Al-Risala · April 1991

سفر نامہ روس - ۳

Al-Risala, April 1991, pp. 35–45

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر گولب ییف نے کہا کہ اب میں آپ کو اپنے گھر لے چلتا ہوں تاکہ آپ دیکھیں کہ ایک روسی کا گھر کیسا ہوتا ہے اور وہ اپنے گھر کے اندر کس طرح رہتا ہے۔ اس کے بعد میں ان کے فلیٹ پر گیا۔ کافی بڑا اور سجا ہوا فلیٹ تھا۔ انھوں نے اپنے باورچی خانہ میں خود بنا کر چائے پلائی کیوں کہ اس وقت وہ گھر میں اکیلے تھے۔

چائے خوش رنگ تھی۔ میں نے اس میں دودھ نہیں ڈالا۔ انھوں نے کہا کہ آپ چائے میں دودھ نہیں ڈال رہے ہیں تو کم از کم ایک چمچہ ہمارا دودھ چکھئے تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ ہمارے یہاں کا دودھ کیسا کھانے کی میز پر کاغذ کی پیکنگ میں دودھ رکھا ہوا تھا۔ اس میں سے انھوں نے ایک چمچہ دودھ نکال کر مجھ کو دیا۔ میں نے کھایا تو دودھ بالکل خالص اور لذیذ معلوم ہوا۔ یہی حال مکھن کا تھا۔ میں نے سوچا کہ ہم ہندوستان میں کسی غیر ملکی سے یہی بات نہیں کہہ سکتے۔ ایک شخص جو خود گائے اور بھینس پالے ہوئے ہو تو کہہ سکتا ہے۔ مگر اس کے کہنے کا کوئی اعتبار نہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہاں بازار سے یا ڈیری سے ایک عام شخص کو کیسا دودھ اور کیسا مکھن ملتا ہے۔ ہندوستان میں ہم نے سوشلزم اور سرمایہ داری دونوں کو جمع کیا۔ مگر یہاں دونوں کی برائیاں تو جمع ہوئیں مگر دونوں کی خوبیاں جمع نہ

ماسکو سے روسی زبان میں ایک غیر سرکاری ویکلی اخبار نکلتا ہے۔ آرگونتے اسی نام کے (Arguments and Facts) سے صرف سیاسی اخبار نہیں بلکہ وہ ہر قسم کے علمی اور سماجی موضوعات کو کور اس کی موجودہ اشاعت ۳۳ ملین سے زیادہ ہے۔ وہ سارے ملک میں پڑھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر اودیف (Gennady P. Avdeyev) نے یہ بات مجھے بتائی تو مجھے بڑا رشک آیا۔ میں ہم فخر کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہماری آبادی ۲۰ کروڑ ہے، مگر ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی ایسا اخبار نہیں جو بڑی تعداد میں چھپتا ہو اور سارے ملک میں تمام مسلمانوں تک پہنچے۔ مسلمان فخر کے میدان میں سب سے آگے ہیں اور عمل کے میدان میں سب سے پیچھے ۔

سوویت یونین میں بہت سی زبانیں ہیں۔ اس کا مسئلہ انھوں نے قابل تقلید انداز میں حل کیا ہے۔ سوویت یونین پندرہ ریپبلک پر مشتمل ہے۔ اس میں سے ایک روسی ریپبلک ہے۔ روسی ریپبلک کی فرسٹ زبان روسی زبان ہے جو مرکزی حکومت کی سرکاری زبان ہے۔ بقیہ چودہ ریپبلک میں

ان کی مقامی زبان کو فرسٹ زبان کی حیثیت حاصل ہے اور روسی زبان سیکنڈ لینگوئج کی حیثیت سے استعمال ہوتی ہے۔

ایک روسی تعلیم یافتہ شخص سے میں نے سوویت یونین میں مذہب کا حال پوچھا۔ اس نے کہا کہ اشتراکی انقلاب کے بعد مذہب یہاں بطور "عقیدہ" ختم ہو گیا تھا۔ مگر "رسم" کی سطح پر وہ ہمیشہ مثلاً شادی کی رسم، موت کی رسم۔ ان چیزوں میں مذہب پہلے بھی سوویت سوسائٹی میں باقی تھا۔ اب گورباچیف کے زمانہ میں مذہب کو نئی آزادی ملی تو وہ عقیدہ اور عبادت کے اعتبار سے بھی زندہ

