We talk on principle, but we act interest.
Al-Risala, May 1991, pp. 37–40
By Maulana Wahiduddin Khan
المجلة (۱۳-۱۹ فروری) میں ایک احتجاجی جلوس (نظاھرة) کی تصویر ہے۔ یہ امریکہ میں بننے والے عراقیوں کا جلوس ہے۔ وہ مختلف تختیاں اٹھائے ہوئے سڑک پر چل رہے ہیں۔ ایک تختی پر لکھا ہوا ہے: الجالية العراقية غير مسئولة عن جرائم صدام (عراقی مہاجرین صدام کے جرائم کے ذمہ دار نہیں) رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ممالک متحدہ امریکہ میں تین ملین عرب ہیں۔ ان میں ۸۰ ہزار عراق سے تعلق ان عربوں کی دوسری نسل (بیٹوں اور پوتوں) میں اپنے قدیم وطن سے زیادہ گہرا لگاؤ نہیں مگر پہلی نسل جو عرب سرزمین میں پیدا ہوئی تھی، وہ اپنے آبائی وطن سے بہت گہرا قلبی تعلق رکھتی ہے، ایک امریکی عرب نے کہا : ھا انا اری وطنی الذی اخترتہ آج میں دیکھتا ہوں کہ جس وطن کو میں نے اختیار کیا اور و وطنی الذی ولدت فیہ یحاربان۔ جس وطن میں میں پیدا ہوا دونوں ایک دوسرے سے ھا انا اری وطن اولادی و احفادی لڑ رہے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ میرے بیٹوں اور پوتوں في حرب مع وطن آبائي و اجدادی کا وطن میرے باپ اور دادا کے وطن سے بر سر
اسی طرح عرب اصل سے تعلق رکھنے والے (نیز دوسرے ملکوں کے مسلمان) بڑی تعداد میں فرانس، برطانیہ، جرمنی وغیرہ میں آباد ہیں۔ ہر جگہ وہ اسی نفسیاتی کش مکش میں مبتلا ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں میں یہ لوگ شک کی نظر سے دیکھے جارہے ہیں۔ مقامی باشندے ان سے نفرت کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ جگہ جگہ ان کے خلاف تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب ساری دنیا میں مسلمانوں کا وہی حال ہو جائے گا جو حال ان کا ہندوستان میں ۱۹۴۷ء کے بعد ہوا ہے۔ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں یہ مسلمان عزت اور خوش حالی کی زندگی گزار رہے تھے۔ اب وہ ان ملکوں میں ذلت اور مشکلات کے درمیان رہنے پر مجبور ہوں گے۔ اس کی ذمہ داری اگر چہ وہ مغرب کی مفروضہ ”اسلام دشمنی“ کے خانہ میں ڈالیں گے مگر باعتبار حقیقت اس کی ذمہ داری خود مسلم لیڈروں کے سوا کسی اور کے اوپر نہ ہوگی۔ دورِ اول کے مسلمان دوسرے ملکوں میں دعوتِ اسلام کے لیے گئے۔ انھوں نے دوسرے ملکوں کے مسائل کو حل کیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان دوسرے ملکوں میں طلبِ معاش کے لیے گئے۔ وہ خود مسائل کا شکار ہو کر رہ گئے۔
ٹائمز آف انڈیا (۸ جنوری) کے ایڈیٹوریل کی سرخی تھی: پیکس امریکانا (Pax Americana) یعنی میڈیٹیرینین کے علاقہ میں رومیوں نے وسیع سلطنت قائم کی جو ۲۷ ق م سے لے کر ۱۸۰ء تک اس زمانہ میں رومی اقتدار کے تحت اس علاقہ میں جو سیاسی امن قائم ہوا اس کو انہوں نے پیکس رومانا سے دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی سیاست میں امریکہ کو غالب کردار ادا کرنے کا جو موقع ملا اس کی بنا پر اس عہد کو پیکس امریکانا سے تعبیر کیا جانے لگا۔ مگر اس دور میں امریکہ کے علاوہ سوویت یونین کو بھی سپر پاور کی حیثیت حاصل رہی۔ اس بنا پر پیکس امریکانا کا لقب صرف جزئی طور پر ہی امریکہ پر صادق آتا تھا۔ مکمل طور پر بدل گئے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا نے اپنے مذکورہ ایڈیٹوریل میں بالکل درست طور پر لکھا ہے کہ دو طاقتی دنیا کا نظام جس کو سرد جنگ نے پیدا کیا تھا وہ نومبر ۱۹۸۹ میں دیوارِ برلن کے ساتھ ڈھ گیا۔ کھنڈر سے ایک واحد طاقتی دنیا کا نظام ابھرنا شروع ہو گیا تھا۔ خلیجی جنگ نے اس عمل کو حیران کن رفتار کے ساتھ تیز کر دیا ہے :
