فتح باب
Al-Risala, January 1991, pp. 12–16
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۴ نومبر ۱۹۹۰ کا واقعہ ہے۔ ایک جگہ میں نے دیکھا کہ کچھ ہندو بیٹھے ہوئے ہیں اور ایک مسلمان ان سے اسلام کے بارے میں گفتگو کر رہا ہے۔ ہندؤوں کا کہنا تھا کہ تمہارا مذہب مار کاٹ کا مذہب ہے۔ مسلمان نے پوچھا کہ کیسے تم ایسا کہتے ہو۔ ہندو نے کہا کہ تم لوگ صبح ہی صبح اٹھ کر اپنی مسجدوں سے اللہ اکبر، اللہ اکبر کی پکار بلند کرتے اس کا مطلب یہی تو ہے کہ اللہ کے نام پر کافروں کو مارو۔ اللہ کے لیے لوگوں کو قتل کرو۔ مسلمان نے کہا کہ یہ آپ بالکل الٹ بات کہہ رہے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ اللہ اکبر کہنے کے بعد مسلمان اپنی مسجدوں میں کیا کرتے ہیں۔ مسلمان اس کے بعد وہ کام کرتے ہیں جس کو رکوع اور سجدہ کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ جھکتے ہیں اور اپنا سر زمین پر رکھ دیتے ہیں۔ پھر جب وہ نماز ختم کرتے ہیں تو کہتے ہیں: السلام علیکم ورحمۃ اللہ یعنی تمام لوگوں پر سلامتی اور رحمت ہو۔
یہ مسلمان بنٹا ہر کوئی عالم نہ تھا۔ اور نہ یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ کسی یونیورسٹی کا پڑھا ہوا ہے۔ یہ بات اس نے فطرت کے زور پر کہی نہ کہ علم کے زور پر۔ یہ بات دراصل معلمِ فطرت نے اس کو بتائی تھی۔ جھوٹے رہنا، جہاں گمراہ کرنے کے لیے موجود نہ ہوں، وہاں فطرت خداوندی انسان کی رہنما بن جاتی ہے۔ اور بلا شبہ فطرت خداوندی سے زیادہ بہتر کوئی معلم انسان کے لیے نہیں۔
میں نے مسلمان کی مذکورہ باتیں سنیں تو ایسا محسوس ہوا گویا میں اندھیرے سے نکل کر روشنی میں آگیا اچانک مجھے خیال آیا کہ موجودہ حالات نے ملتِ اسلام کے لیے تاریخ کا ایک نیا باب کھول دیا ہے۔ موجودہ حالات خود اپنی اندرونی منطق کے تحت مسلمانوں کو اسلام کا سچا مبلغ بنا رہے ہیں۔ یہ حالات خود بخود مسلمانوں کو بتا رہے ہیں کہ وہ اس اسلام کو لوگوں کے سامنے پیش کریں جو سچا اسلام ہے اور اسی کے ساتھ وہ موجودہ حالات میں ان کے لیے ایک ڈھال کا کام کرتا ہے۔
یعنی وہ اسلام جو دینِ فطرت ہے۔ جو انسان کے روحانی تقاضوں کا جواب ہے۔ جس میں محبت اور تواضع کی تعلیم ہے۔ جس کے اندر امن اور رحمت کا پیغام ہے۔ جو انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاقی اصولوں کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارے۔ وہ سورج کی طرح دنیا میں رہے جو ہر ایک کو اپنی روشنی پہنچاتا ہے، وہ پھول کی طرح معاملہ کرے جو اپنے دشمن کو بھی رنگ اور خوشبو کا تحفہ دیتا ہے۔
