Al-Risala · May 1991

Countdown to zero

Al-Risala, May 1991, pp. 4–20

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکی نیوز ایجنسی اے پی کے نمائندہ نے سعودی عرب میں اس مقام کا دورہ کیا جہاں امریکہ نے فوجی اڈہ بنایا ہے۔ یہاں انتظام کیا گیا ہے کہ جنگ شروع ہونے کی حالت میں عراق کے اوپر رات دن مسلسل بمباری کی جائے تاکہ یا تو صدر صدام حسین ہتھیار ڈال دیں یا عراق کو اسٹون ایج میں پہنچا دیا جائے ۔ اے پی کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی میجر کو گلان (J. J. Coghlan) نے کہا کہ یہاں ہر آدمی اپنی گھڑی کو ہر وقت دیکھتا رہتا ہے تاکہ یہ معلوم کرے کہ ۱۵ تاریخ کو کون سادن ہے۔ اپنے آپ کو ارجنٹ صورت حال میں محسوس کر رہا ہے :

Everybody looks at the watch all the time to see which day the 15th is. There's a sense of urgency. جس طرح اقوام متحدہ کے ریزولیوشن ۶۷۸ (۲۹ نومبر ۱۹۹۰) کے مطابق، امریکہ نے عراق کو الٹی میٹم دیا کہ وہ ۱۵ جنوری ۱۹۹۱ تک کویت سے اپنی فوجیں ہٹالے، ورنہ اس کے اوپر حملہ کر کے اس کو برباد کر دیا جائے گا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کی ایک عمر مقرر کر دی ہے اور اعلان فرمایا ہے کہ اس متعین وقت تک لوگ اپنی اصلاح کر لیں۔ اس کے بعد دنیا کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ اور ہر ایک کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ خدا کی عدالت میں حاضر ہو کر اپنے عمل کا حساب دے۔

اگر لوگوں کو اس خدائی اعلان کا شعور ہو تو ہر آدمی ارجنبی کے احساس (sense of urgency) میں زندگی گزارنے لگے۔ ہر آدمی اپنا محاسبہ کرنے میں لگ جائے۔ ہر آدمی اپنے قول و عمل کا نگراں بن جائے۔ ہر آدمی اپنا دن اس طرح گزارے گویا کہ وہ شام تک نہیں رہے گا۔ اور شام اس طرح گزارے گویا اگلی صبح اس کے لیے آنے والی نہیں۔ لوگ قیامت کے آنے سے پہلے اپنے آپ کو قیامت میں کھڑا ہوا محسوس کرنے لگیں ۔

آج کل سب سے بڑا موضوع خلیج کا بحران ہے۔ ہر شخص عراق اور کویت کے مسئلہ پر بات کرتا ہوا نظر عراق ایک بڑا ملک ہے اور کویت اس کے مقابلہ میں بہت چھوٹا ملک۔ عراق کا رقبہ ۱۶۸۸۰۰ مربع میل ہے ۔ جب کہ کویت کا رقبہ صرف ۶۸۸۰ مربع میل۔ عراق نے اپنی تیل کی دولت کے بڑے حصہ کو فوجی مدوں میں خرچ کر کے ، لاکھ کی طاقت در فوج بنالی ہے ، دوسری طرف کویت کے پاس عملاً کوئی فوج نہیں۔ اس فرق سے فائدہ اٹھا کر عراق کے حکمراں صدام حسین نے اپنی ایک لاکھ فوج ۲ اگست ۱۹۹۰ کو کویت کے اندر داخل کر دی ۔ انھوں نے بزور کویت کو عراق میں ملا کر اعلان کر دیا کہ " کویت عراق کا ۱۹ واں صوبہ ہے "

اس کے بعد اقوام متحدہ متحرک ہوئی ۔ مختلف ملکوں نے عراق کے اس جارحانہ اقدام کی مذمت کی۔ یہاں تک کہ امریکہ کی قیادت میں پورے عراق کا فوجی محاصرہ کر لیا گیا۔ عراق کی ۹۵ فی صد آمدنی کا انحصار تیل کی فروخت پر ہے۔ مگر عراقی تیل سے بھرے ہوئے ٹینکر سمندر میں کھڑے ہو گئے، زرعی اور صنعتی پسماندگی کی وجہ سے عراق فوجی ہتھیاروں سے لے کر دوا اور غذا تک ہر چیز باہر سے منگاتا ہے ، ان کا آنا بھی بند ہو گیا۔ اب عراق کے حکمراں صدام حسین روزانہ امریکہ کے خلاف تیز و تند بیانات جاری کر رہے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا (۲۱ اگست ۱۹۹۰) کے مطابق ، صدام حسین نے اس تجویز کو نامنظور کر دیا کہ دہ کویت کی حیثیت کے بارہ میں امریکہ سے بات چیت کریں۔ انھوں نے پر جوش طور پر کہا کہ کیا کویت امریکہ کا ۵۲ واں صوبہ ہے : Is Kuwait the 52nd state of the United States? جواب کی یہی قسم ہے جس کو دھاندلی کہا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کویت اگر امریکہ کا ۵۲ واں صوبہ نہیں تو وہ عراق کا بھی ۱۹ واں صوبہ نہیں۔ صدام حسین عین اسی چیز کے لیے امریکہ کو متہم کر رہے ہیں جس میں وہ خود شدید تر انداز میں مبتلا ہیں۔

آج دنیا کے بیشتر لوگ اسی قسم کی دھاندلی کر رہے ہیں۔ کاش لوگ جانتے کہ اُسی بات کی قیمت ہے جو خدا کے یہاں قیمتی ٹہھرے۔ مومن وہ ہے جو اِن الفاظ کو آج ہی بے قیمت سمجھ لے جو کل خدا کے یہاں بے قیمت ہونے والے ہیں۔ جو آج آزادانہ طور پر اُس بات کو مان لے جس کو کل وہ مجبورانہ طور پر مانے گا، مگر اس وقت کا ماننا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔

ہندوستانی وقت کے مطابق، آج صبح ساڑھے تین بجے وہ وقت آگیا جس کا اندیشہ تھا۔ امریکی فوجوں نے عراق کے اوپر باقاعدہ حملہ کر دیا۔ فجر کی نماز سے پہلے بی بی سی (لندن) کے ذریعہ ریڈیو سے یہ خبر معلوم ہو گئی۔ یہ بھی کیسی عجیب بات ہے کہ رات کے وقت عراق میں ایک واقعہ ہوتا ہے۔ اس کے چند منٹ بعد لندن سے اس کی خبر نشر ہو جاتی ہے اور ایک لمحہ کے اندر ساری دنیا اس کو جان لیتی ہے۔

