Al-Risala · May 1991

یکم فروری ۱۹۹۱

Al-Risala, May 1991, pp. 21–36

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب ایک اردو ماہنامہ لے کر آئے اور کہا کہ اس کے شندرات کو پڑھئے۔ اس میں لکھا ہوا تھا: ’’امریکہ کے سخت رویہ اور مسلمانوں کو کچل دینے کی پالیسی نے عرب کی سرزمین کو اس وقت میدان کار زار میں تبدیل کر دیا ہے جہاں مانند آب مسلمان کا لہوارزاں ہو گیا ہے اور تثلیث کے فرزند کھلم کھلا میراث خلیل میں در اندازی کر رہے ہیں۔ حالانکہ نبی آخر الزماں کا ارشاد ہے کہ اخرجو اليهود والنصاري من جزيرة العرب (جزیرۂ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال دو) اور قرآن مجید میں ان سے عدم موالات کا حکم دیا گیا ہے (لا تتخذوا اليهود والنصاری اولیاء) مگر آپ کے پیروؤں اور خالص وارثوں نے ان کو اپنا حلیف بنا اور اب ان کا لشکر جزيرة العرب میں دندناتا پھر رہا ہے۔ اور مسلمانوں کے اہم اور مرکزی شہر ناگاساکی اور ہیروشيما بنتے جا رہے ہیں‘‘۔ (معارف فروری ۱۹۹۱)

میں نے انہیں عربی ہفت روزہ الدعوة کے شمارے (۳۱ جنوری ، ۲۱ فروری ۱۹۹۱) دکھائے۔ میں شیخ ابن باز نے اضطرار کے اسلامی اصول کے تحت غیر مسلم حکومتوں سے تعاون لینے کو جائز قرار دیا ہے۔ ان مضامین کو دیکھ کر وہ بگڑ گئے۔ انھوں نے کہا کہ جو مولوی اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ سب سعودیہ کے نمک خوار ہیں، وہ امریکہ کے ایجنٹ ہیں۔

یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں، خاص طور پر ان کے ’’لکھنے اور بولنے والے طبقہ‘‘ کا عام انداز ہے۔ یہ لوگ اختلاف رائے کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اختلاف رائے پیش آتے ہی وہ طنز و تعریض اور عیب جوئی اور الزام تراشی کا انداز اختیار کر لیتے ہیں وہ تنقید کا جواب صرف تعیب سے دینا جانتے ہیں۔ اسلام میں صرف یہود و نصاریٰ کے جغرافی اخراج کا حکم نہیں ہے۔ اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ نفسیاتی امراض کے قلبی اخراج کا حکم دیا گیا ہے۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ دوسرے مسلمان سے بغض نہ رکھے۔ وہ انانیت میں مبتلا نہ ہو۔ وہ بے انصافی نہ کرے، وہ دوسرے کا بد خواہ نہ بنے۔ وہ انتقامی جذبہ کو اپنے دل سے نکال ڈالے۔ وہ کسی کی کردار کشی نہ کرے کسی کی نیت پر حملہ نہ کرے۔ وہ کسی کی طرف غلط بات منسوب نہ کرے۔ وہ کسی کی بربادی کے درپے نہ ہو۔

مگر اس دوسرے’’اخراج‘‘سے کسی کو کوئی دل چسپی نہیں۔ جغرافی اخراج کے چیمپین قلبی اخراج کے معاملہ میں بے حقیقت ثابت ہو رہے ہیں۔

ٹائمس آف انڈیا (۲ فروری) میں مسٹر شام لال کا ایک آرٹیکل چھپا ہے۔ خود آرٹیکل میں تو کوئی گہری بات نہیں، البتہ اس کا عنوان مجھے پسند آیا جو ان الفاظ میں ہے __ لڑائی جیتو اور امن ہار دو : Win the War; Lose the Peace خلیج کی جنگ میں پچھلے دو ہفتہ کے اندر تقریباً پچاس بلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ یہ نقصان مزید بڑھتا رہے گا۔ جنگ میں خواہ جو فریق جیتے، جہاں تک امن کا تعلق ہے، وہ بہ ہرحال کھویا جا چکا ہو گا۔ کی جنگ (۱۹۷۱ء) میں انڈیا جیت گیا۔ مگر اس کے بعد ملک میں تشدد اور مہنگائی اور کرپشن کا جو طوفان آیا اس نے امن اور سکون کو ہمیشہ کے لیے غارت کر دیا۔

یہی حال خلیج کی جنگ کے بعد بھی زیادہ بڑے پیمانے پر ہونے والا ہے۔ اس جنگ میں فتح کا تمغہ جس فریق کو بھی ملے، عام انسان کی مصیبتوں میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ اور یہ مصیبتیں عالمی ہوں گی، حتیٰ کہ اس کا برا اثر اس ملک تک بھی پہنچ جائے گا جس نے جنگ کے بعد فتح کا تمغہ حاصل کیا ہے۔ جنگ خواہ چھوٹی ہو یا بڑی، وہ مسائل کے حل کے نام پر لڑی جاتی ہے، مگر ہر جنگ صرف مسائل میں اضافہ کرتی ہے۔ ایک مغربی مفکر نے بالکل صحیح کہا کہ مسائل ہمیشہ وہ لوگ پیدا کرتے ہیں جو مسائل حل کرنے کے لیے سرگرم ہوتے ہیں :

Problems are created by problem-solving activity. جنگوں کی تاریخ میں معلوم طور پر ایک ہی استثنائی نمونہ ہے، اور وہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغمبر اسلام کا دوسروں سے ٹکراؤ پیش آیا۔ مگر آپ نے جنگ کا طریقہ اتنا کم استعمال کیا کہ عملاً اور مقابلاً وہ جنگ نہ کرنے کے برابر ہے۔ اس کے باوجود آپ نے انسانی مسائل کو اتنے کامیاب طور پر حل کیا کہ تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔

پیغمبر اسلام کے ساتھ وہ تمام احوال پیش آئے جن کے نام پر جنگ کی جاتی ہے۔ مگر آپ نے جنگ کے بجاے امن کی طاقت سے ان کا مقابلہ کیا۔ مسلمان اگر اپنے پیغمبری اس سنت کو زندہ کریں، وہ دنیا کو دوبارہ دکھائیں کہ امن کی طاقت کس طرح سب سے بڑی طاقت ہے تو وہ نہ صرف خود اپنی جنگ لڑائی کے بغیر جیت لیں گے، بلکہ اس ربانی طریقہ کا مظاہرہ کرکے وہ قوموں کے امام بن جائیں گے۔

