Al-Risala · March 1991

سفر نامہ روس ــــــــ ۲

Al-Risala, March 1991, pp. 29–40

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۹ جولائی کو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوا تھا کہ کمرہ کے دروازہ پر دستک ہوئی۔ ملبوس ایک روسی اندر داخل ہوئے۔ آتے ہی انھوں نے اردو میں بولنا شروع کیا۔ ماسکو میں ایک اردو داں کو دیکھ کر مجھے بڑا تعجب ہوا۔ معلوم ہوا کہ یہ ڈاکٹر گولب یف (Isaac Golobyev) ہیں۔ انھوں نے ماسکو یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور پھر اردو میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ وومن کے ہندی ایڈیشن کے ایڈیٹر ہیں، جو سوویت ناری کے نام سے نکلتا ہے۔ وہ ایک سے زیادہ بار انڈیا کا سفر کر چکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ماسکو یونیورسٹی کے علاوہ روس کے اور بہت سے تعلیمی اداروں میں اردو پڑھانے کا انتظام ہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ اردو پڑھ لیتے ہیں۔ انھوں نے کہا" میں تو اردو کا دل داد ہ ہوٹل کے کمرہ سے ہم لوگ باہر نکلے تو دو روسی عورتیں گزر رہی تھیں۔ وہ ڈاکٹر گو لب یف کو انھوں نے ہنستے ہوئے اپنی زبان میں کوئی بات کہی۔ ڈاکٹر گولب یف نے بتایا کہ وہ کہہ رہی ہیں: " اس غیر ملکی کو روسی زبان بہت اچھی آتی ہے"۔ انھوں نے بتایا کہ سوویت یونین میں ہر آدمی پڑھا لکھا ہے۔ سات سال کی عمر میں اسکول جانا لازم ہو جاتا ہے۔

میں نے پوچھا کہ آپ مذہب میں عقیدہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا : مذہب میں عقیدہ نہیں رکھتا ہوں، مگر جو عقیدہ رکھتے ہیں ان کی بہت عزت کرتا ہوں، انھوں نے بتایا کہ تین سال تک میں پاکستان میں تھا۔ میرے دفتر میں ایک مسلمان میرے ساتھ کام کرتا تھا" میں نے پاکستان میں مجبوراً روزہ رکھا۔ جب میرا ساتھی نہیں کھاتا تو میں کیسے کھا سکتا تھا"۔ انھوں نے کہا۔ ۲۹ جولائی کو دو پہر بعد ڈاکٹر گو لب یف کے ساتھ ہوٹل سے نکلا۔ انھوں نے ماسکو شہر کا مختلف حصہ دکھایا۔ اس مشاہدہ میں ماسکو ایک با عظمت شہر نظر آیا۔ اس کو دیکھ کر محسوس ہو رہا تھا کہ واقعۃً میں ایک سپر پاور کی راجدھانی دیکھ رہا ہوں ۔ ہم لوگ شہر دیکھنے کے لئے نکلے تو دھوپ ہو گئی۔ اس کی وجہ سے دیکھنے میں بڑی آسانی ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ دھوپ کو روسی زبان میں کیا کہتے ہیں۔ نے ایک کاغذ پر اپنے قلم سے یہ الفاظ لکھے : سون تسے۔ اسی طرح میں نے ان سے پوچھا کہ ماسکو بڑا ہے (Moscow is great) کوروسی میں کس طرح کہیں گے۔ انھوں نے کہا : مسکواولی کیا۔ کر یملن کو زیادہ تفصیل کے ساتھ دیکھا۔ یہ دہلی کے لال قلعہ کی مانند اس سے نہ یادہ بڑا ایک علاقہ

ہے، وہ زار کے زمانہ سے لے کر اب تک روسی سلطنت کا عظیم مرکز رہا ہے۔ ١٩٥٦ء تک اس کے اندر کوئی نہیں جاسکتا تھا۔ اس کے بعد خروشیچوف نے اس کے دروازے عام لوگوں کے لئے کھول دئے۔ آج بھی ہزاروں آدمی اس کے اندر گھومتے ہوئے نظر آئے۔ ان میں ملکی اور غیر ملکی دونوں تھے، تاہم اس پرہیبت دنیا کی خصوصیات کو لفظوں میں بیان کرنا بے حد مشکل ہے۔

کریملن کے اندر کئی قدیم چرچ بھی ہیں۔ زار بادشاہوں کا مذہب عیسائیت تھا۔ انھوں نے کریملن میں، جو گویا ان کا قلعہ اور محل تھا، چرچ بھی بنوائے۔ ایک تاریخی چرچ کو اندر سے دیکھا اس میں پیتل کے بڑے بڑے تابوتوں میں قدیم روسی بادشاہوں کی لاشیں رکھی ہوئی ہیں۔ پورے علاقے میں حیرت انگیز حد تک صفائی موجود تھی۔ جب کہ وہاں ہم کو صفائی کرنے والے دکھائی صفائی کا محکمہ صبح کو صفائی کرتا ہوگا۔ مگر اس کے بعد سارے دن اس کا صاف رہنا اس کے زائرین اور اس کے باشندوں کے نظم اور صفائی پسندی کا ثبوت ہے۔

