Al-Risala · March 1991

مسئلہ کا حل

Al-Risala, March 1991, pp. 22–26

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے مسئلہ کا حل صرف ایک ہے، اور وہ وہی ہے جس کو ہم نے حدیبیہ پرنسپل کہا ہے۔ یعنی دونوں فریقوں میں سے کسی ایک فریق کا اس پر راضی ہونا کہ وہ یک طرفہ طور پر تمام جھگڑوں کو ختم کر دے گا۔

اس معاملہ میں ہمارے لئے دو قسم کے نمونے پائے جاتے ہیں ۔ ایک وہ جس کی مثال امریکہ میں ملتی ہے۔ اور دوسرا وہ جس کی مثال جاپان پیش کر رہا ہے۔ امریکہ کی مثال میں ہندوستان کے اقلیتی فرقہ (مسلمان) کے لئے ایک جدید نمونہ ہے۔ اور جاپان کی مثال ہندوستان کے اکثریتی فرقہ (ہندو) کے لئے جدید نمونہ کی حیثیت ہندوستان کے لئے لازم ہے کہ وہ ان دو میں سے کسی ایک نمونہ کو اختیار کرے ۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو

اس ملک کے جھگڑے ابدی طور پر باقی رہیں گے، یہاں تک کہ ہندوستان کمزور ہوتے ہوتے دنیا کے نقشہ میں یک ناقابلِ لحاظ ملک بن کر رہ جائے گا۔

اکثریتی فریق (ہندو) اگر حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرے تو اس کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف اپنی تمام صحیح یا غلط شکایتوں کو یک طرفہ طور پر بھلا دے۔ وہ اینٹی مسلم طرزفکر کو چھوڑ کر حقیقی معنوں میں پرو بھارت طرزِ فکر اختیار کرے۔ وہ مسلمانوں کے سلسلہ میں ماضی کی تمام شکایتوں کو فراموشی کے خانہ میں ڈال دے اور اپنی تمام توجہ اور اپنی تمام طاقت ملک کی ترقی کی راہ پر لگادے۔ اگر ایسا کرے تو وہ وہی بے کاجو جاپان نے "اکثریت" کے باوجود اپنی " اقلیت " کے مقابلہ میں کیا۔ اگر ہندو ایسا کرنے پر راضی ہو جائے تو تاریخ اس سے بھی زیادہ بڑے پیمانہ پر اس کے حق میں اپنے آپ کو دہرائے گی جس کی شاندار مثال جاپان کے تجربہ میں نظر آتی ہے۔

دوسری ممکن صورت یہ ہے کہ اس " اس‘‘حدیبیہ پرنسپل " کو یہاں کا اقلیتی فریق (مسلمان) اختیار کرے مسلمانوں کو صحیح یا غلط اپنے اکثریتی فریق سے بہت سی شکایتیں ہیں۔ اگر مسلمان اپنے آپ کو اس تاریخی فیصلہ پر راضی کریں تو انہیں وقتی طور پر یہ کرنا ہوگا کہ وہ ہندو کے مقابلہ میں اپنی ہر شکایت کو، خواہ وہ بظاہر جائز ہو یا ناجائز ، صبر اور اعراض کے خانہ میں ڈال دیں۔ ہندوؤں کی طرف سے اشتعال انگیزی کی جائے تو یک طرفہ طور پر اس کو برداشت کریں۔ ہندو فساد پر آمادہ ہوجائے تب بھی وہ مقابلہ آرائی کا انداز اختیار نہ کریں۔ ہندو انہیں محرومی کا تجربہ کرائے تو اس کو بھی وہ اپنے ذہن سے نکال دیں۔ مسلمان اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے اوپر اٹھائیں، وہ مکمل طور پر اور ایک طرفہ طور پر مثبت نفسیات میں جینے لگیں۔

موجودہ حالات میں صبر و اعراض کی یہ پالیسی مسلمانوں کے لئے دقیق تعیر حاصل کرنے کی تدبیر ہے۔ مسلمان اپنے مستقبل کی تعمیر کے لئے اس صورتِ حال کو برداشت کریں۔ وہ صبر و اعراض کی پالیسی اختیار کر کے صرف یہ کریں کہ ممکن دائرہ میں اپنی تعمیر و ترقی کی جدوجہد جاری کر دیں۔ تمام ناموافق باتوں کے باوجود اس ملک میں ان کے لئے یہ موقع کھلا ہوا ہے کہ جس چیز کو دوسرے لوگ کم محنت کر کے پا رہے ہیں ، اس کو وہ زیادہ محنت کر کے اپنے لئے حاصل کر لیں۔ اور مسلمانوں کو اسی امکان کو استعمال

