Al-Risala · April 1991

محمد رسول اللہ

Al-Risala, April 1991, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم قدیم مکہ میں پیدا ہوئے تو وہاں شرک چھایا ہوا تھا۔ تمام مفادات شرک سے وابستہ ہو گئے تھے۔ مگر آپ نے اپنے آپ کو ماحول سے اوپر اٹھایا۔ حالات سے موافقت کرنے کے بجائے آپ نے اپنے کو تلاش حق کی راہ میں لگا دیا۔ اللہ نے آپ کی مدد فرمائی۔ آپ کو سچائی کی ہدایت ملی اور مزید انعام کے طور پر نبوت بھی عطا کی گئی۔

آپ خدا کے سچے عبادت گزار بن گئے۔ آپ نے اپنے تمام اعلیٰ جذبات کا مرکز صرف ایک خدا کو بنا لیا۔ آپ نے اپنے پورے وجود کو خدا کے حوالے کر دیا۔ نہ صرف دن میں بلکہ راتوں میں بھی آپ خدا کی عبادت نہ صرف لوگوں کے سامنے بلکہ تنہائی میں بھی آپ خدا کے خاشع بنے رہتے۔

آپ نے بلند کرداری کو اپنا اخلاق بنایا۔ لوگوں کے برے سلوک کے باوجود آپ ان کے ساتھ اچھا لوگ آپ کو تکلیف پہنچاتے مگر آپ ان کے حق میں دعا دیتے۔ آپ نے ظالموں کے ظلم پر صبر کیا۔ آپ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہیں ہوئے۔

آپ کے لیے اپنے وطن میں رہنا نا ممکن بنا دیا گیا۔ آپ کو مجبوراً اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔ آپ مکہ سے مدینہ چلے آپ نے فرار کو ہجرت میں تبدیل کر دیا۔ آپ کے خلاف لوگوں نے جنگ کی طاقت کا مظاہرہ کیا مگر آپ نے بے پناہ عزم کے ساتھ بتایا کہ امن کی طاقت جنگ کی طاقت سے بھی زیادہ بڑی ہے۔ آپ کو مقبولیت ملی مگر آپ نے فخر نہیں کیا۔ آپ کے پاس دولت آئی مگر آپ عیش سے دور رہے۔ آپ کو حکومت دی گئی مگر اس نے صرف آپ کی تواضع میں اضافہ کیا۔ آپ کو ہر قسم کی بلندیاں ملیں مگر آپ نے عجز اور عبدیت کو اپنا شعار بنایا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر قسم کے لمحات آئے اور زندگی کے تمام تجربات گزرے۔ تنگی کے دور سے بھی گزرے اور فراخی اور آسودگی کے دور سے بھی۔ آپ کو صحت کا تجربہ بھی ہوا اور بیماری کا تجربہ بھی۔ آپ کا سابقہ تعریف کرنے والوں سے بھی پیش آیا اور تنقید کرنے والوں سے بھی۔ آپ کو اپنی زندگی میں دشمن بھی ملے اور دوست بھی۔ آپ شکست سے بھی دوچار ہوئے اور آپ نے عظیم کامیابی بھی حاصل کی۔ ہر حال میں آپ اعتدال پر قائم رہے۔ ہر حال میں آپ اللہ کے صابر اور شاکر بندہ بنے رہے۔

لقاء ربه ، متفق عليه)

روزہ میں آدمی صبح سے شام تک بھوک اور پیاس کو برداشت کرتا ہے۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوتا ہے اور وہ روزہ توڑ کر کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے۔ اس وقت آدمی کی وہ حالت ہو جاتی ہے جس کے بارہ میں حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں : (ذهب الظما وابتلت العروق وثبت الأجر انشاء الله (پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہوگئیں اور اجر ثابت ہو گیا، انشاء اللہ)

روزہ اور افطار دونوں دو مختلف تجربے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ دنیا کی اور آخرت کی تمثیل ہیں۔ میں آدمی پابندیوں اور ذمہ داریوں میں بندھا ہو ہے۔ آخرت میں وہ خوشیوں اور لذتوں سے محظوظ ہونے کے لئے آزاد کر دیا جائے گا۔ اس طرح روزہ کا وقت گویا دنیا کی علامت ہے، اور افطار کا وقت آخرت کی علامت ۔ رمضان کا مہینہ دنیا کی زندگی کو بتا رہا ہے ، اور عید ، جو زیادہ بڑے افطار کا دن ہے، آخرت کی زندگی کا تعارف کراتی ہے۔

آدمی کو چاہئے کہ رمضان کے دنوں میں جب وہ روزہ رکھے تو روزہ اس کے لئے دنیوی زندگی کی پہچان بن جائے۔ روزہ کی حالت میں اس کی نفسیات یہ ہو کہ جس طرح میں نے کھانے اور پینے سے اپنے آپ کو روکا ہے ، اسی طرح مجھے خدا کی منع کی ہوئی تمام چیزوں سے رکے رہنا ہے۔ اس دنیا میں مجھے عمر بھر ایک روزہ دار زندگی گزارنا ہے۔

اس کے بعد جب شام ہوا اور وہ روزہ ختم کرکے افطار کرے تو اس کا احساس یہ ہو کہ گویا وہ عالم آخرت میں پہنچ گیا ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے اس کی مہمانی کی جارہی ہے۔ آنسوؤں کی بارش میں وہ پکار اٹھے کہ خدایا ، میں نے تیری خاطر ”روزہ رکھا، اب تو میرے لئے“ افطار کی زندگی لکھ دے۔ میں نے تیرے لئے رمضان کو پورا کیا ، اب تو میرے اوپر ابدی عید کی لامحدود نعمتوں کے دروازے کھول دے۔ مومن کے لئے روزہ ، دنیا کی زندگی کا تجربہ ہے اور افطار ، آخرت کی زندگی کا تجربہ۔

Printed page