Oath of Allegiance
Al-Risala, March 1991, pp. 17–21
By Maulana Wahiduddin Khan
I hereby declare, on oath, that I absolutely and entirely renounce and abjure all allegiance and fidelity to any foreign prince, potentate, state or sovereignty, of whom or which I have heretofore been a subject or citizen; that I will support and defend the Constitution and Laws of the United States of America against all enemies, foreign and domestic; that I will bear true faith and allegiance to the same; that I will bear arms on behalf of the United States when required by the Law; that I will perform noncombatant service in the armed forces of the United States when required by the Law; that I will perform work of national impor- tance under civilian direction when required by the Law; and that I take this obligation freely without any mental reservation or purpose of evasion: So help
یہاں کے زمانہ قیام میں میں امریکی مسلمانوں کی ایک میٹنگ میں شریک ہوا ۔ اس میٹنگ کا خاص موضوع وراثت کی تقسیم کے اسی مسئلہ پر غور کرنا تھا۔ وہاں کسی بھی شخص نے یہ تجویز پیش نہیں کی کہ امریکہ کا یہ قانون مداخلت فی الدین ہے۔ اس لئے اس پر مسلمانوں کی طرف سے سخت احتجاجی بیان شائع کیا جائے اور ملک کے تمام حصوں میں اس کے خلاف جلسے اور جلوس کے مظا ہرے کئے جائیں، تاکہ حکومت پر دباؤ پڑے اور وہ موجودہ قانون وراثت میں ترمیم پر مجبور ہو جائے ۔ میں نے دیکھا کہ ہر آدمی اس قسم کے بیانوں اور مظاہروں کو خارج از بحث قرار دیتے ہوئے صرف یہ بات کر رہا ہے کہ موجودہ قانون کے ہوتے ہوئے ہم اپنے مسئلہ کو کس طرح حل کر سکتے ہیں۔ بیرون ملکوں میں مقیم حضرات ہر جگہ ایڈجسٹمنٹ کی سیاست چلا رہے ہیں نہ کہ وہ سیاست جس کو ہندوستان کے سطحی لیڈر دباؤ کی سیاست کا نام دئے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں مجھے معلوم ہوا کہ وہاں کے ہندوؤں اور مسلمانوں نے اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے جو کچھ کیا وہ صرف یہ تھا کہ انہوں نے امریکہ کے ماہرین قانون سے مل کر ان سے مشورہ طلب کیا کہ امریکی قانون سے ٹکرائے بغیر وہ کس طرح اس کے دائرہ میں اپنا مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔
امریکی وکیلوں نے انہیں بتایا کہ امریکہ کے قانونی نظام میں وصیت نامہ (will) کی بے حد اگر کوئی شخص اپنی موت سے پہلے اپنا باقاعدہ وصیت نامہ تحریر کر دے تو امریکہ کے موجودہ قانون کے مطابق، اس کو کسی تبدیلی کے بغیر کل طور پر نافذ کیا جائے گا۔ اس لئے آپ لوگ یہ اہتمام کریں کہ ہر آدمی اپنی موت سے پہلے اپنا وصیت نامہ لکھ کر اس کی رجسٹری کرا دے ۔ وصیت نامہ میں وہ اپنے مذہب یا اپنے خاندانی رواج کے مطابق اپنی جائداد کے بٹوارہ کی اسکیم درج کر دے۔ نے ایسا کیا تو اس کے مرنے کے بعد اس کی اسکیم کو عین اس کی وصیت کے مطابق جاری کیا جائے گا۔ تمام ہندوؤں، تمام مسلمانوں اور تمام دوسرے لوگوں نے امریکی وکیلوں کے اس مشورہ کو بلا بحث اس کے مطابق اب وہ امریکہ کے قانونی نظام سے موافقت کر کے اپنی جائداد اور اپنے ترکہ کے مسئلہ کو حل کر رہے ہیں۔ امریکہ کے مہاجر حضرات کا جس جس معاملہ میں بھی امریکہ کے نظام یا وہاں کے قانون سے ٹکراؤ پیش آیا ، اس کو انہوں نے اسی طرح ایڈجسٹمنٹ کرکے حل کیا ہے۔ انھوں نے ہمیشہ اس سے پر ہیز کیا کہ ایسا کوئی مسئلہ ان کے اور امریکیوں کے درمیان ٹکراؤ کا اشتوبن جائے۔ بیرونی ملکوں کے جو لوگ امریکہ میں جاکر آباد ہوگئے ہیں، ان میں سے کئی لوگوں سے میں نے پوچھا کہ
