Iraq agrees to unconditional pull-out
Al-Risala, May 1991, pp. 44–49
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر اسی کے ساتھ دوسری سرخی یہ ہے کہ امریکہ نے قیام امن کی عراقی پیش کش کو رد کر دیا ہے ۔ (US rejects peace offer) ۱۷ جنوری سے پہلے جب کہ جنگ شروع نہیں ہوئی تھی ، امریکہ کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ عراق اپنی فوجوں کو کویت سے واپس بلائے ۔ شاہ فہد نے اعلان کیا تھا کہ اگر صدام حسین کویت کو خالی کر دیں تو ان سے دوبارہ برادرانہ سلوک کیا جائے گا اور ان کی ہر طرح مدد کی جائے گی ۔ اس وقت صدام حسین نے بے نیا زانہ طور پر اس کو رد کر دیا ۔ اب باری امریکہ اور اس کے حلیفوں کی ہے ۔ اب جبکہ عملاً وہ جنگ جیت چکے ہیں ، اب وہ صدام حسین کو کچپنے سے کم کسی چیز پر راضی ہونے والے نہیں ۔ صدام حسین کا موجودہ جھکاؤ صرف ان کی نادانی کو ظاہر کرتا ہے ۔ دانش مند آدمی جو کچھ کرتا ہے وہی بیوقوف آدمی بھی کرتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ دانش مند آدمی تباہی سے پہلے کرتا ہے اور بیوقوف آدمی تباہی دیکھنے کے بعد۔ اسی لئے فارسی شاعر نے کہا ہے کہ آدمی ایسا اقدام کیوں کرے جس کا نتیجہ شرمندگی ہو: چرا کارے کند عاقل که باز آید پشیمانی اقدام وہ ہے جو کسی حقیقی نتیجہ تک پہنچے ۔ جو اقدام صرف بر بادی پر ختم ہو وہ خودکشی کی چھلانگ ہے نہ کہ کوئی واقعی اقدام ۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما تقریباً سب کے سب اسی قسم کے جھوٹے اقدام میں مشغول نظر آتے ہیں ۔ ان کے غیر حقیقت پسندانہ اقدامات نے مسلمانوں کو کچھ فائدہ تو نہیں پہنچایا۔ البتہ ان کی بربادی میں مزید اضافہ کر دیا ۔
ٹائم میگزین (۴ فروری) میں ایک رپورٹ چھپی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ میں کچھ لوگ ہیں جو خلیج کی جنگ میں شریک ہونا نہیں چاہتے۔ افریقی امریکن (سیاہ فام)، جو سفید فام نسل سے نفرت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہ سفید فام لوگوں کی برتری قائم کرنے کی جنگ ہے۔ اس لئے ہم کو اس میں شریک نہیں کیا جانا چاہئے (صفحہ ۳۹)۔ یہی معاملہ امریکی مسلمانوں کا ہے۔ ان کے نزدیک امریکہ ایک اسلام دشمن ملک ہے۔ جنگ کو کافر اور مسلم کی جنگ سمجھتے ہیں۔ اس لئے وہ بھی جنگ میں شرکت کے خلاف ہیں (ٹائمز آف انڈیا ۱۳ فروری، صفحہ ۶)
ٹائم (۲۵ فروری) میں کوریا کے ایک شہری ڈیوڈ اسکاٹ (David E. Scott) کا خط اس کے جواب میں چھپا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکی شہریت اختیار کرنے کے بعد کسی شخص کے لئے ایسا کہنا درست نہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ میرا ایک لڑکا امریکی ہے۔ یہ واقعہ کہ وہ کوریا میں پیدا ہوا تھا، اس سے اس کی یہ ذمہ داری ختم نہیں ہوتی کہ وہ اس ملک کا دفاع کرے۔ اگر آپ فائدوں کو قبول کریں تو آپ کو ذمہ داریوں کو بھی قبول کرنا ہوگا :
My son is an American. The fact that he was born Korean does not in any way diminish his responsibility to defend this country. If you accept the benefits you must also accept the responsibilities (p. 8)