اس سے مذہبی رسوم کی نئی طاقت کا اندازہ ہوا ۔ مذہبی رسوم مذہب کے معاملہ میں راکھ میں چنگاری کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ یہ چنگاری راکھ کے ڈھیر میں دبی رہتی ہے ۔ اور جب موقع ملتا ہے تو وہ بھڑک کر شعلہ بن جاتی ہے۔

ماسکو میں قیام کے دوران میں نے ہزاروں سوویت باشندوں کو دیکھا۔ وہ مجھے خوش نظر میرے ہوٹل میں روزانہ بہت بڑی تعداد میں مختلف علاقوں کے طلبہ بسوں سے آتے تھے۔ لوگ تعلیمی ٹور کے تحت یہاں بھیجے جاتے ہیں۔ وہ لوگ اکثر ہنستے ہوئے نظر آتے تھے۔ ہوٹل کے ملازمین کا حال بھی یہی تھا۔ میں نے ایک انگریزی داں روسی سے پوچھا۔ اس نے بتایا یہ ایک نیا ظاہر ہ یہ لوگ دراصل "پریسیت روئیکا" کی وجہ سے اتنا خوش ہیں کیوں اب وہ اپنے کو آزاد محسوس

سوویت یونین میں دنیا کے 11 ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے لئے فرینڈ شپ سوسائٹیاں قائم ہیں ۔ مثلاً سوویت - سری لنکا فرینڈ شپ سوسائٹی ۔ اس کے سکریٹری مسٹر گالکن (Alexey V Galkin) انھوں نے چار سال لنکا میں رہ کر سنہالی زبان سیکھی اور اس میں مہارت پیدا کی۔ اسی طرح سوویت انڈین فرینڈ شپ سوسائٹی ۔ اس کے جنرل سکریٹری مسٹر گولب ییف (Isaac Golubyev) ہیں۔ انھوں نے ایم اے تک اردو پڑھی ۔ اس کے بعد انھوں نے تین سال پاکستان میں گزارے ۔ وہ روانی کے ساتھ اردو بولتے ہیں۔ ان دونوں سے میری ملاقاتیں ہوئیں۔ اسی طرح دوسرے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لئے یہاں باضابطہ سوسائٹیاں بنی ہوئی ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ سوویت یونین ایک نظریاتی ریاست ہے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اسلام ایک کامل اور عالمی نظریہ ہے۔ مگر کسی بھی مسلم ملک میں دوسرے ملکوں سے تعلقات کے لئے اس قسم کی سوسائٹیاں قائم نہیں ۔ حتیٰ کہ پاکستان میں بھی نہیں جو نصف صدی سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ ایک نظریاتی ملک اور نظریاتی ریاست ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ مسلم دانشوروں کا نظریاتی دعویٰ محض اظہارِ فخر کے لئے ہے، وہ سنجیدہ عمل کے لئے نہیں۔

یکم اگست کو ماسکو کی مسجد دیکھی۔ یہاں کے موذن کا نام رئیس بلال (۲۳ سال) ہے اور امام کا نام راوی بن اسماعیل تھا۔ امام اور موذن دونوں کے سر گول ٹوپی تھی۔ مگر وہ کوٹ اور پتلون پہنے ہوئے تھے اور ٹائی لگائے ہوئے تھے۔ نماز کے وقت دونوں نے ایک لمبی عبا اپنے اوپر ڈال لی۔ ہی ایک مسجد ہے۔ مسجد وسط ماسکو میں ہے۔ بہت اچھی بنی ہوئی ہے۔ چوٹی شاہراہ کے عین کنارہ اس کے ساتھ ہی ہوا پارک اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہا ہے۔ مسجد چاروں طرف سے کھلی ہوئی مسجد کے اندر ٹیلیفون وغیرہ کی تمام سہولتیں موجود ہیں۔ وسیع دفتر میں میز اور کرسی کی نشست کا ماسکو میں ایک اور مسجد ہے جو اس وقت بند ہے۔ یہاں کے مسلمان حکومت سے اس کو کھولنے کی بات چیت کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ وہ بھی جلد کھل جائے گی۔

