Al-Risala · January 1991

بے بنیاد خوف

Al-Risala, January 1991, pp. 19–23

By Maulana Wahiduddin Khan

متحدہ عرب امارات سے ایک عربی مجلّہ منار الاسلام کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ نے مارچ ۱۹۸۶ میں ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں ایک خصوصی رپورٹ چھاپی تھی۔ عنوان تھا : القضاء علی المسلمین فی الھند ( ھندوستان میں مسلمانوں کا خاتمہ)، اس رپورٹ میں ھندوستان کی بعض انتہا پسند ہندو تنظیموں کی خفیہ سازشوں کا انکشاف کیا گیا تھا جو رپورٹ کے مطابق ہندوستان سے مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے لئے ۱۹۳۹ سے سرگرم ہیں۔ رپورٹ میں دکھایا گیا تھا کہ ایک ہندو فرقہ پرست تنظیم نے موجودہ صدی کی چوتھی دہائی میں اپنے کارکنوں پر مشتمل ایک خفیہ وفد اسپین روانہ کیا تھا۔ تاکہ وہاں جا کر وہ گہرائی کے ساتھ اس بات کا جائزہ لے کہ وہاں کے عیسائیوں نے کس طرح اسپین کی سرزمین سے مسلمانوں کا خاتمہ اور پھر ہندوستان میں بھی اسپین کی اسی قدیم تاریخ کو دہرایا جا سکے۔ حیدر آباد کے ماہنامہ رہگذر (مئی ۱۹۸۷) میں ایک مضمون شائع ہو اتھا۔ اس کا عنوان تھا : ہندوستان میں مسلمانوں کا صفایا کس طرح کیا جائے گا ، ہندو نازی ہسپانیہ کے نقش قدم پر۔ صاحب مضمون نے لکھا تھا کہ :

”ہندوستان کے ہندو نازیوں نے اس صدی کے تیسرے اور چوتھے دہے میں اس مضمون کا گہرا مطالعہ کیا کہ کس طرح اسلام کو ہسپانیہ سے نکال باہر کیا گیا۔ انھوں نے اس کا مطالعہ خاص طور پر کیا تاکہ اس کی نقل ہندوستان میں بھی کی جائے۔ آج ہندو نازی حکومت کے اندر اور باہر ہر جگہ باقاعدگی سے ہسپانوی طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ مضمون میں دکھایا گیا تھا کہ ہسپانیہ کی منظم عیسائی جماعتوں اور فرڈ بینڈ کی حکومت نے وہاں سے مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے نو طریقے اختیار کئے تھے ۔ اب یہی نو طریقے ہندوستان میں بھی مسلمانوں کے خلاف استعمال کئے جارہے ہیں۔

یہ بات پچھلی نصف صدی سے مختلف شکلوں میں کہی جارہی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے دینی اور علمی حلقوں میں اس کا بار بار چرچا کیا گیا ہے۔ مسلم خطیبوں نے اپنی تقریروں میں اور اصحاب

قلم نے اپنی تحریروں میں مسلمانوں کو اس مفروضہ خطرہ سے ہوشیار کرنے کی مسلسل کوشش کی ہے، ملی تشخص کی حفاظت اور نئی نسل کے مستقبل کے تحفظ کی تحریکیں زیادہ تر اسی مخصوص ذہن کی پیداوار

یہ سراسر بے بنیاد خوف ہے جو لغویت کی حد تک بے معنی ہے۔ یہ ویسی ہی بات ہے جیسے کسی دیہاتی سے ایک شخص نے کہا کہ تمہارا کان کوالے گیا۔ وہ دیہاتی آدمی کو سے پیچھے دوڑنے لگا۔ اس نے اپنے کان پر ہاتھ رکھ کر یہ دیکھنے کی کوشش نہ کی کہ اس کا کان بدستور اس کے سر پر موجود