میں سمجھتا ہوں کہ کوریا کے مراسلہ نگار نے جو بات کہی ہے وہ عین درست ہے۔ جب آپ ایک ملک کے شہری بنیں اور اس کی مطلق وفاداری اور اس کے دفاع کا عہد کریں تو آپ کی ذمہ داری ہو جاتی ہے کہ خارجی وفاداریوں کو ترک کر کے صرف اس کے وفادار بنیں اور بوقت ضرورت اس کی طرف سے لڑیں ۔ کسی شخص کو یہ حق تو ہے کہ وہ ایسے ملک سے اپنی شہریت کو ختم کر دے اور وہاں سے ہجرت کر جائے مگر شہری رہتے ہوئے ایسا کرنا درست نہیں۔
یہ نہایت سطحیت اور گراوٹ کی بات ہے کہ آدمی فائدہ کو تو لے لے، مگر وہ ذمہ داریوں کو لینے کے لئے تیار نہ ہو۔ ذمہ داریوں کو اٹھانا ہی وہ قیمت ہے جس سے فائدوں کو لینے کا استحقاق پیدا ہوتا ہے: اگر کوئی شخص ذمہ داریوں کو اٹھانے سے انکار کرے تو فائدوں کو لینے کے لئے بھی اس کا استحقاق ختم ہو جائے گا۔
ریڈرس ڈائجسٹ (فروری 1991) نے چھ صفحہ کی ایک رپورٹ چھاپی ہے اس کے لکھنے والے مسٹر فلک (Rachel Flick) ہیں۔ اس میں تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ مغرب نے کس طرح صدام حسین کو بیوقوف بنا کر عراق کی دولت کو لوٹا۔ عراق کا تیل اور اس کی ۵۵ بلین ڈالر کی سالانہ آمدنی کا بیشتر حصہ مغربی ملکوں کو پہنچتا رہا۔ پچھلے ۲۰ سال سے عراق بیرونی فوجی ہتھیاروں کی خریداری پر ۱۴۱ ہزار ملین ڈالر سالانہ خرچ کرتا رہا ہے۔ مغربی ٹھیکیداروں کے ذریعہ صدام حسین نے اپنی ایرفورس کے لئے بے شمار نہایت مہنگے انڈر گراؤنڈ بیس تیار کرائے۔ صدام حسین کو عرب لیڈر بننے کا جنون تھا۔ اس جنون کو مغرب نے استعمال کیا۔ اس نے عراق سے سستاتیل خریدا اور اس کو نہایت مہنگے ہتھیار فروخت کئے ۔ اس طرح یہ خود مغرب ہے جس نے صدام حسین کو اپنے تجارتی اغراض کے لئے مسلح کیا۔ اسی کے ساتھ اس کا ایک سیاسی مقصد بھی تھا۔ مغرب یہ سمجھتا تھا کہ عراق اپنی فوجی طاقت کو ایران کے خلاف استعمال کرے گا، وہ اس کے دشمن کے خلاف ہتھیار ثابت ہو گا۔ مگر صدام حسین کو اپنے ڈکٹیٹرانہ مزاج کی وجہ سے حقائق کی بالکل خبر نہ تھی۔ انھوں نے ایران پر حملہ اور کویت پر حملے کے فرق کو نہیں سمجھا۔ ایران پر حملہ مغرب کو عین مطلوب تھا مگر کویت پر حملہ مغرب کے لئے عین غیر مطلوب تھا، کویت پر حملہ کر کے صدام حسین نے خود مغرب کے مفاد پر حملہ کر دیا۔ چنانچہ سارے مغرب نے متحدہ طور پر طے کیا کہ صدام حسین کو کچل دیا جائے ۔
مذکورہ مضمون میں لندن کے پروفیسر کوپٹز (Hans-Heino Kopietz) کا تبصرہ نقل کیا گیا ہے انھوں نے کہا کہ ہم نے (مغربی حکومتوں نے) اس معاملہ میں اپنی آنکھیں بند کر لیں اس لئے کہ اس سے ہم کو تجارتی فائدہ تھا۔ اور اس لئے کہ صدام ایران کے خلاف ہمارے لئے ایک مفید حربہ تھے۔ ایسا عفریت ہے جس کو خود مغرب نے پیدا کیا:
We closed our eyes because some business wanted to make money and because Saddam was a useful tool against Iran. Saddam is a Fran- kenstein monster that the West created. (150)
صدام اگر قومی تعمیر کا منصوبہ بناتے ۔ وہ مغرب کے ذریعہ اپنی زراعت اور صنعت کو ترقی دیتے ۔ وہ لوگوں کو تعلیم یافتہ بناتے تو عراق کا مستقبل اس سے مختلف ہوتا جو آج وہاں دکھائی دے رہا ہے۔
قومی آواز (۲۶ فروری) میں خلیج کی جنگ کے مابعد اثرات کے بارے میں ایک جائزہ شائع ہوا ہے۔ ایک پیرا گراف یہ ہے: نئی دہلی کے ایک سعودی ڈپلومیٹ نے اس نامہ نگار سے گفتگو کے دوران عالمی مسلم رائے عامہ میں تبدیلی پر انتہائی برہمگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمہ پر سعودی عرب دنیا کی مختلف سرکردہ مسلم جماعتوں اور تنظیموں کے متعلق اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے گا۔ کیوں کہ یہ تمام جماعتیں اور تنظیمیں سعودی موقف کے حق میں عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں (صفحه)