The bi-polar world order created by the Cold War collapsed along with the Berlin Wall in November 1989. A more and more uni-polar world began to emerge from the rubble. That process has now accelerated with dizzying speed. (p. 1)
آج ٹائمز آف انڈیا (۷ فروری) میں فرانسیسی مورخ (Amaury de Riencourt) کا انٹرویو وہ کہتے ہیں کہ صدیوں کے تاریخی عمل اور امریکہ کی غیر معمولی مادی ترقی جس طرف جا رہی ہے وہ یہی ہے کہ آنے والا دور پیکس امریکانا کا دور ہو۔ یہ امریکہ کا شاہانہ مقدر ہے کہ وہ بیسویں صدی کا روم بنے : It is America's imperial destiny to be the Rome of the twentieth cen- tury (p. 12). یہ بات بطور واقعہ درست ہے۔ اب مسلمانوں کے لیے دانش مندی یہ ہے کہ وہ امریکہ کی سیاسی چٹان سے اپنا سر نہ ٹکرائیں۔ بلکہ اسلام کے دعوتی مشن کو لے کر اٹھیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو عین ممکن ہے کہ دورِ امریکہ مستقبل میں دربارِ اسلام بن جائے۔ کوئی بھی غلبہ دعوتی مواقع کو ختم نہیں کرتا۔ اور جہاں دعوتی مواقع موجود ہوں وہاں گویا وہ سب کچھ موجود ہے جس کی اسلام کو ضرورت ہے۔
ہندوستان ٹائمز (۸ فروری) میں ایک خوش کن خبر شائع ہوئی ہے ۔ واشنگٹن کی ڈیٹ لائن کے ساتھ چھپنے والی اس خبر کا عنوان ہے۔ خلیج کی جنگ کے بعد کسی بھی منصوبہ میں انڈیا اپنا رول چاہتا ہے: India wants a role in post-war plan خبر میں بتایا گیا ہے کہ نئی دہلی کی ہدایات کے تحت امریکہ کے ہندستانی سفیر مسٹر عابد حسین امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ (دفار پولیٹیکل افیرس) مسٹر رابرٹ کیمٹ (Robert Kimmit) سے ملے۔ ہندستانی سفیر نے امریکی حکومت سے یہ درخواست کی کہ جنگ کے بعد ویسٹ ایشیا کی بحالی کا جو نقشہ بنایا جائے، اس میں انڈیا کی رائے کو بھی شریک کیا جائے ۔ علاقہ کی تعمیرِ نو کے پراسس میں انڈیا کا بھی بطور ایک پارٹنر شامل کیا جانا ضروری ہے۔
ہندستانی سفیر نے مسٹر کیمٹ سے کہا کہ انڈیا جیسا ایک ملک اس علاقہ میں نہایت اہم رول ادا کر سکتا ہے۔ اور امریکہ کو چاہئے کہ وہ انڈیا کی ترقی میں مزید بہت زیادہ دلچسپی لے : A country like India in the subcontinent has to play an extremely important role, and the US have got to take a lot more interest in India's development. (p. 12)
موجودہ حالت میں یہ درخواست محض نادانی کی ایک خواہش ہے جو کبھی پوری ہونے والی نہیں۔ اخبار کے صفحہ اول پر یہ خبر ہے کہ خلیج کے لئے جانے اور آنے والے امریکی ایرفورس کے ٹرانسپورٹ جہازوں کو بمبئی اور مدراس کے ایرپورٹ پر دوبارہ تیل لینے کی سہولت (refuelling facility) دی جا رہی لیکن ہندوستان کے سیاسی لیڈروں نے اس پر شور مچایا۔ چنانچہ حکومت ہند نے اس سہولت کو بند کر دیا ۔ جس عمل میں انڈیا قیمتِ تیل دینے کے بقذر بھی شریک نہ ہو، وہ اس عمل کے بعد اس کے انجام کی تشکیل میں کیسے شریک ہو سکتا ہے۔
اس دنیا کا اصول یہ ہے کہ جو لوگ جوکھم کو برداشت کریں، وہی جوکھم کے بعد آنے والے نتیجہ کے مالک ہوں ۔ موجودہ دنیا میں یہ ناممکن ہے کہ جو کھم کوئی اور اٹھائے اور اس کا نتیجہ کسی دوسرے کو مل جائے ۔ اس قسم کی خوش فہمی صرف ایک سادہ لوح انسان کے ذہن میں جگہ پا سکتی ہے، اس کے باہر ایسی خوش فہمی کا کوئی وجود نہیں ۔
ٹائمس آف انڈیا (۱۹ فروری) کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ بحرین کے ایک انٹرنیشنل ہوٹل میں ایک لطیفہ مشہور ہورہا ہے کہ ایک پیٹریٹ روزانہ استعمال کرو اور اسکڈ کو دور بھگاؤ :