آج کل اخبارات کا پہلا صفحہ خلیج کی جنگ کی خبروں سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مزید خصوصی صفحات صرف اسی جنگ کے بارہ میں ہوتے ہیں جن کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے : خلیجی جنگ (The Gulf War) ہندوستان ٹائمز (۳ فروری) کا صفحہ ۴۱ اسی قسم کا ایک صفحہ ہے۔ اس میں حسب معمول خلیج کی جنگ سے متعلق خبریں شائع ہوئی ہیں۔

جنگ کی ہلاکت کی خبروں کے درمیان ایک بلاعنوان خبر چار سطروں میں ہے۔ وہ یہ ہے ۔ جس پر الزام تھا کہ اس نے ۱۹۸۸ سے اب تک نیویارک کے راشٹر علاقے کی، عورتوں کو قتل کیا ہے، اس کو عدالت نے ۲۵۰ سال قید کی سزا دی ہے جو امریکی قانون میں ایسے مجرم کی کم سے کم سزا ہے : A man convicted of killing ten Rochester arca women in New York since 1988 has been sentenced to a minimum of 250 years in prison. اخباری ترتیب میں بظاہر یہ سب سے چھوٹی خبر ہے۔ شاید ہی کسی پڑھنے والے نے اس خبر کو پڑھا ہو مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ بلاشبہ سب سے بڑی خبر ہے۔ مہلک جرائم کی سزا جو ملکی قوانین میں مقرر کی گئی ہے، وہ گویا انسانی ضمیر کی آواز ہے۔ یہ سزائیں دراصل انسانی ضمیر کا قانونی اظہار ہیں۔ انسانی ضمیر یہ چاہتا ہے کہ قتل کرنے والے کو قتل کیا جائے۔ یا کم از کم لمبی مدت تک کے لیے اس کو پر مشقت قید خانہ میں ڈال دیا جائے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ضمیر کے مطابق، ان لوگوں کی سزا کتنی زیادہ سخت ہونی چاہیے جو ایسی جنگ برپا کرتے ہیں جس میں لاکھوں افراد ہلاک ہوں ۔ زخمی اور اپاہج ہو جائیں ۔ زندگی کے قیمتی وسائل بے حساب مقدار میں برباد ہوں۔ خشکی اور سمندر اور فضا سب فساد سے بھر جائیں۔ جن قدرتی ذرائع کو خدا نے انسانیت کی تعمیر کے لیے پیدا کیا ہے، ان کو انسانیت کی تخریب میں ضائع کر دیا جائے۔ مذکورہ قاتل مزید ۲۵۰ سال تک زندہ نہیں رہ سکتا ۔ گویا انسانی عدالت ایک انفرادی مجرم کو بھی سزا دینے کی طاقت نہیں رکھتی۔ پھر جو لوگ ساری انسانی نسل پر ہلاکت کا عذاب انڈیل دیں، ان کو سزا دینا کس کے اختیار میں ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ موجودہ محدود دنیا کے بجائے ایک اور لامحدود دنیا ظہور میں آئے۔ لامحدود دنیا میں قائم ہونے والی عدالت ہی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ایسے سرکش انسانوں کو بھر پور سزا دے سکے۔

خلیج کی جنگ ۱۷ جنوری کو شروع ہوئی۔ اس وقت سے رات دن مسلسل بم باری کا سلسلہ جاری ہے۔ ہفتہ تک سارا معاملہ تقریبا یک طرفہ رہا۔ اتحادی جہاز عراق کے اوپر آگ برساتے رہے اور صدام حسین اور ان کی فوج زمین دوز بنکروں کے نیچے بیٹھی رہی۔

۳۰ جنوری کو اس میں تبدیلی آئی۔ عراق کی زمینی فوج نے اچانک پیش قدمی کر کے سعودی عرب کی سرحدی بستی الخفجی پر قبضہ کر لیا۔ اس کے فوراً بعد اتحادیوں کی زمینی اور ہوائی فوج متحرک ہوئی۔ دو دن تک "گھمسان کی لڑائی" کی خبریں آتی رہیں۔ آخر عراقی فوج کو بری طرح شکست ہوئی۔ بڑی تعداد میں عراقی کچھ گرفتار ہوئے اور کچھ اپنا سامان چھوڑ کر بھاگے۔

جنگ کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ الخفجی کی جنگ عراقیوں کے لیے الٹی پڑے گی۔ اس سے پہلے امریکہ اور اس کے ساتھی عراق کی زمینی فوج سے ڈرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ زمینی جنگ میں عراق کو زیر کرنا بہت مگر الخفجی کے تجربہ نے انہیں عراقی فوج کی کمزوریوں (weaknesses) کو بتا دیا۔ اس جزئی جنگ میں اتحادیوں نے پایا کہ عراقی فوج کا کمیونی کیشن کا نظام بہت کمزور تھا۔ اسی طرح عراقی فوجیوں میں مہارت (skill) کی بھی بہت کمی نظر آئی۔ مزید یہ کہ انہوں نے محسوس کیا کہ عراقی فوجی دل سے لڑنے پر تیار نہیں ہیں۔ عراقی فوجی لڑائی میں اتنے سخت نہیں تھے جتنا کہ خیال تھا کہ وہ ہوں گے :

...they were not as tough as we thought they might be تازہ رپورٹ کے مطابق، الخفجی کے بعد امریکی فوج کے حوصلے بہت بلند ہو گئے ہیں اور اب وہ منصوبہ بنا رہے ہیں کہ پوری طاقت کے ساتھ کویت اور عراق پر حملہ کر کے کم سے کم مدت میں عراقی فوج کو تباہ کر دیں۔ الخفجی کے واقعہ نے عراقی فوج کا بھرم ختم کر دیا۔ اب تقریبا یقینی نظر آ رہا ہے کہ عراقی فوج امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مقابلہ زمینی جنگ میں نہیں کر پائے گی اور رسوا کن شکست سے دوچار ہوگی۔ خواہ دو آدمیوں کا معاملہ ہو یا دو قوموں کا معاملہ، دھاک کی بے حد اہمیت ہوتی ہے۔ لڑ کر جیتنے والا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ خاموش بیٹھا رہے۔ نہ لڑنے سے کم از کم یہ ہوتا ہے کہ وہ فریق ثانی کے اوپر اپنی دھاک قائم رکھتا ہے، جب کہ جنگ چھڑنے کی صورت میں وہ جنگ بھی ہار جاتا ہے اور اسی کے ساتھ دشمن کی نظر میں وہ اپنی دھاک بھی کھو دیتا ہے۔