موجودہ صدی کے نصف اول تک دنیا میں مغربی استعمار کا دور تھا۔ اس زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے لڑائی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کو جنگ و جدال والا اسلام اپنے حق میں زیادہ مفید نظر آیا۔ چنانچہ ہندوستان اور ساری دنیا میں ایک خود ساختہ اسلام کی دھوم مچا دی گئی۔ حتیٰ کہ یہی اسلام لوگوں کی نظر میں اصل اسلام بن گیا۔ کے تمام مسلم رہنما رد عمل کی نفسیات کا شکار ہو کر قولی یا عملی لڑائی میں مشغول ہو گئے۔ یہی زمانہ ہے جبکہ اقبال نے کہا: تیغوں کے سایہ میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا اس زمانہ میں مسلم اداروں نے تلوار کو اپنا شعار بتایا۔ ابوالکلام آزاد نے امام حسین کو شہیدِ اعظم اور تاریخ کا سب سے بڑا ہیرو بنا کر پیش کیا۔ ابوالاعلیٰ مودودی نے الجہاد فی الاسلام لکھی۔ اس قسم کی تحریروں اور تقریروں نے اسلام کو لوگوں کی نظر میں جنگ اور ٹکراؤ کا مذہب بنا دیا۔ مسلمان اس بات کو بھول گئے کہ ان کے رسول کو خدا نے ساری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا تھا۔ اور اسلام کے جس سبق کو مسلمان بھلا دیں، اس کو غیر مسلم بدرجہ اولیٰ فراموش کر دیں گے۔
مگر اب نئے حالات کا دباؤ اس غلط ذہن کی تصحیح کر رہا ہے۔ اب مسلمان عین حالات کے تقاضے کے تحت، اس اسلام کی طرف لوٹ رہے ہیں جو اصلی اور حقیقی اسلام ہے۔ اب نہ صرف یہ ہو گا کہ مسلمان اسلام کی صبر و اعراض اور نصح و امانت والی تعلیمات کی اہمیت کو از سر نو دریافت کریں گے، بلکہ خود اپنی فکری مدافعت کے لیے اس کو ضروری سمجھیں گے کہ اسلام کے رحمت والے پیغام کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کریں تاکہ دوسروں کی نظر میں ان کی صحیح تصویر بنے۔ دوسروں کی نظر میں ان کا وقار پیدا ہو۔ وہ عزت اور امن کے ساتھ اس ملک میں رہ سکیں ۔ وہ ایسے دین کے حامل قرار پائیں جو آدمی کو لوگوں کی نظر میں محبوب و مطلوب بنا دیتا ہے۔ اب تک مسلمانوں کے لیڈر انھیں خود ساختہ اسلام کا نمائندہ بنائے ہوئے تھے۔ اب نئے حالات انھیں اس طرف لے جا رہے ہیں کہ وہ خدا کے سچے دین کے نمائندہ بنیں یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے مستقبل کی تعمیر وہ اسلامی دعوت کے لیے فتح باب کی حیثیت رکھتا ہے۔
ان حالات پر جب میں غور کرتا ہوں تو مجھے تاریخ دوبارہ وہاں جاتی ہوئی نظر آتی ہے جہاں وہ تاتاری حملہ کے بعد عالم اسلام میں پہنچی تھی۔ عباسی دور میں مسلمانوں کے درمیان اسلام کا جو ڈھانچہ موجود تھا، وہ ایک ایسا ڈھانچہ تھا جس میں انسان کے لیے بہت کم کشش باقی رہ گئی تھی۔ اسلام کا تو سیعی سیلاب رک گیا تھا۔ وقت اللہ تعالیٰ نے اس مصنوعی ڈھانچہ کو توڑ دیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے درمیان وہ اسلام آگیا جو سچا
اسلام تھا، جو انسانی فطرت کے ساتھ پوری مطابقت رکھتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام دوبارہ سیلاب کی طرح پھیلنے لگا۔ قومیں کی قومیں اسلام میں داخل ہوگئیں۔ نئے خون کی اس آمیزش کے بعد مسلمانوں نے دوبارہ اسلام کی ایک طاقت ور تاریخ بنائی جو صدیوں تک جاری رہی۔
