Al-Risala · March 1991

سبب کیا ہے

Al-Risala, March 1991, pp. 27–28

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بار بار مختلف انداز میں یہ بات کہی گئی ہے کہ بہت سے انسان ایسے ہیں جن کا حال یہ ہوتا ہے کہ ان کے سامنے سچائی کو ہر قسم کے دلائل کے ساتھ بیان کر دیا جائے، تب بھی وہ اس کو قبول نہیں مثلاً حضرت صالح علیہ السلام کے تذکرہ کے ذیل میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے اپنی قوم کے سامنے حق کو پوری طرح واضح کر دیا، اس کے باوجود وہ لوگ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ آخر میں وہ اپنی قوم سے نکل گئے اور کہا کہ اے میری قوم، میں نے تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی۔ مگر تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے (الاعراف ۷۹)

دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا جو زمین میں حق تکبر کرتے ہیں۔ اور وہ ہر قسم کی نشانیاں دیکھ لیں تب بھی وہ ان پر ایمان نہ لائیں (ان کا حال یہ ہے کہ) اگر وہ ہدایت کار استہ دیکھ لیں تو اس کو وہ نہیں اپنائیں گے۔ اور اگر وہ گم راہی کا راستہ دیکھیں تو اس کو وہ اپنا لیں گے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان کی طرف سے وہ غافل رہے (الاعراف ۱۴۶)

ان دونوں آیتوں میں ایسے گروہوں کا ذکر ہے جن کو خدا کے پیغمبر کے ذریعہ اعلیٰ ترین شکل میں اس کے باوجود انھوں نے دعوت حق کو قبول نہیں کیا۔ اس کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب ان کی بگڑی ہوئی نفسیات تھی، نفسیات کا یہ بگاڑ اکثر حالات میں تکبر کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ دونوں آیتوں میں تکبر ہی کو اس کا سبب بتایا گیا ہے (الاعراف ۷۵ ، ۱۴۶)

نصیحت ہر انسان کے لئے ناپسندیدہ چیز ہے۔ اور خاص طور پر متکبر انسان تو نصیحت کو بالکل ہی ناپسند کرتا ہے۔ جو لوگ تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو جائیں وہ کبھی اپنے خلاف کسی نصیحت کو سننے پر راضی نہیں ہوتے۔ ایسا کوئی حق ان کے لئے آخری حد تک نا قابل قبول ہوتا ہے جس میں انھیں اپنی شخصیت نفی دکھائی دے رہی ہو۔

جو لوگ اپنے آپ کو اونچے مقام پر بیٹھا ہوا فرض کر لیں وہ کسی ایسی دعوت کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے جس میں انھیں محسوس ہو کہ اس کو قبول کرنے کی صورت میں انھیں اپنے اونچے مقام سے نیچے

اترنا پڑے گا۔ جو لوگ فخر اور ناز کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان کی یہ نفسیات ان کے لیے کسی بات کو ماننے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے جس میں ان کا فخر و ناز انہیں ٹوٹتا ہوا نظر آئے۔ جو لوگ اپنا منصب احتساب قوم سمجھ بیٹھیں وہ اپنے مزاج کی بنا پر ایسی کسی پکار کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس میں احتساب خویش پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہو۔ جو لوگ آرزوؤں اور خوش خیالیوں کی دنیا میں جی رہے ہوں وہ کسی ایسے پیغام کو اپنے لئے اجنبی محسوس کرتے ہیں جس میں حقائق و واقعات کی رعایت کرکے زندگی کی تعمیر کا سبق دیا گیا ہو۔ جن لوگوں کی نگاہ اپنی ذمہ داریوں کے بجائے اپنے حقوق پر ہو، جن کے اندر خارجی طرز فکر پیدا ہو جائے وہ ایسی کسی دعوت کو غیر ضروری سمجھ کر رد کر دیتے ہیں جس میں انہیں ان کی ذمہ داریاں یاد دلائی جائیں اور ان کے اندر داخلی طرز فکر ابھارنے کی کوشش کی جائے۔

جو لوگ اپنے متعلق یہ سمجھ لیں کہ وہ بخشے ہوئے لوگ ہیں وہ ایسے پیغام کی معنویت کو سمجھ نہیں پاتے جس میں اپنی موجودہ حالت کے تحت انہیں اپنی بخشش مشتبہ نظر آتی ہو۔ جن لوگوں نے تخیلات کی رومانی دنیا میں اپنے قلعے بنا رکھے ہوں وہ کسی ایسے پیغام کو اہمیت دینے میں ناکام رہتے ہیں جس کو ماننے کی صورت میں انھیں دکھائی دے کہ وہ کسی محفوظ قلعہ میں نہیں ہیں بلکہ صحرا میں کھڑے ہوئے ہیں۔ نے یہ عقیدہ بنا رکھا ہو کہ کسی عمل کے بغیر پیشگی طور پر ان کے لئے جنت کے محلات رزرو ہو چکے ہیں وہ کسی ایسی تحریک میں حصہ لینا غیر ضروری سمجھتے ہیں جس میں عمل کی بنیاد پر جنت میں داخلہ کا راز بتایا گیا ہو حق کو قبول کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بگڑا ہوا مزاج ہے۔ جو لوگ بگڑے ہوئے مزاج میں مبتلا ہوں، ان کو صرف اپنے مزاج کے مطابق بات ہی اپیل کرتی ہے۔ کوئی بات ، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ دلائل کے ساتھ بیان کر دی جائے، وہ کسی طرح انھیں اپیل نہیں اپنے مخصوص مزاج کے خلاف کسی بات کو ماننا ان کے لئے اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے جتنا کہ بکری کے لئے گوشت کھانا اور شیر کے لئے گھاس چرنا۔

Printed page