ریاض کے مشہور عربی ہفت روزہ الدعوة (۲۲ رجب ۱۱۱ھ) میں خلیج کی جنگ کے بارے میں ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے: (الحماقة سلاح ايضا (بیوقوفی بھی ایک ہتھیار ہے) اس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ مغرب کے فوجی افسروں میں سے ایک سے پوچھا گیا کہ اتحادی طاقتوں کے ہاتھ میں سب سے بڑا ہتھیار کیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ اتحادی طاقتوں کے ہاتھ میں سب سے بڑا ہتھیار صدام حسین کی بے وقوفی اور اس کا طیش اور جنون ہے۔ اور انہیں چاہیے کہ وہ اس ہتھیار سے فائدہ اٹھائیں تا کہ وہ جلد فتح حاصل کر سکیں :

سئل احد القادة العسكريين الغربيين عن ابرز الاسلحة واشدها فتكا فى يد القوات الدولية المتحالفة ـ فقال ان ابرز سلاح فى ايدى القوات المتحالفة هوغباء صدام وطيشه وجنونه وان عليهم ان يستثمروا هذا السلاح ليتمكنوا من تحقيق نصر سريع (صفحہ ۱۰)

اس پر میں یہ اضافہ کروں گا کہ کوئی بھی شخص بے وقوف نہیں ہوتا۔ مشہور قول کے مطابق، کسی چیز کے لیے بڑھی ہوئی محبت آدمی کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے (حبک الشئی یعمی ویصم) صدام حسین کی اصل کمزوری ان کا جنون عظمت ہے۔ اپنے آپ کو بڑا دیکھنے کے شوق نے ان کو مجنون بنا دیا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ ایسے اقدامات کر ڈالتے ہیں جو ان کی واقعی طاقت سے باہر ہوتے ہیں۔

۱۹۷۹ میں عراق کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد وہ مسلسل اسی قسم کی احمقانہ کارروائیاں کرتے ستمبر ۱۹۸۰ میں انھوں نے الجزائرمعاھدہ (۱۹۷۵) کو یک طرفہ طور پر منسوخ کر کے ایران پر حملہ کر دیا اور آٹھ سال تک بے فائدہ اس سے لڑاتے رہے۔ اسی طرح ۲ اگست ۱۹۹۰ کو انھوں نے اچانک کویت پر حملہ کر کے اپنے آپ کو اتنی بڑی مشکل میں پھنسا لیا جس سے نمٹنے کی طاقت ان کے اندر نہیں۔ ایمان آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے، اور جس آدمی کے اندر تواضع کی صفت پیدا ہو جائے وہ ہر قسم کی حماقتوں سے بچ جائے گا۔ وہ ایسی طاقت بن جائے گا بڑے سے بڑا دشمن بھی اس کو زیر نہ کر سکے۔ حماقت اکثر حالات میں اپنے آپ کو بڑا سمجھ لینے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ ایمان آدمی کو بڑائی کے جذبے سے بچالیتا ہے، اس لیے ایمان آدمی کو احمقانہ کارروائی سے بھی بچا لیتا ہے۔

میزائل (missile) سب سے پہلے جرمنوں نے دوسری عالمی جنگ میں استعمال کیا تھا۔ کے بعد روس اور امریکہ وغیرہ نے اس کو مزید ترقی دے کر خطرناک قسم کے دور مار ہتھیار کی حیثیت دے دی۔ یہ ایک پیچیدہ مشین ہے جس کے سرے پر دھماکا خیز چیزیں نصب ہوتی ہیں۔ اس کو لانچر کے ذریعہ دور کے نشانہ پر پھینکا جاتا ہے۔ اس کی رفتار ریڈیو کی لہروں کے ذریعہ کنٹرول ہوتی ہے۔ وہ نہایت تیز پٹاخہ کی طرح فضا میں اڑتے ہوئے مطلوبہ نشانہ پر جاکر گرتا ہے۔

جرمن ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دے کر روسیوں نے ایک خطرناک مزائل بنایا جس کو اسکڈ (Scud) کہا جاتا ہے۔ یہ اسکڈ مزائل عراق نے بڑی تعداد میں سوویت روس سے خرید کر حاصل کیے اور ان کو مزید ترقی دے کر اس قابل بنایا کہ ان کو دور کے نشانوں پر مارا جاسکے۔

عراق کے صدر صدام حسین کو اپنے اسکڈ مزائل پر بہت اعتماد تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اسکڈ کی صورت میں ان کے پاس ایسا ہتھیار ہے کہ وہ حیران کن طور پر اپنے دشمنوں پر ضرب لگا سکتے ہیں۔ خلیج کی جنگ کے دوران انھوں نے ان کو مسلسل استعمال کیا۔ تقریباً ڈیڑھ درجن اسکڈ مزائل انھوں نے اسرائیل کے شہروں (حیفہ اور تل ابیب) پر پھینکے۔ اتنے ہی اسکڈ انھوں نے سعودی عرب (ظہران اور ریاض) نیز بحرین پر پھینکے مگر عملاً ان کے اسکڈ مزائل غیر مؤثر ہو کر رہ گئے۔ کیوں کہ امریکی ”پیٹریٹ“ نے ان کو نشانہ پر پہنچنے سے پہلے مار کر گرا دیا۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ روس نے جب اسکڈ مزائل بنائے تو امریکہ نے بھی ریسرچ شروع کر دی کہ اس کا توڑ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ امریکہ نے ایک جوابی مزائل تیار کیا جس کو پیٹریٹ مزائل کہا جاتا ہے۔