سعودی عرب نے تمام دنیا کی مسلم جماعتوں کو غیر معمولی مالی امداد دی۔ مگر خلیج کے بحران کے زمانہ میں تقریباً ہر ملک کے مسلم عوام سعودی عرب کو چھوڑ کر صدام حسین کے حامی بن گئے، حالانکہ اس معاملہ میں سعودی عرب کی حیثیت دفاع کرنے والے کی تھی اور صدام حسین کی حیثیت جارج اور ظالم کی۔ اس کی وجہ مسلم رہنماؤں کی جذباتی سیاست ہے۔ ان رہنماؤں کا مفاد اس میں تھا کہ وہ عوام کی بھیڑ جمع کریں تاکہ عرب ملکوں کی نظر میں ان کی یہ حیثیت قائم ہو کہ مسلم عوام ان کے ساتھ ہیں۔ مسلم رہنماؤں کا یہ قيادتی تقاضا انھیں اس طرف لے گیا کہ وہ جذباتی نعروں کا استعمال کریں۔ کیوں کہ عوام کی بھیڑ صرف جذباتی نعروں پر ہی جمع کی جاسکتی تھی۔ انھوں نے فلسطین کے ایشو کو خوب بڑھا چڑھا کر عوام کے سامنے پیش کیا۔ زبان و قلم کی ساری طاقت یہ ثابت کرنے پر لگادی کہ امریکہ سب سے بڑا اسلام دشمن ہے۔
اس طرح مسلمانوں کے جذبات اسرائیل کے بارہ میں اور امریکہ کے بارہ میں شدت کے ساتھ بھڑک اٹھے۔ وہ اس معاملہ میں آخری حد تک حساس ہو گئے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ صدام حسین سب سے بڑے دشمنِ اسلام (امریکہ) کو چیلنج کر رہا ہے۔ وہ ظالم اسرائیل پر اسکڈ میزائل مار رہا ہے۔ اور اسرائیل کے سربراہ ن سے کہہ رہا ہے کہ ہوش میں آ جاؤ۔ کیوں کہ سلطان صلاح الدین ایوبی دوباره زندہ ہو گیا ۔ صدام حسین کے یہ الفاظ مسلمانوں کی موجودہ نفسیات کے اعتبار سے بالکل جادو ثابت ہوئے۔ انھیں دکھائی دیا کہ سعودی عرب اسلام کے دشمن نمبر ایک کا ساتھ دے رہا ہے اور صدام حسین اسلام کے دشمن نمبر ایک کو سمندر میں غرق کرنے کا نعرہ لگا رہا ہے، تو وہ اپنی مذکورہ نفسیات کی بنا پر سعودی عرب کو چھوڑ کر صدام حسین کی طرف دوڑ کسی مسئلہ پر قوم کو غیر متناسب حد تک حساس بنانا شخصی قیادت کے لئے بہت کارآمد ہے۔ مگر خود قوم کے لئے وہ تباہ کن حد تک غیر مفید ہے۔
المجلة (۲۷ فروری ۱۹۹۱) میں ڈاکٹر علی الدین ہلال (مدیر مرکز الدراسات السیاسیة بجامعة القاھرۃ) کا مضمون چھپا ہے۔ یہ خلیجی بحران کے اسباب کے بارے میں ہے ۔ اس کا عنوان ہے : فلنتبر الاسباب ونحن في قلب العاصفۃ ۔
وہ لکھتے ہیں کہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم معاملات کو محض ان کے ظاہری پہلو کے اعتبار سے دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں ۔ اور جڑ کی اور گہرائی کی باتوں پر غور نہیں کرتے ۔ ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس عقل سے مسلح کریں جو ہم کو اس قابل بنائے کہ ہم خلیج اور اس کی قوموں کے مسائل کا مقابلہ زیادہ گہرے انداز میں کر سکیں (اننا ناخذ الامور عادة بمظاھرھا ولانبحث فی الجذور والاعماق ........ والمطلوب منا جميعا ان نتسلّح بالعقل الذی یمکننا من مواجھۃ مشاكل المنطقة وشعوبھا بشكل جوھری و جذری (صفحہ ۲۳)
