Al-Risala · March 1991

دو عملی

Al-Risala, March 1991, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

عراق کے حکمراں صدام حسین نے ۲ اگست ۱۹۹۰ء کو کویت میں اپنی فوجیں داخل کر دیں اور اس پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ اس پر تمام علماء نے مذمت کے بیانات دیے۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی نے سعودی حکمراں ملک فہد کے نام ٹیلی گرام بھیجا۔ اس ٹیلی گرام میں مولانا نے کویت پر عراق کے غاصبانہ قبضہ کی مذمت کی اور یہ اپیل کی کہ عراق اپنی فوجوں کو کویت سے واپس بلالے (اخبار العالم الاسلامی ۳ ستمبر ۱۹۹۰) ۱۶ستمبر ۱۹۹۰ کو دہلی میں ”کل ہند تحفظ حرمین شریفین کانفرنس“ ہوئی۔ یہ کانفرنس مولانا منت اللہ رحمانی کی صدارت میں ایوان غالب میں ہوئی۔ اس کا افتتاح مسلم مجلس مشاورت کے صدر شیخ ذوالفقار اللہ ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے علماء نے اس میں شرکت کی۔ کانفرنس میں متفقہ طور پر پاس کی گئی قرار داد میں کویت پر عراق کے غاصبانہ قبضے کی پر زور مذمت کی گئی۔ مطالبہ کیا گیا کہ عراق بلا شرط اپنی فوجیں کویت سے واپس بلالے۔ اور کویت کو اس کے نقصانات کا معاوضہ ادا کرے۔ کانفرنس نے عراق کے حکمراں ٹولہ کے بے بنیاد پروپیگنڈا کی مذمت کی اور کہا کہ مسلمان ان جھوٹے پروپیگنڈوں سے متاثر نہ ہوں۔ ۱۷ ستمبر ۱۹۹۰)

اس قسم کے مذمتی بیانات سراسر بے فائدہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بیانات قیادت کے تقاضے کے تحت دیے جاتے ہیں نہ کہ اصول کے تقاضے کے تحت۔ اُن کی مذمت اگر اصول حق کی خاطر ہوتی تو وہ ہر غاصبانہ قبضے کی مذمت کرتے۔ جب کہ وہ صرف اس غاصبانہ قبضے کی مذمت کر رہے ہیں جس سے ان کا قیا دی مفاد

ہندوستان میں انفرادی سطح پر عین اسی قسم کے قبضۂ غاصبانہ کے واقعات ہو رہے ہیں جیسا واقعہ کویت مگر ہمارے علماء ان کی مذمت نہیں کرتے۔ عراق کے غاصب کے جھوٹے پروپیگنڈوں کی وہ تردید کرتے ہیں، مگر اپنے ملک کے غاصب کے جھوٹے پروپیگنڈوں کو مان کر وہ خود اس کے سرپرست بن جاتے ہیں۔ مسلم رہنماؤں کی یہ دو عملی موجودہ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس دو عملی نے ہمارے رہنماؤں کی تمام کارروائیوں کو بالکل بے اثر بنا دیا ہے۔ اس دو عملی کے باقی رہتے ہوئے ہرگز مسلمانان ہند کا بھلا ہونے والا نہیں۔

Printed page