مزائل میں یہ صلاحیت تھی کہ جس وقت اسکڈ اپنے لانچر سے نکل کر روانہ ہو، عین اسی وقت پیٹریٹ بھی اڑ کر تیزی سے اس کی طرف روانہ ہو، اور اسکڈ سے ٹکرا کر درمیان ہی میں اس کو ناکارہ کر دے۔ چنانچہ خلیج کی جنگ کے دوران عراق نے کئی درجحن اسکڈ مزائل استعمال کیے۔ مگر امریکی پیٹریٹ ہر بار فضا میں پہنچ کر درمیان ہی میں اس سے ٹکرا گیا اور نشانہ پر پہنچنے سے پہلے اس کو ناکارہ بنا دیا۔

نیچے کی تصویر میں دونوں مزائلوں کو عمل کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک طرف عراق سے اسکڈ مزائل روانہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف عین اسی وقت اسرائیل کے امریکی فوجی اڈہ سے پیٹریٹ مزائل اڑتا ہے اور وہ راستہ میں اسکڈ مزائل سے ٹکرا کر درمیان ہی میں اس کو برباد کر دیتا ہے۔ پیٹریٹ مزائل کے اس عمل میں مصنوعی سیارہ سے لے کر زمینی کنٹرول اسٹیشن تک نہایت پیچیدہ نظام شامل رہتا ہے۔ تاہم پیٹریٹ کی کامیابی کا خاص راز اسکڈ مزائل کی ایک کمزوری ہے۔ اسکڈ کی خود اپنی ایک کمزوری نے امریکہ کو موقع دیا کہ وہ اس کا کامیاب توڑ تیار کر سکے۔

اسکڈ جب تیزی کے ساتھ فضا میں گزرتا ہے تو وہ نہایت سخت قسم کی گرمی پیدا کرتا ہے۔ یہ گرمی اسکڈ کی پیٹریٹ فضا میں اٹھ کر اسی گرمی کا پیچھا کرتا ہے۔ پیٹریٹ میں ایسا مادہ ہوتا ہے جو گرمی کی طرف کھنچے ۔ چنانچہ وہ گرمی کی رہنمائی میں اسکڈ تک پہنچ جاتا ہے اور اس سے ٹکرا کر اس کو درمیان ہی میں برباد کر دیتا ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز کی ایک کمزوری ہے۔ ہر چیز خود اپنے ساتھ اپنا ایک توڑ لیے ہوئے ہے۔ اگر آپ اس توڑ کو جان لیں تو ہر چیز کا مقابلہ نہایت کامیابی کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ ہر مخالف چیز کو خود اسی کے ہتھیار کی مدد سے شکست دے

روزنامہ ہندوستان ٹائمز (۶ فروری) میں سعودی عرب کے سابق آئل منسٹر احمد زکی یمانی کا ایک بیان پڑھا۔ انھوں نے کہا کہ خلیج کی جنگ تیل کی وجہ سے ہے، انھوں نے سویڈش روزنامہ (Svenska Dagbladet) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں جس کے ہاتھ میں تیل کے ذرائع ہوں گے، وہی دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہوگی: ...in future the power which will have oil resources in its hands will be انھوں نے کہا کہ خلیج فارس چونکہ تیل کے عالمی ذخیرہ کا ۷۵ فی صد حصہ رکھتا ہے، خلیج میں امریکی غلبہ کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکہ اس کے ذریعہ اس قابل ہو جائے گا کہ وہ مستقبل کے بین الاقوامی حالات میں تیل کو ایٹم بم کے بدل کے طور پر استعمال کر سکے : ...because the Persian Gulf has 75 per cent of the entire resources of the مزید یہ کہ آج ہی کے اخبار میں امریکی صدر مسٹر جارج بش کا ایک بیان چھپا ہے۔ انھوں نے واشنگٹن میں کہا کہ خلیج کی جنگ امریکہ کی آخری جنگ ہوگی۔ اس کے بعد نئے عالمی نظام کی وجہ سے کوئی اور جنگ لڑنے کی ضرورت نہ رہے گی :

...the Gulf war would be America's last war. There would be no need to دور اول میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سیاسی اقتدار دیا۔ اس کے ذریعہ وہ ساری دنیا میں اسلام کا ددبہ قائم کرنے میں کامیاب رہے۔ موجودہ زمانہ میں دوبارہ اللہ کی مدد سے مسلم دنیا کے نیچے تیل کا قدرتی خزانہ نکل آیا جو صنعتی دور میں سپر پاور بنانے کا ذریعہ ہے۔ مگر آج یہ حالت ہے کہ ان کے اثاثہ کے ذریعہ دوسری قوم عالمی سپر پاور بن رہی ہے اور خود مسلمانوں کے حصہ میں مغلوبیت کے سوا اور کچھ نہیں۔ خارجی مواقع کو استعمال کرنے کے لیے داخلی طاقت درکار ہے، داخلی کمزوری کے ساتھ خارجی مواقع کو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ داخلی طاقت کے بغیر خارجی مواقع کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک شخص کا جسم ہو مگر اس سے اس کی روح نکل گئی ہو۔

قومی آواز (۸ فروری) اور دوسرے اخبارات میں یہ رپورٹ چھپی ہے کہ پاکستان کی سیاست اس وقت بحران میں مبتلا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت خلیج کے مسئلہ میں سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ ہے مگر وہاں کے عوام پر جوش طور پر صدام حسین کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے ۵ جنوری کو سارے ملک میں یومِ کشمیر منایا۔ اس کا مقصد خلیجی مسئلے سے عوام کی توجہ کو مگر حکومتی سطح پر اس کو کامیاب کرنے کی ساری کوششوں کے باوجود یوم کشمیر کامیاب نہ ہو سکا۔ یہی صورت حال زیادہ بڑے پیمانے پر عرب دنیا کی ہے۔ وہاں واضح طور پر مسلمان دو حصوں میں بٹ خواص کا ایک طبقہ سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ ہے۔ مگر عوام بالکل طوفانی انداز میں صدام حسین کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ صورت حال موجودہ زمانہ کی مسلم قیادت کی ایک بہت بڑی کمزوری کو بتاتی ہے۔ اور وہ ہے: سیاست کو حقیقت پسندانہ بنیاد پر چلانے کے بجائے جذباتی بنیادوں پر چلانا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد فلسطین کا جو مسئلہ پیدا ہوا وہ بلا شبہ ایک سنگین مسئلہ تھا، اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ تھا کہ قول اور عمل میں تناسب کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی مہم چلائی جاتی۔ مگر مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگوں نے یہ کیا کہ عملی امکانات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ بڑے بڑے الفاظ بولتے رہے۔ پچاس برس میں ان کا حال یہ رہا کہ تقریر اور تحریر کے ہر موقع پر قبلہ اول“ کے معاملہ میں لوگوں کو جذباتیت کی خوراک دیتے رہے۔ یہاں تک کہ مشرق سے مغرب تک تمام مسلم عوام فلسطین کے مسئلہ میں آخری حد تک جذباتی ہو گئے۔