ماسکو میں مسلمانوں کی تعداد ۲۰۰۰۰۰ ہے۔ جمعہہ کے دن ایک ہزار سے زیادہ آدمی اس مسجد میں جمع کی نماز ادا کرتے ہیں۔ موذن صاحب نے قرآن کا ایک نسخہ دکھایا۔ یہ متن کے بغیر روسی زبان میں قرآن کا کامل ترجمہ تھا۔ اس کے مترجم کا نام کراچکو و سکی تھا۔ یہ ایک غیر مسلم روسی ہے۔ مگر وہ عربی زبان کا بڑا عالم تھا۔ اس نے قرآن کا لفظی ترجمہ کیا ہے جس کو حکومت نے شائع کیا ہے۔ امام صاحب کو میں نے "الاسلام یتمذی" بطور ہدیہ پیش کیا۔ وہ اچھی عربی جانتے تھے۔ اس سے گفت گو عربی زبان میں ہوئی۔ وہ کتاب پا کر بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس کا ترجمہ روسی زبان اور تا تاتاری زبان میں کرائیں گے۔ سوویت یونین کے مسلمانوں کی بڑی تعداد تاری زبان بولتی ہے۔ یہاں کی مسجد میں میں نے ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی۔ آج یہاں کوئی خاص دن نہیں تھا۔ مگر لوگ مسلسل امام صاحب کے" دفتر" میں آرہے تھے۔ ٹیلیفون کی گھنٹی بھی بار بار بج رہی تھی۔ سب لوگ بہت " نشیط" دکھائی دے رہے تھے۔

مسجد میں داخل ہواتو دروازہ کے بائیں طرف دیوار سے ملی ہوئی لمبی الماری تھی ۔ اس میں جوتارکھنے کے لئے بہت سے چھوٹے چھوٹے خانے بنے ہوئے تھے ۔ یہ خانے اس طرح سلیقہ سے بنائے گئے تھے کہ وہ مسجد کے دوسرے خوب صورت حصوں کے ساتھ بے جوڑ نہیں معلوم ہوتے تھے۔ اس وقت تقریباً ساٹھ نمازی تھے۔ کسی نے اپنے جوتے کو اتارنے کی جگہ چھوڑ دیا ، کسی نے خانہ میں رکھ دیا۔ نمازیوں میں سے کوئی بھی شخص نہ تھا جو جوتے کو اتار کر ہاتھ میں لے اور اس کو سجدہ گاہ کے سامنے رکھ کر نماز ادا کرے۔

نماز سے فارغ ہو کر نکلا تو جوتا اتارنے کی جگہ پر وہ منظر دکھائی نہیں دیا جو د ہلی اور دوسرے مقامات کی مسجدوں میں اکثر نظر آتا ہے۔ ایک یا ایک سے زیادہ آدمی حیران و پریشان کھڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان سے پوچھیے کہ آپ کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا تو وہ بتائیں گے کہ ”یہاں جوتا اتارا تھا ، مگر وہ کہیں نظر نہیں آرہا ہے‘‘۔ ہندوستان اور پاکستان والوں کو دعویٰ ہے کہ ان کے یہاں سب سے زیادہ اسلام پایا جاتا ہے۔ مگر غالباً ہندوستان اور پاکستان ہی وہ ملک ہے جہاں کی مسجدوں میں نمازیوں کے جوتے اٹھالئے جاتے ہیں۔

وضو خانہ مسجد کے وسیع احاطہ میں باہر کی طرف تھا۔ اس کو ”ماڈرن“ وضو خانہ کہا جاسکتا ہے۔ اس میں خاص انداز کے مقام وضو کے علاوہ صابن ، تولیہ ، واش بیسن اور کوٹ وغیرہ کا انتظام تھا۔ میرے قریب ایک صاحب بنچ پر بیٹھے ہوئے وضو کر رہے تھے۔ وہ کوٹ پتلون اور ٹائی میں تھے۔ وہ عربی یا انگریزی نہیں جانتے تھے۔ انھوں نے نہایت پرمسرت لہجہ میں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا ” حج ... جدہ ... مکہ “ پھر چار انگلیوں سے اشارہ کیا۔ اس کا مطلب غالباً یہ تھا کہ میں نے اور میرے خاندان کے چار آدمیوں نے حج کیا ہے۔