کریملن کی تاریخی چیزوں میں ایک عظیم توپ ہے جو زار کے زمانہ میں بنائی گئی۔ اس کے بڑے بڑے گولے بھی اس کے ساتھ رکھے ہوئے تھے۔ مگر یہ توپ کبھی استعمال نہیں ہوئی۔ اسی طرح ایک بہت بڑا لوہے کا گھنٹہ ہے جو چرچ کے لئے منقش انداز میں بنایا گیا تھا۔ وہ بھی عمارت کے اوپر لگایا نہ جاسکا۔ میں نے سوچا کہ اسی طرح کتنے انسان ہیں جو دنیا میں آتے ہیں۔ مگر وہ یہاں اپنی حقیقی جگہ نہیں پاتے، وہ استعمال ہوئے بغیر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔

کریملن کے ایک حصہ میں لینن کا مقبرہ ہے۔ تاج محل میں حسن کا پہلو نمایاں ہے مگر لینن کا مقبرہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس میں عظمت کا پہلو ابھرا ہوا نظر آتا ہے۔ ہم مقبرہ کے سامنے پہنچے تو اس کے دروازہ کے باہر دو انسانی صورتیں اسٹیچو کی طرح کھڑی ہوئی نظر آئیں۔ دو فوجی جوان مکمل وردی کے ساتھ رائفل لئے ہوئے آمنے سامنے کھڑے ہوئے تھے۔ دونوں اس قدر ساکن اور صامت تھے کہ بظاہر یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ انسان کی مورتیں ہیں۔

بتایا گیا کہ یہ مورتیں یا اسٹیچو نہیں ہیں بلکہ زندہ فوجی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ لینن کے مقبرہ کے دروازہ پر ہر ۲ گھنٹہ مسلح فوجی جوان رہتے ہیں۔ وہ ذرا بھی ہلے بغیر کھڑے رہتے ہیں۔ چوں کہ آدمی اس طرح زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتا، اس لئے ہر ایک گھنٹہ پر ان کی ڈیوٹی بدلتی رہتی ہے۔ جیسے ہی ایک

گھنٹہ پورا ہواتا ہے، دوسرے دو فوجی جو ان خاص انداز میں چلتے ہوئے آتے ہیں اور ان کی جگہ کھڑے روس میں لینن کو جو غیرمعمولی عظمت حاصل ہے، یہ اس کا ایک مظاہرہ ہے۔ اس کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ مردہ انسان کے علامتی ڈھانچہ کی حفاظت پر اتنے زبردست پہرے لگے ہوئے ہیں، مگر دنیا میں وہ انسان کہیں نظر نہیں آتا جس نے اپنے زندہ وجود کو نفس اور شیطان سے بچانے کے لئے اپنے اوپر پہرہ بٹھا رکھا ہو۔ حالاں کہ یہ دوسرا پہرہ "مفت" میں حاصل ہوتا ہے۔ سے دعا کیجئے اور اللہ کے فرشتے آپ کی پہریدار ہی کے لئے فورا آپ کے پاس آجائیں گے۔ ماسکو میں دنیا کا سب سے بڑا سرکس ہے۔ آج اس کا مخصوص شو تھا۔ میرے نہ چاہتے ہوئے بھی میرے میزبان نے مجھ کو لے جاکر وہاں بٹھا دیا۔ بادل ناخواستہ وہاں جا کر بیٹھ گیا۔ اس کی عمارت سے لے کر ہر چیز تک غیرمعمولی تھی۔ حد درجہ تربیت یافتہ قسم کے آدمی، گھوڑے، اونٹ، بندر، کتے بار بار آکر طرح طرح کے تماشے دکھاتے رہے۔ ہزاروں تماشائی محظوظ ہو کر تالیاں بجارہے تھے۔ مگر مجھے ان چیزوں کا کوئی ذوق نہیں۔ میں بے رغبت بیٹھا ہوا کبھی آنکھ کھولتا اور کبھی آنکھ بند تاہم اس کا ایک "آئٹم" بڑا عجیب تھا۔ درمیان میں کھلے ہوئے اسٹیج پر ایک بہت بڑا جالی دار پنجرہ کھڑا کر دیا گیا۔ اس کے بعد پندرہ بڑے بڑے شیر اس کے اندر داخل کئے گئے۔ ایک تنہا آدمی کالا سوٹ پہنے ہوئے اس کے اندر موجود تھا۔ اس کے ہاتھ میں تقریبا ۴فٹ لمبی چھڑی تھی جس کی سفیدی بتا رہی تھی کہ وہ لوہے کی ہے۔ تمام شیر اس آدمی کی چھڑی کے اشاروں پر حرکت کرنے لگے۔ جس طرح ہندوستان میں ایک مداری بندر کو تربیت دے کر اس سے طرح طرح کے تماشے کراتا ہے، اسی طرح یہ آدمی پندرہ شیروں کے درمیان کھڑا ہو ان سے عمل کروا رہا تھا۔ سانس روکے ہوئے اس حیرت ناک "شو" کو دیکھتے رہے۔ شیر کبھی کبھی آدمی کی چھڑی پر غر آتے اور دانت اور پنجہ نکالتے، مگر اس کے باوجود وہ مجبور مخلوق کی طرح اس کے احکام کی پابندی کرتے یہ شو اتنا عجیب تھا کہ جب میں اس کو سوچتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے میں نے کوئی خواب دیکھا ہو۔