آپ نے اپنے ملک کو چھوڑ کر کیوں امریکہ کو اپنا وطن بنالیا۔ ان سب کا متفقہ جواب یہ تھا کہ یہاں ہم کو پر امن زندگی (peaceful life) حاصل ہے۔ مگر ان حضرات کا یہ بیان اس وقت تک نامکمل ہے جب تک اس میں یہ شامل نہ کیا جائے کہ امریکہ کی یہ پر امن زندگی انہیں وہاں کے نظام سے موافقت کرنے کی قیمت پر ملی ہے نہ کہ وہاں کے مروجہ نظام سے ٹکراؤ کرنے کی بنا پر۔
امریکہ کے مہاجر وہاں اقلیتی فریق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں امریکی نظام کی حیثیت گویا اکثریتی فریق کی ہے۔ مذکورہ مثال بتاتی ہے کہ وہاں کے اقلیتی فریق نے اپنے اکثریتی مد مقابل سے کس طرح انہوں نے اس معاملہ کے نظری یا اصولی پہلوؤں پر کوئی بحث نہیں چھیڑی۔ بلکہ اپنے مسئلہ کے حل کے لئے وہ عملی طریقہ اختیار کر لیا جس کو ہم نے حد پیہ پرنسپل کا نام دیا ہے۔ اکثریتی فریق کا ایڈ جسٹمنٹ اب دوسری نوعیت کی مثال لیجئے۔ یعنی وہ مثال جب کہ اکثریتی فریق نے حالات کے تقاضے کا احترام کرتے ہوئے اپنے اقلیتی فریق کے ساتھ ایڈ جسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کی ایک واضح مثال جاپان کی موجودہ تاریخ میں پائی جاتی ہے۔
امریکہ سے جاپان کا سفر بحر الکاہل کے اوپر طے ہوتا ہے۔ یہ تقریبا دس گھنٹہ کی طویل پرواز ہے۔ چنانچہ مسافروں کی اکتاہٹ کو دور کرنے کے لئے جہاز میں دوران سفر فلم شو دکھایا جاتا ہے۔ میں جب لاس اینجلز سے جاپان ائر لائنز کے ذریعہ ٹوکیو جا رہا تھا تو راستہ میں جاپان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اسکرین پر دکھایا گیا۔ ایک منظر میں میں نے دیکھا کہ امریکہ کا قومی جھنڈا جاپان کی سرزمین پر لہرا رہا ہے۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے برٹش حکومت کا سرکاری جھنڈا دہلی کے اوپر لہرا رہا ہو۔ ایسا واقعہ ہندوستان میں یقینی طور پر ناقابل برداشت سمجھا جائے گا۔ مگر جاپانی قوم پچھلے ۴۵ سال سے اس کو برداشت کر رہی اور اس" برداشت" نے جاپان کو زبردست فائدہ پہنچایا ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، دوسری عالمی جنگ کے بعد ۱۹۴۵ میں امریکی فوجیں جاپان کی سرزمین پر اترگئیں۔ انہوں نے سیاسی اور فوجی اعتبار سے جاپان کے اوپر اپنی بالا دستی قائم کر دی۔ اس کے بعد امریکی جنرل میکارتھر نے جاپان کا نیا دستور تیار کیا، اس میں یہ لکھ دیا گیا کہ جاپان کبھی بھی فوجی طاقت بننے کی کوشش نہیں کرے گا۔ جاپان کے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر امریکہ کے تعلیمی نمونہ پر ڈھال دیا گیا۔
جزیرہ او کیناو ا کو امریکہ کا فوجی اڈہ بنا کر وہاں امریکہ کا قومی جھنڈا لہرادیا گیا۔ اس معاملہ میں جاپان اکثریتی فریق کی حیثیت رکھتا تھا وہ امریکہ کی حیثیت اس کے مقابلہ میں اقلیتی فریق کی تھی۔ اب ایک صورت یہ تھی کہ جاپان اپنے اوپر امریکہ کی بالادستی کو قبول نہ کرے ۔ وہ اس کے خلاف مذمت اور احتجاج کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دے، وہ امریکہ کے خلاف گوریلا جنگ چھیڑ دے، مگر جاپانیوں نے اس قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی۔ یہ معاملہ اگر چہ ان کی قومی غیرت کے سراسر مگر انھوں نے نظری پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے خالص عملی نقطۂ نظر کو اپنا لیا۔ نے یہ کیا کہ یک طرفہ طور پر امریکہ کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کر کے ممکن دائرہ میں اپنی زندگی کی تعمیر شروع کر دی ۔