مسلمانوں کے لئے اب بھی تعلیم، تجارت، زراعت، سماجی خدمت، وغیرہ شعبوں میں کام کرنے کے مواقع پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔ وہ ناموافق باتوں سے اعراض کرتے ہوئے ان تعمیری میدانوں میں سرگرم عمل ہو جائیں۔ یہ اگر چہ ان کے لئے ناقابل برداشت کو برداشت کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ مگر اس دنیا میں کوئی بڑی کامیابی ہمیشہ ان لوگوں کو ملتی ہے جو اس اعلیٰ حوصلہ مندی کا ثبوت دیں۔ مسلمان اگر ایسا کریں تو یقینی طور پر یہ پیشین گوئی کی جاسکتی ہے کہ ۲۵ سال کے اندر اس ملک کی پوری تاریخ بدل

۱۰ دسمبر ۱۹۹۰ کو میں جاپان ایئر لائنز کے جس جہاز کے ذریعہ سفر کر کے دہلی پہنچا، اس میں تقریباً تین سو مسافر تھے۔ ان میں بیشتر وہ لوگ تھے جن کو مہاجر (immigrants) کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ہرایک خوشی اور خوش حالی کی تصویر بنا ہوا تھا۔ ایک شخص نے کہا: اگر ہم انڈیا میں ہوتے تو یہاں لڑائی جھگڑوں سے فرصت نہ ملتی۔ یہ خوش قسمتی کی بات تھی کہ حالات نے ہم کو امریکہ پہنچا دیا۔ نے اتنی ترقی حاصل کر لی۔

مگر جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، یہ امریکہ کی بات نہیں بلکہ طریقہ کار کی بات ہے۔ لوگ امریکہ میں جو طریق کار اختیار کئے ہوئے ہیں، مسلمان اگر اس طریقہ کار کو اپنا لیں تو خود اسی ملک میں وہ ساری ترقیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد مسلمان اس ملک میں بھی عزت اور کامیابی کے وہ تمام مواقع پالیں گے جو اسی طریقہ کار کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں امریکہ کے مہاجر لوگوں نے وہاں اپنے لئے حاصل کیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ مسلمانوں کے لئے ملک کی ایک اعلیٰ خدمت کے ہم معنی ہے۔ مسلمان اگر اس طرز عمل کو اختیار کریں تو بالواسطہ طور پر وہ اس ملک کی عمومی ترقی کا ذریعہ بن جائیں گے۔ وہ ملکی ترقی کے اس دروازے کو کھول دیں گے جو باہمی جھگڑوں کے نتیجہ میں پچھلی نصف صدی سے عملاً بند پڑا ہوا ہے۔ قرآن میں زندگی کا ایک اہم اصول ان لفظوں میں بتایا گیا ہے کہ جو چیز لوگوں کو نفع دیتی ہے وہ زمین میں قیام حاصل کرتی ہے (الرعد ، ۱۷ ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفع بخشی کی صفت ایسی تسخیری صفت ہے کہ جو لوگ اپنے اندر یہ صفت پیدا کر لیں وہ لازماً مضبوط اور مستحکم زندگی حاصل کرنے میں کامیاب اب اگر مسلمان مذکورہ اصول پر عمل کریں تو اس کے بعد بہت جلد ایسا ہوگا کہ وہ اس ملک میں ایک نفع بخش گروہ کی حیثیت حاصل کر لیں گے۔ اور یہ قرآن کی گواہی ہے کہ جو لوگ کسی ملک میں نفع بخش

گروہ بن جائیں وہ اس ملک میں مستحکم مقام کا درجہ بھی ضرور حاصل کر لیتے ہیں۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ اس سے بہت آگے جاتی ہے ۔ مسلمانوں کا اس ملک میں "حد یبیہ پرنسپل" کو اختیار کرنا ان کے لئے امریکی مہاجرین کی طرح صرف مادی فائدہ کا سبب نہیں بنے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑی بات یہ ہوگی کہ یہاں مسلمانوں کے دین کے لئے فتوحات کا وہ دروازہ کھل جائے گا جو دورِ اول میں حدیبیہ پرنسپل کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں ان کے اسلاف کے لئے کھلا تھا۔

