ایک اقتباس
Al-Risala, March 1991, pp. 41–43
By Maulana Wahiduddin Khan
مختلف بابری مسجد کمیٹیوں کے لیڈر پچھلے تین برس سے مسلسل بابری مسجد کے سلسلہ میں بڑے بڑے بیان دیتے آئے ہیں۔ بلند بانگ دعوے کرتے آئے ہیں۔ اپنے جذ باتی بیانات اور زور دار تقریروں سے خوب مسلمانوں کی واہ واہ لوٹ کر قوم کے لیڈر بنتے رہے ہیں۔ ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں پر یہ تاثر قائم کرتے رہے ہیں کہ مسلم ووٹ ان کی مٹھی میں ہے۔ وہ جہاں کہیں گے مسلمان ووٹ ڈالے گا۔ ووٹ کے نام پر اپنا مفاد پورا کرتے ہیں۔ جنہیں ان کے محلے میں بھی کوئی نہیں جانتا تھا راتوں رات مسلمانوں کے لیڈر بن گئے۔ انھوں نے مسلم فوج بنانے کا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اجودھیا مارچ کا نعرہ لگایا۔ ان قائدین ملت نے شہیدی دستے بنائے۔ انھوں نے لاکھوں کی تعداد میں حفاظتی دستے اجودھیا بھیجنے کا اعلان کیا۔ آج ہندوستان کے مسلمان اگر یہ سوال کر رہے ہیں کہ یہ مسلم فوج، یہ شہیدی دستے اور یہ حفاظتی دستے کہاں ہیں تو کون سا غلط کر رہے ہیں۔ مگر جب پچھلے برس رام مندر کا شلانیاس ہوا تو ان شہیدی دستوں کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ فیض آباد کی ٹاٹ والی مسجد میں صرف سوا سو ڈیڑھ سو مسلمان جمع تھے۔ اور جب اڈوانی کی رتھ یا ترا نکلی تو انھوں نے مسلمانوں پر اپنی بہادری کا سکہ جمانے کے لئے رتھ یا ترا رو کنے کا اعلان کیا۔ ان کے اس اعلان سے فتح پوری مسجد کے نائب امام کو ترشول تو لگ گیا مگر اس رتھ یا ترا کو روکنے کے لئے چڑیا کا بچہ بھی سامنے نہیں آیا۔ انھوں نے حفاظتی دستے کے تحت بابری مسجد کی حفاظت کے لئے پانچ لاکھ مسلمانوں کو اجودھیا بھیجنے کا اعلان کیا مگر پانچ مسلمان لیڈر اجودھیا تو دور کی بات ہے فیض آباد بھی نہیں پہنچے۔
پچھلے گیارہ ماہ میں بی جے پی والے حکومت کے حمایتی ہونے کے باوجود مسلسل منظم طور پر اجودھیا پر دھاوا بولنے اور بابری مسجد میں گھسنے کی تیاری کرتے رہے۔ مگر یہ بابری مسجد کے لیڈر صرف وزیر اعظم وی پی سنگھ سے ملاقاتیں کر کے اور ٹیلیویژن وریڈیو پر اپنے بیانات جاری کراکر خوش ہوتے رہے، دوسری طرف مسلمانوں میں اپنی پوزیشن بنانے کے لئے یہ حفاظتی دستے اور شہید ی دستے بنانے کے لمبے چوڑے بیانات دیتے رہے۔ اس نے ان خالی خولی بیانات سے انھوں نے صرف اور صرف فرقہ
دل ، شیو سینا ، وشو ہندو پریشد کے وجود کا جواز فراہم کاا مگر میرٹھ ، بھاگپور ، گونڈا ، جے پور ، دہلی اور دوسرے درجنوں فسادات میں ایک مسلمان کی جان و مال کی حفاظت نہیں کر سکے ۔ ان کا کھیل صرف اتنا ہے کہ وہ ملک کی اہم سیاسی جماعتوں سے یہ تسلیم کرا لیں کہ یہ مسلم ووٹوں کے واحد ٹھیکیدار ہیں ۔ کی مرضی کے بغیر کوئی سیاسی جماعت کامیاب نہیں ہوگی ۔ انھوں نے نہ تو حکومت سے مسلمانوں کے اقتصادی سماجی و دینی مسائل حل کرنے میں کوئی دل چسپی دکھائی ۔ نہ مسلمانوں کو منظم کیا ۔ نہ انھیں اعتماد اور حوصلہ دیا ۔ ہند و فرقہ پرستوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی بنائی ۔ نہ ان کے مفاد میں کوئی دور رس پالیسی مرتب کی ۔
جب تک یہ عناصر اقتدار سے دور ے ، جذباتی تقریریں کر کے مسلمانوں کو ٹکراؤ کے راستے پر چلاتے رہے ۔ ان کی اسی ٹکراؤ کی پالیسی کا خمیازہ کروڑوں مسلمانوں کو میرٹھ ، ملیانہ ، بھاگلپور ، بدایوں ، مکرانہ ، دہلی ، بارہ بنکی ، الہ آباد ، حیدر آباد ، اندور ، جے پور ، گونڈا ، متھرا ، کانپور اور درجنوں فسادات کی شکل میں بھگتنا پڑا ۔ آج بھی ملک کے درجنوں شہر میں بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ اور آئندہ بھی بھگتنا پڑے پرانی کہاوت ہے کہ چھیڑ و مت اور چھیڑ و تو چھوڑ و مت ۔ لیکن بغیر نتائج کی پروا کئے یہ قائدین و قتی تالیاں بجوانے اور لیڈری چمکانے کے لئے ہند و فرقہ پرستوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہے ۔ انھیں اپنی مسلم دشمنی کا جواز فراہم کرتے رہے ۔ لیکن ٹکراؤ کا اعلان کرنے کے بعد ، حالات کو بگاڑنے کے بعد خود ہمیشہ پیچھے ہٹ گئے ۔ ان کی اس عاقبت نا اندیشانہ پالیسی کا خمیازہ عام مسلمانوں کو بھگتنا پڑا ۔ بھگتنا پڑ رہا ہے اور ابھی برسوں بھگتنا پڑے گا ۔