آج یہاں دو جنازہ بھی تھا۔ نماز ظہر سے پہلے جنازہ کی نماز پڑھی گئی۔ دونوں نمازوں سے پہلے اور بعد کو امام صاحب نے ذکر و دعا کے کلمات کہے۔ ظہر کی نماز میں کافی آدمی تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ آج جنازہ کی وجہ سے بہت سے مرد اور عورتیں یہاں آئی ہوئی تھیں۔ یہاں جو عورتیں نظر آئیں وہ سب اسکرٹ پہنے ہوئے تھیں ، یہاں مسلم اور غیر مسلم عورتوں کا لباس اتنا ملتا جلتا ہے کہ باہر دیکھ کر بظاہر یہ سمجھا نہیں جا سکتا کہ کون مسلم خاتون ہیں اور کون غیر مسلم خاتون۔

امام اور موذن دونوں کوٹ اور پتلون اور ٹائی پہنے ہوئے تھے۔ مگر نماز کے وقت دونوں نے اوپر سے ایک خاص طرح کی لمبی عبا پہن لی۔ اور سر پر خاص طرح کی پگڑی رکھ لی۔ زیادہ تر بوڑھی عمر کے نظر آئے ۔ دو صفیں بھری ہوئی تھیں۔ کل تقریباً ۶۰ نمازی تھے۔ مسجد کا نیچے کا حصہ خواتین کے لئے مخصوص ہے۔ گراؤنڈ فلور وسیع ہال کی صورت میں ہے۔ مسجد کے پورے حصہ میں قالین بچھا ہوا ہے۔ سنٹرل ہیٹنگ کا انتظام ہے ۔ اوپر کا حصہ بھی نہایت عمدہ اور خوب صورت ہے۔ نماز کے بعد امام صاحب نے میرا تعارف روسی زبان میں کرایا۔ نمازیوں نے آکر مجھ سے مصافحہ کیا اور دعائیں دیں۔

مسجد کے باہر تعمیرات ہو رہی تھیں اور تعمیری مشینری کھڑی ہوئی تھیں۔ میں نے سمجھا کہ یہ مسجد سے باہر کوئی چیز بن رہی ہے۔ مگر معلوم ہوا کہ وہ مسجد کا حصہ ہے اور مسجد کے تحت بن رہا ہے۔ یہ جان کر بہت خوشی ہوئی۔ کیوں کہ وہ کافی بڑا تھا اور تعمیر کے بعد اس میں ایک بڑا مدرسہ قائم کیا جا سکتا تھا۔ ماسکو کی جامع مسجد کے امام اور خطیب کا نام راوی بن اسماعیل عین الدین تھا۔ وہ ابھی جوانی کی عمر میں تھے۔ مسجد سے ملا ہوا امام صاحب کا کمرہ جدید طرز کے دفتر کی مانند تھا۔ وہ کافی بڑا تھا۔ میز کرسی پر تھی، ان سے میں نے پتہ لکھنے کو کہا تو انھوں نے دو ٹیلیفون نمبر کے ساتھ اپنا یہ پتہ لکھا : Ravil Gainoutdin, Imam Jama Masjid, Moscow, USSR Tel: 281-49-04, 281-38-66. سوویت روس کے موجودہ صدر میخائیل گورباچوف نے دو ایسے کام کئے ہیں جو کسی بھی موجودہ مسلم ملک میں نا قابل تصور ہیں۔ ایک، اساکھ کے سوال کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے افغانستان سے روسی فوجیں واپس بلانا۔ دوسرے خود اپنے ملک کے نظام میں وہ تبدیلی لانا جس کو ایک دانشور نے انقلاب کو توڑنے (dismantling a revolution) سے تعبیر کیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ روسی قوم ایک بے حد جاندار قوم ہے۔ روس کے پاس، امریکہ کے بعد دوسرا سب سے بہتر جغرافیہ ہے۔ مگر پہلی عالمی جنگ کے بعد روسی قوم مسلسل زوال کا شکار ہوتی اسلحہ سازی کے سوا وہ کسی بھی دوسرے میدان میں ترقی نہ کرسکی۔