موجودہ مسلمان اسی قسم کی لفظی جذباتیت پر بنی ہوئی قوم تھے۔ صدام حسین نے اسی کا فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے کہا کہ تم فلسطین کو یہودیوں سے خالی کرا دو، اس کے بعد ہم بھی کویت سے اپنی فوجیں واپس بلائیں گے“۔ صدام حسین کا یہ بیان محض ایک خوش نما نعرہ تھا، مگر مسلمان، جن کو پہلے ہی نعرہ پسند بنایا جا چکا تھا، وہ عین اپنے مزاج کے تحت اس لفظی نعرہ کی طرف دوڑ پڑے۔ سیاست کا تعمیری طریقہ یہ ہے کہ کسی معاملہ میں عوام کو ضرورت سے زیادہ حساس نہ بنایا جائے۔ جب بھی ایسا کیا جائے گا تو یہی ہو گا کہ عوام سنجیدہ معاملہ کی اہمیت کو نہیں سمجھیں گے اور جس چیز میں انھیں مبالغہ آمیز حساسیت میں مبتلا کیا گیا ہے اس کی طرف ہجوم کر کے دوڑ پڑیں گے۔

ڈاکٹر عبد الرحمن العوضی کویت کی حکومت کے ایک وزیر ہیں۔ وہ امیر کویت کے خصوصی نمائندہ کے طور پر نئی دہلی آئے۔ یہاں انھوں نے حکومت ہند کے ذمہ داروں سے ملاقات کی ۔ ۸ فروری ۱۹۹۱ کو انھوں نے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کی۔ اس کی تفصیلات آج کے اخباروں میں شائع ہوئی ہیں۔

ڈاکٹر العوضی نے اس کا اعتراف کیا کہ اس وقت مسلم دنیا میں صدام نوازی کا طوفان آیا ہوا ہے اور امریکہ کو ظالم قرار دے کر اس کی مذمت کی جارہی ہے۔ مگر اس کی وجہ سوچ کا فرق ہے۔ انھوں نے کہا کہ خلیج کی جنگ ۱۷ جنوری ۱۹۹۱ کو شروع نہیں ہوئی ۔ بلکہ وہ ۲ اگست ۱۹۹۰ سے ہی شروع ہو چکی تھی جب کہ عراق نے جارحیت کرکے کویت پر فوجی قبضہ کر لیا (قومی آواز، ۹ فروری ۱۹۹۱)

کویتی وزیر کے اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ کا آغاز صدام حسین نے ۲ اگست ۱۹۹۰ کو کیا، اس لیے ہم کو صدام حسین جارج نظر آتے ہیں۔ مسلم عوام یہ سمجھ رہے ہیں کہ جنگ کا آغاز امریکہ نے ۱۷ جنوری ۱۹۹۱ کو کیا۔ اس لیے انھیں نظر آتا ہے کہ اس معاملہ میں زیادتی امریکہ کی طرف ہے۔ اس کو میں نے پڑھا تو میں نے سوچا کہ یہ صرف خلیج کی موجودہ لڑائی کی بات نہیں ہے، یہی تمام نزاعات کی بات ہے۔ جو لوگ نزاع کے آغاز کو ”۲ اگست “سے شمار کرتے ہیں وہ ایک فریق کو ذمہ دار بتاتے ہیں، اور جو لوگ نزاع کا آغاز ،، ۱۷ جنوری “ سے کرتے ہیں ان کے نزدیک ساری ذمہ داری دوسرے فریق کے خانہ میں چلی جاتی ہے ۔

نزاع کی ہر کہانی میں پہلے عمل ہوتا ہے ، اور اس کے بعد اس کا رد عمل۔ اس طرح اس کا ایک نصف اول ہوتا ہے، اور دوسرا اس کا نصف ثانی۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس طرح کے معاملہ میں پوری کہانی کو نہیں بتاتے۔ ہر آدمی اس حصہ کو لے لیتا ہے جو اس کے موافق ہو۔ کوئی حصہ اول کو نمایاں کرتا ہے، اور کوئی حصہ ثانی کو ۔

جب بھی دو فریقوں میں کوئی ٹکراؤ یا فساد پیدا ہوتا ہے تو اس واقعہ کا ایک ”۲ اگست “ ہوتا ہے اور ایک اس کا ۱۷ جنوری “ یہ لوگ واقعہ کو ۲ اگست کے اعتبار سے دیکھتے ہیں ان کو ایک فریق غلطی پر نظر آتا ہے، اور جو لوگ واقعہ کو ۱۷ جنوری کے اعتبار سے دیکھتے ہیں ان کو دوسرا فریق غلطی پر دکھائی دیتا ہے۔ نقطہ نظر سے ” ۲ اگست “ والا فریق ہی غلط ہے، کیونکہ : البادی اظلم (آغاز کرنے والا زیادہ ظالم ہے)

پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے امن مشن کے تحت چھے مسلم ملکوں کا دورہ کیا۔ کے آخری ہفتہ میں وہ ایران، ترکی، شام، اردن، مصر اور سعودی عرب گئے۔ ہر جگہ وہ حکومت کے سربراہوں سے ملے اور خلیج کی جنگ کوروکنے کے لیے بات چیت کی۔ ہندوستان ٹائمز (۱۰ فروری) کی ایک خبر سے معلوم ہوا کہ وہ اپنے ’’گلف پیس مشن‘‘کے تحت دوسرے دورہ پر روانہ ہوئے ہیں۔ اس دورہ میں وہ الجیریا، مراکو، تیونس اور لیبیا جائیں گے۔ اس سلسلہ میں دہ اسلام آباد میں عراقی سفیر اسماعیل حمودی حسین سے بھی کئی بار مل اردن کے شاہ حسین کے ذریعہ انھوں نے اپنا پیغام صدام حسین تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستانی روز نامہ نوائے وقت (۲ فروری ۱۹۹۱) کے صفحہ اول کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ مسٹر نواز شریف نے اسلام آباد میں وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور دوسرے ممتاز سیاست دانوں سے خلیج کی صورت حال پر گفتگو کی اور اپنے ’’امن مشن‘‘کی تفصیلات سے انہیں آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ہم نے صدر صدام حسین سے صرف تین لفظوں کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک مرتبہ یہ کہہ دیں کہ آئی ول ڈڈرا (I will withdraw) تو پھر باقی کام آسان ہو جائے گا“۔ یعنی میں کویت سے اپنی فوج واپس بلا لوں گا۔

مسٹر نواز شریف کا یہ بیان صرف ان کی سادہ لوحی کا ثبوت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مذکورہ تین لفظ آئی ول ڈڈرا (I was wrong) کی بات ہے۔

اور یہ دوسرا تین لفظ ایسا ہے جس کو کہنے والا آج کی دنیا میں کوئی نہیں، حتیٰ کہ خود پاکستان کے اسلام پسند لیڈر بھی نہیں۔ ’’میں نے غلطی کی‘‘کہنا کوئی سادہ سی بات نہیں۔ یہ دراصل اپنے آپ کو رد کرنا ہے۔ یہ خود اپنی زبان سے اپنی نفی کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ جملہ کہنے کے لیے بہت بڑا حوصلہ درکار ہے۔ چونکہ لوگوں میں اتنا بڑا حوصلہ نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ اس جملہ کو اپنی زبان سے دہرانے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ آدمی جب ایک بات بول دے یا وہ ایک اقدام کر بیٹھے تو اس کے بعد وہ اس کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ اگر میں نے اپنے کو غلط کہا یا اپنے اقدام کو واپس لیا تو لوگوں کی نظر میں بے قیمت ہو جاؤں گا۔ یہ اندیشہ اس کو اعتراف سے روک دیتا ہے۔ اپنے خیالی وقار کو بچانے کے لیے وہ اپنے پورے وجود کو اور بعض اوقات پوری قوم کو تباہی کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔

عراق کے حکمران صدام حسین نے ۱۹۸۰ء میں اپنی فوجیں ایران کے اندر داخل کر دیں۔ اس وقت ان کا نعرہ تھا کہ الطریق الی القدس یمر بطہران (قُدْس کاراستہ تہران سے گزرتا ہے) مگر آٹھ سال کی باہمی لڑائی کے بعد ۱۹۸۸ء میں دونوں کے درمیان جنگ بندی ہوئی تو حال یہ تھا کہ قُدْس پر یہودیوں کا قبضہ بدستور البتہ دو مسلم ملکوں کی آپس کی جنگ میں دونوں طرف کے لاکھوں آدمی مارے گئے اور کھربوں روپے کی دولت

صدام حسین نے دوسری بار اگست ۱۹۹۰ء میں کویت پر حملہ کر دیا۔ کویت ایک بے حد چھوٹا ملک تھا، وہ اپنا بچاؤ نہ کر سکا۔ چنانچہ عراق کی فوجیں اس پر قبضہ کر کے بیٹھ گئیں۔ اس جارحانہ اقدام کے متعلق بھی دوبارہ صدام حسین کا نعرہ ہے کہ الطریق الی القدس يمر بالکویت (قُدْس کاراستہ کویت سے گزرتا ہے) دونوں بار مسلم دنیا کے بہت سے لوگ اس نعرہ کے فریب میں آگئے۔ انھوں نے صدام حسین کی حمایت کرنا شروع کر دیا۔ انھوں نے یقین کر لیا کہ صدام حسین تہران اور کویت سے ہو کر یروشلم میں داخل ہونا چاہتا ہے تا کہ قُدْس (بیت المقدس) کو آزاد کرائے۔ ان مسلمانوں میں سے کسی نے یہ نہ سوچا کہ صدام حسین کو اگر یروشلم پر قبضہ کرنا تھا تو ان کو بغداد سے سیدھے یروشلم کی طرف مارچ کرنا چاہیے تھا، انھوں نے اس مقصد کے لیے یہ ٹیڑھا راستہ کیوں اختیار کیا کہ پہلے تہران اور کویت پر قبضہ کرو، اس کے بعد یروشلم کی طرف اقدام کرو۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی بے شعوری ہے جس کی وجہ سے وہ جھوٹے نعروں کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔ اگر مسلمان ایک باشعور قوم ہوتے تو وہ صدام حسین کے جارحانہ اقدام کی کبھی حمایت نہ کرتے، مگر مسلمانوں کی بے شعوری کی وجہ سے صدام حسین کو مسلم دنیا میں اپنے بہت سے حامی مل گئے۔ اسی بے شعوری کی بنا پر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ صرف الفاظ کو جانتے ہیں، معانی کی انھیں خبر وہ باتوں کو صرف ظاہری سطح پر دیکھتے ہیں، وہ باتوں کو اندرونی سطح پر دیکھنے کی صلاحیت نہیں وہ اپنے جذبات سے واقف ہیں مگر خارجی دنیا کے حقائق کا انھیں پتہ نہیں۔ وہ سچے اقدام اور جھوٹے اقدام کا فرق نہیں جانتے۔ اور جو لوگ سچے اقدام اور جھوٹے اقدام کا فرق نہ جانیں، ان کو کوئی بھی چیز بربادی کی چھلانگ سے بچانے والی نہیں۔

اس دنیا میں "فرق" کو جاننا سب سے بڑی دانائی ہے۔ اور فرق کو نہ جاننا سب سے بڑی نادانی۔

"المجلة" ایک عربی ہفت روزہ ہے۔ وہ جدہ میں چھپتا ہے اور لندن سے شائع کیا جاتا ہے۔ شمارہ ۱۲ فروری ۱۹۹۱ میں کویت کے ایک وزیر ڈاکٹر عبد الرحمن العوضی کا انٹرویو شائع ہوا ہے۔ اس انٹرویو کے سوالات وجوابات کا تعلق خلیج کی موجودہ صورت حال سے ہے۔