اپنی مختصر سی زندگی میں دو بڑی جنگیں دیکھنا میرے لیے مقدر تھا۔ دوسری عالمی جنگ جس کا قائد برطانیہ تھا۔ اور پھر موجودہ جنگ جو گویا تیسری عالمی جنگ ہے اور جس کی قیادت امریکہ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ۲۸ ملک عملاً بقیہ ملکوں کی اکثریت بھی نظری طور پر شریک ہے، کیوں کہ امریکہ نے یہ جنگی اقدام اقوام متحدہ کے فیصلہ کے تحت کیا ہے۔ دوسری عالمی جنگ باقاعدہ طور پر یکم ستمبر ۱۹۳۹ کو شروع ہوئی جب کہ ہٹلر کے تحت جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کر دیا۔ چند دن کے بعد الٰہ آباد کے انگریزی اخبار پائیر (pioneer) نے اپنے پہلے صفحہ پر اس کی خبر دیتے ہوئے اس کی جو سرخی قائم کی وہ اب تک مجھے یاد ہے۔ اس کے الفاظ غالباً یہ تھے : Poland in Germany's hand یہ تباہ کن جنگ چند سال تک جاری رہی۔ بے شمار جانی و مالی نقصان کے بعد آخر کار جو ہوا وہ یہ کہ ہٹلر کی خود سری مایوسی میں تبدیل ہوگئی۔ ۳۰ اپریل ۱۹۴۵ کو اس نے اپنی محبوب عورت کے ساتھ برلن کے کھنڈر پر خود کشی کر لی : Isolated and reduced to despair, Hitler married his mistress, Eva Braun, on April 30, 1945 and comitted suicide with her in the ruins of the chancellery. (19/1011)

بظاہر حالات ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عراق کے ڈکٹیٹر کا انجام بھی ایک یا دوسری صورت میں وہی ہونے والا ہے جو جرمنی کے ڈکٹیٹر کا ہوا تھا۔ عراق کی طاقت اور امریکہ کے زیر قیادت اتحادیوں کی طاقت میں وہی فرق ہے جو چیونٹی اور ہاتھی میں ہے۔ اس فرق کے ساتھ عراق کا جنگ میں کودنا صرف خود کشی ہے نہ کہ بہادری۔ عراق کے پاس زیادہ تر روایتی ہتھیار ہیں جو اس نے روس سے یا دوسرے مغربی ملکوں سے خرید کر حاصل کیے ہیں جب کہ امریکہ کے ہتھیار اس کے اپنے بنائے ہوئے ہیں۔ "خریدے ہوئے ہتھیاروں کے ذریعہ کوئی ملک ایک ایسی قوم پر فتح حاصل نہیں کر سکتا جس نے اپنے ہتھیار خود بنائے ہوں۔

ہندوستان ٹائمنس (۱۸ جنوری) میں مسٹر رے (A. K. Ray) کا ایک مضمون چھپا ہے۔ مضمون نگار نے صدام حسین کے اقدام کو دیوانگی (madness) اور احمقانہ قسم کا غلط اقدام (stupid misadventure) انھوں نے لکھا ہے کہ صدام حسین کی عظیم فوج کے بارہ میں جو خبریں چھپی ہیں، وہ سب پروپیگنڈے کی باتیں (propaganda ploy) ہیں۔ عراقی صدر کو اپنے غلط اعمال کی بھاری قیمت دینی ہوگی : The Iraqi President will have to pay a terribly heavy price for his wrongdoings. (p. 13)

مضمون نگار کی یہ بات لفظ بلفظ درست ہے۔ صدام حسین کا اقدام بلاشبہ ہلاکت کی چھلانگ ہے۔ صدام حسین جنون عظمت (paranoia) کے مریض ہیں۔ وہ عرب لیڈر بننے کے خبط میں مبتلا ہیں۔ مقصد کے لیے انھوں نے ۱۹۸۰ میں ایران پر حملہ کیا تاکہ الجیرز ٹریٹی (۱۹۷۵) کو ختم کر کے شط العرب نیز خوزستان پر قبضہ کر لیں۔ مگر اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکلا کہ ایک ملین انسان مارے گئے ۔ بے شمار لوگ زخمی ہوئے۔ عراق کے اوپر ۸۲ بلین ڈالر کا قرض ہو گیا۔ کویت پر حملہ (۲ اگست ۱۹۹۰) کے وقت ہر عراقی باشندہ ۴۸۲ ڈالر کا مقروض تھا۔ آٹھ سالہ جنگ میں صدام حسین ایران کو مغلوب نہیں کر سکے تھے مگر اپنے مجنونانہ جوش کی بنا پر انھوں نے اس سے سبق نہیں لیا۔ اور دوبارہ ناقابل فہم حماقت کے تحت عالمی سپر پاور (امریکہ) سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے :۔

اس وقت ساری دنیا کے مسلم عوام جذباتی طور پر صدام حسین کی حمایت کر رہے ہیں۔ صدام حسین آج مسلم دنیا کے ہیرو ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے عام مسلمان بھی اسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہیں جس میں صدام حسین مبتلا ہیں۔ وہ اپنے جنون عظمت کی تسکین کے لیے صدام کے حامی بن گئے ہیں۔ آدمی کو متواضع بناتا ہے مگر خود ساختہ اسلام آدمی کی انا کو جگا کر اس کو جنون عظمت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ موجودہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اپنی اس کمزوری کی بنا پر وہ حقیقت پسندی سے دور ہو گئے وہ ہر اس آدمی کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں جو بڑے بڑے الفاظ بولے۔ خواہ عالم واقعہ میں ان الفاظ کی کوئی قیمت نہ ہو۔

خلیج کی جنگ میں پہلی بار جدید وار فیئر کی وہ صلاحیت سامنے آئی ہے جس کو عین نشانہ پر بمباری (pinpoint bombing) کہا جاتا ہے۔ الائیڈ فورس نے بغداد کی ڈیفنس بلڈنگ پر بم مارنا چاہا تو عین اسی مخصوص بلڈنگ پر بم گرا، جب کہ وہاں سیکڑوں دوسری بلڈنگیں بھی موجود تھیں۔ حتی کہ ٹی وی کے گنبد کو نشانہ بنایا تو ان کا بم صرف گنبد سے ٹکرایا اور بقیہ عمارت کو چھوڑ دیا۔ لندن کی ایک رپورٹ (ٹائمز آف انڈیا 19 جنوری) میں کہا گیا ہے کہ اب تک عراق پر چار ہزار ہوائی حملے کیے جا چکے ہیں۔ موصولہ تصویریں بتاتی ہیں کہ یہ حملے عین نشانہ پر لگے۔ اس انتہائی صحیح حملہ نے یہاں فوجی لوگوں کے اندر تموج کی کیفیت پیدا کر دی ہے :