اس کی دو بڑی وجہیں تھیں۔ ایک مارکسی نظریہ کے تحت عالمی قیادت کا جنون۔

ریاستی اقتصادیات (state economy) کا طریقہ اختیار کرنے کی وجہ سے روسی معیشت میں محرک عمل کا ختم ہو جانا۔ گور باچوف اگر اپنی کوششوں میں کامیاب ہوتے ہیں، تو وہ روسی قوم سے ان دونوں کمزوریوں کو دور کر دیں گے۔ اس کے بعد یہ ممکن ہو جائے گا کہ روسی قوم کی امکانی صلاحیت ظاہر ہونا شروع ہو جائے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد پیدا ہونے والے حالات نے روس کو دوسرے سپر پاور کی حیثیت دے دی تھی۔ لیکن گور باچوف کی قیادت میں روس نے امریکہ سے مفاہمت کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، اگر وہ کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہا تو تقریباً یقینی ہے کہ مستقبل قریب میں روس اپنی سپر پاور کی حیثیت کھودے گا۔ روس کو سپر پاور کی حیثیت ہتھیار کی سطح پر حاصل تھی۔ معاہدوں کے تحت جب ہتھیار کو غیر مؤثر بنا دیا جائے گا تو اس کے بعد اصل فیصلہ کن چیز اقتصادی طاقت بن جائے گی۔ اور غیر حربی اقتصادی میدان میں روس، امریکہ اور جاپان سے بہت پیچھے ہے، تاہم اس تاریک حال میں اس کے لئے ایک روشن مستقبل کا امکان چھپا ہوا ہے۔ ماسکو کی ایک بے حد چوڑی سڑک تھی۔ دونوں طرف درختوں کی قطاریں دور تک چلی گئی تھیں۔ موسم نہایت خوشگوار تھا۔ ہماری گاڑی اس پر تیزی سے دوڑ رہی تھی۔ یہ ایک خصوصی آرام دہ گاڑی تھی۔ سیٹ کے آگے اتنی زیادہ خالی جگہ تھی کہ آدمی پور ا پاؤں نہایت آسانی کے ساتھ پھیلا سکتا تھا۔ میں خاموشی سے سر پکڑے ہوئے اس کے اندر بیٹھا ہوا تھا۔ میرے ساتھی نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا : یہ گاڑی جس میں آپ سفر کر رہے ہیں وہ یہاں بے حد اہم شخصیتوں (VVIPs) کے لئے ہوتی ہے۔ اس وقت ہم لوگ ایک روسی وزیر سے ملنے کے لئے جا رہے تھے۔ میں نے ساتھی کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا: میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ آپ مجھے بہت جلد ماسکو سے دہلی واپس بھیج دیجئے۔

سفر میرے لئے ہمیشہ مصیبت کا باعث ہوتا ہے۔ سفر میں معمولات کا ٹوٹنا میرے لئے اتنا سخت ثابت ہوتا ہے کہ آرام بھی مجھ کو کاٹنے لگتا ہے۔ اور اب بڑھاپے کی عمر کو پہنچنے کے بعد تو یہ کیفیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ حتی کہ اب میں یہ سوچنے لگا ہوں کہ میں اسفار کا سلسلہ بالکل بند کر دوں۔ حالاں کہ ان سطور کے لکھنے کے وقت بھی میرے پاس کئی مقامات کے دعوت نامے موجود

امریکہ ، جاپان ، جرمنی ، انگلینڈ ، اٹلی ، پاکستان ، لیبیا ، وغیرہ روسی میزبانوں کے سخت اصرار کے باوجود میں نے اپنا سفر مختصر کر دیا اور درمیان سے واپسی کا فیصلہ کیا ۔ بالآخر وہ لوگ بھی راضی ہوگئے ۔ اب مجھے ۳۱ جولائی کو ہوٹل چھوڑنا تھا ۔ صبح کو فجر کی نماز نماز کے بعد ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ دعا کے لئے ہاتھ اڑایا ۔ میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے ؛ یا اللہ مجھے بخش دیجئے ۔ آپ کے اس عاجز بندہ کو غیر جہنم بھی برداشت نہیں ، پھر جہنم اس سے کیوں کر برداشت ہوگی ۔ ایک ایسا انسان جوراحت کا بھی تحمّل نہیں کرسکتا ، وہ عذاب کا تحمل کس طرح کرے گا ۔

