تاریخ کا سبق
Al-Risala, January 1991, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
۷ نومبر ۱۹۹۰ء کو نئی دہلی میں کاریوکوں کی بہت بڑی تعداد جمع ہوئی۔ اس موقع پر اگر چہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر لعل کرشن اڈوانی شریک نہ ہو سکے۔ تاہم دوسرے کئی ہندو لیڈروں نے پر جوش تقریریں کیں۔ انڈیا (۸ نومبر ۱۹۹۰) نے اس کی رپورٹ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ وشو ہندو پریشد کے جنرل سکریٹری مسٹر اشوک سنگھل نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کو وارنگ دی کہ وہ اجودھیا مندر بنانے کی مخالفت نہ کریں۔ ورنہ ان کی پارٹی ملک میں اسی قسم کی تین ہزار متنازعہ جگہوں پر مندر بنانے کی تحریک شروع کر دے گی : The Vishwa Hindu Parishad general secretary, Mr Ashok Singhal, warned Muslims not to oppose the Ayodhya temple's construction. Otherwise, he said, his party would start an agitation for building temples at 3,000 similarly disputed sites all over the country. اس قسم کے الفاظ مسلمانوں کے خلاف چیلنج نہیں ہیں، وہ خود خدا کے خلاف چیلنج ہیں۔ کیوں کہ مسجد خدا کا گھر ہے، اس بنا پر وہ خدا کا معاملہ ہے۔ جو لوگ اس قسم کا چیلنج دیں، وہ گویا براہ راست خدا سے لڑنا چاہتے ہیں۔ اور کون ہے جو خدا سے لڑ کر کامیاب ہو ۔
یمن کے حاکم ابرھہ نے ۵۷۰ ء میں اسی قسم کا چیلنج دیا تھا جب کہ وہ ۶۰ ہزار کا لشکر اور ایک درجن ہاتھی لے کر مکہ روانہ ہوا تھا کہ کعبہ کو ڈھا دے۔ مگر اس کا انجام یہ ہوا کہ ”چڑیوں کا جھنڈ‘‘ خدائی فوج کی صورت میں ظاہر ہوا اور اس نے پتھروں کی بارش سے پورے لشکر کو حبس بنا دیا۔
یہی واقعہ ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۰ء کو دوبارہ اجودھیا میں پیش آیا ہے۔ ہندو انتہا پسند جماعتوں نے اعلان کیا تھا کہ اس تاریخ کو لاکھوں ہندو اجودھیا پہنچیں گے اور وہ بابری مسجد کو ڈھا کر اس کی جگہ رام مندر تعمیر کریں گے، جیسا کہ معلوم ہے، ہندوستان کی مرکزی حکومت اور یوپی کی ریاستی حکومت اس کے خلاف اپنی پوری طاقت کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ مذکورہ تاریخ کو اجودھیا جانے کے تمام راستے بند کر دیے گئے ۔ گراؤنڈ کر دیے گئے ۔ ریلیں اور بسیں روک دی گئیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ فوج اور پولیس اجودھیا میں اور اس کے آس پاس کھڑی کر دی گئی۔ اس پوری مہم میں حکومت نے جو خرچ کیا اور اس کا جو نقصان ہوا، اس کی مقدار تقریباً چالیس کروڑ روپیہ بتائی جاتی ہے۔
انڈیا ٹوڈے (۱۵ نومبر ۱۹۹۰) نے اپنی با تصویر مفصل رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس موقع پر بہار اور یوپی میں تقریباً دو لاکھ (200,000) آدمی گرفتار کیے گئے، جب کہ ایمرجنسی کے زمانہ میں ڈیڑھ لاکھ اور کوئٹ انڈیا تحریک کے زمانہ میں صرف ساٹھ ہزار آدمی پکڑے گئے تھے۔ اس طرح کی غیر معمولی کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۳۰ اکتوبر کو بابری مسجد ڈھانے کا منصوبہ پورا نہ ہو سکا۔ ساری کوششوں کے باوجود مسجد نہیں گری، اگرچہ وی پی سنگھ کی حکومت گر گئی۔
یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ویسا ہی ایک واقعہ ہے جو ۲۰۲۰ سال پہلے کعبہ میں ابرہہ کے ساتھ پیش آیا خدا نے اجودھیا میں مداخلت کی۔ دوبارہ "چڑیوں کا جھنڈ" ظاہر ہوا اور اس نے مخالفین کے سارے منصوبہ کو تہس نہس کر دیا۔
مزید یہ کہ مسجد محض در و دیوار کا نام نہیں۔ مسجد عالم اسلام کی چوکیدار ہے۔ آپ دنیا کا سفر کریں تو آپ دیکھیں گے کہ دوسری قوموں نے اپنی حفاظت کے لیے شہروں کے گرد حصار بنائے اور بڑے بڑے قلعے مگر مسلمان جہاں بھی گئے وہاں انھوں نے مسجدیں بنائیں اور اس کے میناروں پر کھڑے ہو کر اللہ اکبر (اللہ بڑا ہے) کی حقیقت کا اعلان کیا۔
تاریخ تصدیق کرتی ہے کہ مسجد نے بار بار اپنی اس حارسانہ حیثیت کو ثابت کیا ہے۔ تیرہویں صدی عیسوی میں منگول (تاتاری) وحشی طوفان کی طرح ابھرے۔ انھوں نے سمرقند سے لے کر حلب اور بغداد تک تمام مسجدوں کو ڈھا دیا۔ مگر پچاس سال میں پورا نقشہ بدل گیا۔ چنگیز خاں اور ہلاکو کے بعد ان کے بیٹوں اور پووتوں نے اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے اپنے باپ دادا کی ڈھائی ہوئی مسجدوں کو دوبارہ اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ان کے اندر عاجزانہ سجدہ کر کے اللہ کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار کیا۔
اسلام کی اس فاتحانہ تاریخ کی موجودگی میں مسلمانوں کو اندیشہ کرنے کی کیا ضرورت۔ لوگ شیطان کے بہکاوے میں اگر ہلاکو کی تاریخ دہرانا چاہتے ہیں تو مسلمانوں کو دوبارہ اس خدائی معجزہ کا انتظار کرنا چاہیے جب کہ اسلام کی طاقت ظاہر ہو اور وہ ان کی نسلوں کو مسخر کر کے دوبارہ انھیں خدا کے دین کا معمار بنا دے۔
تخریب کے چیمپئن تعمیر کے ہیرو بن جائیں ، اور بلاشبہ خدائے ذوالجلال کے لیے ایسا کرنا کچھ مشکل نہیں۔