At least four of these 4,000 air sorties yielded pictures of the sequence of highly accurate attacks that thrilled the military community, heralding a new era in warfare. عین نشانہ پر بم کا گرنا ایک بے حد پیچیدہ عمل ہے۔ یہ ابھی تک ایک فوجی راز ہے۔ سادہ طور پر اس کا نظام یہ ہے کہ پہلے سٹیلائٹ کے ذریعہ مطلوبہ مقام کا فوٹو لیا جاتا ہے۔ پھر زیر نشانہ عمارت کی تصویر کو ہوائی جہاز میں لگے ہوئے کمپیوٹر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ جہاز فضا میں آڑ کر لیز ر شعاعوں کے ذریعہ مذکورہ مقام کو معلوم کرتا ہے۔ کمپیوٹر کے اندر فیڈ کی ہوئی تصویر جب نشانہ کی تصویر سے مطابقت کرتی ہے تو کمپیوٹر مشین کو متحرک کرتا ہے اور بم اس تصویری نشانہ پر جا گرتا ہے۔ یہ انتہائی پیچیدہ اور تفصیلی عمل صرف منٹوں کے اندر انجام پاتا ہے۔ فوجی لوگ جب اس قسم کے واقعات کو دیکھتے ہیں تو ان کے اندر جدید ٹکنالوجی کے بارہ میں تھرل (تموج) کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ حالانکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اُس خدا کی قدرت پر تھرل کی کیفیت پیدا ہو جس نے کائنات میں اس قسم کے حیرت انگیز امکانات رکھے اور وہ انسانی ذہن بنایا جو ان امکانات کو استعمال کر کے ایسے کارنامے انجام دے سکے۔

کیسی عجیب بات ہے کہ وہ عجائب (marvels) جو خالق کی یاد دلانے والے تھے، ان سے انسان صرف مخلوق کی یاد کی غذا حاصل کر رہا ہے۔ ان واقعات سے اگر صحیح سبق لیا جائے تو انسانی دنیا میں ایک حیرت ناک انقلاب برپا ہو جائے ۔

لاہور کے روزنامہ نوائے وقت (۱۸ جنوری) کے پہلے صفحہ پر ایک خبر نمایاں سرخی کے ساتھ چھپی تھی کہ کراچی سے خیبر تک تمام پاکستانی مسلمان امریکہ کی مخالفت اور صدام حسین کی حمایت میں متحد ہو گئے۔ اسی اخبار میں "امریکہ دشمن نمبر ۱" کے عنوان کے تحت ایک مضمون شائع ہوا ہے ۔ اس کا ایک پیرا گراف یہ ہے : "امریکہ کے صدر بش کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کی بدولت پاکستان کے تمام طبقے اور تمام مکاتب فکر پہلی دفعہ امریکہ دشمنی کے حوالے سے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو گئے ہیں۔ اس وقت پوری پاکستانی قوم امریکہ کو عالم اسلام کا دشمن نمبر ایک سمجھ رہی ہے۔ سمجھتی تو شاید پہلے بھی رہی ہے۔ لیکن اس کا بھر پور اور متفقہ اظہار پہلی دفعہ (امریکہ کے عراق پر حملہ کے بعد ہو رہا ہے" (صفحہ ۲)

آج کل مسلمانوں کے اخباروں میں بار بار ایسی رپورٹیں اور مضامین چھپ رہے ہیں جن میں "عالمی اسلامی اتحاد" کی خبر دی جاتی ہے۔ مگر یہ اتحاد محض ایک منفی اجتماع ہے۔ اور منفی اجتماع اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی اتحاد وہ محض ایک وقتی قسم کی بھیڑ ہے نہ کہ کوئی حقیقی اور پائیدار اتحاد۔ اس قسم کا اتحاد صرف قوم کی کمزوری کو بتاتا ہے نہ کہ فی الواقع اس کی قوت و طاقت کو ۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں میں جب بھی کوئی بڑا اتحاد ہوا ہے، وہ منفی بنیاد پر ہوا ہے۔ کے آغاز میں برصغیر ہند کے مسلمان "خلافت" کے نام پر متحد ہوئے۔ مگر یہ کوئی مثبت اتحاد نہ تھا، وہ صرف انگریز دشمنی کے جذبہ کے تحت ظہور میں آیا تھا۔ اسی طرح موجودہ صدی کے وسط میں مسلمان مسلم لیگ کے جھنڈے کے نیچے متحد ہو گئے۔ یہ اتحاد بھی کوئی مثبت واقعہ نہ تھا۔ وہ تمام تر ہندو دشمنی کے جذبہ کے تحت برپا ہوا تھا۔ اب صدی کے آخر میں مسلمان پھر متحد نظر آرہے ہیں۔ مگر یہ اتحاد بھی صرف امریکہ دشمنی کے جذبہ کے تحت ظاہر ہوا ہے، اس اتحاد کے پیچھے کوئی مثبت بنیاد موجود نہیں۔ اس لیے وہ باقی رہنے والا بھی نہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اس قسم کے اتحادی واقعات پر بار بار خوشیوں کے چراغ جلاتے ہیں۔ مگر شام کے جلائے ہوئے چراغ صبح کو بجھ جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد ملت بدستور اختلاف و انتشار کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی نظر آنے لگتی ہے۔

مثبت بنیاد پر جمع ہونا حقیقی اتحاد ہے، منفی بنیاد پر جمع ہونا محض ایک بے معنی بھیڑ۔ اتحاد کسی قوم میں شعوری عمل سے آتا ہے اور بھیڑ صرف جذباتی الفاظ سے۔