المجلہ کے نمائندہ نے دکتور العوضی سے پوچھا کہ آئندہ کویت کا مستقبل داخلی اعتبار سے کیا ہوگا (كيف سيكون مستقبل الكويت داخلیّا) دکتور العوضی نے اس کا جو جواب دیا، اس کا ایک جز یہ تھا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم ماضی کے تجربہ سے سبق سیکھیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اور شاید سب سے بڑی غلطی جس میں ہم مبتلا ہوئے، وہ یہ تھی کہ ہم نے ایسے شخص کے اوپر اعتماد کیا جو اس کا مستحق نہ تھا ( ینبغی أن نتعلم من دروسنا السابقة ونستفيد منها - ولعلّ إهم خطأ وقعنا فيه هو وضع ثقتنا فى مــــن لا يستحقها) صفحہ ۳۷ کویت نے عراقی صدر کو اپنا عرب بھائی سمجھ کر ان کے اوپر اعتماد کیا اور بلینوں ڈالر کے ذریعہ ان کی مدد کی، مگر عراقی صدر نے اپنے آپ کو طاقتور بنا کر خود اپنے محسن کے اوپر حملہ کر دیا۔ چنانچہ اب کویت کے ذمہ دار اعلان کر رہے ہیں عراقی صدر بھروسہ قابل نہیں۔

مگر عجیب بات ہے کہ عین اسی وقت ساری دنیا کے مسلمانوں نے عراقی صدر کی تقریروں سے متاثر ہو کر دوبارہ ان کے اوپر سب سے زیادہ بھروسہ کر لیا ہے۔ وہ ان کو اپنا حمایتی اور اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں مسلم عوام حال میں وہی غلطی کر رہے ہیں جو کویتی حکمرانوں نے ماضی دونوں نے عراقی صدر کی باتوں کی بنیاد پر ان کے بارہ میں اپنی راے قائم کی۔ حالانکہ اصل قابل لحاظ چیز کردار ہے نہ کہ بات۔ امام مالک نے قاسم بن محمد تابعی کے بارہ میں نقل کیا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے : (أدركتُ الناس وما يعجبُون بالقول - میں نے ایسے لوگ (صحابہ) دیکھے ہیں جو قول کو کچھ بھی إنما يُنظر إلى عمله ولا يُنظَرُ إلى اہمیت نہیں دیتے تھے۔ در اصل آدمی کا عمل ا قوله ) ( موطا ، صفحہ ۷۰۲) دیکھا جائے گا، اس کا قول نہیں دیکھا جائے گا۔

کتنا زیادہ فرق ہے صحابہ کی سوچ میں اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سوچ میں۔

نوائے وقت (۱۲ فروری) میں ملک امجد حسین ایڈوکیٹ کا مضمون چھپا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ خلیج کی جنگ نے پاکستانی عوام کو جذبات کی رو میں بہا دیا۔ وہ حقائق کو ملحوظ رکھ کر فیصلہ نہیں کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک صدام حسین اسلام کے ہیرو ہیں اور انہوں نے فلسطین کے مسئلہ کو زندہ کیا ہے۔ کویت پر قبضہ کے سلسلہ میں ان کا کہنا ہے کہ کویت تو عراق ہی کا حصہ تھا۔ اس کو ۱۹۱۸ء میں انگریز نے اس سے علیحدہ کر کے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا درجہ دے دیا۔

مضمون نگار کے جواب کا ایک پیرا گراف یہ ہے: اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ انگریز نے اپنی مہلت کے تحت ۱۹۱۸ء میں کویت کو عراق سے علیحدہ کر کے ایک آزاد اور خود مختار ریاست میں تبدیل کیا تب بھی ایسا کہنا حقیقت کا تقاضا نہیں۔ اس طرح تو پاکستان بھی ہم سب سال پہلے ہندوستان کا حصہ تھا۔ والے یہ موقف اختیار کر سکتے ہیں کہ انگریز نے اپنے مفاد کے لیے اس کو ہندوستان سے کاٹ کر ایک علیحدہ ریاست بنا دیا، یہ کہ کہ وہ زبر دستی پاکستان پر قبضہ کر لیں۔ ایسا خیال تاریخی اور واقعی طور پر درست نہیں۔ اسی کا نام دہرامنطق ہے، اور دہرامنطق مسلمانوں کا خاص مزاج ہے۔ کویت پر عراقی قبضہ کے لیے وہ جس منطق کو درست سمجھتے ہیں، اسی منطق کو پاکستان پر ہندوستانی فلسطین پر یہودی قبضہ کے لیے درست ماننے پر تیار نہیں۔ لکھنو کے عربی پرچہ الرائد (یکم فروری ۱۹۹۱) نے محمد وجدی قندیل کا ایک مضمون نقل کیا ہے۔ اس کا عنوان ہے ـــــــــ خلیجی لڑائی کا ذمہ دار کون (من المسئول عن الحرب) مضمون نگار نے خلیج کی جنگ کے تباہ کن نقصانات کا ذکر کیا ہے۔ پھر وہ لکھتے ہیں کہ جنگ کی اس آگ کو بھڑکانے کا ذمہ دار کون ہے، وہ کون ہے جس نے عراق کے اوپر جہنم کے دروازے کھول دیے۔ حقائق بتاتے ہیں کہ یہ صدام حسین ہیں جو اس جنگ کا عراقی لیڈر شپ ہی اس ہیبت ناک المیہ کی ذمہ دار ہے جس کا سامنا عراق کو ہے (القیادة العراقية هي التي تتحمل المسئولية عن الماساة الرهيبة التي يتعرض لها العراق) صفحہ ۶ یہ بات اسلامی اصول کے عین مطابق ہے۔ اسلام میں سبب کو دیکھا جاتا ہے نہ کہ نتیجہ کو۔ کے معاملات خواہ جہاں بھی ہوں، صاحب سبب کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

مگر یہ سراسر اسلام کے خلاف ہے کہ آدمی ایک جگہ ایک دلیل استعمال کرے اور دوسری جگہ دوسری ایک معاملہ میں وہ ایک طریقہ کا حامی ہو اور دوسرے معاملہ میں وہ دوسرے طریقہ کی حمایت کرنے لگے۔