سرکس کا شو دیکھنے کے بعد ہم لوگ ہوٹل واپس آئے تو گھڑی میں دس بج چکے تھے۔ انبے ہندوستان میں رات کا وقت ہوتا ہے۔ مگر یہاں ابھی فضا میں اجالا تھا اور مغرب کا وقت ہو رہا تھا۔

یہ صورت حال ان ممالکوں میں پیش آتی ہے جو قطبین کے قریب واقع ہوں ۔ ان علاقوں میں ان دنوں رات چھوٹی ہوتی ہے اور دن بڑا ۔ دوسرے موسم میں وہاں دن چھوٹا ہوتا ہے اور رات بڑی ۔ خط استوا سے قریب ہیں وہاں یہ جغرافی مظہر دکھائی نہیں دیتا۔

۳۰۰ جولائی کو دوشنبہ کا دن تھا۔ میں نے ہوٹل میں ایک صاحب کو ٹیلیفون کرنا چاہا جن کا روم نمبر 1829 تھا۔ میں اپنے کمرہ کے ٹیلیفون پر یہ نمبر گھماتا رہا۔ مگر دوسرے کمرہ میں گھنٹی نہیں بجتی تھی۔ ریسپشن ڈسک پر پوچھا تو معلوم ہوا کہ مذکورہ کمرہ کے ٹیلیفون کا نمبر 80-42-166 ہے۔ طرح میرے کمرہ کا نمبر 1029 تھا۔ مگر اس کا ٹیلی فون نمبر یہ تھا : 06-42-166 ۔ آزاد دنیا کے تمام ملکوں میں یہ قاعدہ ہے کہ کمرہ کا جو نمبر ہوتا ہے وہی اس کا فون نمبر بھی ہوتا ہے۔ مگر یہاں کے نظام میں ہر چیز پر سادگی کے بجائے پیچیدگی کا انداز چھایا ہوا ہے۔

یہاں کے پیچیدہ سسٹم کے بارہ میں اس طرح کے کئی تجربے ہوئے۔ میں نے ایک روسی تعلیم یافتہ شخص سے پوچھا تو اس نے کہا کہ میں بہت سے ملکوں میں گیا ہوں ۔ میں خود محسوس کرتا ہوں کہ ہمارے یہاں کا نظام ہر جگہ سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ ہم کو بہت سی غیر ضروری مشکلات پیش آتی ہیں۔ کی وجہ ہمارے یہاں کی حد درجہ بڑھی ہوئی بیورو کریسی ہے۔

ا بجے سوویت روس کے کچھ ذمہ داروں سے ملاقات ہوئی۔ اس میں حسب ذیل افراد شریک مسٹر الکسی لون کوف (Alexei I. Lounko) ڈپٹی ہیڈ ، ساؤتھ ایشین ڈپارٹمنٹ ، اینڈری سور و کن (Andrei A. Sorokin) جنرل سکریٹری ، سوویت انڈین فرینڈ شپ سوسائٹی ، ڈاکٹر جنا دی او دیف (Gennady P. Avdeyed) سکریٹری ، سوویت انڈین فرینڈ شپ سوسائٹی ، الکسی وی گالکن (Alexey V. Galkin) سکریٹری یو ایس ایس آر فرینڈ شپ سوسائٹی۔ میں زیادہ تر اس موضوع پر گفتگو ہوئی کہ سوویت یونین کے مسلمانوں اور انڈیا کے مسلمانوں کے درمیان تعلقات کس طرح بڑھائے جاسکتے ہیں ۔

ماسکو میں قیام کے دوران بار بار شہر میں آنے جانے کا اتفاق ہوا۔ اس کے مختلف حصے دیکھے۔ یہاں کی ایک بات مجھے پسند آئی ۔ سڑک پر اور فٹ پاتھ پر سامان بیچنے والے کہیں نظر نہیں آئے۔ جب کہ دہلی میں اور ہندوستان کے دوسرے تمام چھوٹے اور بڑے شہروں میں یہ کاروباری مصیبت انتہائی عام

ہے، غالباً یہ بھی ایک وجہ ہے جس کی بنا پر شہر میں ہر جگہ صفائی نظر آئی۔

اسی طرح ماسکو میں کئی چیزیں میرے ذوق کے اعتبار سے بہت عمدہ تھیں، وہاں سڑکوں پر بے شمار گاڑیاں ہر وقت دوڑتی ہیں، مگر مجھے ایک بار بھی ہارن کی آواز سنائی نہیں دی۔ ایک بار بھی لاؤڈاسپیکر کا شور سننے پر مجبور ہونا پڑا ۔ سائَرن کی آوازیں بھی وہاں نہیں تھیں۔ پھیری کرنے والوں اور خوانچہ والوں کے شور سے پورا شہر بالکل خالی تھا۔ شہر کے کسی حصہ میں مجھے وہ منظر دکھائی نہیں دیا جس کو ہندوستان کے شہروں میں جھگی جھونپڑی کہا جاتا ہے جس کو آپ دہلی اور دوسرے بڑے شہروں میں ہر جگہ دیکھ سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ایسی جھونپڑیاں بھی کہیں پائی جاتی ہوں مگر مجھے آتے جاتے ہوئے وہ دکھائی نہیں دیں۔

