آسمانی انتظام
Al-Risala, April 1991, pp. 26–28
By Maulana Wahiduddin Khan
ابتدائی دور کی جنگوں میں صرف انسانی آنکھ دیکھنے کا کام کرتی تھی ۔ اس کے بعد دور بین سے کام لیا اب ٹکنالوجی کی ترقی نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ آسمان میں گھومتی ہوئی مشینوں (سٹلائٹ) کے ذریعہ دشمن کے ٹھکانوں کو معلوم کیا جائے اور نہایت صحت کے ساتھ ان کو دور سے نشانہ بنایا جا سکے ۔ جنگ اسی قسم کی ایک جنگ ہے۔ اس میں ایسی پیچیدہ ٹکنالوجی استعمال کی گئی جو اس سے پہلے کبھی کسی جنگ میں استعمال نہیں کی گئی تھی۔ اس اعتبار سے اس جنگ میں بہت سے نہایت اہم سبق ملتے ہیں ۔ ٹائمز آف انڈیا (۳۱ جنوری ۱۹۹۱) میں خلیج کی جنگ سے متعلق اسی قسم کی ایک نصیحت آموز رپورٹ چھپی اس کا عنوان اخبار نے ان لفظوں میں قائم کیا ہے کہ اتحادی فوجوں کی آنکھ آسمان میں : Eyes of the Allies in the sky اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری ۱۹۹۱ میں عراق نے کئی درجن اسکڈ میزائل (Scuds) اسرائیل اور سعودی عرب پر پھینکے۔ مگر ان کی زیادہ تعداد درمیان ہی میں بیکار کر دی گئی ۔ پر نہ پہنچ سکی۔ اس سے پہلے جو جنگیں ہوتی تھیں ان میں توپ کے گولے یا بم جب دشمن کی طرف پھینکے جاتے تھے تو ان کو راستہ کے درمیان ناکارہ کرنے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ پھر موجودہ جنگ میں کیوں کر ایسا ہوا
کہ ایک فریق کے پھینکے ہوئے میزائل کو دوسرے فریق نے راستہ ہی میں ناکارہ کر دیا۔ اس کا جواب خاص طور پر دو امریکی سیاروں میں ہے جو ایک زمینی اسٹیشن سے کنٹرول کئے جا رہے تھے ۔ اسٹیشن وسط آسٹریلیا میں واقع ہے۔
اس تدبیر کو ڈیفنس سپورٹ پروگرام کہا جاتا ہے۔ امریکہ کے یہ جاسوسی سیارے ڈیڑھ سو میل اوپر زمین کے گرد گھوم رہے ہیں۔ وہ مسلسل عراق کے بارے میں معلومات دیتے رہتے ہیں، خواہ موسمی حالات جو بھی ہوں۔ وہ نہ صرف اس وقت عراق کی تصویر لیتے ہیں جب کہ وہ براہ راست عراقی فضا کے اوپر ہوں بلکہ وہ مخصوص نظام کے تحت اس وقت بھی عراق کی تصویر حاصل کر لیتے ہیں جب کہ وہ کنارے کی طرف اڑ رہے ہوں۔
اس سیارے میں تین میٹر لمبی انفار ڈ دور بین لگی ہوئی ہے۔ جب اسکڈ میزائل چھوڑا جاتا ہے تو فضا میں اس کی سخت گرمی کے ذریعہ یہ سیارہ فوراً ہی اس کو معلوم کر لیتا ہے۔ اور عین اسی لمحہ زمین پر لگے ہوئے پیٹریٹ میزائل کو اس کی خبر دے دیتا ہے۔ اس کے بعد کمپیوٹر فوراً پیٹریٹ میزائل کو نشانہ کی طرف داغ دیتا ہے۔ میزائل فضا میں پہنچ کر اسکڈ سے ٹکرا کر اس کو عین راستہ میں برباد کر دیتا ہے۔ یہ سارا کام صرف ایک منٹ کے اندر انجام پاتا ہے۔ سٹیلائٹ کے ذریعہ جاسوسی کا خاص فائدہ یہ ہے کہ وہ دشمن کی مار کی حد سے پوری طرح محفوظ رہتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دفاعی سپورٹ کا یہ پورا سیاراتی نظام ۲۴ گھنٹے عراق کا جائزہ لیتا ہے اور اس کی تصویریں بھیجتا رہتا ہے۔ وہ ہر موسمی حالت میں یکساں طور پر کام کرتا ہے :
These Defence Support Programme satellites provide round-the-clock coverage of Iraq in all weather conditions. یہ واقعہ تمثیل کے روپ میں یاد دلاتا ہے کہ اسی طرح ایک اور " آسمانی مشاہدہ" ہے جو زیادہ بڑے پیمانہ پر ساری دنیا کی نگرانی کر رہا ہے۔ وہ دونوں فریقوں کو یکساں طور پر دیکھ رہا ہے۔ وہ کسی ایک ملک کو نہیں بلکہ تمام ملکوں اور تمام انسانوں کا ہر لمحہ معاینہ کر رہا ہے۔ یہ وہ برتر مشاہدہ ہے جو خدائی نظام کے تحت قائم ہے۔ خدائی مشاہدہ کا یہ نظام اس لئے قائم کیا گیا ہے تاکہ وہ ظالم کے ظلم کا توڑ کرے، تاکہ وہ مجرم کے خلاف بروقت مداخلت کر کے اس کے مفسدانہ
منصوبہ کو نا کام بنائے اور جو شخص حق پر ہے اس کی مدد کر کے اسے کامیاب کر دے۔ جب بھی کوئی شخص کسی کے خلاف برا اقدام کرے تو اس کو جاننا چاہیے کہ اس کے اقدام کا کام ہو جانا یقینی ہے۔ اس کے برے اقدام کو خدا کے فرشتے درمیان ہی میں مداخلت کر کے بے اثر کر دیں گے۔ خدا کی دنیا میں کوئی فاسد منصوبہ کبھی اپنی تکمیل تک پہنچنے والا نہیں۔ موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ آزمائش کی مصلحت کی بنا پر یہاں ہر شخص کو آزادی حاصل ہر شخص کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ اس آزادی کی بنا پر کبھی ایک آدمی دوسرے آدمی کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
مگر یہ آزادی لامحدود نہیں ہے۔ آزادی دینے کے ساتھ خدا لوگوں کی نگرانی بھی کر رہا ہے۔ وہ کسی کو یہ موقع نہیں دیتا کہ وہ اپنی آزادی کو بے قید اور لامحدود انداز میں استعمال کرے۔ ایک حد کے بعد خدا آدمی کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے۔ ایک حد کے بعد وہ آدمی کو اس سے روک دیتا ہے کہ وہ اپنی آزادی کو دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کرے۔
خدا کا وعدہ ہے کہ وہ مشکل کے وقت ضرور اپنے بندہ کی مدد کرتا ہے۔ کبھی مشکل پیش آنے کے بعد فوراً اور کبھی مشکل پیش آنے کے کچھ دیر بعد۔ خدا کی یہ مدد کبھی ایک صورت میں آتی ہے اور کبھی دوسری اس کی کوئی ایک مقرر اور متعین صورت نہیں۔