نفع بخشی کی طاقت
Al-Risala, April 1991, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان ٹائمز (۲۰ جولائی، ۱۹۹۰) کے نمائندہ مقیم ماسکو مسٹر بھا بنی سین گپتا نے سوویت یونین کے بارہ میں ایک رپورٹ شائع کی ہے، اس کا عنوان ہے ۔ ایک نیا روس ابھر رہا ہے : A new USSR is emerging اس رپورٹ میں سوویت روس میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ آخر میں لکھتے ہیں کہ بین اقوامی معاملات کے ایک ممتاز روسی ماہر نے ماسکو میں مجھے بتایا کہ سوویت روس کا پہلا محبوب امریکہ نہیں ہو سکتا۔ اس کا پہلا محبوب متحدہ یورپ ہو گا ۔ اور پھر جاپان، اس کے بعد امریکہ اور چین ۔ میں نے تعجب کے ساتھ پوچھا، اور انڈیا کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ۔ روسی عالم نے پُر اطمینان لہجہ میں کہا کہ انڈیا کا معاملہ ایک مخصوص معاملہ ہے ۔ انڈیا ہمارا پہلا یا دوسرا یا تیسرا محبوب نہیں۔ انڈیا ہمارا دائمی محبوب ہے : An outstanding Soviet specialist in international affairs told me, “The United States will not be the first love of the U.S.S.R. The first love will be united Europe. And then Japan, the U.S. and Canada.” “What about India?” I asked with mixture of surprise and amusement. “India is special”, the academician replied placidly. “India is not our first or second or third love. It is our love-for-ever” (p.1). پچھلے چالیس سال سے ہماری حکومت ہم کو یقین دلا رہی تھی کہ سوویت روس ہمارا سب سے بڑا دوست مگر روسی عالم کا مذکورہ جواب بتاتا ہے کہ اب سوویت روس نے انڈیا کو رسمی تعلق کے خانہ میں ڈال دیا ہے۔ اس فرق کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ پہلے روس کو ہماری ضرورت تھی، اب روس کو ہماری ضرورت نہیں رہی۔ سرد جنگ کی سیاست میں روس ہم کو امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ اب روس اور امریکہ میں صلح ہو جانے کے بعد یہ حریفانہ سیاست مرگئی ، اس لیے روس کی نظر میں ہماری اہمیت بھی ختم ہو گئی۔ کے لیے اہمیت صرف ان ملکوں کی ہے جو جدید اقتصادی تنظیم میں اس کے مددگار بن سکیں۔ اور یہاں یورپ اور جاپان اس کے لیے مددگار ہیں نہ کہ انڈیا۔
کسی فرد یا قوم کی اہمیت کا راز یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں کی ضرورت بنا دے۔ اس کے سوا دوسری ہر بنیاد فرضی ہے جو ہوا کے پہلے ہی جھونکے میں زمین بوس ہو جاتی ہے۔
ہندوستان ٹائمز (۲۸ دسمبر ۱۹۹۰) نے ایک ہندستانی صحافی مقیم واشنگٹن مسٹر این سی من کی رپورٹ چھاپی اس میں وہ لکھتے ہیں کہ عام طور پر لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ جب روسی صدر میخائل گورباچیف نے راجیو گاندھی کی حکومت کے زمانہ میں انڈیا کا دورہ کیا۔ اس وقت سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے انڈیا، چین اور سوویت یونین کے درمیان قریبی تعاون کی تجویز پیش کی تھی تاکہ امریکی دیو( (اور شاید یورپ کے ابھرتے ہوئے اتحاد) کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دوستانہ دھڑا قائم کیا جاسکے۔ صدر گورباچیف نے بے رحمانہ صاف گوئی کے ساتھ اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمیں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ نئی ٹکنالوجی ہے، اور نئی ٹکنالوجی ہم کو نہ چین دے سکتا ہے اور نہ انڈیا۔
پچھلے چالیس سال سے روس نے ”سرمایہ دار مغرب “ کو اپنا دشمن سمجھ رکھا تھا۔ اور ‘‘سوشلسٹ انڈیا “ کو اپنا دوست بنائے ہوئے تھا۔ مگر لمبے تجربے کے بعد اس کو معلوم ہوا کہ انڈیا سے اس کو کوئی فائدہ نہیں، جب کہ سرمایہ دار مغرب اس کی ترقی میں نہایت اہم مددگار بن سکتا ہے۔ اس نے انڈیا کو چھوڑ دیا اور اختلاف اور شکایت کو نظر انداز کرتے ہوئے سرمایہ دار مغرب سے دوستی قائم کرلی۔
”سرمایہ دار ملک “ نے اپنی نفع بخشی کی صلاحیت کے ذریعہ اپنے سب سے بڑے دشمن کو جیت لیا۔ سوشلسٹ انڈیاکی غیر نفع بخشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو اپنے سب سے بڑے دوست سے محروم ہو جانا پڑا۔ یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا اصل راز ہے۔ اس دنیا میں کامیابی نفع بخشی کی بنیاد پر ملتی ہے نہ کہ الفاظ کا گنبد کھڑا کرنے سے۔
الرسالة اور اسلامی مرکز کی کتابیں مندرجہ ذیل پتہ سے حاصل کیجئے :