Al-Risala · March 1991

اقلیتی فریق کا ایڈجسٹمنٹ

Al-Risala, March 1991, pp. 16–17

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکہ کے اقلیتی فریق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو عام طور پر مہاجر (immigrants) کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو مختلف ملکوں سے امریکہ آئے اور پھر یہاں کے شہری بن کر یہاں رہنے لگے۔ اس سفر کے دوران اس طبقہ کے بہت سے لوگوں سے میری ملاقات ہوئی۔ ان میں مختلف ملکوں کے لوگ بھی تھے اور مختلف مذہبوں کے لوگ بھی۔

ان مہاجرین کے لئے امریکہ میں مختلف مسائل تھے۔ مگر ان مسائل میں انھوں نے یک طرفہ طور پر امریکی نظام سے ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کیا۔ مثال کے طور پر ایک ہندو جب ہندوستان میں تھا تو وہ ”بھارت“ کو اپنا دیوتا سمجھتا تھا۔ اس کی تمام وفاداریاں بھارت کی سرزمین سے وابستہ تھیں۔ وہ فخر کے ساتھ وطنی تقدس کا وہ ترانہ گاتا تھا جس کو بندے ماترم کہا جاتا ہے۔ مگر امریکہ میں جب اس نے وہاں کی شہریت لینا چاہا تو اس کو معلوم ہوا کہ اس کا بھارتی عقیدہ امریکی نظریہ سے ٹکرا رہا ہے۔ اس کو امریکی شہریت صرف اس وقت مل سکتی ہے جب کہ وہ بھارت سے اپنی وفاداری کو مکمل طور پر اور مطلق طور پر ختم کر دے۔ وہ اپنی تمام وفاداریاں صرف امریکہ (U.S.A) کے ساتھ وابستہ کرے۔ یہاں اس نے امریکی نظام سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ اپنے اصول کو بدلے۔ اس کے بجائے اس نے خود اپنے عقیدہ پر نظرثانی کی۔ کے مطابق اس نے امریکہ کی غیر مشروط وفاداری کا حلف (oath of allegiance) لیا اور اس طرح وہ امریکہ کا شہری بن گیا۔

اسی طرح مسلمان کے عقیدہ کے مطابق، ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے جنگ کرنا حرام ہے۔ کا یہ عقیدہ امریکہ کے قانون شہریت سے ٹکراتا ہے۔ کیوں کہ امریکہ کے دستور کے مطابق، ہر امریکی شہری پر لازم ہے کہ جب کبھی کسی دوسرے ملک سے امریکہ کی جنگ پیش آئے تو کسی تحفظ یا استثناء کے بغیر وہ امریکہ کی طرف سے اس غیر ملک کے خلاف جنگ کرے امریکہ کے زمانہ قیام میں میری ملاقات ایک مسلمان فوجی سے ہوئی ۔ اس نے کہا کہ مجھے خلیج عرب

میں جانے والی امریکی فوج میں بھیجا جا رہا ہے۔ امریکہ اگر عراق کے خلاف جنگ چھیڑتا ہے تو مجھے ایک مسلم فوج کے خلاف لڑنا ہوگا جو کہ اسلام میں حرام ہے۔ ایسی حالت میں مجھے کیا کرنا چاہئے۔ امریکہ میں اس وقت تقریباً پانچ ملین مہاجر مسلمان آباد ہیں۔ ان مسلمانوں نے وفاداری کا مقررہ حلف نامہ دے کر امریکہ کی شہریت کو اختیار کیا ہے۔ انھوں نے امریکہ سے یہ مانگ نہیں کی کہ وہ اپنے قانون کو بدل کر اس میں یہ استثنائی دفعہ شامل کرے کہ مسلمان مہاجر اس وقت جنگ میں شرکت کے پابند نہ ہوں گے جب کہ امریکہ کسی مسلم ملک یا مسلم قوم سے برسرجنگ ہو جائے ۔ تمام امریکی مسلمانوں نے بلا بحث امریکی نظام کو قبول کرتے ہوئے اس کی وفاداری کا حلف لیا، اور خود امریکہ کی شرط پر نہ کہ اپنی شرط پر ، امریکہ کے شہری بن گئے ــــــــــ۔ امریکہ کے مہاجرین نے امریکہ میں جو کامیابی حاصل کی ہے ، اس کو انھوں نے ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ حاصل کیا ہے نہ کہ ٹکراؤ کے ذریعہ ۔

اب ایک اور مثال لیجئے۔ امریکہ میں یہ قانون ہے کہ ایک شخص اگر اپنے بعد جائداد چھوڑ کر مرے تو اس کی جائداد کا ۴۰ فی صد حصہ گورنمنٹ کے خزانہ میں چلا جائے گا۔ اس کے بعد بقیہ ترکہ کا بیشتر حصہ متوفی کی رفیقہ حیات (spouse) کو ملے گا۔ اور نسبتاً بہت تھوڑا حصہ متوفی کی اولاد کے حصہ میں جائے گا۔ امریکہ کا یہ قانون وراثت واضح طور پر ہندوؤں، مسلمانوں اور اسی طرح دوسری ایشیائی قوموں کے اپنے مذہب یا کم از کم ان کی ذاتی پسند سے ٹکراتا ہے۔ مگر یہاں بھی مہاجر لوگوں نے امریکہ سے یہ مانگ نہیں کی کہ وہ اپنے قانون وراثت میں ترمیم کرے اور اس معاملہ میں اس قانونی اصول کو رائج کرے جس کو ہندوستان میں ”پرسنل لا“ کہا جاتا ہے ، تاکہ مہاجر لوگوں کو یہ قانونی حق مل جائے کہ ان کی جائداد ان کے اپنے مذہب یا اپنے خاندانی رواج کے مطابق تقسیم کی جاسکے۔

Printed page