مجھے خود تو یہاں ٹیکسی لینے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ مگر ایک سیاح نے بتایا کہ ایک غیر ملکی جب یہاں ٹیکسی پر سوار ہوتا ہے تو ٹیکسی والا اس سے ڈالر کا تقاضا کرتا ہے، وہ روبل لینا پسند نہیں کرتا۔ طرح ہر جگہ روبل کے مقابلہ میں ڈالر زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کے مقابلہ میں سوویت یونین کی اقتصادی حالت کیا ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ روبل سے وہ صرف روسی مصنوعات خرید سکتے ہیں جو کوالٹی میں اعلیٰ نہیں ہوتیں ۔ جب کہ ڈالر کے ذریعہ ہر قسم کی اعلیٰ چیزیں خریدی جا سکتی ہیں۔

ہوٹل کا مغربی حصہ کھلا ہوا تھا۔ شیشوں کے اُس پار باہر کی دنیا صاف دکھائی دے رہی تھی۔ دیوار سے لگے ہوئے چوڑے شیشے میرے اور شہر کے درمیان مادی اعتبار سے حائل تھے لیکن نگاہِ شفاف شیشوں کو پار کر کے دور تک ماسکو کا منظر دیکھ سکتی تھی۔ اگر اللہ تعالی نے تمام مادے ایسے بنائے ہوتے جن سے روشنی پار نہ کر سکے تو ایسا مشاہدہ نا ممکن ہوتا۔ مگر اللہ نے کثیف مادوں کے ساتھ شیشے جیسی چیزیں پیدا فرمائیں جن سے روشنی گزر سکتی ہے اور اس بنا پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ہم شیشہ کے اُس پار کے منظر کو دیکھ سکیں۔

دنیا میں اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں جو بتاتے ہیں کہ اس دنیا کی تخلیق منصوبہ بند انداز میں ہوئی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ دنیا کے وہ لوگ جنہوں نے کائنات کی اس منصوبہ بند نوعیت کو سب سے زیادہ کھولا ، وہی یہ ثابت کرنے میں مشغول ہیں کہ دنیا کی تشکیل میں منصوبہ کا کوئی دخل

نہیں ، صرف اس لئے کہ اگر وہ اس میں منصوبہ کو مان لیں تو فوراً منصوبہ ساز کو ماننا پڑے گا ، اور ان کا مزاج کسی منصوبہ ساز کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔

مزاجی اعتبار سے آدمی اگر کسی بات کو ماننا نہ چاہتا ہو تو دلیل اس کو منوانے کے لئے کافی نہیں ہوسکتی ، خواہ کتنے ہی زیادہ طاقت ور دلائل کے ساتھ اس کو ثابت کر دیا گیا ہو۔ خواہ کتنے ہی زیادہ حقائق اس کی تصدیق کرنے کے لئے موجود ہوں۔

حال میں سوویت روس کے اندر جو تبدیلیاں ہوئی ہیں وہ بے حد سبق آموز ہیں۔ ۱۹۱۷ میں کمیونسٹ انقلاب آیا۔ دوسری عالمی جنگ میں کمیونسٹ روس کو یہ موقع ملا کہ وہ بہت بڑے رقبہ کو اپنے اندر شامل کرلے۔ اس موضوع پر کچھ لوگوں سے میری گفت گو ہوئی۔ میں نے جو کچھ کہا ، اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد سوویت روس کے لئے امریکہ سب سے بڑا نظریاتی اور فوجی سوویت روس کے حکمرانوں نے اپنی ساری توجہ سب سے زیادہ دو چیزوں پر لگادی۔ ایک ، تمام اشاعتی ذرائع کو استعمال کرکے یہ ثابت کرنا کہ امریکہ کا سرمایہ دارانہ نظام سب سے برا نظام ہے اور روس کا اشتراکی نظام سب سے بہتر نظام (9/764)