اصولاً یہ بات نہایت اہم ہے۔ مگر موجودہ شکل میں وہ بالکل بے فائدہ ہے۔ قوم کے اندر مطلوبہ عقل پیدا کرنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ تنقید کی کھلی آزادی ہو۔ تنقید سے میری مراد المجد کے مذکورہ مضمون جیسی عمومی تنقید نہیں بلکہ متعین اور مشخص تنقید ہے ۔ اور موجودہ مسلمانوں کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض چیز یہی تنقید ہے ۔ جب تک متعین اور مشخص تنقید کے بارہ میں مسلمانوں کی غیر ضروری حساسیت کو ختم نہ کیا جائے ، ان کے اندر عقلی بالیدگی پیدا ہونا ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر خلیج کے معاملہ کو لیجئے ۔ اس کی جڑ یہ ہے کہ آج پوری مسلم دنیا میں یہ مزاج بن گیا ہے کہ ظالمانہ کارروائی کی زد غیر پر پڑے تو اس کی مذمت نہیں کی جاتی ۔ کسی ظالمانہ کارروائی کی مذمت صرف اس وقت کی جاتی ہے جب کہ اس کی زد خود اپنے آپ پر پڑرہی ہو۔ صدام حسین نے ۷ستمبر ۱۹۸۰ کو ایران پر بمباری کی تو عرب حلقہ نے اس کی مذمت نہیں کی ۔ اسی صدام نے ۲ اگست ۱۹۹۰ کو کویت پر حملہ کیا تو پورا عرب حلقہ چیخ اٹھا۔ یہ مزاج برائی کی جڑ ہے ۔ لیکن اگر اس برائی کی کھلی نشاندہی کی جائے تو مقدس ترین لوگ بھی اس کو سننے کے لئے تیار نہ ہوں گے ۔
اس مزاج کو باقی رکھتے ہوئے تسلح بالعقل کی بات کرنا محض ایک خوش خیالی ہے۔ زیادہ اور کچھ نہیں۔
ٹائم میگزین کا شمارہ جس میں ۴ مارچ ۱۹۹۱ کی تاریخ چھپی ہوئی ہے، وہ پیشگی طور پر مجھے آج اس شمارہ میں حکومت روس کے ایڈوائزر پرائماتوف (Yevgeni Primakov) کی ایک تازہ تحریر شائع ہوئی ہے جو صدام حسین اور خلیج کے مسئلے سے متعلق ہے۔
مسٹر پرائماتوف لکھتے ہیں کہ میں صدام حسین سے بار بار ملا ہوں۔ سب سے پہلے صدام حسین سے میری ملاقات ۱۹۶۹ میں ہوئی جب کہ میں پراودا کا رپورٹرنٹ تھا۔ اس وقت صدام حسین بعث پارٹی کے لیڈر تھے، مگر ابھی وہ عراق کے صدر نہیں بنے تھے۔ صدام حسین کے صدر بننے کے بعد ان سے میری بار بار ملاقاتیں ہوئیں، بغداد میں بھی اور ماسکو میں بھی۔ حتی کہ میرے اور ان کے درمیان بے تکلفانہ تعلقات ہوگئے، فروری ۱۹۹۱ میں وہ میخائیل گورباچوف کے نمائندہ کی حیثیت سے کئی بار صدام حسین سے ملے اور عراقی صدر کو کویت سے اپنی فوجیں واپس کرنے کے معاملہ میں بات کی۔
مسٹر پرائماتوف کہتے ہیں کہ صدام حسین سے قریبی تعلق کے بعد میں نے جانا کہ صدام حسین کو پوری بات سے واقفیت نہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے موافق رپورٹوں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، مثال کے طور پر، عرب دنیا میں عراق کی حمایت کے بارہ میں، مغرب میں جنگ کے مخالف مظاہروں کے بارہ میں، عراق کے خلاف اتحادی ملکوں میں اندرونی اختلاف کے بارہ میں۔ اور جہاں تک بڑی خبروں کا تعلق ہے تو ایسی خبر لانے والے کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔
I realized that it was possible Saddam did not have complete informa- tion. He gave priority to positive reports: for example, about the support Iraq was receiving in the Arab World, about the antiwar demonstrations in the West, about the first hints of differences between the allies in the anti-Iraqi coalition. And as for bad news, the bearer could pay a high price. یہی کمزوری تمام مسلم رہنماؤں میں پائی جاتی ہے، حتی کہ مسلمانوں کے مقدس اکابر میں بھی۔ اپنے فرضی تخیلات میں گم رہتے ہیں۔ ان کو ایسے ہی افراد پسند آتے ہیں جو ان کے مفروضات کی تصدیق جو شخص ان سے اختلافی بات کرے وہ ان کی نظر میں فوراً مبغوض ہو جاتا ہے۔ حقیقت حال سے بالکل بے خبر رہتے ہیں۔ وہ ایسے غیر پختہ اقدامات کرتے ہیں جن کا نتیجہ بربادی کے سوا کسی اور صورت میں نکلنے والا نہ ہو۔