ٹائم (۱۵ - ۲۱ جنوری) "گلف اسپیشل" کے طور پر شائع کیا گیا تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ امریکہ اور عراق دونوں اپنی آخری حد پر جا چکے ہیں، اور بظاہر اب دونوں فریق جنگ کے لیے تیار ہیں، کیونکہ دونوں میں سے کوئی بھی اس مفروضہ بدنامی کو اپنے اوپر لینا نہیں چاہتا کہ اس نے دوسرے کے آگے ہتھیار ڈال دیے (۹-۱۰) ٹائم نے لکھا تھا کہ صدام حسین اگر کویت سے اپنی فوجیں غیر مشروط طور پر واپس باللیں، تو یہ ان کے لیے آخری بہترین انتخاب (choice) ہوگا۔ کویت یہ اعلان کر چکا ہے کہ فوجوں کی واپسی کے بعد وہ عراق کی شکایت پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ حتیٰ کہ صدام حسین کے سابقہ مطالبے کے مطابق، عالمی امن کانفرنس بلانے کا امکان بھی موجود ہے۔

ٹائم کے مطابق، خود امریکہ نے کھلے طور پر یہ وعدہ کیا تھا کہ صدام حسین اگر کویت سے اپنی فوجیں واپس بلالیں تو صدام مخالف اتحاد اس کے بعد عراق پر حملہ نہیں کرے گا۔ مزید یہ کہ جارج بش نے اس بات کا بھی اشارہ دیا تھا کہ عراق اپنے سرحدی جھگڑوں کے بارے میں کویت سے بات چیت کر سکے گا، اور غالباً فلسطین کے مسئلہ پر ایک انٹرنیشنل کانفرنس بھی منعقد کر سکے گا (صفحہ ۱۲) سوویت یونین اور فرانس وغیرہ بھی یہ کہہ چکے تھے کہ صدام حسین اگر کویت سے اپنی فوجیں ہٹالیں تو ویسٹ ایشیا کے تمام مسائل کے مجموعی حل (package deal) کے بارے میں اقوام متحدہ کے تحت کانفرنس کی جائے گی اور تمام مسائل کو حل کیا جائے گا۔ ٹائم نے یہ امکان ظاہر کیا تھا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈال کر اس کو راضی کیا جائے گا کہ وہ ویسٹ بنک اور غازہ پٹی کو فلسطینیوں کے لیے خالی کر دے تاکہ وہ وہاں اپنی اسٹیٹ بنا سکیں (صفحہ ۱۴)

مگر صدام حسین نے ان تمام تجویزوں کو رد کر دیا۔ یہاں تک کہ جنگ شروع ہو گئی۔ اب مزید کچھ پانا تو درکنار، یہ یقینی ہے کہ صدام حسین کے پاس جو کچھ ہے، اس کو بھی وہ کھو دیں گے۔ اس دنیا میں بہترین عقلمندی یہ ہے کہ آدمی زیادہ کا مطالبہ کرے مگر وہ کم پر راضی ہو جائے۔ ٹکراؤ کے بغیر فریق ثانی جو کچھ دے رہا ہے، اس پر راضی ہو جانا مزید ترقی کار راستہ کھولتا ہے۔ اس کے برعکس آدمی اگر ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرے تو وہ حاصل شدہ چیز کو بھی ضائع کر دیتا ہے۔

جنگ سے پہلے صدام حسین کو جو کچھ مل رہا تھا، جنگ کے بعد وہ اس کو لینا چاہیں گے مگر اس وقت وہ کچھ بھی نہ پاسکیں گے۔ وقت گزر جانے کے بعد کوئی چیز کسی کو نہیں ملتی۔

خلیج کی جنگ میں امریکہ کی زیر قیادت جو ملٹی نیشنل فورس“ بنی ہے ، اس میں برطانیہ بھی شامل ہے۔ کے فوجی پائلٹ ٹارنیڈو (Tornado) نامی جہاز کے ذریعہ عراق پر حملے کر رہے ہیں۔ کچھ برطانی پائلٹوں نے اے پی کے نمائندہ کو اپنے جنگی تجربات بتائے۔

اسکواڈرن لیڈر میٹرمیسن (Pablo Mason) نے کہا کہ جب ہم دشمن کے اوپر بمباری کرنے کے لیے اڑتے ہیں تو دشمن کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ہر وقت یہ اندیشہ بھی رہتا ہے کہ ہم خود کسی متوقع یا غیر متوقع حادثہ میں تباہ ہو سکتے ہیں۔ اس وقت سارا معاملہ صرف سکنڈوں کا ہوتا ہے۔

ٹائمس آف انڈیا (۲۲ جنوری ۱۹۹۱) کی رپورٹ کے مطابق، پائلٹ میسن نے کہا کہ جنگ کے حالات میں ہمارے اندر مسلسل یہ شعور موجود ہوتا ہے کہ چند منٹوں میں وہ لمحہ آسکتا ہے کہ میں دنیا میں نہ رہوں : There is a constant awareness that in a few seconds' time you may not exist. (p. 7)

یہ احساس یا شعور جو ایک فوجی پائلٹ کے اندر جنگی حالات کے درمیان ہوتا ہے، وہی مومن کی مستقل زندگی ہے۔ مومن موجودہ دنیا کی زندگی کو امتحان سمجھتا ہے ۔ خدا اس کو دنیا میں پیدا کر کے ہر لمحہ اس کی نگرانی کر رہا ہے ، جیسے ہی خدا کی طرف سے مقرر کی ہوئی مدت پوری ہوگی، فوراً موت کا فرشتہ آجائے گا تاکہ اس کی روح قبض کرلے اور اس کو دنیا سے نکال کر آخرت کے عالم میں پہنچادے۔ جس آدمی کو یہ احساس ہو کہ اگلے سکنڈ میری موت آسکتی ہے ، وہ بے حد چو کنا ہو جائے گا۔ ہر لمحہ کو وہ اپنے لیے آخری لمحہ سمجھے گا۔ وہ جینے سے زیادہ مرنے کو یاد کرے گا۔ وہ آج سے زیادہ کل کی فکر وہ آخری حد تک یہ کوشش کرے گا کہ دنیا کے ذریعہ آخرت کو کمائے نہ کہ دنیا کے ذریعہ دنیا کیوں کہ دنیا بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔ یہ صرف آخرت ہے جو اگلے لمحہ کے بعد اس کے لیے باقی رہے گی ۔

”میں اگلے لمحہ نہ رہوں گا “ یہ احساس آدمی کے لیے حال کے مقابلہ میں مستقبل کو زیادہ اہم بنا اس کی ساری توجہ موجودہ کے مقابلہ میں آئندہ کی طرف لگ جاتی ہے۔ وہ دنیا پرستی کو چھوڑ کر آخرت پسند انسان بن جاتا ہے۔