۱۹۱۴۵ میں جب یہ قومی مصیبت پیش آئی تو جاپان کے سابق شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے ریڈیو پر ایک تاریخی تقریر کی۔ ۴ اگست ۱۹۴۵ کی اس تقریر میں جاپان کے قومی لیڈر نے اپنی قوم کو یہ پیغام دیا کہ وہ جذباتی مظاہروں (outbursts of emotions) سے قطعی پرہیز کریں۔ وہ اپنی تمام طاقتوں کو مستقبل کی تعمیر (construction of future) کے محاذ پر لگادیں ۔ وہ اپنے آپ کو غیر ملکی نفرت (antiforeign sentiment) سے بچائیں ۔ جاپان کی تعمیر نو (reconstruction) کے سوا اور کسی اور چیز میں کوئی دل چسپی نہ لیں۔
جاپان کے لیڈر نے اپنی قوم کو اس قسم کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ عزم کیا ہے کہ آنے والی نسلوں کو ایک عظیم امن مہیا کرنے کے لئے ایک ایسی چیز کو برداشت کریں جو ناقابل برداشت ہے، اور اس کو سہیں جو سہی نہیں جاسکتی :
We have resolved to pave the way for a grand peace for all the generations to come by enduring the unendurable and suffering what is unsufferable. Ian Nish, The Story of Japan, p. 192 اس اصول کو اختیار کرنا جاپان کے لئے اپنے آپ کو امریکہ کے ماتحت بنانے کے ہم معنی تھا۔ چنانچہ ابتدائی دور میں جاپان نے ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اپنا مقام کھو دیا۔ پنڈت جواہر لال نہرو ۱۹۴۷ میں ہندستان کے پہلے وزیر اعظم بنے تو انھوں نے اپنی خارجہ پالیسی میں جاپان کو کوئی مقام نہیں دیا۔
اپنے پورے دور حکومت میں وہ جاپان کو نظر انداز کرتے رہے۔ کیوں کہ ان کے نزدیک، جاپان ایک وابستہ ملک (aligned nation) بنا ہوا تھا، اور نہرو کے اپنے ذہن کے مطابق کسی ملک کی عظمت اس میں تھی کہ وہ نا وابستہ قوم (non-aligned nation) کی حیثیت رکھتا ہو۔
مگر آج ساری دنیا جانتی ہے کہ جاپان کی اس یک طرفہ پالیسی نے جاپان کو غیر معمولی فائدہ پہنچایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان کو وسیع پیمانے پر ایک وقفہ تعمیر مل گیا۔ اس نے اس وقفہ کو استعمال کرکے اتنی زیادہ اقتصادی ترقی کی کہ جاپان کے اوپر امریکہ کی سیاسی اور فوجی بالا دستی عملاً بے معنی ہو کر رہ گئی۔ آج جاپان خود امریکہ کی دیو پیکر کمپنیوں کو بڑی بڑی قیمت دے کر خرید رہا ہے۔ امریکہ اور جاپان کے درمیان ہر روز ایک درجن فلائٹ آتی ہے اور ہر روز ایک درجن فلائٹ جاتی ہے۔ جاپان نے ساری دنیا میں نمبر ایک اقتصادی طاقت کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ ۱۹۴۵ میں امریکہ نے جاپان پر سیاسی غلبہ حاصل کیا تھا، آج خود امریکہ زیادہ بڑے پیمانے پر جاپان کے اقتصادی غلبہ کے نیچے دبا ہوا ہے۔ ایک چھوٹا اور بے وسیلہ ملک ہے، اس کے مقابلہ میں ہندوستان بہت بڑا اور باوسیلہ ملک ہے۔ مگر جاپان کے مقابلہ میں آج ہندوستان کی کوئی حیثیت نہیں۔
یہ اقلیتی فریق کے مقابلہ میں اکثریتی فریق کے ایڈ جسٹمنٹ کی مثال ہے۔ اس معاملہ میں امریکہ گویا اقلیتی فریق کی حیثیت رکھتا تھا۔ اور اس کے مقابلہ میں جاپان کی حیثیت اکثریتی فریق کی تھی۔ جاپان نے نظری پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے عملی پہلو کو اختیار کر لیا اور اپنے اقلیتی حریف سے موافقت کرتے ہوئے ممکن دائرہ میں تعمیر و استحکام کا عمل جاری کر دیا۔ یہ عملی طریقہ اتنا کار آمد تھا کہ جب اس کی تکمیل ہوئی تو جاپان نے عالمی نقشہ پر پہلے سے بھی زیادہ بڑی حیثیت حاصل کر لی۔