مسلمان کی تمام حیثیتوں میں سب سے بڑی حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک صاحبِ نظر یہ قوم ہیں۔ وہ واحد ملت ہیں جن کے پاس محفوظ دین ہے ۔ انہیں اجارہ داری کے درجہ میں یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہ دنیا کو خدا کا صحیح تصور دے سکتے ہیں۔ مسلم ملت کی یہ حیثیت امکانی طور پر، اُس کو ساری دنیا کے اوپر نظری امام بنا رہی ہے۔ ان کے دین کی یہ امکانی خصوصیت اگر واقعہ بن جائے تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ساری دنیا کے اوپر فکری قیادت کا درجہ حاصل کر لیں گے۔ اسلام ایک محفوظ مذہب ہے۔ وہ ایک قائم شدہ دین کی حیثیت رکھتا ہے ۔ علوم انسانی کی تمام گواہیاں اس کی تصدیق کر رہی ہیں۔ اسلام کی ان خصوصیات نے اسلام کے اندر تسخیری صلاحیت پیدا کر دی ہے۔ آج وہ اس طاقت کا حامل ہے کہ اپنے آپ لوگوں کے درمیان پھیلے ، اپنے آپ لوگوں کے دلوں میں داخل ہو جائے۔

آج صرف ایک چیز ہے جو اسلام کے تسخیری سیلاب کو پھیلنے سے روکے ہوئے ہے، یہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نزاع اور ٹکراؤ کی موجودہ فضا ہے۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اشتعال کی فضا نے اس معتدل ماحول کو ختم کر رکھا ہے جس میں غیر مسلم حضرات مسلمانوں کے مذہب (اسلام) کو کھلے دل کے ساتھ دیکھیں اور اس کو خود اپنی فطرت کی آواز پا کر اس کی طرف دوڑ

اب اشاعتِ اسلام کا دروازہ کھولنے کی ذمہ داری تمام تر مسلمانوں پر آگئی ہے۔ یہ خود مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ داعی اور مدعو کے درمیان کشمکش کا خاتمہ کرکے اسلام کے لئے نئی تاریخ کا آغاز کریں۔

مسلمان اگر صبر و اعراض کا ایک طرفہ طریقہ اختیار کر کے باہمی نفرت کی فضا کو ختم کر دیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام اپنے آپ پھیلنے لگے گا۔ یہاں تک کہ وہ وقت آئے گا جب کہ دنیا یہ منظر دیکھے گی کہ حدیبیہ پر نسپل کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں وہی واقعہ دوبارہ تاریخ میں پیش آگیا ہے جو دور اول میں اس اصول کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں پیش آیا تھا۔

تاریخ اپنے آپ کو دہرانے کے لئے تیار ہے، بشرطیکہ مسلمان اس حوصلہ مندی کا ثبوت دے سکیں کہ وہ دوبارہ اس فاتحانہ تدبیر کو دہرانے کے لئے تیار ہیں جو ان کے پیش روؤں نے چودہ سو سال پہلے دہرایا اور بظاہر شکست کے بعد وہ چیز حاصل کر لی جس کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔ حدیبیہ پرنسپل کو اختیار کرنا کوئی سادہ سی بات نہیں، موجودہ حالات میں یہ مسلمانوں کے لئے ہم خرمی وہم ثواب کے ہم معنی ہے ۔ اس کے ذریعہ ایک طرف وہ اپنی دنیاوی زندگی کی تعمیر کے مواقع وہ اس قابل ہو جائیں گے کہ ملک کے وسائل کو بھر پور طور پر اپنے حق میں استعمال کر کے اپنے آپ کو خوش حال اور ترقی یافتہ بناسکیں۔

دوسری طرف یہ تدبیر ملک میں اشاعت اسلام کے بند دروازے کو کھول دے گی۔ کے بعد اسلام اپنے آپ اس ملک میں پھیلنے لگے گا جس طرح موجودہ قومی جھگڑوں سے پہلے وہ مسلسل یہاں پھیل رہا تھا۔

قرآن میں "حدیبیہ پرنسپل" کا یہ فائدہ بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ سے فتح مبین بھی ملتی ہے اور اللہ کی مغفرت بھی حاصل ہوتی ہے (الفتح - ۲) یہ اسلامی اصول آج دوبارہ مسلمانوں کو پکار رہا ہے اور انہیں بشارت دے رہا ہے کہ اگر تم نے اس کو صحیح طور پر اختیار کر لیا تو وہ تمہاری دنیا کی کامیابی کا بھی ضامن ہے اور اسی کے ساتھ آخرت کی کامیابی کا ضامن بھی۔

روشن مستقبل الرسالة جنوری ۹۱ خصوصی نمبر کے طور پر بعنوان "روشن مستقبل " شائع کیا گیا تھا۔ جس میں ملک کے موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا تھا۔ اب اس شمارہ کو علیحدہ سے ایک مستقل کتابچہ کی صورت میں شائع کیا گیا ہے ضرورت ہے کہ اس کو ہر طبقہ کے لوگوں تک پہنچایا جائے ۔ جو حضرات اس کو زیادہ تعداد میں منگوا کر تقسیم کرنا چاہیں ان کو خصوصی رعایت کے ساتھ یہ کتابچہ فراہم کیا جائے گا۔

Printed page