سائنس کی واپسی
Al-Risala, June 1991, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک درخت جس کی جڑ کٹی ہوئی ہو، اس کو زمین میں لگائیں تو پہلے دن وہ بظاہر ہرا بھرا دکھائی دے مگر اگلے ہی دن اس کی پتیاں مرجھانا شروع ہو جائیں گی۔ یہاں تک کہ وہ سوکھ کر ختم ہو جائے گا۔ حال موجودہ زمانہ میں الحاد اور انکار مذہب کا ہوا ہے ۔ ابتدا میں ایسا معلوم ہوتا تھا گویا مذہب کا دور ختم ہو گیا، اور اب انسانی تاریخ ہمیشہ کے لیے لامذہبیت کے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ مگر جلد ہی یہ تمام خیالات بکھر گئے ۔ مذہب نئی طاقت کے ساتھ دوبارہ انسانی زندگی میں لوٹ آیا۔
انیسویں صدی کے آخر تک علمی دنیا میں اس چیز کا زور تھا جس کو پر جوش طور پر علمی الحاد کہا جاتا ہے۔ مگر بیسویں صدی میں سائنس میں جو نئی تحقیقات ہوئیں، )Scientific atheism( انھوں نے علمی الحاد کو بے زمین کرنا شروع کر دیا۔
بیسویں صدی کے آغاز میں سر جیمز جینز نے اعلان کیا تھا کہ جدید سائنس نے جو کائنات دریافت کی ہے، وہ مشینی توجیہہ )Mechanical interpretation( کو قبول کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ اب اس صدی کے آخر میں نظریاتی طبیعیات دانوں )Theoretical physicists( کی بڑی تعداد ایسی پیدا ہو گئی ہے جو کائنات کی تشریح ایسے انداز میں کر رہی ہے جس کے مطابق ، خدا کو مانے بغیر کائنات کی توجیہہ ممکن نہیں ۔
اس سلسلہ میں ۱۹۸۸ میں ایک قابل ذکر کتاب چھپی ہے ۔ یہ ۲۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ نام اور مصنف کا نام حسب ذیل ہے :