تلخ حقیقت
Al-Risala, January 1991, pp. 26–29
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈر کیا کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مغل دور میں ہمارے اوپر ظلم کیا گیا اب ہم اس کا انتقام لیں گے۔ اس سے قطع نظر ظلم کا دعویٰ صحیح ہے یا غلط ۔ سوال یہ ہے کہ اگر مغل حکمرانوں نے ظلم کیا تو ان کو اپنے ظلم " سے کیا ملا۔ اس کا نتیجہ جو ان کے حصہ میں آیا وہ صرف یہ تھا کہ ان کی
حکومت کمزور ہو گئی۔ اور آخر کار ۱۸۵ میں وہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی۔
اسی طرح ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈ کہتے ہیں کہ انگریز یوں نے ہمارے اور ظلم کیا۔ قطع نظر کہ ظلم کا دعویٰ صحیح ہے یا غلط ۔ دو بارہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انگریز یوں کو اپنے ظلم سے کیا ان کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ ملک کے اندر ان کے اقتدار کی جڑیں اکھڑ گئیں۔ اور ۱۹۴۷ میں آخری طور پر ان کا اقتدار ختم ہو گیا۔
ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈر کہتے ہیں کہ ملک کی آزادی کے بعد کانگریس پارٹی کی جو حکومت بنی، اس کی پالیسی اقلیت کو خوش کرنے (appeasement) کی تھی۔ چنانچہ مسلسل ہندوؤں کے اوپر ظلم کرتی رہی۔ اس سے قطع نظر کہ ظلم کا یہ دعویٰ صحیح ہے یا غلط ۔ سوال یہ ہے کہ کانگریس کو اس ظلم“ سے کیا ملا۔ اس کو صرف یہ ملا کہ وہ کمزور ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ ۱۹۸۸ کے الیکشن نے اس کے حق میں اقتدار سے بے دخلی کا فیصلہ کر دیا۔
ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈروں نے دوبارہ ظلم کا طریقہ اختیار کیا ہے، وہ بھی اپنے پیش روؤں کی طرح ظلم کے راستہ پر چل رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ انتہا پسند لیڈر اپنے لئے کیا پسند کر رہے ہیں۔ کیا وہ دوبارہ اسی تباہی کی سیٹ پر بیٹھنا چاہتے ہیں جس کو ان کے کہنے کے مطابق مغلوں اور انگریز یوں اور کانگریسیوں نے خالی کیا ہے۔ اگر انھوں نے اپنے لئے اسی راستہ کا انتخاب کہا ہے تو کیا انھیں معلوم نہیں کہ قدرت کا قانون سب کے لئے یکساں ہے۔ وہ ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا ۔ جس ظلم نے پہلے حکمرانوں کو پیچھے دھکیل دیا، وہی ظلم نئے حکمرانوں کے ساتھ کیا اس کے سوا کوئی اور سلوک کرے گا جو وہ پہلے حکمرانوں کے ساتھ کرتا رہا ہے۔ پھر یہ انتہا پسند لوگ اپنے لئے کس انجام کا انتظار کر رہے ہیں۔
ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈروں کو ممکن ہے کہ اپنی منفی سیاست کا یہ سیاسی فائدہ ملے کہ وہ ووٹروں کی ایک تعداد کی نظر میں ان کے قومی ہیرو بن جائیں ۔ اس طرح ممکن ہے کہ وہ اگلا ملکی الیکشن جیت لیں اور حکومت کی کرسیوں پر اپنے آپ کو پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں مگر جتنا امکان اس بات کا ہے ، اس سے زیادہ امکان اس کا ہے کہ ان کی موجودہ مفسدانہ کارروائیوں کی بنا پر قدرت کا قانون ان کے خلاف حرکت میں آجائے۔ اس کے بعد وہ ظالموں کے خانہ میں لکھ دئے جائیں۔
اور آخر کار ذلت کے ساتھ انھیں اقتدار کی کرسیوں سے ہٹا دیا جائے جس طرح پہلے لوگ ہٹا دئیے
موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کو عمل کا موقع دیا جاتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ قدرت کا قانون یہ بھی ہے کہ جب ایک گروہ سماج کے اندر فساد اور بگاڑ پیدا کرنے لگے تو اس کو ہٹا کر دوسرے گروہ کو اس کی جگہ پر لایا جائے۔ تبدیلیٔ قیادت کا یہ قانون ساری انسانی تاریخ میں برابر جاری رہا ہے۔ اور بلا شبہ ہندوستان قدرت کے اس عمومی قانون سے مستثنیٰ نہیں۔ وقار کی لڑائی ۱۹۴۷ء سے پہلے ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ یہ ہندوستان کے وقار کے خلاف تھا کہ باہر کی ایک قوم آکر یہاں حکومت کرے۔ چنانچہ اس کے خلاف آزادی کی تحریک شروع ہوئی۔ قربانیوں کے بعد ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو ہندوستان آزاد ہو گیا۔
