انسان کی بے کسی
Al-Risala, April 1991, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۲ اگست ۱۹۸۵ء کو جاپان میں ایک ہولناک ہوائی حادثہ ہوا۔ ایک بڑا جہاز (۷۴۷) جو ٹوکیو سے اوسا کا جا رہا تھا وہ راستہ میں پہاڑ سے ٹکرا کر برباد ہو گیا۔ اس کے مسافروں میں صرف چند آدمی باقی ۵۱۹ مسافر فوراً ہلاک ہو گئے۔
اس حادثہ سے متعلق جو مختلف تفصیلات اخباروں میں آئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک جاپانی خاتون مسز ماریکو شرائی (Mrs Mariko Shirai) بھی انھیں ہلاک ہونے والوں میں ان کی عمر ۲۶ سال تھی۔ جہاز کے برباد شدہ سامانوں میں سے ایک ٹائم ٹیبل کے اوراق تھے جو بعد کو دستیاب ہوئے ہیں ۔ یہ ٹائم ٹیبل اس وقت مذکورہ خاتون کے ہاتھ میں تھا۔ اس وقت مذکورہ خاتون نے اس ٹائم ٹیبل کے حاشیہ پر چند الفاظ لکھے جو محفوظ حالت میں پائے گئے ہیں۔ وہ الفاظ یہ تھے، Help me, horror, horror, horror. میری مدد کرو، دہشت، دہشت، دہشت (ٹائمز آف انڈیا ۲۶ اگست ۱۹۸۵)
قرآن میں ہے کہ انسان کو ضعیف اور کمزور پیدا کیا گیا ہے (النساء ۲۸) عام حالات میں انسان اپنے ضعف کو بھولار ہتا ہے ۔ حتی کہ وہ سرکشی کرنے لگتا ہے۔ مگر جب کوئی نازک لمحہ آتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ میں بالکل بے بس ہوں ۔ میں اپنی ذاتی بنیاد پر اس دنیا میں کھڑا نہیں اسی قسم کا ایک نازک لمحہ تھا جو مذکورہ جاپانی خاتون پر گزرا۔ اس طرح کے لمحات آدمی پر کبھی کبھی ڈالے جاتے ہیں تاکہ وہ اس دنیا میں اپنی حیثیت کو تاکہ وہ حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے تواضع کی روش پر قائم ہو جائے ۔ کا یہ حال ہے کہ جب کوئی نازک لمحہ آتا ہے ، اس وقت تو وہ وقتی طور پر متواضع بن جاتا ہے۔ ہی موقع ختم ہوتا ہے وہ دوبارہ سرکش بن کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔
اس دنیا میں اصلاح کی توفیق اس کو ملتی ہے جو جزئی واقعہ سے کلی اثر قبول کرے ۔ جو وقتی تجربہ کو اپنی پوری زندگی کا تجربہ بنا لے۔ جو ایک دن کے سبق آموز واقعہ کو اس طرح پکڑلے کہ وہ اس کی ساری عمر کے لیے سبق اور نصیحت کا ذریعہ بن جائے۔