Al-Risala · June 1991

زیادہ صحیح اصول

Al-Risala, June 1991, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹیپو سلطان ۱۷۸۲ء سے لے کر ۱۷۹۹ء تک ریاست میسور کے حکمراں تھے۔ اسی زمانہ میں انگریز ہندوستان پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ چنانچہ ٹیپو سلطان کا مقابلہ انگریزوں سے پیش ٹیپو سلطان تنہا اس پوزیشن میں نہ تھے کہ وہ انگریز کی جدید فوجوں کا مقابلہ کر سکیں۔ انھوں نے کوشش کی کہ فرانس کو ایک انگریز مخالف معاہدہ میں شریک کریں ، مگر فرانس راضی نہ ہو سکا۔ اس کے بعد انھوں نے عرب، کابل، قسطنطنیہ، ماریشس کی حکومتوں کے پاس اپنے وفود بھیجے تاکہ ان سے انگریز کے مقابلہ میں فوجی تعاون حاصل کریں، مگر اس میں بھی انھیں کامیابی نہیں ہوئی۔ اسی طرح انھوں نے ہندوستان کی اس وقت کی ریاستوں کو انگریز مخالف مہم میں اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی، مگر ریاستوں نے اس کو خودکشی کے ہم معنی سمجھا۔ چنانچہ کوئی ریاست اس کے لیے تیار نہ ہو سکی۔

آخر کار ٹیپو سلطان تنہا انگریزوں سے لڑ گئے نتیجہ پہلے سے معلوم تھا۔ ۴ مئی ۱۷۹۹ء کو سرنگا پٹم میں انگریز کی گولی نے ان کا خاتمہ کر دیا۔ ٹیپو کی یہ جنگ یقینی طور پر بے فائدہ تھی۔ تاہم ٹیپو سلطان نے یہ کہہ کر اس کو صحیح قرار دیا کہ : شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہے۔ ٹیپو سلطان کا یہ جملہ مسلم شاعروں اور خطیبوں کو بہت پسند ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس جملہ میں بہادری ضرور ہے۔ لیکن اس میں بصیرت اور دانش مندی نہیں۔ اگر یہ کوئی مطلق طور پر اعلیٰ اصول ہو تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب (مہاجرین) کو مکہ میں شیر کی طرح لڑ کر شہید ہو جانا چاہیے تھا، نہ کہ وہ ایک ایسا طرزِ عمل اختیار کریں جس نے اغیار کو یہ موقع دیا کہ وہ اس کو "فرار" سے تعبیر کرنے لگیں۔

اس کے برعکس مثال حیدر آباد کے نظام علی خاں کی ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے انھوں نے ۱۷۹۸ء میں انگریزوں سے صلح کا معاہدہ کر لیا۔ ان کی ریاست بدستور قائم رہی۔ اس طرح ریاست حیدر آباد کو موقع ملا کہ ۱۷۹۸ء سے لے کر ۱۹۵۶ء تک مسلمانوں اور اسلامی اداروں کی غیر معمولی خدمت کر سکے۔ ٹیپو سلطان کے مذکورہ قول کے مقابلہ میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ایک دن کے لیے "گیدڑ بن جانا آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ سو سال تک "شیر" بن کر رہ سکے۔

Printed page