یکم اگست ۱۹۹۰ کو میں ماسکو ائیر پورٹ پر جہاز کے انتظار میں بیٹھا تھا ۔ مختلف سرگرمیوں کے مناظر آنکھوں کے سامنے تھے ۔ مختلف ملکوں کے عورت اور مرد آتے جاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے ۔ اس دور ان ایک لطیف تجربہ گزرا ۔ دل کے احساس کو رقم کرنے کے لئے آنکھوں نے روشنائی فراہم کی ۔ ایک ربانی ارتعاش اندر سے نکل کر فضا میں مرتسم ہوگیا ۔

میں نے اپنے بیگ سے قلم اور کاغذ نکالا ۔ میں نے چاہا کہ اس ربانی تجربہ کو انسانی الفاظ میں مگر پھر میں نے لکھنے کا خیال چھوڑ دیا ۔ میں نے سوچا کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ کثیف حقیقتوں کو سمجھنا بھی ان کے لئے مشکل ہورہا ہے ۔ پھر لطیف حقیقتوں کو آخر کون سمجھے گا ۔ یہ تو وہ حقیقتیں ہیں جو صرف آنسوؤں سے لکھی جاتی ہیں اور دل کی دھڑکنوں سے پڑھی جاتی ہیں ۔ مگر آج انسان کی سطحیت کا یہ عالم ہے کہ اس کے پاس نہ آنکھ کے آنسو ہیں اور نہ دل کی دھڑکنیں ۔ پھر کون ہے جو اس کو پڑھے اور کون ہے جس کے لئے اسے لکھا جائے ۔

جہاز سازی کی صنعت کو ترقی دینے میں روس کا خاص حصہ رہا ہے ۔ مثلاً روس نے پہلی بار کئی انجن والے جہاز (multi-engined plane) بنائے ۔ اس کا ڈیزائن سکور سکی (Sikorsky) نے تیار کیا تھا ، اور وہ پہلی بار ۱۹۱۵ میں کامیابی کے ساتھ اٹھایا گیا تھا ۔ روسی قوم کے اندر غیر معمولی امکانی صلاحیت ہے ۔ کمیونزم کے جابرانہ نظام نے اس صلاحیت کے ظہور پر روک لگا دی تھی ۔ امید ہے کہ روسی قوم دوبارہ ترقی کے نئے زینے طے کر سکے گی ۔

یکم اگست ۱۹۹۰ء کی شام کو ائیر وفلاٹ کی پرواز نمبر ۵۵۷ کے ذریعہ ماسکو سے دہلی کے

لئے روانگی ہوئی۔

راستہ میں جہاز ایک گھنٹہ کے لئے تاشقند میں رکا۔ دوسرے مسافروں کے ساتھ میں بھی جہاز سے باہر آگیا اور یہ وقت تاشقند ائیر پورٹ پر گزارا۔ ائیر پورٹ پر تاشقند کے قدیم آثار کی بہت سی بڑی بڑی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ یہ اپنے طرزِ تعمیر کے اعتبار سے اسلامی عہد کی معلوم ہوئیں ۔ ایک گنبد کی اس پر نقش و نگار کے انداز میں کچھ عربی کلمات لکھے ہوئے تھے۔ مگر آرٹسٹک خط کو پڑھنے کے معاملہ میں میں بہت کمزور ہوں۔ چنانچہ میں ان کلمات کو پڑھ نہ سکا۔

تاشقند کی زمین ماضی کے ان ایام کو یاد دلاتی ہے جب یہاں مسلمانوں کا دور دورہ تھا۔ تاشقند سوویت یونین کے اُس علاقہ میں واقع ہے جس کو سنٹرل ایشیا (وسط ایشیا) کہا جاتا ہے۔ سنڈے ٹائمز (لندن ) نے اپنے شمارہ ۱۰ جون ۱۹۹۰ میں لکھا تھا کہ سوویت سنٹرل ایشیا کے جنوبی کنارہ پر واقع تمام مسلم علاقے آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ لوگ سوویت یونین کی کل آبادی کا ۲۰ فی صد حصہ ہیں خود اس علاقے میں مسلمانوں کی تعداد ۴۰ فی صد ہے) سوویت فوج میں ان کی تعداد ۳۳ فی صد ہے۔ نیشنلزم اور مذہبی بنیاد پرستی کی ایک لہر مسلمانوں کو آزادی کی طرف لے جا وہ کسی نہ کسی دن سوویت اقتدار سے آزادی حاصل کر لیں گے اور بقیہ مسلم دنیا کے ساتھ مل جائیں گے۔