دوسری طرف روس نے اپنے بہترین سائنسی دماغوں کو جنگی اہمیت کی چیزوں کی ریسرچ پر ۱۹۴۹ میں سوویت روس نے اپنے پہلے نیو کلیئر ہتھیار کا تجربہ کیا۔ اس طرح اُس نے اس افسانہ کا خاتمہ کر دیا کہ امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جو نیوکلیئر ہتھیار رکھتا ہے (72/9) اس کے بعد روس نے اکتوبر ۱۹۵۷ سے اسپٹنک (مصنوعی سیارہ) کا سلسلہ شروع کیا۔ اس نے انسانی تاریخ میں پہلی بار ایسے مصنوعی سیارے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجے جو زمین کے گرد گھومتے تھے۔ یہاں تک کہ اس کے بارہ میں لکھا گیا کہ سوویت روس نے تاریخ میں پہلی بار خلائی دور شروع کیا : Soviet Union ............. inaugurated the Space Age (IX/500). سوویت روس اپنی چالیس سالہ کوششوں سے امریکہ کے بعد دوسری سب سے بڑی طاقت (سُپر پاور) بن گیا۔ مگر روس کو یہ کامیابی ایک بے حد مہنگی قیمت پر ملی ۔ جنگی دیو بننے کے لئے اس کو اپنے وسائل کی اتنی زیادہ مقدار صرف ایک محاذ پر لگانی پڑی کہ دوسرے اقتصادی شعبوں

کے اعتبار سے وہ ایک بونی قوم بن گیا۔ روس میں خوراک اور استعمال کی اشیاء کی فراہمی ہولناک حد تک اس کے فوجی گودام خطر ناک فوجی ہتھیاروں سے بھرے ہوئے تھے مگر اس کے باز ار اشیاء خوراک اور عام استعمال کی چیزوں سے خالی تھے۔

اب حکمرانوں کے لئے دو صورت تھی۔ ایک یہ کہ عوام کی بر بادی کے کھنڈر پر وہ بدستور اپنا سیاسی تخت بچھائے رہیں۔ کیوں کہ جو کچھ مصیبت تھی وہ عوام پرتھی، خود ان کا اپنا مسئلہ ہر اعتبار سے حل شدہ تھا۔ دوسری صورت یہ تھی کہ وہ ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایک انقلابی فیصلہ کریں ، خواہ اس انقلابی فیصلہ کے نتیجہ میں انھیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے ۔ سوویت روس کے موجودہ وزیر اعظم نے اسی دوسرے راستہ کو اپنے لئے اختیار کیا ہے۔ یہی وہ بات ہے جولندن کے انگریزی اخبار سنڈے ٹائمز (۱۰ جون ۱۹۹۰ ) نے اپنے اداریہ میں کہی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ تاریخ کے تیز دھارے میں ایک خطرہ ہٹتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا سرد جنگ ختم ہو رہی ہے اور یہ بڑی حد تک مغرب کی فتح کے ہم معنی ہے: In the sweep of history, as one threat recedes, another replaces it The cold war is ending, largely in victory for the west. تاہم اس دنیا میں نہ کوئی ہار آخری ہار ہے اور نہ کوئی جیت آخری جیت۔ اگر سوویت روس نے مغرب کے مقابلہ میں اپنی عارضی ” پسپائی کو وقفہ تعمیر کے طور پر استعمال کیا تو عین ممکن ہے کہ وہ ترقی کا نیا سفر شروع کر دے اور کسی نئی صورت میں اپنے لئے سپر پاور کا مقام دوبارہ حاصل

سوویت یونین ۱۵ جمہوریتوں پر مشتمل ہے۔ وہ دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ پاس بہترین جغرافیہ ہے۔ اس کے پاس انسانی قوت بھی موجود ہے۔ مگر ۷۰ سالہ انقلابی عمل کے باوجود وہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں سے پیچھے ہو گیا۔ اس کا واحد سبب مارکسزم ہے۔ مارکسی نظریہ کے تحت یہاں کے تمام زرعی اور تجارتی ذرائع بجز افراد کے ہاتھ سے چھین کر حکومتی انتظام میں دے دئے گئے۔ اس مصنوعی انتظام نے سوویت سماج میں مقابلہ کا عمل ختم کر دیا۔ مقابلہ کی حالت کسی سماج میں ہمیشہ اس وقت قائم ہوتی ہے جب کہ ان کو یہ احساس ہو کہ وہ صرف اپنی

ذاتی کارکردگی سے ترقی کرسکتے ہیں۔ مگر جب تمام لوگوں کو سرکاری ملازم بنا کر انھیں مقرر تنخواہ پر ڈال دیا جائے تو لوگوں کے اندر ذاتی محرک کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ اب آدمی کسی چیلنج سے دوچار نہیں ہوتا جو اس کی قوت عمل کو متحرک کرے۔ ایسا سماج کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ اور یہی اشتراکی روس کے ساتھ ہوا۔

اشتراکی روس کے لئے مارکسزم کا دوسرا تحفہ جنگ جوئی تھا۔ مارکس نے بتایا کہ دنیا میں بہتر نظام لانے کے لئے جنگ ضروری ہے۔ کیوں کہ استحصال کرنے والا طبقہ نمائش کے ذریعہ اپنے مفادات سے دست بردار نہیں ہوتا۔ اس لئے مزدور طبقہ کو اس سے جنگ کرنی پڑتی ہے۔ تاکہ برابر ی کا سماج قائم کرنے میں جو واحد رکاوٹ ہے اس کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے۔ یہی نظریہ تھا جس نے سوویت یونین کو امریکہ کا دشمن بنا دیا۔ کیوں کہ "سرمایہ دارانہ نظام" کے اس سب سے بڑے ایجنٹ کو نابود کئے بغیر دنیا میں اشتراکی سماج نہیں لایا جا سکتا تھا۔ نظریہ نے روس کی بہترین طاقت کو جنگی کارروائیوں کی طرف موڑ دیا جس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ آخرکار وہ دیو الیہ ہو کر رہ گیا۔