آج کی اہم ترین خبر یہ ہے کہ عراق نے کویت کے تیل کے سیکڑوں کنوؤں میں آگ لگادی ہے جس کے نتیجہ میں وہاں آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور فضا میں کالا دھواں چھاگیا ہے۔ ہندوستان ٹائمز (۲۳ جنوری) کی پہلی سرخی یہ تھی کہ کویت کے تیل کے کنویں اڑا دیے گئے (Kuwait oilwells blown up) غالباً صدام حسین کو اب یہ یقین نہیں رہا ہے کہ وہ کویت کو اپنے قبضہ میں رکھ سکتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے کویت کے تیل کے کنوؤں کو برباد کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاکہ کویت کو چھوڑنا ہو تو اس طرح چھوڑیں کہ وہاں کچھ باقی نہ رہے۔ تقریباً ۳۵۰ ملین گیلن تیل انھوں نے سمندر میں بہادیا۔

صدام حسین نے حال میں عراق کے جھنڈوں پر اللہ اکبر لکھوایا تھا۔ وہ اپنی موجودہ جنگ کو اسلامی جہاد ان کے اس قسم کے نعروں سے متاثر ہو کر ساری دنیا میں مسلمانوں کی اکثریت اس فریب میں پڑگئی کہ واقعہ یہ اسلام اور کفر کی جنگ ہے مگر جو لوگ خدا کی نعمتوں میں آگ لگائیں وہ کبھی اسلام کے مجاہد نہیں ہو سکتے۔ خلیفہ اول نے خلافت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اسامہ کی سرکردگی میں شام کی طرف مہم روانہ کی تو ان کو یہ ہدایت دی کہ تم لوگ وہاں کوئی درخت نہ کاٹنا (لا تقطعوا شجراً)

جنگ میں " ایک درخت " کاٹنا بھی منع ہے۔ پھر تیل کے کنویں کو جلانا تو اس سے ہزاروں گنا زیادہ بڑی برائی ہے۔ تیل کے کنوؤں کو جلانے سے صرف تیل کا قدرتی ذخیرہ ہی برباد نہیں ہوتا بلکہ اس سے جو دھواں نکلتا ہے وہ آس پاس کی پوری فضا کو مہلک گیس سے بھر دیتا ہے۔ تیل کا ذخیرہ کسی شخص کی ملکیت وہ انسانیت کے لیے اللہ کا ایک قیمتی عطیہ ہے۔ وہ خدا کی ایک قیمتی امانت ہے۔ انسان اس کو استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے مگر وہ اس کو ضائع کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ تیل کے ذخیرہ کو قصد ابر باد کرنا خدا کی امانت میں ظالمانہ تصرف کرنے کے ہم معنی ہے جو بلا شبہ ناقابل معافی جرم ہے (تفصیل کے لیے سائنس رپورٹر، نئی دہلی، مارچ ۱۹۹۱)

صدام حسین نے تیل کے کنوؤں میں آگ لگائی۔ تیل کو سمندر میں بہا کر نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ چڑیوں اور مچھلیوں تک کے لیے خطرناک مسائل پیدا کر دیے ۔ اس کے باوجود مسلمان صدام حسین کو " مجاہد اسلام " کا لقب دیے ہوئے ہیں۔ جو لوگ اسلامی جہاد کا نام لیں مگر وہ اسلام کے احکام پر عمل نہ کریں، ایسے لوگوں کا کیس جہاد کا کیس نہیں بلکہ سرکشی کا کیس ہے۔ وہ سزا کے مستحق ہیں نہ کہ انعام کے مستحق۔

خلیج کی ہولناک جنگ جاری ہے۔ دونوں طرف سے زبردست نقصانات ہو رہے ہیں۔ جا رہے ہیں۔ شہر تباہ ہو رہے ہیں۔ سمندروں اور فضاؤں میں زہریلے اثرات پھیل جانے کی وجہ سے یہ حالت ہے کہ چڑیاں اور مچھلیاں تڑپ تڑپ کر مر رہی ہیں۔ اس تباہ کن جنگ پر صرف امریکہ کے زیر قیادت اتحادی فوجوں (الائید فورسن) کا خرچ تقریباً ایک بلین ڈالر روزانہ ہے۔

جنگ لڑنے والے ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ وہ انسانی فلاح کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔ خلیج کی موجودہ جنگ میں امریکہ کے زیر قیادت ۲۸ ملکوں کا اتحادی گروہ یہ کہتا ہے کہ وہ ایک کمزور قوم کے ساتھ ایک طاقت ور کی جارحیت کے خلاف لڑ رہا ہے۔ صدام حسین کے نزدیک اس جنگ کا مقصد ماضی کی غلطی کی اصلاح ہے یعنی کویت، جو ان کے نزدیک عراق کا حصہ تھا، اس کو دوبارہ عراق میں شامل کیا جائے۔ ۱۸۹۸ میں امریکن۔ اسپینش جنگ چڑی۔ اس وقت برطانیہ اور دوسرے یورپی ملکوں کے سفیر واشنگٹن میں جمع ہوئے تاکہ امریکہ کے صدر میک کنلے کو جنگ سے اعراض پر آمادہ کریں۔ اس وقت دونوں کے درمیان جو بات چیت ہوئی، اس کا خلاصہ امریکی اخبار میں اس طرح بیان کیا گیا تھا کہ سفیروں نے کہا کہ ہم کو امید ہے کہ انسانیت کی خاطر آپ جنگ نہیں کریں گے۔ صدر نے جواب دیا کہ ہم کو امید ہے اگر ہم جنگ کریں تو یہ عین انسانیت کی خاطر جنگ ہوگی :

Their ambassadors in Washington had a meeting with the US President, and the diplomatic exchanges were summarised by the New York World, of April 8, 1898, thus:

Said the six ambassadors: “We hope for humanity's sake you will not go

Said Mr McKinley in reply: “We hope if we do go to war, you will understand that it is for humanity's sake.”