اب یہ ہونا چاہئے تھا کہ ہندوستان کے لوگ ایک ہو کر ملک کو ترقی دینے میں لگ جاتے۔ مگر ایسا نہ اس کی وجہ یہ تھی کہ آزادی ملک کے بٹوارہ کے روپ میں آئی۔ ملک کے لوگ دو بڑے فرقوں کی صورت میں بٹ گئے ۔ ایک نے مطالبہ کیا کہ ”تقسیم ہند“ دوسرے نے اس کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ”اتحاد ہند“ اس حریفانہ سیاست کا نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد بھی وقار کا مسئلہ ملک سے ختم نہیں ہوا۔ اس کے بعد بھی وہ ”ہندو وقار“ اور ”مسلم وقار“ کی صورت میں بدستور باقی رہا۔ ۱۹۴۷ء سے مسلسل یہ صورت حال جاری ہے کہ جب بھی کوئی نزاعی معاملہ پیدا ہوتا ہے تو موجودہ نفسیات کی بنا پر وہ فوراً دونوں فرقوں کے لئے وقار کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ مثلاً ہندوؤں کا ایک جلوس نعرہ لگاتا ہوا مسلم محلہ سے گزرتا ہے۔ اب وہاں کے مسلمان فوراً یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کا ملی وقار مجروح ہو رہا ہے۔ وہ مانگ کرتے ہیں کہ جلوس کی روٹ کو بدلا جائے۔ اس کے بعد ہندو وہ وقار جاگ اٹھتا ہے۔ ہندو سمجھتا ہے کہ اگر میں نے اپنے جلوس کا راستہ بدلا تو میرا قومی وقار ختم ہو جائے گا۔ طرف سے ضد بڑھتی ہے۔ دونوں اس منفی نفسیات میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کو قرآن میں حمیت جاہلیہ کہا گیا ہے (الفتح ۲۶ )۔
یہی صورت بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی کے قضیہ میں پیش آئی۔ ۱۹۸۶ء کے بعد جب یہ نزاع
بڑھی تو مسلمانوں نے کہا کہ ہمارے لئے یہ صرف ایک مسجد کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملت کی موت وحیات کا اس لئے ہم اس معاملے میں کسی قیمت پر پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ ہندوؤں نے کہا کہ یہ ہمارے لئے صرف ایک مندر کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمارے لئے دوسری شکست (second defeat) کا مسئلہ ۱۹۴۷ء میں ہم نے بٹوارہ کو مان کر پہلی بار شکست قبول کرلی تھی۔ اب ہماری حکومت ہے۔ دوسری بار شکست کو قبول نہیں کریں گے۔ اس طرح ایک سادہ سا مسئلہ دو فرقوں کے لئے وقار کا مسئلہ اور جب کوئی مسئلہ وقار کا مسئلہ بن جائے تو اس کی پیچیدگی ہزاروں گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ وقار کی یہ لڑائی پچھلے پچاس سال سے جاری ہے اور اس نے ہندوستان کی ترقی کے سفر کو ایک بندگی (impasse) کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ جب تک وقار کا جھگڑا ختم نہ ہو، ملک کی ترقی کا سفر دوبارہ جاری ہونے والا نہیں۔
تاریخ کا تجربہ ہے کہ اس طرح کا مسئلہ کبھی دو طرفہ بنیاد (bilateral basis) پر ختم اسی قسم کا پیچیدہ مسئلہ جب بھی ختم ہوتا ہے، وہ یک طرفہ بنیاد (unilateral basis) پر ختم ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ یک طرفہ اقدام کون کرے۔
حالات کا بے لاگ تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ ہندو، کم از کم موجودہ حالات میں، اس یک طرفہ اقدام کے لئے ہرگز تیار نہیں ہو سکتا۔ ہندو و نفسیات کی پیچیدگی یہ ہے کہ ابھی تک وہ "فرسٹ ڈیفیٹ" کا صدمہ لئے ہوئے ہے۔ اور اب چونکہ ملکی نظام میں اس کو بالا دستی (upper hand) حاصل ہے، اس لئے وہ کسی بھی حال میں اس چیز کو قبول کرنے پر راضی نہیں جس کو وہ اپنی موجودہ نفسیات کے تحت اپنے لئے سیکنڈ ڈیفیٹ کا مسئلہ سمجھتا ہے۔