اب اشتراکی روس نے اس مجنونا نہ قسم کے جنگی نظریہ سے تو بہ کرلی ہے۔ موجودہ حکمراں میخائیل گور با چیف کو ان کی قیام امن کی خدمات پر ۱۹۹۰ کا نو بیل انعام دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ناروے کی انعام کمیٹی کے بیان کے مطابق (ہندوستان ٹائمس ۱۶ اکتوبر ۱۹۹۰) گوربا چیف کے پرسترائیکا (Perestroika) کے نتیجہ میں پچھلے چند سالوں میں مشرق اور مغرب کے درمیان تعلقات میں ڈرامائی تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں۔ ٹکراؤ کی جگہ اب بات چیت نے لے لی ہے: In the last few years dramatic changes have taken place in the relationship between East and West. Confrontation has been replaced مگر عجیب بات ہے کہ عین اسی وقت ساری دنیا کے "اسلام پسند" نوجوانوں نے اس تباہ کن جنگی نظریہ کو اسلامائز کرکے اس کا جھنڈا اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ اب ہر جگہ وہ بم اور گولی کی منطق سے اسلامی انقلاب برپا کرنے کا ہنگامہ کھڑا کئے ہوئے ہیں۔ یہ مسلم نوجوان سید قطب ، خمینی اور مودودی کے نظریات سے متاثر ہیں اور ان کو مفکرین اسلام کا خطاب دیتے ہیں۔

صحیح بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو مخربینِ اسلام کا لقب عطا کیا جائے۔ میری لائبریری میں کمیونزم سے متعلق جو کتا بیں ہیں، ان میں سے ایک ساڑھے سات سو صفحہ کی وہ کتاب ہے جو مارکس، اینجلز اور لینن کی اہم ترین تحریروں (Most important writings) پر مشتمل ہے، اس کی ابتدا میں ناشر کی طرف سے جو نوٹ ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ یہ تحریریں ان قوانین سے بحث کرتی ہیں جو سماج کی ترقی میں حاکمانہ اثر رکھتی ہیں اور یہ بتاتی ہیں کہ سماجی ترقی میں انقلاب کا کردار کیا ہے:

They deal with the laws governing the development of society, tell the role of revolutions in social developmert. یہ کتاب ۱۹۷۲ کی چھپی ہوئی ہے۔ اس وقت یہ حال تھا کہ ان کمیونسٹ مفکرین کی تحریروں کو آسمانی صحیفہ کی طرح اٹل اور محکم بتا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا تھا۔ مگر اس کی اشاعت کے ۲۰ سال بعد جب میں سوویت روس کی دنیا میں داخل ہوا تو وہاں شاید کوئی ایک شخص بھی نہ تھا جو ماضی کی ان تحریروں کو پڑھنا تو درکنار ان کا تذکرہ کرنا بھی ضروری سمجھتا ہو۔ اس کتاب میں لینن کا مضمون ہے۔ اس میں مذہب کو بے حقیقت بتاتے ہوئے لینن نے کہا تھا کہ مذہب عوام کے لئے افیون ہے:

Religion is opium for the people (p. 411)

آج خود اشتراکی روس کا یہ حال ہے کہ وہاں کے درودیوار تک پکار رہے ہیں کہ مذہب ایک فطری صداقت ہے ، اور خود مارکسزم ایک افیون ہے جس میں روسی عوام کو ۷۰ سال تک مبتلا رکھا " ہیروورشپ " کے مزاج کے تحت اگر چہ آج بھی لینن کا شخصی احترام روس میں باقی ہے، مگر اس کی تحریروں کو مقدس سمجھ کر اس کی تلاوت کرنے والا اب شاید ملک میں کوئی بھی نہیں۔ ماسکو میں میری طبیعت خراب ہوگئی۔ میں نے چاہا کہ میں مزید سفر کا سلسلہ ختم کر کے ماسکو ہی سے دہلی واپس چلا جاؤں۔ مگر معلوم ہوا کہ میں فوراً یہاں سے نہیں جا سکتا، کیوں کہ اگلی دو فلائٹ (ایر انڈیا، ایر وفلاٹ) مکمل طور پر بک ہو چکی ہیں۔ یہی حال ۲۸ جولائی کو یہاں آتے ہوئے ایرو فلاٹ کا تھا۔ بڑے جہاز کی تمام سیٹیں بھری ہوئی تھیں۔

اس سے اندازہ ہوا کہ دہلی اور ماسکو کے درمیان کافی مسافر ہوتے ہیں۔ تجارت اور تعلیم اور حکومتی ضروریات کے تحت لوگ سفر کرتے ہیں۔ حالاں کہ ہفتہ میں تین فلائٹ ایئر انڈیا کی اور تین فلائٹ ایر وفلاٹ کی۔