سوویت یونین میں مسلمان زیادہ تر سنٹرل ایشیا کے علاقہ میں رہتے ہیں ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان، کرغیز یہ، قزاقستان۔ سوویت یونین کے مسلمان زیادہ تر البتہ آذر بائیجان میں شیعہ کی اکثریت ہے جو کہ ایران سے ملا ہوا ہے۔ و شمار کے مطابق پورے ملک میں ۱۲۰۰ مسجدیں ہیں۔ تاہم یہ اعداد صحیح معلوم نہیں ہوتے ۔ بخارا میں الغ بیگ کا مدرسہ ہے۔ یہ مدرسہ ۱۸۱۷ء میں بنایا گیا تھا۔ وہ وسط ایشیا کا قدیم ترین مدرسہ سمجھا جاتا ہے۔

حکومت سے منظور شدہ بہت سے مسلمانوں کے بورڈ ہیں جو مسلم معاملات کی تنظیم کرتے مثلاً ایک مسلم بورڈ نے ۱۹۸۹ میں قرآن کے ۵۰ ہزار نسخے چھپوائے۔ اسی طرح ایک بورڈ ایک ماہانہ میگزین مسلمز آف دی سوویت ایسٹ) شائع کرتا ہے یہ انگلش، فرنچ ، عربی، دری، فارسی

میں پچاس ہزار کی تعداد میں چھپتا ہے اور ۸۰ ملکوں میں بھیجا جاتا ہے۔ اب روس اور سعودی عرب میں سفارتی تعلقات بھی قائم ہوگئے ہیں۔

اسی علاقہ میں سمرقند واقع ہے۔ یہاں کے ایک گاؤں خرتنگ میں امام بخاری کی قبر یہاں ، ۱۹۱۷ کے انقلاب کے بعد مسلمانوں کی کوششوں سے دوبارہ نئی تعمیر کی گئی ہے۔ اور اب یہاں ایک باقاعدہ مقبرہ ہے اور اسی کے ساتھ ایک مسجد بھی ہوئی ہے۔ زائرین کثیر تعداد میں یہاں آتے ہیں ۔ ( اس صفحہ کے نیچے امام بخاری کے مقبرہ کی موجودہ تصویر دی جا رہی ہے )

سوویت یونین کی پندرہ ریاستوں میں سے ایک وہ ہے جس کا نام (Tadzhikistan) تاجکستان) ) ہے ۔ اس کی راجدھانی دوشنبے (Dushanbe) ہے۔ یہاں مسلمانوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں آزاد کیا جائے اور تاجکستان کا سرکاری مذہب اسلام قرار دیا جائے۔

نیویارک کے ہفت روزہ نیوز ویک نے اپنے نمائندہ ڈیلوڈ ریمین کی ایک رپورٹ شائع

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوشنبے میں کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے دفتر کے سامنے دس ہزار ممسلمانوں نے جمع ہو کر احتجاج کیا۔ مظاہرہ کے دوران اچانک ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ مظاہرین میں سے کچھ مسلم نوجوانوں نے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے پاس کھڑے ہوئے روسی فوجیوں سے کہا کہ آپ لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں۔

روسی فوجی اس "حکم" پر حیران ہوئے۔ تاہم کچھ دیر کے بعد وہ سڑک پر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد داڑھی رکھے ہوئے ایک بزرگ سلمان نکلے۔ انھوں نے ایک فوجی گاڑی کے اوپر کھڑے ہو کر اذان اس کے بعد تمام مظاہرین صف باندھ کر کھڑے ہو گئے اور باجماعت نماز ادا کی۔ کے لوگ انھیں اچنبھے کے ساتھ دیکھتے رہے۔