لندن سے شائع ہونے والے عربی المجلة (۱۳-۱۹ فروری ۱۹۹۱) میں ڈاکٹر تحسین معلا کا انٹرویو موصوف نے جامعہ بغداد میں میڈیکل تعلیم حاصل کی ہے۔ ایک زمانہ میں وہ صدام حسین کے ذاتی معالج رہ چکے ہیں۔

ڈاکٹر معلا نے جنگ کے نتیجہ میں عراق کی تباہی کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ عراقی قوم آج سخت ترین مصیبت میں مبتلا ہے۔ اور یہ بلاشبہ ہر انسان کے لیے تکلیف دہ ہے۔ مگر ان مصیبتوں کا اصل ذمہ دار انھوں نے ”اتحادی طاقتوں‘‘ کو نہیں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری تمام تر عراقی لیڈر شپ پر ہے۔ عراق صدام حسین کے جرائم کی قیمت ادا کر رہا ہے (العراق يدفع ثمن جرائم صدام حسين) صفحہ ۴۳ اسی طرح ریاض کے عربی ہفت روزۃ الدعوة (۴ فروری ۱۹۹۱) میں اس کے ”المحرر السياسي‘‘ کے قلم سے دو صفحہ کا ایک جائزہ چھپا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ جنگ کے نتیجہ میں فلسطینیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، وہ ان عرب ملکوں سے کٹ گئے جو بلیینوں ڈالر کے ذریعہ مسلسل ان کی مدد کر رہے تھے اور اپنے یہاں ان کو عزت کی جگہ دیے ہوئے تھے۔ وہ اس قسم کے تمام فوائد سے محروم ہو گئے۔ اس نقصان اور محرومی کا سبب عرب ممالک یا کوئی اور نہیں ہے بلکہ خود فلسطینیوں کی اپنی قیادت ہے۔ فلسطینی قوم نے بہت مہنگی اور بہت بھاری قیمت ادا کی ہے، اور اس کا سبب بعض فلسطینی لیڈروں کا وہ موقف ہے جو انھوں نے کویت پر قبضہ کے سلسلہ میں صدام حسین کے جرائم کی تائید کر کے اختیار کیا۔ الفلسطيني دفع الثمن غاليّاً وباهظاً بسبب الموقف الذي اتخذته بعض القيادات الفلسطينية بتاييد اجرام صدام حسين في احتلاله لدولة الكويت) صفحہ ۸ یہ نہایت صحیح بات ہے۔ مگر اس کا تعلق صرف کویت اور عراق سے نہیں ہے بلکہ ساری دنیا سے ہے۔ جگہ (بشمول ہندوستان) آج مسلمانوں کو جن مشکلات اور مصائب کا سامنا ہے، ان سب کی واحد ذمہ داری موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں پر آتی ہے نہ کہ مفروضہ ”اسلام دشمنوں‘‘ پر۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں نے، تقریباً بلا استثناء، مسلمانوں کی نہایت غلط رہنمائی کی۔ وہ ان کو جذباتی نعروں پر دوڑاتے رہے۔ اس کے نتیجہ میں خود ان لیڈروں کو تو شہرت اور مقبولیت حاصل ہو گئی۔ مگر مسلم عوام کے حصہ میں اس کے سوا کچھ نہ آیا کہ ان کی مشکلات میں مزید بے پناہ اضافہ ہو گیا۔

آج کی ڈاک سے لاہور کا ماہنامہ آئین (فروری ۱۹۹۱) ملا۔ یہ جماعت اسلامی پاکستان کی نمائندگی کرتا اس سے معلوم ہوا کہ ۲۶ جنوری کو جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس لاہور میں ہوا۔ میں خلیج کے مسئلہ سے متعلق ایک قرارداد اتفاق رائے سے منظور کی گئی۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکی خلیج کی یہ جنگ اپنے سامراجی مقاصد اور سیاسی عزائم کے لیے کر رہا ہے۔ اس کو فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ اور یہ کہ ”یہ پوری دنیا کے مسلمانوں اور امن پسند انسانوں کے دل کی پکڑ اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں اور عراق دونوں کو ضد اور ہٹ دھرمی کی روش ترک کر کے امن کی اس اپیل پر لبیک کہنا چاہیے۔ جماعت اسلامی کی یہ اپیل میرے نزدیک کھوکھلے الفاظ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔ کیوں کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا یہ ظالمانہ اقدام اپنے ذاتی انٹرسٹ کے تحت ہوا ہے، اور جہاں ذاتی انٹرسٹ کا معاملہ ہو وہاں کوئی بھی اپنی ضد کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ خود مذکورہ اپیل کرنے والے لوگ بھی نہیں۔ اس کی ایک مثال خود پاکستان کا واقعہ ہے۔ پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ضیاء الحق نے مسٹر بھٹو پر مقدمہ چلا کر عدالت سے پھانسی کا فیصلہ حاصل کیا۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اور جماعت اسلامی نے پوری طرح اس معاملہ میں جنرل ضیاء الحق کی تائید کی۔ جب مسٹر بھٹو کی پھانسی کا اعلان ہوا تو تمام دنیا کے ممالک (بشمول مسلم ممالک) نے اپیل کی کہ بھٹو کو پھانسی نہ دی جائے۔ مگر جماعت اسلامی اور جنرل ضیاء الحق نے اس عمومی اپیل کی پرواز کی اور بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ بھٹو کا زندہ رہنا ان کی اپنی سیاسی موت کے ہم معنی ہوگا۔

آج تمام لوگوں کا یہ حال ہے کہ جہاں ان کا ذاتی انٹرسٹ ہو وہاں وہ کسی کی بات نہیں سنتے۔ دوسروں کو کس طرح نصیحت کر سکتے ہیں کہ تم اپنے انٹرسٹ کو نظر انداز کر کے دوسروں کی بات سنو اور اپنے اقدام کو واپس لے لو۔ لوگوں کے پاس دوسروں کے لیے اصول ہے اور اپنے لیے مفاد۔ اس معاملہ میں لوگوں کا حال وہی ہے جو برطانی ادیب ڈبلیو ایس لینڈر (۱۸۶۷ - ۱۷۷۵) نے کہا تھا کہ ہم اصول کی بات کرتے ہیں مگر ہم مفاد پر عمل کرتے ہیں :

Printed page