یہ غالباً جواہر لال نہرو کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے مخصوص مقاصد کے تحت امریکہ سے دوری اختیار کی اور روس سے اپنے تعلقات بڑھائے۔ مگر نئے حالات نے ثابت کیا ہے کہ خود سوویت یونین اپنی ترقی کے لئے امریکہ کا ضرورت مند ہے۔ چنانچہ وہ چاہتا ہے کہ امریکہ ۲۰ بلین ڈالر اسے اس کی مدد کرے۔ ۱۹۴۷ء میں ایک طرف جاپان نے اپنی نئی زندگی شروع کی اور دوسری طرف ہندوستان نے۔ جاپان امریکہ کا تعاون لے کر بڑھا۔ آج وہ تمام ملکوں سے آگے بڑھ چکا ہے۔ ہندوستان نے اشتراکی روس کے تعاون سے آگے بڑھنا چاہا مگر وہ کہیں نہیں پہنچا۔ آج دنیا بھر کے لوگ جاپان کی گھڑی پہننے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر روسی صنعت کا حال دہلی کے ایک انگلش جرنلسٹ مسٹر ارن شرما نے مجھ سے فرمائش کی تھی کہ میں ان کے لئے روس کی بنی ہوئی پاکٹ واچ لے آؤں۔ کیوں کہ وہ ہاتھ کی گھڑی استعمال نہیں کرتے۔ وہ جیبی گھڑی کو پسند کرتے ہیں۔ ماسکو میں میں نے ایک واقف کار سے اس کا ذکر کیا۔ اس نے کہا کہ روسی گھڑی اطمینان بخش نہیں ہوتی۔ اس کی پائیداری کی کوئی ضمانت نہیں۔ آزادی (۱۹۴۷ء) کے بعد ہندوستان کے ترقی نہ کرنے کا کم از کم ایک بڑا سبب یہ ہے کہ آزادی کے بعد اس کی قیادت نہرو کے ہاتھ میں آئی۔ نہرو پہلے سے اشتراکی ذہن کے آدمی تھے۔ سیاسی اسباب کے تحت وہ روس سے قریب ہونے پر مجبور ہوئے۔ انھوں نے ہندوستان کی ترقی کے لئے، اپنے الفاظ میں، "سوشلسٹ پیٹرن" کو اختیار کیا۔ (مثلاً پانچ سالہ منصوبے، پبلک سیکٹر نیشنلائزیشن، حکومتی کنٹرول، وغیرہ) اگر انھوں نے اس کے بجائے امریکی پیٹرن کو اختیار کیا ہوتا، نیز پڑوسی ملک سے ٹکراؤ کی حالت کو ختم کر دیتے تو مجھے یقین ہے کہ ہندوستان آج ایشیا کا سب سے زیادہ طاقت ور اور سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہوتا۔ سوشلزم اور جنگی بجٹ کے دو پاٹوں میں ہندوستان پس کر رہ گیا، اور دونوں کی ذمہ داری جواہر لال نہرو پر آتی ہے۔ خروشیچوف کے زمانہ میں ایک لطیفہ مشہور ہوا تھا۔ وہ ایک مرتبہ ایک روسی کارخانہ میں

انھوں نے وہاں کے ایک کارکن سے کارخانہ کے حالات پوچھے ۔ اشتراکی کارکن نے کارخانہ کی کارکردگی اور اس کی پیداوار کی زبردست تعریف شروع کی۔ خروشیچوف کو اس کی تعریف مبالغہ آمیز معلوم ہوئی ۔ اس نے کہا: تم جانتے ہو، میں کون ہوں ۔ میں روس کا وزیر اعظم خروشیچوف ہوں۔ کارخانہ کا کارکن معذرت کرتے ہوئے بولا ۔ معاف کیجیے گا، میں سمجھا کہ آپ کوئی غیر ملکی مہمان ہیں۔ روسی صنعت کے بارے میں یہ لطیفہ چھپا تو دنیا بھر کے کمیونسٹوں نے کہا کہ یہ سرمایہ داروں کا پروپیگنڈہ ہے۔ مگر اب خود گورباچیف اور دوسرے روسی ذمہ دار کھلے لفظوں میں اس حقیقت کا اعتراف کر رہے ہیں ۔ اب سوویت روس میں ذاتی اخبار نکالنے کی اجازت ہو گئی ہے ۔ بہت سے لوگ ذاتی اخبارات نکال رہے ہیں ۔ ان اخباروں کی قیمت سرکاری اخباروں سے زیادہ ہوتی ہے ۔ اس کے باوجود یہ اخبارات سرکاری اخباروں سے زیادہ بکتے ہیں ۔ اور اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ان اخباروں میں روسی حکومت اور روسی نظام پر تنقید ہوتی ہے ۔ ۳۱ جولائی کی شام کو یہاں کی میٹرو (زمین دوز ٹرین ) دیکھی۔ کہا جاتا ہے کہ ماسکو کی زمین دوز ٹرین دنیا کے چند بہترین نظاموں میں سے ایک ہے۔ اس کا ٹکٹ بہت سستا ہے۔ کیو پک میں کسی ایک لائن پر کہیں بھی جاسکتے ہیں۔ سارا سسٹم الیکٹرانک نظام پر قائم ہے۔ میرے ساتھی ڈاکٹر اودیف (Dr. Gennady P. Avdeyev) کے پاس رو بل تھا۔