عباسی دور کے اسلام کی ایک فکری مثال لیجئے ۔ ہماری موجودہ فقہ زیادہ تر اسی عباسی دور میں عباسی دور مسلمانوں کے لیے فتح و غلبہ کا دور تھا۔ اس کے زیر اثر مسلمانوں میں حاکمانہ نفسیات پیدا ہوگئی۔ مسلمان اپنے آپ کو "داعی" کے بجائے "فاتح" سمجھنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فقہ میں کئی ایسے مسائل داخل ہوگئے جو محض اس وقت کے سیاسی حالات کا نتیجہ تھے نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلامی تعلیم کا نتیجہ۔ مثلاً ہمارے فقہاء نے پوری دنیا کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔ ایک حصہ کو انھوں نے دارالاسلام کہا اور دوسرے حصہ کو دارالحرب۔ یہ تقسیم یقینی طور پر زمانی حالات کا نتیجہ تھی۔ یہ فقہ اگر عہد نبوت میں بنتی جبکہ ایک طرف دعوت الی اللہ کا کام جاری تھا۔ دوسری طرف مدینہ میں اسلام کا با اختیار مرکز قائم ہو رہا تھا، تیسری طرف جارح اور حملہ آور قبائل سے اسلام کی دفاعی جنگ ہو رہی تھی۔ تو نقشہ مختلف ہوتا۔ ان حالات میں فقہاء اگر عالم انسانی کی تقسیم کرتے تو وہ اس کو دو کے بجائے تین حصوں میں بانٹتے ــــــــ دار الدعوة، دار الاسلام، دار الحرب (دار الحرب فقہاء کے معروف معنی میں نہیں، بلکہ اس معنی میں کہ وہ ملک جس سے جارحیت کی بنا پر مسلمانوں کو دفاعی جنگ لڑنی پڑے اور اس طرح مسلمان ان سے بر سر جنگ ہوگئے ہوں) مگر زمانی حالات کی بنا پر فقہاء کی تقسیم میں دار الدعوة حذف ہوگیا، حالانکہ وہ اسلام کا اہم ترین حصہ تھا۔
حقیقی اسلام جس کا نمونہ رسول اور اصحاب رسول نے قائم کیا ہے، اس کے مطابق مسلمانوں کا مزاج بنے تو وہ یہ ہوگا کہ مسلمان دنیا کی قوموں کو اسلام کے پیغام رحمت کا مخاطب بنائیں۔ کو فیصلہ کن اکثریت حاصل ہو وہاں کی عملی زندگی کا نقشہ اسلامی احکام کی بنیاد پر قائم کریں۔ اور اگر کوئی قوم ان کے خلاف جارحیت کرے تو اس سے مقابلہ کر کے اسلام کا دفاع کریں مگر مذکورہ فقہی تقسیم میں دعوت کا پہلو سرے سے حذف ہوگیا۔ اس میں صرف دوسرا اور تیسرا پہلو باقی رہا، اور وہ بھی ناقتمام
فقہاء کی تقسیم کے مطابق ، اُس وقت کے مسلمانوں میں جو ذہن بنا وہ حاکمانہ ذہن تھا نہ کہ داعیانہ
دار الاسلام اور دار الحرب کی عالمی تقسیم کے بعد عملی طور پر مسلمانوں کے اندر یہی فکر ابھر سکتا تھا اور یہی فکر ابھرا کہ مسلمان کے لیے کرنے کا کام صرف دو ہے حاصل شدہ زمین پر حکومت کرنا۔ اور زمین کا جو حصہ ابھی حاصل نہیں ہوا اس کو لُٹ کر اپنے قبضے میں لانا تاکہ اس پر حکومت کی جاسکے۔ مسلمانوں کا یہی غیر صحیح ذہن تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے تاتاری قبائل کو مدد سمجھنے کے بجائے انھیں اپنا حریف سمجھا۔ چنگیز خاں کے وفد کا احترام کرنے کے بجائے انھوں نے ان کی تحقیر کی۔ خوارزم شاہ کے حکم کے تحت تاتاری وفد کے اموال چھین لیے گئے اور انھیں قتل کر دیا گیا (البدایہ والنہایہ ۱۳/ ۸۳) اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں اور تاتاریوں کے درمیان داعی ۔ مدعو کا رشتہ قائم نہ ہو سکا۔ بجائے ان کے درمیان حریف اور دشمن کا رشتہ قائم ہو گیا۔ چنگیز خاں کے دل میں ابتدا مسلمانوں کے لیے نرم گوشہ تھا۔ مگر مذکورہ واقعہ کے بعد اس کے دل میں مسلمانوں کے خلاف غصہ اور انتقام کی آگ بھڑک تاتاری لشکر اپنی تمام وحشت و بربریت کے ساتھ عالم اسلام پر ٹوٹ پڑا۔ ان کا غصہ صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ انھوں نے عالم اسلام کو اپنے قدموں کے نیچے پامال کر دیا۔