اسپین کا مذکورہ واقعہ اب سے پانچ سو سال پہلے پیش آیا۔ وہ زمانہ آج کے دور سے سراسر مختلف تھا۔ اس زمانہ میں بادشاہ کی زبان قانون ہوا کرتی تھی۔ اخبارات اور ریڈیو موجود نہ تھے جو کسی مقامی خبر کو عالمی سطح پر پھیلا سکیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ جیسے ادارے موجود نہ تھے جو ظلم و زیادتی کے خلاف احتجاج کریں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس وقت عالمی حالات کا وہ دباؤ موجود نہ تھا جو آج ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے پانچ سو سال کے اندر دنیا کے حالات اتنے زیادہ بدل چکے ہیں کہ اب یہ بالکل ناممکن ہو گیا ہے کہ کوئی بھی طاقت، خواہ وہ سپر پاور ہی کیوں نہ ہو، کسی انسانی مجموعہ کے خلاف اسپین جیسی تاریخ کو دہرائے۔ تاہم تھوڑی دیر کے لئے ان تمام ناممکنات کو ممکن فرض کر لیجئے ۔ اور متعلقہ اعداد و شمار کی روشنی میں یہ حساب لگائیے کہ بالفرض اگر موجودہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ وہ المناک تاریخ دہرائی جائے جو اسپین میں قدیم مسیحی حکمرانوں نے دہرائی تھی تو اس تاریخی عمل کو اپنی آخری حد تک پہنچانے کے لئے کتنا عرصہ درکار ہوگا ۔

تاریخ بتاتی ہے کہ اسپین میں مسلمان ۷۱۲ ء میں داخل ہوئے۔ وہاں ان کی حکومت ۸۰ ۷ سال تک باقی رہی۔ زوال کا شکار ہونے کے بعد، اسپینی مسلمانوں کی سیاسی قوت کا آخری مرکز غرناطہ تھا۔ جو ۱۴۹۲ء میں ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔

۱۴۹۲ ء میں جب آخری مسلم سلطان نے مسیحی حکمران کے حق میں دست برداری لکھ دی اور غرناطہ سے روتا ہو ارخصت ہوا ، اس کے بعد چرچ اور حکومت کے منصوبہ کے تحت اسپین سے مسلمانوں کو

ختم کرنے کی مہم شروع کر دی گئی۔ مگر ظلم اور سفاکی کے تمام طریقوں کو اختیار کرنے کے باوجود، اس مہم کی تکمیل میں ۱۲۰ سال لگ گئے۔ مسلمانوں کا آخری قافلہ ۱۶۱۲ء میں اسپین سے نکل سکا۔ اب فرض کیجئے کہ ہندوستان میں قدیم اسپین کی تاریخ دہرائی جاتی ہے ، اور یہ بھی فرض کر لیجئے کہ یہ عمل کسی بھی اندرونی یا بیرونی مداخلت کے بغیر بلا روک ٹوک مسلسل جاری رہتا ہے ۔ قیاس باتوں کو فرض کرنے کے بعد جو صورت حال پیش آئے گی، وہ تاریخی معلومات کے مطابق یہ

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) نے اپنے آرٹیکل اسپین کی تاریخ (History of Spain) میں بتایا ہے کہ مسلمانوں کی فتح کے وقت اسپین کے باشندوں کی کل تعداد تخمیناً چالیس لاکھ تھی ۔ عرب مسلمان اسپین میں داخل ہوئے ، ان کی تعداد تقریباً پچاس ہزار تھی۔ اس تعداد میں دو طریقے سے اضافہ ہوا۔ ایک ، تو والد و تناسل کے ذریعہ ۔ اور دوسرا ، ان عیسائیوں کی شکل میں جو اسلام قبول کرکے مسلمانوں کی جماعت میں داخل ہوگئے ۔ اس طرح آخری دور میں اسپین کے پانچ بڑے شہروں میں مسلمانوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ ستاسی ہزار (387,000) تھی ۔ حساب کی آسانی کے لئے اسپین سے مسلمانوں کے خاتمہ کی مدت کو ایک سو سال مان لیجئے ۔ اور اسپینی مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کر کے اس کو پانچ لاکھ فرض کر لیجئے ۔ اب دیکھئے کہ اسپین کی آزمودہ تدبیر کو اگر ہندوستان میں اختیار کیا جائے تو یہاں کے ۲۰ کروڑ مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے لئے کتنی زیادہ مدت درکار ہوگی۔

علم الحساب بتاتا ہے کہ خاتمہ نسل کے اس عمل کے پورا ہونے میں چالیس ہزار سال لگ ایک سو سال میں پانچ لاکھ انسانوں کو ھلاک کرنے کی رفتار سے جو مدت قرار پاتی ہے وہ یہی ہے۔