انھوں نے ایک خاص مشین میں اس کو ڈالا اور فوراً پانچ پانچ کیو پک کے سکے نکل آئے۔ بڑھے تو اندر داخل ہونے کے لئے ایک خاص دروازہ تھا۔ یہاں ایک شخص کو پانچ کیو پک برائے ٹکٹ ڈالنا تھا۔ ہم نے پانچ کیو پک ڈالے اور دروازہ سے گزر کر دوسری طرف پہنچ گئے ۔ اگر کوئی شخص کیو پک نہ ڈالے تو آٹو میٹک طور پر دروازہ کے اندر سے ایک لوہا نکل کر دروازہ کو بند کر دے گا۔ ٹرین آرام دہ اور تیز رفتار تھی۔ میں ایک اسٹیشن تک جاکر واپس چلا آیا۔ ایک روبل میں ایک سو کیو پک ہوتے ہیں ۔ اس لحاظ سے یہ عام لوگوں کے لئے بے حد سستی اسی کے ساتھ اس کا نظام تعجب خیز حد تک سادہ ہے۔ اندر کی تعمیر نہایت مضبوط اور نہایت شاندار نظر آئی۔ اگر دہلی میں اس قسم کا نظام قائم ہو جائے تو دہلی والوں کے لئے بہت بڑی نعمت ثابت

ہوٹل کے رپشن پر ایک خاتون تھیں ۔ وہ صرف روسی زبان جانتی تھیں۔ میرے گائیڈ کی مدد سے انھوں نے پوچھا کہ کیا یہ مسلمان ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہاں ۔ اس پر وہ بہت خوش ہوئیں۔ نے کہا کہ میں تاتاری نسل کی مسلمان ہوں ۔ انھوں نے اپنا نام جولو د نیو احسانہ ( جمال الدین حسنہ) ان کی عمر ۵۱ سال تھی۔ وہ خود سے ایک روز میرے لئے چائے اور ناشتہ لے آئیں۔ میرا اندازہ ہے کہ روسی لوگ مزا جاً بہت اچھے ہیں۔ مگر یہاں قاعدے اور ضابطے اتنے زیادہ ہیں کہ چاہنے کے باوجود کوئی شخص کچھ کر نہیں سکتا۔ مثلاً ۳۱ جولائی کی شام کو دہلی کے لئے ایر و فلاٹ کی پرواز تھی اور اسی دن ایر انڈیا کی پرواز بھی۔ میرے روسی میزبان نے دریافت کر کے بتایا کہ دونوں جہاز کی تمام سیٹیں بک ہو چکی ہیں۔ وہ دن بھر دوڑ دھوپ کرتے رہے، مگر وہ ایر و فلاٹ میں میرے لئے ایک سیٹ حاصل نہ کر سکے۔

اس کے بعد میں نے انڈین ایمبیسی کو ٹیلیفون کیا۔ سفیر صاحب موجود نہیں تھے۔ ان کے سیکرٹری مسٹر گووند ر سے بات ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ میں ابھی ایر انڈیا سے معلوم کر کے بتاتا ہوں۔ منٹ کے بعد دوبارہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی ۔ انھوں نے کہا کہ آپ ایر انڈیا کے دفتر میں جا کر مسر سونیا سنگھ سے وہ آپ کو سیٹ دے دیں گی۔ مسٹر گو وندر نے یہ سیٹ رزرو کو ٹا سے دلوائی ۔ اسی طرح ایرو فلائٹ میں بھی رزرو کوٹاہوتا ہے۔ مگر اس کو ٹہ سے کسی غیر شخص کے لئے سیٹ حاصل کرنے کا طریقہ اتنا پیچیدہ ہے کہ وہ عملاً ناممکن ہے۔ بعض وجوہ سے میں اس فلائٹ سے سفر نہ کر سکا ۔ مگر مذکورہ تقابل سے دونوں ملکوں کے فرق کا اندازہ ہوتا ہے۔

مسٹر گولب ییف (Isaac Golubyev) کے والدین یہودی تھے۔ مگر وہ اپنے کو لا مذہب وہ اپنے کو کمیونسٹ نہیں کہتے مگر خوب صورت انداز میں سوشلسٹ سماج کی تعریف کرتے انھوں نے مجھ کو ماسکو کے کئی علاقے دکھائے۔ دریائے ماسکو کے کنارے مردوں اور عورتوں کی ایک جماعت خوش و خرم کھڑی ہوئی تھی۔ درمیان میں ایک عورت خاص انداز کا سفید کپڑا پہنے انھوں نے بتایا کہ یہ دلہن ہے۔ آج ہی ان لوگوں کی شادی ہوئی ہے۔ وہ یہاں خوشی منانے آئے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس شیمپین کی بوتلیں تھیں۔ ان کو کھول کر مرد و عورت سب کھڑے ہوئے پی رہے تھے۔

Printed page