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ وہ پیغمبر کا کلام ہے۔
اس طرح پیغمبر اسلام گویا ابدی طور پر ہمارے درمیان موجود ہیں۔ وہ ان احادیث کے ذریعہ مسلسل ہم سے ہم کلام ہیں۔ وہ ہم کو ہدایت دے رہے ہیں۔ وہ ہر موقع پر ہماری رہنمائی کر رہے وہ ہر تاریکی میں ہم کو روشنی دکھا رہے ہیں۔
مگر یہ متکلم رسول صرف اس شخص کے لیے ہے جو اپنے اندر سننے والا کان رکھتا ہو جس آدمی کے پاس سننے والے کان نہ ہوں ، اس کے گھر میں متکلم رسول موجود ہو گا، مگر وہ اس کی آواز نہیں وہ اسی طرح اندھا بہرا بنا رہے گا جس طرح پیغمبر کے زمانہ میں بہت سے لوگ اس کی بات کو سننے اور سمجھنے کے لیے اندھے اور بہرے بنے رہے۔ وہ انسان بھی کیسا محروم انسان ہے جس کے پاس نبی متکلم موجود ہو مگر وہ اپنے آپ کو نبی متکلم کا مخاطب نہ بنا سکے۔