واضح ہو کہ خاتمہ نسل کے لئے ۴۰ ہزار سال کی یہ مدت کبھی اس وقت ہے جب کہ اس درمیان میں کوئی کبھی ناموافق صورت حال پیش نہ آئے۔ مثلاً توالد و تناسل کے ذریعہ مسلمانوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہ ہو ۔ ہندو اپنی موجودہ طاقت کو مسلسل چالیس ہزار سال تک برقرار رکھیں ۔ کوئی عالمی واقعہ اس رفتار میں خلل نہ ڈالے۔ ہندوؤں کے ساتھ وہ واقعہ نہ ہو جو تاتاری ظالموں اس طویل عرصہ میں ہندوؤں کے اندر بھی تبدیلیاں آئیں گی، ان کے عقائد اور نظریات بدلیں گے، وہ بھی ترقی کی منزلیں طے کریں گے، اس لئے کہ دنیا کبھی جمود کا شکار نہیں رہتی۔

کے ساتھ ہوا جنہوں نے پچاس برس کے اندر اسلام قبول کر لیا۔ حتیٰ کہ چالیس ہزار سال تک قیامت کی آمد بھی رکی رہے۔

اس طویل مدت کے دوران اگر کوئی بھی ناموافق صورت حال پیش آجائے تو مذکورہ عمل کی تکمیل کی مدت دگنا یا اس سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔ کیا کوئی شخص بقید ہوش وحواس اس قسم کے ایک عمل پر یقین کر سکتا ہے۔ کیا تاریخ میں کسی بھی ایسے انسانی ظلم کی مثال موجود ہے جو چالیس ہزار سال تو درکنار، چار سو سال بھی مسلسل جاری رہا ہو۔ پھر اس قسم کے بے بنیاد مفروضہ سے اندیشہ کرنے کی

”دوسرا آپین“ نحوی اعتبار سے صحیح مگر حقیقت کے اعتبار سے سراسر غلط ہے۔ فیصلہ کن پہلو ہیں جنھوں نے موجودہ زمانہ کو قدیم زمانہ سے بالکل مختلف بنا دیا ہے۔ وہ مذہبی تشدد کا زمانہ تھا، آج مذہبی رواداری کا زمانہ ہے۔ وہ بادشاہت کا دور تھا، اب جمہوریت کا دور وہ واقعہ پریس کے دور سے پہلے پیش آیا۔ اب پریس اور ریڈیو کے دور نے صورت حال کو یکسر بدل دیا ہے۔ اُس وقت کوئی ”اقوام متحدہ“ نہ تھا، آج اقوام متحدہ کی صورت میں انسانی حقوق کے تحفظ کا بین اقوامی ادارہ موجود ہے جس کا خود ہندوستان بھی ایک رکن ہے اور جس کے چارٹر پر اس نے بھی دستخط کئے ہیں۔ مزید یہ کہ اس قسم کے بھیاانک واقعات کبھی بھی تاریخ میں دوسری بار دہرائے نہیں جاتے۔ اس قسم کا وحشیانہ واقعہ جب ایک بار پیش آکر مشہورِ عام ہو جائے تو پورا عالمی ضمیر اس کے خلاف متحرک ہو جاتا ہے۔ اس طرح ایسے کسی واقعہ کا ایک بار پیش آنا بندات خود اس کے لئے مانع بن جاتا ہے کہ وہ دوبارہ پیش آئے۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ امریکہ نے جاپان میں ۱۹۴۵ میں دو ایٹم بم گرائے۔ مگر اس کے بعد ویت نام کی جنگ پیش آئی تو ایٹم بم رکھتے ہوئے بھی وہ ان کو استعمال نہ کر سکا۔ امریکہ کے لئے یہ جنگ قومی ساکھ کی جنگ تھی۔ اس نے اس بارہ سالہ جنگ میں اپنی تمام طاقت لگادی۔ حتیٰ کہ امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ایک جنگ میں اس کے ۸۰۰۰ فوجی ہلاک ہو گئے۔ باوجود امریکہ کے لئے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ اس جنگ کا فیصلہ اپنے حق میں کرنے کے لئے ایٹم بم استعمال

آخر کار امریکہ جنوری ۳ ۱۹۷ میں یک طرفہ پر اس جنگ سے علیحدہ ہو گیا۔ بالفاظ دیگر، امریکہ نے ویت نام میں پسپائی اختیار کر لی مگر وہ دوسری بار ایٹم بم گرانے کی ہمت نہ کر سکا۔ جو لوگ دوسرے اسپین کی باتیں کرتے ہیں وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ بولنا نہیں ایسے ہی لوگوں کے لئے حدیث میں ارشاد ہوا ہے : من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت ( جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ خیر کی بات بولے ورنہ خاموش رہے)

Printed page