Al-Risala · March 1991

ہندوستان کی مثال

Al-Risala, March 1991, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان میں بھی ظاہری فرق کے ساتھ یہی صورت حال جاری ہے۔ یہاں کا مسئلہ بنیادی طور پر ہندو اور مسلمان کا مسئلہ ہے۔ اس معاملہ میں ہند و فریق کی حیثیت اکثریتی فریق کی ہے۔ اور مسلمان اس کے مقابلہ میں اقلیتی فریق کی حیثیت رکھتا ہے۔

اکثریت اور اقلیت کا جھگڑا پچھلے ۴۵ سال سے مسلسل جاری ہے۔ عین اسی مدت میں جب کہ امریکہ کے مہاجر طبقہ نے اپنے اکثریتی فریق سے موافقت کر کے غیر معمولی ترقی حاصل کر لی۔ اور اسی طرح

جاپان نے اپنے اقلیتی فریق کے ساتھ موافقت کر کے عالمی سطح پر اپنے لئے نمایاں مقام حاصل کر لیا، اسی مدت میں ہندوستان کے دونوں فرقوں میں صرف دنگے اور فساد جاری رہے اور آج تک جاری ہیں۔ کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ ہند و فرقہ کوئی حقیقی ترقی کا درجہ حاصل کر سکا اور نہ مسلم فرقہ ۔ دونوں کے دونوں بربادی کے گڑھے کے کنارہ کھڑے ہوئے ہیں۔

امریکہ کے زمانہ قیام میں میں روزانہ وہاں کے اخبارات پڑھتا تھا۔ مگر امریکہ کے اخبارات ہندوستان کی خبروں سے خالی تھے۔ اس مدت میں میں ہندوستان کے حالات سے اس طرح بے خبر ہو گیا کہ ہندوستان جیسے کسی ملک کا کره ارض پر کوئی وجود ہی نہیں ۔ ہندوستان جغرافی اعتبار سے بہت بڑا ملک اس کے پاس ہر قسم کے بہترین وسائل موجود ہیں۔ اس کو آزادانہ حیثیت میں تقریباً نصف صدی تک عمل کا موقع ملا۔ مگر اس کے باوجود حالت یہ ہے کہ عالمی نقشہ میں ہندوستان کو کوئی بھی اہمیت

اس کا واحد سبب یہ ہے کہ ہندوستان میں ان دونوں میں سے کوئی واقعہ پیش نہ آسکا، حتی کہ کسی ملکی لیڈر نے رہنمائی کے درجہ میں بھی وہ بات نہ کہی جس کی شاندار مثال امریکہ اور جاپان میں موجود ہندوستان کو یا ہندوستان کے لیڈروں کو نہ امریکہ میں کوئی نمونہ ملا اور نہ جاپان میں۔ انھیں کرنے کا کام صرف یہ نظر آیا کہ وہ بے فائد ہ طور پر آپس میں لڑتے رہیں۔ یہاں تک کہ دنیا کی بین اقوامی برادری میں ایک پچھڑا ہوا گروہ بن کر رہ جائیں۔

Printed page