پچھلے پچاس سال میں صرف "تیسری دنیا" میں تین سو چھوٹی بڑی لڑائیاں ہو چکی ہیں۔ ان میں سے ہر فریق اپنے آپ کو برحق بتاتا ہے۔ یہ صورت حال آخرت کو ایک لازمی اخلاقی ضرورت ثابت کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آخرت نہ آئے تو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ کون شخص حق پر تھا اور کون شخص ناحق پر۔ جنگ چھیڑنا اپنے اختیار میں ہے مگر جب جنگ چھڑ جائے تو اس کی تباہی اپنے اختیار میں نہیں ہوتی۔ عقلمند وہ ہے جو جنگ کی نوبت ہی آنے نہ دے۔

ٹائمس آف انڈیا (۲۵ جنوری) میں اردو پریس کے بارہ میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ممبئی کے اردو روزنامہ "اردو ٹائمر" پر مسلمانوں کے ایک مشتعل ہجوم نے سنگ باری کی۔ اس کی کاپیاں سڑک پر جلائی اخبار کے ملازموں کو دھمکیاں دی گئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اردو ٹائمر واحد اردو پرچہ ہے جس نے خلیج کی جنگ میں صدام حسین کی مذمت کی اور سعودی حکومت کی موافقت کی پالیسی اختیار کی۔ عدم برداشت کا یہ مزاج کسی حقیقی صحافت کو وجود میں لانے کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔

آج کل تمام اردو اخبارات پرجوش طور پر صدام حسین کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کو صلاح الدین ایوبی اور ”صدام مجاہدِ اسلام“ لکھا جا رہا ہے۔ مسلم علاقوں میں صدام حسین کی تصویریں ہاٹ کیک کی طرح بک رہی جن اردو اخبارات کی اشاعت بہت کم تھی، انھوں نے صدام حسین کی حمایت میں جذباتی مضامین لکھ کر اپنی اشاعت بہت زیادہ بڑھالی۔ مسلمانوں میں وہی اخبارات مقبول ہو رہے ہیں جن میں اس قسم کی سرخیاں ہوں: " عراقی میزائلوں سے اسرائیل کی نیند حرام "، " بُش نے صدام کے آگے گھٹنے ٹیک دیے" وغیرہ مسلم صحافت کا اور مسلمانوں کا یہ حال دیکھ کر مجھے دوسری عالمی جنگ کا واقعہ یاد آتا ہے۔ اس زمانہ میں ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ مسلمان انگریزوں سے بے حد متنفر تھے۔ جنگ میں جب ہٹلر کی فوجوں نے برطانیہ پر بم گرائے تو مسلمان بہت خوش ہوئے۔ اخبارات میں ایک اردو شاعر کی نظم چھپ کر بہت مقبول اس کا عنوان تھا "ہٹلر اعظم"، اس نظم میں ہٹلر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا تھا : خبر لینے بکنگھم کی جواب کی بار پھر جانا ہمارے نام کا بھی ایک گولہ پھینکتے آنا یہی جذباتیت آج مسلمانوں میں شدت سے ابھر آئی ہے۔ مسلمانوں کو یہودیوں اور عیسائیوں سے سخت نفرت صدام حسین نے عیسائیوں (امریکہ) کے بارہ میں کہا کہ تم کو خلیج عرب میں غرق کر دیا جائے گا۔ کے اوپر کچھ اسکڈ (Scud) میزائل پھینک دیے ۔ اس کے بعد مسلمان ایک طرف سے صدام حسین کی حمایت مگر یہ صرف سطحیت ہے۔ اس کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل سے ۔

مسلمانوں کے اس مزاج نے اردو صحافت کو انتہائی حد تک سطحی بنا دیا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اردو اخبارات پڑھنے والا آدمی عالمی حقیقتوں سے اتنا ہی بے خبر رہتا ہے جتنا غالب اور ذوق کا دیوان پڑھنے والا آدمی سائنسی علوم سے ۔

ہندوستان ٹائمنس (۲۶ جنوری) میں صدام حسین کے اس محل کی تفصیل چھپی ہے جو انھوں نے بغداد میں اس کی سرخی یہ ہے صدام اپنے اس محل کے تہ خانہ میں ایک سال تک رہ سکتے ہیں : Saddam can live 1 year in his bunker اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بغداد کا یہ صدارتی محل ۱۲۰ فٹ گہرا ہے اور پور لوہے اور سمنٹ پر بنایا گیا ہے۔ وہ مکمل طور پر ایر کنڈیشنڈ ہے۔ اس میں نیچے سے اوپر تک لفٹ کا انتظام ہے۔ صدام حسین اس میں ایک سال تک ایٹمی حملہ سے محفوظ حالت میں رہ سکتے ہیں۔ اس میں ایک زمین دوز ذخیرہ آب سے پانی پہنچایا جاتا ہے جو محل سے ۴۰۰ میٹر فاصلہ پر واقع ہے۔ ایک فرنیچ انجینئر جس نے اس محل کو بنانے میں مدد دی تھی، اس نے کہا کہ جب آپ لفٹ کے ذریعہ اس زمیں دوز محل میں اتریں تو آپ ایک نہایت موٹے دروازہ سے گزر کر صدام حسین کے دفتر میں پہنچیں گے۔ صدام حسین کی اندرونی رہائش گاہ تک پہنچنے کے لیے کئی ایسے چیمبر سے گزرنا ہوتا ہے جو صرف کوڈ کے ذریعہ اس کے لیے میگنیٹک کارڈ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کے اور بہت سے خفیہ حفاظتی انتظامات ہیں جن کی تفصیل ڈیلی ٹیلی گراف نے چھاپی ہے۔

اس محل کے اندر ہر قسم کے تمام ضروری سامان کیے گئے ہیں۔ اس کے اندر ایسا کمیونی کیشن نظام ہے کہ صدام حسین اس کے اندر رہتے ہوئے تمام ملک سے اور پوری افواج سے مسلسل ربط قائم رکھ سکتے ہیں۔ یہیں سے اپنی قوم کے نام ٹی وی پر پروگرام نشر کرتے ہیں۔ صدام حسین کوئی چیز اس وقت تک نہیں کھاتے جب تک کوئی دوسرا شخص ان کے سامنے اس کو چکھ نہ لے ۔ فرانسیسی انجینئر نے کہا کہ صدام حسین اس زمین دوز محل میں لمبی مدت تک رہ سکتے ہیں اور یہاں سے جنگ کی رہنمائی کر سکتے ہیں :

Saddam Hussein could survive and function from this emplacement for a long time. اس قسم کا زمیں دوز محل بنا کر " ام المحارب " میں فتح کا خواب دیکھنا صرف صدام حسین کی کم عقلی کا یہ کلھیا میں گڑ پکانا ہے ۔ اور جو شخص کلھیا میں گڑ پکائے اس کا گڑھ اس عالم اسباب میں کبھی تیار نہیں ہوتا۔

