Al-Risala · May 1991

A Patriot a day keeps Scuds away

Al-Risala, May 1991, pp. 40–44

By Maulana Wahiduddin Khan

سوویت یونین نے اسکڈ کے نام سے خطرناک قسم کے دور مار میزائل بنائے۔ عراق نے ان کو بڑی تعداد میں خرید کر اپنے یہاں جمع کر لیا۔ عراق کے لئے ان کی حیثیت بے پناہ ہتھیار کی تھی۔ ان کے ذریعہ وہ سعودی عرب اور دوسرے عرب ملکوں پر قیامت ڈھادیتا۔ اس نے ظہران اور ریاض وغیرہ پر بہت سے اسکڈ مگر یہ شہر تباہی سے بچ گئے ۔ اس کی وجہ امریکہ کے پیٹریٹ میزائل تھے جنہوں نے فضا ہی میں عراقی اسکڈ سے ٹکرا کر انھیں تباہ کر دیا۔

سوویت یونین نے جب اسکڈ بنائے تو امریکہ نے اس کے اس اہم فوجی راز کو دریافت کیا اور اس کا توڑ تیار کرنے کے لئے ریسرچ شروع کر دی ۔ اسی ریسرچ کا نتیجہ پیٹریٹ تھے ۔ اسکڈ جب آواز سے چھ گنا زیادہ تیز رفتار کے ساتھ فضا میں اڑتا ہے تو پیٹریٹ فوراً ہی اس کا پتہ کر لیتا ہے ۔ چنانچہ جس وقت اسکڈ اپنے لانچر سے نکل کر نشانہ کی طرف چلتا ہے، عین اسی وقت پیٹریٹ بھی مخالف سمت سے اس کی طرف روانہ ہو جاتا وہ پیچھا کر کے اسکڈ سے ٹکرا جاتا ہے اور اس کو نشانہ پر پہنچنے سے پہلے برباد کر دیتا ہے۔ امریکہ کی سازش اور دریسہ کاری نہیں، بلکہ اس کی اسی قسم کی صلاحیت ہے جس نے اس کو خلیج میں آنے کا موقع دیا ہے۔ عربوں کے پاس عراقی اسکڈ کا کوئی توڑ نہ تھا ۔ اس لئے وہ مجبور تھے کہ امریکہ کو دعوت دیں۔ حتی کہ اسی ٹائمس آف انڈیا میں واشنگٹن پوسٹ کے حوالہ سے یہ خبر چھپی ہے کہ آٹھ عرب ملک (مصر، شام، سعودی عرب، کویت، بحرین، عمان، قطر، عرب امارات) ابھی سے نقشہ بنا رہے ہیں کہ پندرہ بلین ڈالر سے ایک فنڈ قائم کریں اور امریکہ سے کہیں کہ جنگ کے خاتمہ کے بعد بھی اس کی بحری اور فضائی فوجیں عرب کے آفاق کے اوپر (over the horizon) محسوس طور پر باقی رہیں تاکہ عرب ملکوں کے لئے بعد کو دوبارہ کوئی سیاسی مسئلہ پیدا نہ ہو سکے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اصل کمزوری ان کی وسائل سے جب تک اس کمی کو دور نہ کیا جائے اسلام دشمنوں کی سازش اور دریسہ کاری کے خلاف احتجاج کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ایسی باتیں صرف جھنجھلاہٹ کو بڑھاتی ہیں ، وہ مسئلہ حل نہیں کرتیں ۔

ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (۷ فروری ۱۹۹۱) کے موضوع الغلاف کا عنوان تھا کہ خاتمہ قریب آگیا (النھایۃ تقترب) اسی طرح المجلة (۲۷ فروری) کی کور اسٹوری کا عنوان ہے: معرکة تحریر الکویت : الفصل الاخير ۔ ٹائم جس پر ۲۵ فروری کی تاریخ چھپی ہوئی ہے ۔ وہ حسبِ قاعدہ پیشگی طور پر مجھے آج ملا۔ اس کی کور اسٹوری خلیج کی جنگ ہے اور اس کا عنوان بھی یہی قائم کیا گیا ہے کہ خاتمہ کا آغاز : Beginning of the end اتحادی طاقتوں کی رات دن کی مسلسل بمباری نے عراق کی دو تہائی فوجی طاقت برباد کر دی۔ عراق کے شہر اور اس کے بیشتر اہم مقامات کھنڈر ہوگئے ۔ صدام حسین جو آخری فتح سے پہلے نہ رکنے کی باتیں کرتے تھے، وہ اب جنگ بندی کی پیش کش کر رہے ہیں ۔ ہولناک جنگ کے یک طرفہ خاتمہ کا آغاز شروع ہو چکا ہے۔ ٹائم کے مذکورہ شمارہ میں عراق کی تباہی کی دردناک تصویریں ہیں۔ ایک تصویر میں ایک عراقی عورت اپنے تباہ شدہ مکان کے طاقہ پر سر پکڑتے ہوئے بیٹھی ہے۔ ایک تصویر میں مردہ عراقیوں کی لاشیں ٹرکوں میں لاد کر لے جائی جا رہی ہیں۔ ایک تصویر میں ایک وسیع کھنڈر کے اوپر بیٹھی ہوئی دو عورتیں رو رہی ہیں۔ ایک اور بڑے کھنڈر کے اوپر ایک عراقی مایوسی اور نامرادی کی حالت میں دکھائی دے رہا ہے۔ کسی تصویر میں پل ٹوٹے ہوئے ہیں کسی میں بڑی بڑی بلڈنگیں منہدم صورت میں نظر آرہی حقیقت یہ ہے کہ عراق کی یہ تباہی ۱۲۵۸ء میں تاتاریوں کے ہاتھوں ہونے والی تباہی سے ہزاروں گنا زیادہ سخت ہے۔

