Al-Risala · January 1991

صبر کی طاقت

Al-Risala, January 1991, pp. 9–11

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت موسی اور حضرت مسیح کے درمیانی زمانہ میں بنی اسرائیل کے یہاں جنگ کا ایک واقعہ اس وقت بنی اسرائیل کے جوانوں کی تعداد کم تھی اور دشمن کی فوج تعداد اور اسباب میں بہت زیادہ تھی۔ اس فرق کو دیکھ کر بنی اسرائیل کے لوگ ڈر گئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں (البقرہ ۲۴۹)

بائبل کے بیان کے مطابق، اس وقت بنی اسرائیل کے سردار (یونتن) نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آہم اُدھر ان نا مختونوں کی چوکی کو چلیں۔ ممکن ہے کہ خداوند ہمارا کام بنا دے۔ کیوں کہ خداوند کے لئے بہتوں یا تھوڑوں کے ذریعہ سے بچانے کی قید نہیں (۱۔ سموئیل ۱۴ : ۶)۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے:

قال الذين يظنون انهم ملاقو جو لوگ یہ جانتے تھے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں، اللہ کم من فئة قليلة غلبت انھوں نے کہا کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم فئة كثيرة باذن الله والله مع سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں، اور اللہ صبر الصابرين (البقرہ ۲۴۹) کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

اس آیت میں قلیل اور کثیر کا لفظ صرف عددی معنوں میں اقلیت اور اکثریت کے لئے نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ وہ کمزور اور طاقت ور کے معنی میں بھی ہے۔ عربی زبان میں قلیل اور کثیر کا لفظ اس توسعی مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جاہلی دور کے عرب شاعر کا یہ شعر اس کی ایک مثال ہے: فان اك في شراركم قليل فانی فی خیاركم كثير قرآن کی اس آیت میں دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ کسی گروہ کا قلیل التعداد یا کمزور ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ کثیر التعداد یا طاقت ور فریق کے مقابلہ میں ہمیشہ ناکام رہے۔ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں کمزور بھی طاقت ور پر غالب آسکتا ہے۔ یہاں اقلیت بھی اکثریت کو مفتوح کر سکتی ہے۔

اس فتح و کامرانی کا راز آیت میں صبر بتایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر کوئی

انفعالی کیفیت یا بزدلی کی چیز نہیں۔ صبر ایک فعال صفت ہے۔ وہ ایک بہادرانہ خصوصیت ہے۔ صبر اتنی عظیم چیز ہے کہ جو لوگ اس کا ثبوت دیں وہ خدا کی خصوصی نصرت کے مستحق بن جاتے ہیں، حتیٰ کہ اس کا نتیجہ اس صورت میں نکلتا ہے کہ ایک بظاہر کمزور گروہ ایک بظاہر طاقت ور گروہ کے اوپر غلبہ حاصل کر لیتا ہے موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان ہمیشہ مقابلہ جاری رہتا ہے۔ اس مقابلہ میں کبھی ایک گروہ غالب آ جاتا ہے اور دوسرا گروہ اس کے مقابلہ میں بظاہر مغلوب اور کمزور ہو کر رہ جاتا ہے۔

جب کوئی گروہ دوسرے کے مقابلہ میں کمزور پڑ جائے اور اس کو نقصان اٹھانا پڑے تو اس کے بعد کمزور گروہ کے ردعمل کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک غیرصابرانہ ردعمل، دوسرا صابرانہ ردعمل۔ غیرصابرانہ ردعمل یہ ہے کہ آدمی مایوسی اور احساسِ شکست کا شکار ہو کر رہ جائے۔ وہ پست، ہمت ہو کر بیٹھ جائے۔ وہ سمجھے کہ اب میرے لئے یہاں کچھ نہیں ہے۔ وہ دوسرے گروہ کو اپنی مصیبتوں کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس کے خلاف فریاد اور احتجاج کرنے لگے۔ یہ تباہی کی صورت ہے۔ دوسروں نے اگر اس کو ابتدائی نقصان پہنچایا تھا تو اس کے بعد وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچا کر اپنی تباہی کی تکمیل کر لیتا ہے۔