کہ متفقہ طور پر مسلمانوں کا سب سے زیادہ مقدس مقام ہے۔ خلیج کا مسئلہ پیدا ہونے کے بعد ۲۲- ۲۵ جمادی الآخرۃ ۱۴۱۱ھ (۹- ۱۱ جنوری ۱۹۹۱ء) مکہ میں ایک عالمی کانفرنس ہوئی۔ اس میں سعودی عرب کے اور تمام دنیا کے علماء جمع ہوئے۔ تین دن کے غور و بحث اور مشورہ کے بعد " اعلان مکہ المکرمۃ الى الامۃ الاسلامیۃ" جاری ہوا۔ میرے سامنے اس کا وہ مستند متن ہے جو ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (۱۷ جنوری ۱۹۹۱ء) میں سات صفحات پر شائع ہوا ہے۔ اس روداد کا عنوان یہ ہے ــ عراقی فوج کے نام پیغام، صدام کی نافرمانی شرعی طور پر واجب ہے ( رسالۃ الى الجيش العراق، عصيان صدام واجب شرعی)

رپورٹ کے مطابق، علماء کی موتمر نے متفقہ طور پر صدام کے خلاف یہ پکار بلند کی کہ تم فوراً کویت سے نکل جاؤ (اخرج يا صدام حسين من الكويت۔ اخرج الآن وليس غدا) اس میں کہا گیا ہے کہ عراقی فوج پر لازم ہے کہ وہ ظالم صدام کی اس کے ظلم میں حمایت نہ کرے ( الواجب على جيش العراق الآطيع الظالم في ظلمه) علماء اسلام کی اس عالمی کانفرنس نے متفقہ طور پر ساری دنیا کے مسلمانوں کو پکارا کہ وہ صدام حسین کا ساتھ نہ دیں، وہ خلیج میں صدام حسین کے اقدام کی مذمت کریں جس کے نتیجہ میں امریکہ اور مغربی طاقتوں کو خلیج میں آنے کا موقع ملا۔ اسی طرح دہلی میں بھی ہندوستانی علماء کی اس میں بھی وہی باتیں کہی گئیں جو مکہ کی کانفرنس میں کہی گئی تھیں۔ اصولاً میں علماء کی اس پکار سے متفق ہوں۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس پکار کے باوجود یہ ہوا کہ تقریباً ساری دنیا کے مسلمان صدام حسین کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے، کسی بھی ملک کے مسلمانوں نے ان اعلانات اور ان اپیلوں کی پروا نہیں کی۔ عراق کی فوج کے بارہ میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ صدام حسین کا ساتھ دینے کے لیے مجبور تھی۔ مگر مسلم عوام تو آزادانہ طور پر خود اپنے فیصلہ کے تحت صدام حسین کے حامی بنے ہوئے ہیں۔ مسلم علماء اور مسلم عوام کے درمیان علیحدگی کی اتنی بڑی مثال تاریخ میں کوئی اور نہیں ملتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خود مسلم علماء اور مسلم رہنماؤں نے ان قوموں کے خلاف مسلم عوام کو اتنا متنفر کر رکھا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اب اس معاملہ میں غیر جذباتی رائے قائم کرنا ممکن نہیں۔ "نفرتِ مغرب" کی جو نفسیات مسلمانوں میں پیدا کی گئی ہے، اس کا نتیجہ وہی نکل سکتا تھا جو نکلا۔

عراقی لیڈر کی بلند بانگ تقریریں اخباروں میں چھپ رہی ہیں۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ عرب کے صحرا امریکیوں اور اتحادیوں کا قبرستان بنا دیا جائے گا۔ اس طرح کی باتیں مسلمانوں کو مجاہدانہ معلوم ہوتی ہیں۔ سعودی عرب کے شاہ فہد کی بات مسلمانوں کو کمتر محسوس ہوتی ہے ، کیونکہ انہوں نے امریکہ اور اس کے حلیفوں سے اتحاد کر لیا ہے۔ آج ایک صاحب نے بتایا کہ جامع مسجد کے علاقہ میں دیواروں پر ایسے پوسٹر لگائے گئے ہیں جن پر لکھا ہوا ہے : سعودی اور یہودی ایک سکہ کے دو رخ ۔ ایک مسجد میں نماز ختم ہوئی تو ایک مسلمان نے ہاتھ اٹھا کر کہا : خدایا ، سعود اور یہود کو ہلاک کر دے۔

خلیج کی نزاع میں کون حق پر ہے اور کون ناحق پر ، اس کو سمجھنے کے لیے احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو بظاہر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس معاملہ میں سعودی عرب حق پر ہے اور دوسرا گروہ ناحق پر۔ امام الترندی نے عمر بن عوف رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں یہ قرینہ ملتا ہے کہ آخر زمانہ میں حق جزیرہ عرب کی طرف ہوگا۔ اس روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین حجاز میں پناہ لے گا جس طرح سانپ اپنی بل میں پناہ لیتا ہے ( ان الدين ليأرز الى الحجاز كما تأرز الحَيَّةُ إِلى جُحَرِها ) جامع الاصول في احاديث الرسول، ۹ / ۲۴۱ دوسری روایت میں موجودہ حالات کے بارہ میں براہ راست اشارہ ملتا ہے۔ امام ابوداؤد نے " کتاب الملاحم “ میں نقل کیا ہے کہ ذو مخبر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ تم آئندہ روم (عیسائیوں) سے پر امن صلح کر دو گے۔ پھر تم اور وہ دونوں ایک اور دشمن سے لڑو گے۔ پھر تم لوگوں کو فتح ہوگی۔ تم غنیمت حاصل کرو گے اور سلامت رہو گے۔ پھر تم لوگ واپس ہوگے، یہاں تک کہ تم ایک چراگاہ میں ٹھہرو گے جہاں ٹیلے ہوں گے۔ اس وقت عیسائیوں میں سے ایک شخص صلیب اٹھائے گا اور کہے گا کہ صلیب غالب آئی۔ پھر مسلمانوں میں سے ایک شخص کو غصہ آئے گا، وہ صلیب کو توڑ دے گا۔ اس وقت روم (عیسائی) عہد کو توڑ دیں گے اور جنگ کے لیے جمع ہو جائیں گے (سنن ابی داؤد، ۴ / ۱۰۹)

ان احادیث کی موجودگی میں مسلمانوں کی موجودہ روش یقینی طور پر درست نہیں۔ یہ صرف خواہش پرستی ہے نہ کہ قرآن و سنت کی پیروی۔