۳۰ اکتوبر ۱۹۹۰ کو ہندو فرقہ پرست بابری مسجد (ایودھیا) کی چہار دیواری توڑ کر اندر داخل ہوگئے اور اس کے گنبدوں پر بھگوا جھنڈا لہرادیا۔ ملک میں وسیع پیمانہ پر فسادات پھوٹ پڑے ۔ اسی کے ساتھ خلیج میں دشمنِ اسلام امریکہ کی فوجیں بہت بڑی تعداد میں جمع ہوگئیں ۔ اب سارے ملک میں "قنوتِ نازلہ" پڑھی جانے لگی ۔ مسلمان ہر طرف اللهم دمر ديارهم کی بد دعا کرنے لگے اور تمام اکابر واصاغر نے اس پر آمین کہنا شروع کر دیا۔ یہ بددعا تمام مساجد اور تمام اجتماعات میں جاری تھی ۔ مگر ۱ جنوری ۱۹۹۱ کو جب خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا تو " تدمير ديار" کا عمل کافروں کے بجائے خود مسلمانوں کے اوپر ہو رہا تھا حقیقت یہ ہے کہ اب وہ آخری وقت آگیا ہے کہ مسلمان احتجاج غیر کا طریقہ چھوڑ دیں اور احتساب خویش کا طریقہ اختیار کریں ۔

سعودی عرب کے شاہ فہد اور کویت کے امیر الصباح کی دعوت پر امریکہ اور دوسرے ۲۸ مغربی ملکوں کی فوجیں تقریباً پانچ لاکھ کی تعداد میں خلیج کے علاقہ میں جمع ہیں اور عراقی صدر صدام حسین کے خلاف تباہ کن جنگ میں مصروف ہیں۔ صدام نواز مسلمان ساری دنیا میں اس پر سخت اعتراض کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے مسلم اخبارات میں اس قسم کی سرخیاں نظر آتی ہیں : اسلام عیسائیت کی چوکھٹ پر۔ حکمرانوں نے کافروں کو سرزمین حرم میں داخل کر دیا، وغیرہ۔

سعودی حلقہ اس بارہ میں مختلف نقطہ نظر رکھتا ہے۔ ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوة (۳۱ جنوری) میں اس سلسلہ میں الشیخ ابن باز کا فتویٰ چھپا تھا۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ مسلم حکمرانوں کے لئے اس میں کوئی شرعی نقصان نہیں کہ وہ غیر اسلامی حکومتوں سے مدد لیں جب کہ انہیں ایسی مدد کی ضرورت ہو (صفحہ ۷۔ ۸)، الدعوة (۲۱ فروری) میں دوبارہ الشیخ ابن باز کا مفصل مضمون چھپا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ غیر مسلموں سے مدد لینا جائز ہے جب کہ ظالم دشمن کو ہٹانے اور اس کو ہلاک کرنے اور بلا د اسلامی کو اس کے شر سے بچانے کے لئے ضروری ہو، خواہ وہ غیر مسلم یہودی ہو یا عیسائی یا بت پرست۔ (سوار کان المستعان بہ یہودیا او نصرانیا او وثنیا، صفحہ ۲۱)

اصولی طور پر یہ بات درست ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطالب، مطعم بن عدی، عبداللہ بن ارقط وغیرہ سے مدد لی اور یہ سب غیر مسلم تھے۔ الشیخ ابن باز نے جو دلیل دی ہے یہی دلیل ہندوستان کے علماء نے ۱۹۴۷ء کے پہلے دی تھی جب کہ انھوں نے تحریک حریت میں غیر مسلموں کو اپنے ساتھ مگر سوال یہ ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں سے تعاون لیا تو اس کا نتیجہ اسلام کے غلبہ کی صورت میں نکلا۔ جب کہ علماء ہند کے تعاون کا نتیجہ اس کے برعکس برآمد ہوا۔ طرح یقینی ہے کہ خلیج کی جنگ کا سب سے بڑا فائدہ اسرائیل اور مغربی طاقتوں کو پہنچے گا اور سب سے بڑا نقصان عراق کو اور پھر مختلف انداز میں ساری مسلم دنیا کو۔

