بابری مسجد کا مسئلہ
Al-Risala, April 1991, pp. 29–30
By Maulana Wahiduddin Khan
بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی کا مسئلہ یقینی طور پر حل ہو سکتا ہے۔ جس چیز نے اس کو اب تک لایخل بنا رکھا ہے وہ خود مسئلہ نہیں ہے بلکہ طریق کار ہے۔ دنیا میں اس سے بھی زیادہ بڑے بڑے مسئلے حل کئے گئے ہیں اور آج بھی حل ہو رہے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ یہ مسئلہ حل نہ ہو سکے ۔ لیکن جب طریق کار ہی غلط اختیار کیا جائے تو کوئی بھی مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔ خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ اس معاملہ میں جو لوگ اب تک براہ راست شریک رہے ہیں، ان کے پیش نظر بدقسمتی سے لیڈری زیادہ رہی ہے اور مسئلہ کا حل کم۔ اس لئے وہ اس معاملہ میں سنجیدہ طریق کار اختیار نہ کر سکے۔ دونوں فریق کی طرف سے اب تک جس طریقے کا مظاہرہ کیا گیا ہے وہ صرف ایک ہے۔ دعویٰ اور جواب دعوی ۔ پریس یا پلیٹ فارم کے ذریعہ اب تک اس معاملہ میں دونوں فریق کے ذریعہ جو کیا گیا ہے وہ زیادہ تر یہی ہے۔ مگر اس طرح کے نازک مسئلہ کے حل کے لئے یہ طریقہ بنیادی طور پر غیر مفید ہے۔ اس طرح کے نزاعات میں اگر صرف دعوی اور مطالبہ کا طریقہ اختیار کیا جائے تو ہمیشہ ایسا ہوگا کہ ہر فریق دوسرے فریق کے جواب میں اپنے موافق کچھ الفاظ بول دے گا، اور پھر مسئلہ وہیں کا وہیں پڑا رہے گا۔
اس معاملہ میں اصلی اور پہلا کام یہ ہے کہ دونوں فریق کسی تیسرے فریق (تھرڈ پارٹی) کو تلاش کریں جس کا فیصلہ انھیں منظور ہو سکے۔ وہ پیشگی طور پر راضی ہو جائیں کہ یہ تیسرا فریق جو فیصلہ دے گا اسے دونوں فریق بلا بحث مان لیں گے۔
اس طرح کے کیس میں عدالت یہ تھرڈ پارٹی نہیں بن سکتی۔ الا یہ کہ عدالتی فیصلہ سامنے آنے سے پہلے دونوں فریق اس کا باضابطہ اقرار نامہ دے چکے ہوں کہ عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی اس کو وہ لازمی طور پر مان لیں گے۔ بصورت دیگر ایسا ہوگا کہ عدالت کا فیصلہ جس فریق کے موافق ہوگا وہ اس کو مانے گا ، اور جس فریق کے خلاف ہوگا وہ اس کو ماننے سے انکار کر دے گا۔ طرح مسئلہ دوبارہ وہیں آجائے گا جہاں وہ پہلے تھا۔
عدالت کا فیصلہ اس وقت کام کرتا ہے جب کہ معاملہ ایک فرد یا چند افراد کا ہو۔
صورت میں فرد یا افراد اگر عدالتی فیصلہ کو نہ مانیں تو پولیس اس بات کی ضمانت ہوتی ہے کہ انہیں ماننے پر مجبور کیا جاسکے۔ مگر بابری مسجد۔ رام جنم بھومی کا مسئلہ دو افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ دو قوموں کا مسئلہ بن گیا ہے۔ اور جس مسئلہ میں دو پوری قوم شامل ہو جائے ۔ اس میں عدالت کا فیصلہ قوم کی مرضی ہی سے نافذ کیا قوم کی مرضی کے بغیر ایسے فیصلے کا نفاذ ممکن نہیں۔
یہی خاص فرق ہے جس کی بنا پر مسلمانوں کے لئے یہ ممکن ہوا کہ وہ شاہ بانو کیس کے معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو نہ مانیں ، اور ان کا نہ ماننا سپریم کورٹ کے فیصلے کو بے اثر بنا دے۔ اگر اس کی حیثیت صرف شخصی معاملہ کی ہوتی تو یہ نا ممکن تھا کہ شاہ بانو کے شوہر محمد احمد کے انکار سے ایک عدالتی فیصلے کا لعدم ہو کر رہ جائے۔
میرے نزدیک اس مسئلہ کا واحد قابل عمل حل یہ ہے کہ دونوں فریق ثالثی (arbitration) کے اصول پر راضی ہو جائیں ۔ دونوں فریق پیشگی طور پر تحریری اقرار نامہ دیں کہ یہ ثالث ( تھرڈ پارٹی) جو بھی فیصلہ دے گا اس کو وہ بلا بحث مان لیں گے ۔ فیصلے کے بعد وہ اس کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں تقریباً چار سال پہلے یہ مسئلہ اس حل کے کنارے پہنچ چکا تھا مگر بعض مسلم لیڈروں کی ناقابل فہم نادانی کی بنا پر وہ عملاً واقعہ نہ بن سکا۔