انڈڈیا کے ایک انگریزی جرنلسٹ مسٹر این نہال سنگھ خلیجی جنگ کے زمانے میں بغداد میں تھے۔ انھوں نے اپنے کچھ تجربات ہندوستان ٹائمز (۲۹ جنوری) میں شائع کیے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ وہ کچھ اور صحافیوں کے ساتھ بغداد کے ممتاز ہوٹل الرشید میں مقیم تھے مگر اس کا حال یہ تھا کہ کسی بھی بل کی ادائیگی کے لیے صرف امریکی ڈالر ہی واحد قابل قبول سکہ تھا۔ یہاں امریکہ انتہائی نفرت کی علامت تھا، مگر عملاً امریکی ڈالر ہی بغداد پر حکومت کر رہا تھا :

Much as the United States was the hated symbol of Western might, the یہ واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ آج امریکہ اور ترقی یافتہ مغربی ممالک نے کس طرح تمام ذرائع پر قبضہ کر آپ امریکہ جائیے تو آپ دیکھیں گے کہ جو مسلمان امریکہ سے نفرت کرتے ہیں، وہی اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے امریکہ کو اپنا وطن بنائے ہوئے ہیں۔

ایسی حالت میں کرنے کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ مسلم دنیا کو جدید سائنسی میدانوں میں ترقی یافتہ بنایا مگر اس رخ پر کسی بھی مسلم ملک میں کوئی قابل ذکر کام نہیں ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلم ملکوں کو پٹرول کا خزانہ دے کر وہ اقتصادی طاقت دے دی تھی جس کے ذریعہ مسلم دنیا اپنے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کر سکے مگر اس قدرتی خزانہ کو کچھ ممالک عیش وعشرت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اور کچھ ممالک یہ کر رہے ہیں کہ مغربی ملکوں سے خطرناک ہتھیار خرید کر خود مسلم ملکوں کے خلاف جارحانہ کارروائی کریں جس کی بدترین مثال وہ ہے جو عراق نے پیش کی ہے۔

صدام حسین کو پٹرول کی صورت میں مفت کی دولت مل گئی۔ اس دولت کو انھوں نے عراق کی ترقی میں انھوں نے یہ کیا کہ روس، جرمنی، فرانس وغیرہ سے مہلک ہتھیار خرید کر پڑوسی ملکوں کو چیلنج کرنے اس کے برعکس اگر وہ اس قدرتی دولت کو ملک کی ترقی میں لگاتے تو عین ممکن تھا کہ عراقی سکہ بھی وہی اقتصادی اہمیت حاصل کر لے جو آج امریکی ڈالر کو حاصل ہے۔

مسلمانوں کی بربادی کا سبب ان کی یہی داخلی کمزوری ہے نہ کہ کوئی بیرونی سازش۔ جو لوگ بیرونی سازشوں کی خبریں چھاپتے ہیں وہ صرف اپنی بے خبری کا ثبوت دے رہے ہیں۔

لندن کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ لندن کے تمام مسلمان خلیج کے موجودہ بحران میں صدام حسین کے حامی ہیں۔ صرف وہ تھوڑے سے مسلمان جن کو سعودی عرب سے پیسہ ملتا ہے، وہ سعودی عرب کا ساتھ دے رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ تو کوئی دلیل نہیں۔ اس بات کو الٹ کر اگر میں یہ کہوں کہ جو لوگ صدام حسین کے حامی ہیں ان کو عراق کی حکومت نے پیسہ دے رکھا ہے تو آپ کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا۔ میں نے کہا کہ صدام حسین کو اگر حملہ کرنا تھا تو انہوں نے اسرائیل پر حملہ کیوں نہیں کیا۔ کویت پر کیوں حملہ انہوں نے کہا کہ میں لندن میں عراق کے سفیر سے ملا تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے کویت پر کیوں حملہ کیا۔ نے کہا کہ اصل میں تو ہم اسرائیل پر حملہ کرنا چاہتے تھے، ہم نے سعودی عرب اور کویت سے کہا کہ اس معاملہ میں ہمارا ساتھ دو، مگر وہ ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ اس لیے ہم کو ایسا کرنا پڑا۔ میں نے کہا کہ آپ کو سفیر عراق سے پوچھنا چاہیے تھا کہ جب آپ نے سعودی عرب اور کویت کی حمایت کے بغیر ایران اور کویت پر حملہ کر دیا تو اسی طرح آپ ان کی حمایت کے بغیر اسرائیل پر بھی حملہ کر سکتے تھے۔ پھر انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ عراقی سفیر کے بیان کے مطابق، عراق کو یہ خطرہ تھا کہ جب وہ اسرائیل پر حملہ کرے گا تو امریکہ کی فوجیں خلیج میں عراق کے خلاف آ جائیں گی۔ میں نے کہا کہ آپ کو عراقی سفیر سے دوبارہ کہنا چاہیے تھا کہ امریکی فوج تو کویت پر حملہ کی صورت میں بھی مکمل طور پر خلیج میں آگئی ہے۔ پھر جس طرح کویت پر حملہ کے وقت آپ نے امریکی فوج کی آمد کی پروا نہیں کی، اسی طرح آپ اسرائیل پر حملہ کے وقت بھی امریکی فوج کی آمد سے بے پروا ہو کر اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی کارروائی کر سکتے تھے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سوچ کتنی زیادہ سطحی ہوگئی ہے اور مسلمانوں کے لیڈرس طرح مسلمانوں کی کم فہمی کا استغلال کر رہے ہیں۔ انسان کا حال یہ ہے کہ وہ ذاتی محرک کے تحت ایک اقدام کرتا ہے اور پھر اس کو جائز ثابت کرنے کے لیے اصول کی زبان بولتا ہے۔ وہ اپنی قیادت قائم کرنے کے لیے ہنگامے کھڑے کرتا ہے اور اس کو جہاد فی سبیل اللہ کا عنوان دیتا ہے۔ وہ قومی خواہش اور مادی مفاد کے تحت عمل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ حق کی خاطر ایسا کر رہا ہے۔ ایسے لوگ سرکشی کی حد تک مجرم ہیں خواہ اپنی تبریر کے لیے وہ کتنے ہی خوب صورت الفاظ بولتے رہیں۔

ہندستان ٹائمس (31 جنوری) میں نیویارک کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ایک رپورٹ چھپی ہے۔ عنوان ہے ــــــــ مسلمانوں کو مغرب کی طرف سے غضب ناک ردعمل کا اندیشہ :

Printed page