مدد کس کے لئے مفید ہوگی، اس کا انحصار اس پر ہے کہ مدد لینے سے پہلے کس نے اپنی بنیاد بنائی ہے ۔ دور اول کے مسلمان خود اپنی مضبوط بنیاد پر کھڑے ہوئے تھے ۔ اس لئے مدد کا فائدہ ان کے حصہ میں آیا۔ موجودہ مسلمانوں کی اپنی کوئی بنیاد نہیں، اس لئے مدد کا فائدہ بھی ان کو نہیں ملتا۔

امریکی کی زیر قیادت اتحادی فوجوں نے ۱ جنوری کو عراق پر بمباری کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ وہ عراق کی فوجی اور اقتصادی طاقت کو تقریباً توڑ چکے ہیں۔ اندازہ کے مطابق جلد ہی وہ زمینی حملہ شروع کر دیں گے جو یقینی طور پر چند دن سے زیادہ نہیں رہے گا۔ عراق کے لئے اس کے سوا کوئی صورت نہ ہوگی کہ وہ ذلت کے ساتھ ہتھیار ڈال دے (اتحادی فوجوں نے ۲۴ فروری ۱۹۹۱ء کو زبردست زمینی حملہ کر کے عراقی فوجوں کا قتل عام شروع کر دیا)

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مقیم عراقی سفیر نے کہا ہے کہ خلیج کی جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سوویت روس اب سپر پاور نہیں رہا۔ وہ بڑی طاقت کی حیثیت سے ختم ہو چکا ہے۔ انھوں نے شکایت کی کہ روس اس جنگ میں امریکہ سے یا اقوام متحدہ سے ہمارے موافق کوئی تجویز منوانے میں کامیاب نہیں ہو رہا ہے۔ عراق روس کو اپنا سب سے بڑا دوست سمجھتا تھا، مگر روس عراق کے کچھ کام آتا ہوا نظر نہیں آتا۔ لیکن عراقی سفیر کو روس کے دیوالیہ پن کے بجائے خود عراقی لیڈروں کے دیوالیہ پن کا شکوہ کرنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ روس اور امریکہ نے جون ۱۹۹۰ میں باقاعدہ طور پر سرد جنگ کے خاتمہ کا اعلان کر دیا تھا۔ عراقی لیڈروں نے اس اعلان کی حقیقت نہیں سمجھی۔ اس کے بعد انھوں نے اگست ۱۹۹۰ میں کویت پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ عراقی لیڈروں کی کارروائیاں بتاتی ہیں کہ وہ یقین کئے ہوئے تھے کہ اس جنگ میں روس ان کی طرف سے کود پڑے گا جس طرح سرد جنگ کے زمانہ میں روس اور امرکر ایک دوسرے کے خلاف کود پڑتے تھے۔ مگر روس کسی بھی درجہ میں عراق کی کوئی مدد نہ کر سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرد جنگ کا خاتمہ دونوں قوموں کے لئے برابری کا معاملہ تھا۔ وہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ روس نے امریکہ کے مقابلہ میں سپر پاور کی حیثیت کھودی ہے۔ مگر عراقی اپنی خوش فہمی کی بنا پر اس کو سمجھ نہ سکے۔ عراقی لیڈر کہہ رہے ہیں کہ اصل جنگ تو زمینی جنگ ہے۔ زمینی جنگ شروع ہوگی تو ہم یہاں کے صحرا کو۔ امریکیوں کا قبرستان بنا دیں گے۔ مگر یہ محض بے خبری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں جنگ کا فیصلہ فضا میں ہوتا ہے اور فضا کی جنگ امریکہ جیت چکا ہے۔ اب زمینی جنگ صرف اختتامی کارروائی کے ہم معنی ہوگی نہ کہ نئی جنگ شروع کرنے کے ہم معنی۔ خوش فہمی کے گنبد میں رہنا آسان ہے۔ مشکل صرف یہ ہے کہ حقائق کا بے رحم ہاتھ جب اس کو توڑتا ہے تو گنبد تو درکنار آدمی کے قدموں کے نیچے کی اینٹ بھی نہیں ہوتی جہاں وہ اپنے آپ کو کھڑا کر سکے۔

صدام حسین ، اجنوری سے پہلے ، اور پھر جنگ شروع ہونے کے ابتدائی دنوں میں بڑی بڑی باتیں کرتے تھے۔ مگر امریکہ کی زیر قیادت اتحادی طاقتوں (allied forces) نے مسلسل بمباری سے عراق کی فوجی طاقت توڑ دی۔ پہلے وہ کسی بھی حال میں کویت سے اپنا قبضہ ہٹانے پر راضی نہیں تھے ۔ اعلان کر چکے تھے کہ کویت اب ہمیشہ کے لئے عراق کا ۱۹ واں صوبہ بن چکا ہے ۔ مگر اب وہ بلا شرط کویت سے اپنی فوجیں واپس بلانے پر رضامندی کا اعلان کر رہے ہیں ۔ آج اخبارات کے صفحہ اول کی پہلی خبر ان کا یہی اعلان ہے جو انھوں نے سوویت روس کے واسطے سے کیا ہے ۔ ہندوستان ٹائمس (۲۳ فروری) کے پہلے صفحے کی جلی سرخی یہ ہے کہ عراق غیر مشروط واپسی پر رضامند :

Printed page