دوسرا ر عمل صابرانہ ردعمل ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو چوٹ لگنے کے بعد اپنے آپ کو سنبھالتا اس کا ذہن شکایت کرنے کے بجائے تدبیر کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ مایوسی میں پڑنے کے بجائے امید کے پہلوؤں پر غور کرتا ہے۔ وہ کھوئے ہوئے کا غم کرنے کے بجائے یہ چاہتا ہے کہ ملے ہوئے کو استعمال کرے۔

جو لوگ زک اٹھانے کے بعد اس طرح صبر کے طریقہ کو اختیار کریں وہ گویا اپنے آپ کو حالات سے اوپر اٹھاتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اس حالت کی طرف لے جاتے ہیں جہاں ان کے اندر چھپے ہوئے ان کی شخصیت مزید طاقت کے ساتھ ابھر آئے۔

غیر صابر آدمی نقصان کو نقصان کے روپ میں دیکھتا ہے ۔ صابر آدمی نقصان کو اپنے لئے چیلنج سمجھتا ہے ۔ وہ حالات کا مقابلہ کر کے اپنے آپ کو آگے لے جانا چاہتا ہے ۔ اور جو لوگ نقصان کا اس

طرح استقبال کریں ، وہ ہمیشہ آگے بڑھتے ہیں ۔ وہ اپنی نا کامی کو دوبارہ عظیم تر کامیابی میں تبدیل کر لیتے ہیں ۔

جب ایسا ہو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کے اوپر ظلم کرے ، اور مظلوم گروہ بھی اس کے جواب میں ظالمانہ کارروائی کرنے لگے تو دونوں گروہ اخلاقی اعتبار سے برابر ہو گئے ۔ ایسے دونوں گروہوں کو اللہ ان کی اپنی ذات کے حوالے کر دیتا ہے ۔ ان میں سے کسی کو بھی اللہ کی مدد حاصل نہیں ہوتی ۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ایک گروہ وہ دوسرے گروہ کو اپنے ظلم اور سرکشی کا نشانہ بنائے ۔ مگر مظلوم گروہ وہ جوابی کارروائی کرنے کے بجائے اس پر صبر کرلے ، تو خدا صابر گروہ کے ساتھ ہو جاتا ہے ۔ گروہ کی مدد کر کے اس کو ظالم گروہ کے اوپر فاتح بنا دیتا ہے ۔

مظلوم گروہ کو یہ فائدہ تمام تر صبر کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے ۔ صبر کوئی بے عملی کی حالت نہیں ، صبر سب سے بڑا عمل ہے ۔ صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر اٹھتے ہوئے جذبات کو منفی رخ سے ہٹا کر مثبت رخ کی طرف پھیر دے ۔

صبر کی صفت اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے ۔ جو شخص صبر کرے وہ بے پناہ شخصیت کا مالک بن جاتا ہے ۔ تمام قوانین فطرت اس کے حق میں متحرک ہو جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد کے تحت وہ ایک ناقابل تسخیر ہستی بن جاتا ہے ۔

صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے اوپر اٹھائے ۔ کی بدخواہی کے جواب میں اس کے ساتھ خیر خواہی کر ناسکھا تا ہے ۔ وہ برے عمل کا جواب بھلے عمل سے دینے کا مزاج پیدا کرتا ہے ۔ صابر آدمی ظالم کے ظلم پر اس کے خلاف بد دعا نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کی ہدایت کی دعا مانگتا ہے ۔

صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ایسا نہ کرے کہ وہ اشتعال انگیزی کے وقت مشتعل ہو جائے اور عاجلانہ کارروائی میں اپنی طاقت کو ضائع کرے ۔ صبر آدمی کو بے پناہ حد تک طاقتور بنا دیتا ہے ۔ وہ آدمی کی خفیہ صلاحیتوں کو جگاتا ہے ۔ وہ آدمی کے چھپے ہوئے امکانات کو بیدار کر تا ہے ۔ وہ آدمی کے اندر منصوبہ بند کام کرنے کا مزاج پیدا کرتا ہے ۔ صبر آدمی کو معمولی انسان کے درجہ سے اٹھا کر غیر معمولی انسان کے درجہ میں پہنچا دیتا ہے ۔

Printed page