نیوز ویک کے رپورٹر کے مطابق، تاجکستان میں مسلمانوں کی تعداد روس کی دوسری ریاستوں میں بسنے والے مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ وہ سب سے زیادہ مذہبی بھی ہیں۔ پچھلے کمیونسٹ دور میں ان کے مذہبی جذبہ کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ حتیٰ کہ ظاہری طور پر دیکھنے والوں کے لئے وہ ختم بھی ہو گیا۔ لیکن موجودہ روسی حکمران مسٹر گورباچوف کی اصلاحات کے بعد اچانک یہاں اسلام دوبارہ ظاہر ہو گیا روس میں پانچ کروڑ مسلمان ہیں۔ چوں کہ سرکاری طور پر اس قسم کی معلومات چھپائی نہیں جاتی تھیں، اس لئے خود روسیوں کو اس واقعہ کا علم پہلی بار ہوا ہے۔

تاجکستان میں تقریباً ۳۰۰ نئی مسجدیں بن گئی ہیں۔ فیکٹریوں، سڑکوں اور جیل وغیرہ میں نماز پڑھنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ جو اسلام پسند مسلم ملکوں میں حکمرانوں کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان "سیکولر" حکمرانوں کو مٹانا ضروری ورنہ یہاں سے اسلام کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ایسے لوگوں کو روس کے واقعہ سے سبق لینا چاہئے ۔ کمیونسٹ حکومت کے شدید ترین سلوک کے باوجود اسلام روس میں ختم نہ ہو سکا تو وہ مصر، پاکستان شام ، اردن جیسے ملکوں سے کیوں کر ختم ہو جائے گا۔

حال ہی میں میں افریقہ (سینیگال ) گیا تھا ، اس کے بعد روس کا سفر ہوا۔ دونوں کے درمیان ایک عجیب فرق تھا۔ افریقہ میں سب کے سب لوگ سیاہ فام دکھائی دیتے تھے، یہاں سب کے سب لوگ سفید فام نظر آتے ہیں۔

یہ فرق اللہ تعالیٰ نے "تعارف" کے لئے رکھا ہے نہ کہ "امتیاز" کے لئے۔ یہ صورتِ حال در اصل انسان کے حالتِ امتحان میں ہونے کا ایک جزء ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ بیشتر انسان اس امتحان میں ناکام ہو گئے۔ سفید فام لوگوں نے رنگ کی بنا پر اپنے کو مخصوص نسل سمجھ لیا۔ اس کے جواب میں سیاہ فام نسل میں رد عمل پیدا ہوا ۔ انھوں نے کہا کہ سیاہ بہتر ہے (Black is good)۔ حتی کہ انھوں نے کہا کہ خدا بھی سیاہ ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔

ماسکو میں بہت بڑے بڑے پارک ہیں۔ مثلاً فرینڈ شپ پارک اتنا بڑا ہے کہ ایک منظم جنگل معلوم ہوتا ہے۔ اس کے اندر رابندر ناتھ ٹیگور کا اسٹیچو ہے۔ اس کے علاوہ ماسکو میں گاندھی ، نہرو، اور اندر اکے اسٹیچو بھی ہیں۔ یہ ایک علامت ہے جس سے ہند اور روس کے درمیان گہرے تعلقات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

۲ اگست ۱۹۹۰ کی صبح کو دوبارہ میں دہلی کے اسی ایئر پورٹ پر اتر گیا جہاں سے میں اس سفر پر روانہ ہوا تھا۔ انسان جہاں سے آیا ہے ، وہیں اس کو دوبارہ لوٹ کر جانا ہے۔ دنیا کے سفر میں ہر روز انسان کو اس حقیقت کا تجربہ کرایا جا رہا ہے۔ مگر مسافروں کی بھیڑ میں شاید کوئی بھی مسافر ایسا نہیں جو اس ابتدائی تجربہ میں اس کے انتہائی سبق کو پارہا ہو۔ ہر آدمی واقعہ کے "نصف اول" کا ماہر بنا ہوا ہے ، واقعہ کے "نصف ثانی" کی خبر کسی کو نہیں۔

واپس آتے ہوئے اخبار میں ایک رپورٹ پڑھی۔ اس کا عنوان تھا ــــــــ ایک نیا سوویت روس ابھر رہا ہے :

Printed page