Al-Risala · April 1991

ایک تاریخی میٹنگ

Al-Risala, April 1991, pp. 30–31

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ۲۷ مارچ ۱۹۸۷ کی بات ہے۔ نئی دہلی کے وٹھل بھائی پٹیل ہاؤس میں اسی خاص مسئلہ پر ایک خصوصی میٹنگ ہوئی۔ اس میں ہندو سائیڈ اور مسلم سائیڈ دونوں طرف کے ذمہ دار لوگ جمع ہندو سائیڈ سے جو لوگ شریک ہوئے، ان میں دوسرے ذمہ داروں کے علاوہ ہمنت اوپید ناتھ بھی تھے جو رام جنم بھومی مکتی یگیہ سمتی کے صدر ہیں اور وشو ہندو پریشد کے ٹکٹ پر ایم پی بھی ہیں۔ سے جو لوگ شریک ہوئے ، ان میں سید شہاب الدین صاحب اور دوسرے ذمہ دار حضرات موجود تھے۔ اس میٹنگ میں میں بھی خصوصی دعوت پر شریک تھا۔ پہلے حسب عادت دونوں فریق اپنا اپنا دعویٰ پیش کرتے رہے اور ایک دوسرے کی بات کا جواب دیتے رہے۔ دعویٰ اور اس کی تردید کا یہ سلسلہ دیر تک جاری رہا۔

آخر میں میں نے کہا کہ یہ طریقہ مسئلہ کو حل کرنے کا نہیں ہے۔ مسئلہ کے حل کی واحد تدبیر یہ ہے کہ

دونوں فریق ایک تھرڈ پارٹی کو ثالث بنانے پر راضی ہو جائیں اور پیشگی اس بات کا تحریری اقرار کریں کہ یہ تھرڈ پارٹی جو فیصلہ دے گی اس کو وہ منظور کریں گے۔ میں نے کہا کہ اس تھرڈ پارٹی کے لئے سب سے بہتر باڈی مورٹین کی ہوسکتی ہے ۔ چنانچہ میں نے تجویز پیش کی کہ ہندوستان کے مسلمہ مورخین جنھوں نے انڈین ہسٹری کا باقاعدہ مطالعہ کیا ہو ان کا ایک منتخب بورڈ بنادیا جائے اور اس کو پورا اختیار دیا جائے کہ وہ تاریخی حقائق کی روشنی میں اپنا قطعی فیصلہ دے ۔ وہ جو فیصلہ دے اس کو دونوں فریق بلا بحث مان لیں ۔

میری اس تجویز کو ہند وسائڈ نے کسی بحث کے بغیر پوری طرح مان لیا۔ حتیٰ کہ وہ میری تجویز کے اس جز پر بھی راضی ہو گئے کہ اس بورڈ کے تقرر کو کسی بھی حال میں نظیر نہیں بنایا جائے گا، اور آئندہ کسی اور مسجد یا مساجد کے لئے اس قسم کے باب ہرگز نہیں کھولے جائیں گے۔ مہنت اوید ناتھ نے اس کو اتنا زیادہ پسند کیا کہ انھوں نے کھڑے ہو کر میرے ساتھ تصویر کھنچوائی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس تجویز کو فائنل کرنے کے لئے جلد ہی دوسری میٹنگ بلائی جائے۔

مگر عین اس وقت ایک " حادثہ " پیش آیا جس نے سارے معاملے کو بگاڑ دیا۔ وہ یہ کہ جناب سید شہاب الدین صاحب ناقابل فہم طور پر اس کے مخالف ہو گئے۔ وہ اس مخالفت میں اتنا شدید ہوئے کہ تقریبا چیخنے لگے۔ حتیٰ کہ ان کی چیخ پکار میں میٹنگ ختم ہو گئی۔

اس میٹنگ میں جماعت اسلامی کے نمائندہ کے طور پر فضل حسین صاحب مرحوم بھی موجود تھے۔ مگر وہ مکمل طور پر خاموش رہے۔ اگر مسلم نمائندوں نے اس موقع پر نا قابل فہم حد تک نادان رول نہ ادا کیا ہوتا تو یہ مسئلہ ۱۹۸۷ میں ہی ختم ہو جاتا اور ملک اور خاص طور پر مسلمان ان اندوہناک نقصانات سے بچ جاتے جو بعد کو اسی کے نتیجہ میں پیش آئے اور موجودہ سطروں کے لکھنے تک پیش آرہے ہیں۔

آج بھی اگر اس مسئلہ کا کوئی حل ہے تو یہی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے لیڈر صاحبان پچھلے تلخ تجربات کے بعد اب اس تجویز کی اہمیت کو محسوس کریں گے اور ذاتی وقار کا خیال کئے بغیر اس کی تائید کریں گے۔ نیز ہندو سائٹ جو ۲۷۷ مارچ ۱۹۸۷ کو اس تجویز کو منظور کر چکی تھی، وہ دوبارہ اس کو مان کر مسئلہ کے حل کا قابل عمل راستہ نکالے گی۔

Printed page