۴۷ کے بعد ہندوستان میں مسلمان کبھی اتنا غیر محفوظ نہیں رہ رہا جتنا کہ آج ہے ۔ کی جان و مال ہی نہیں ان کی مسجدیں ، درگاہیں ، قبرستان ان کا دین ایمان سب خطرے میں ہے ۔ مسلمان بسوں اور ٹرینوں میں سفر کرتے ہوئے ڈر رہے ہیں ۔ آج مسلمان زبر دست خوف و ہراس کا شکار ہیں ۔ اس کے لئے جہاں ملک کی سیاسی جماعتیں اور ہند و فرقہ پرست تنظیمیں ذمہ دار ہیں وہاں بابری مسجد کے نام پرلیڈری چمکانے والے یہ قائدین ملت بھی برابر کے ذمہ دار ہیں ۔ آج اگر عام مسلمانوں کا اعتماد ان نام نہاد مسلم لیڈروں پر سے اٹھ گیا ہے تو کیا غلط ہے ۔ آج مسلمان مایوسی کے ایسے اندھیرے میں گھر گیا ہے جہاں اسے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی ہے ۔ مگر مسلمان کے لئے مایوسی حرام ہے مسلمان
کو آج اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔ اپنے نادان دوستوں اور مفاد پرست ہی خواہ ہوں کو پہچاننا ہوگا۔ اور منظم طور پر اپنی حفاظت، اپنی ٹھوس تعمیر، اپنی تعمیر و ترقی کا راستہ متعین کرنا ہوگا۔ اور یہ اس وقت ہی ممکن ہے کہ جب تعلیم یافتہ، بے لوث اور سمجھدار مسلمان آگے آئیں ۔ عام مسلمان لمبے لمبے دعوے کرنے والے لیڈروں کی اصلیت کو پہچانیں اور اپنے درمیان موجود مخلص مگر خاموشی سے کام کرنے والے عناصر کو پہچانیں۔ مسلمانوں کا مستقبل ان شاء اللہ آج بھی روشن ہے۔ ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کو دنیا کی کوئی طاقت اپنے جائز حقوق حاصل کرنے اور آگے آنے سے نہیں روک سکتی۔ جس دن مسلمان خوف و دہشت کو تیاگ کر صرف اور صرف اپنے ایمان پر اعتقاد کرتے ہوئے سامنے آئیں گے انھیں زندگی کے کسی بھی میدان میں آگے بڑھنے سے نہیں روکا جاسکے گا (ہفت روزہ نئی دنیا ۹- ۱۵ نومبر (۱۹۹۰)
اوپر جو "اقتباس نقل کیا گیا، وہ کوئی منفرد تحریر نہیں۔ آجکل اس قسم کے مضامین کثرت سے اخبارات ورسائل میں شائع ہورہے ہیں (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو، مفصل خط مطبوعہ قومی آواز، ۷ نومبر ۱۹۹۰ )
مسلمان جو پچھلے برسوں میں نام نہاد لیڈروں کے لفظی بیانات اور جوشیلی تقریروں سے وقتی طور پر انہیں اپنا رہ نما سمجھ بیٹھے تھے، وہ اب ان کی نااہلیت کو بخوبی طور پر جان چکے ہیں۔ اکتوبر ۱۹۹۰ کے واقعات نے آخری طور پر ان کی حقیقت کھول دی ہے۔ اب یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ لوگ مسائل کی نوعیت کو جانتے بھی نہیں، کجا کہ ان سے یہ امید کی جائے کہ وہ ان میں رہنمائی دیں گے۔ ان نام نہاد لیڈروں نے قرآن کے مطابق ، اس کام کا کریڈٹ لینا چاہا تھا جس کو انھوں نے کیا نہیں (آل عمران (۱۸۸) اللہ نے دکھادیا کہ ایک کریڈٹ کسی کو اس دنیا میں نہیں ملتا۔
مسلمان اب ان نااہل رہنماؤں کے فریب سے باہر آچکے ہیں ، اور خود یہ واقعہ مسلمانوں کے لئے روشن مستقبل کی یقینی ضمانت ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کے اصل ذمہ دار خود ان کے نام نہاد رہنما ہیں۔ مسلمانوں کا ان رہنماؤں کی حقیقت کو جان لینا ان کے لئے ایک نئے دور کا آغاز مسلمانوں کی اس دریافت کے بعد اب کی تعمیر نو کا، سفرشروع ہو چکا ہے ، اور جو سفر صحیح سمت میں شروع ہو، وہ آخر کار اپنی منزل پر پہنچ کر رہتا ہے۔