اس دور میں جو عملی خرابی پیدا ہوئی، اس کو میں ایک مثال کے ذریعہ واضح کروں گا۔ ساتویں صدی ہجری میں تاتاری جب عباسی خلافت کو زیر و زبر کر چکے اور نتیجہ تاتاری احساس غلبہ اور مسلمان احساس مغلوبیت سے دوچار ہو گئے، اس زمانہ کا واقعہ ہے۔ ایک تاتاری نوجوان تعلق تیمور ایرانی علاقہ میں شکار کھیل رہا اس کی ملاقات ایک ایرانی مسلمان سے ہوئی۔
تاتاری نوجوان گھوڑے پر سوار تھا۔ اس نے احساس برتری کے تحت اپنے کتے کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ تم مسلمانوں سے تو میرا یہ کتا اچھا ہے۔ اگر یہ مسلمانوں کے غلبہ افزا حکمرانی کا دور ہوتا تو مذکورہ مسلمان اس بات کو سن کر فوراً اپنی تلوار نکالتا اور تاتاری نوجوان کی گردن مار کر کہتا کہ اب بتاؤ میں اچھا ہوں یا تمہارا کتا اچھا ہے۔
مگر اس وقت مسلمان احساس مغلوبیت سے دوچار تھے۔ حالات نے انھیں شکستگی کے مقام پر پہنچا دیا ان کے دلوں میں کبر اور سرکشی کے بجائے تواضع اور دردمندی کے جذبات بھرے ہوئے تھے۔ نوجوان کا جملہ سن کر مسلمان کی زبان سے نکلا" اگر ہم کو سچا دین نہ ملتا تو یقیناً ہم کتے سے زیادہ برے ہوتے۔ مسلمان کے اس پر سوز جملہ نے تاتاری نوجوان کو تڑپا دیا۔ اس کے بعد وہ سچے دین کی تحقیق میں لگ گیا۔
یہاں تک کہ آخر کار اس نے اسلام قبول کر لیا (ایمانی طاقت ۲۶ - ۲۷)
مسلمانوں پر جو مصیبت آتی ہے، وہ قرآن کے مطابق ، مصیبت نہیں ہوتی بلکہ آزمائش ہوتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے دلوں کو پاک کرے اور ان کی فکر کی تصحیح کرے ( آل عمران ۱۴۲) موجودہ حالات مجھے ٹھیک اسی نوعیت کے نظر آرہے ہیں۔
عباسی دور کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تاتاریوں کے ذریعہ جھنجھوڑا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی حاکمانہ فکر دوبارہ دعوتی فکر میں تبدیل ہوئی۔ ان کا احساسِ برتری ٹوٹا اور اس کی جگہ تواضع ، پرسوزی اور حقیقت پسندی کا احساس ابھر آیا۔ ان چیزوں نے مسلمانوں میں دوبارہ وہ اوصاف پیدا کیے جو داعی کے اوصاف ہوتے ہیں۔ وہ تاتاریوں کے درمیان اس سیدھے اور سچے اسلام کے نمائندہ بن گئے جو انسان کو خود بخود اپنی طرف کھینچتا ہے۔
اس طرح مسلم دنیا میں ایک نیا عمل جاری ہوا جس کو دعوتی عمل کہا جا سکتا ہے۔ اس نے تاتاریوں کے دلوں کو مسخر کرنا شروع کر دیا۔ تاتاری قبائل اسلام میں داخل ہونے لگے۔ یہاں تک کہ پچاس سال کے اندر بیشتر تاتاریوں نے اور خود ان کے شاہی خاندان نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ لوگ جو اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا نعرہ لے کر اٹھے تھے ، وہ اسلام کے خادم اور سپاہی بن گئے۔ حالات بتاتے ہیں کہ یہی تاریخ دوبارہ دہرائی جانے والی ہے۔ اور یہ سب کچھ خود اللہ کی طرف سے کیا جارہا ہے ، اور اللہ بلا شبہ سب سے بڑا کار ساز ہے۔