Al-Risala · June 1991

غلط فہمی

Al-Risala, June 1991, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

کویت پر عراقی قبضہ کے بعد کویت کا حکمران خاندان سعودی عرب چلا گیا تھا۔ دوبارہ جب کویت عراقی قبضہ سے آزاد ہوا تو کویت کے ولی عہد سعد الصباح ۴ مارچ ۱۹۹۱ کو اپنے وطن واپس آئے۔ کویت ایئر پورٹ پر وہ اپنے ہوائی جہاز سے اترے تو ایک واقعہ ہوا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے فوٹوگرافر نے فوراً اس کا فوٹو لے لیا۔ یہ فوٹو ٹائمز آف انڈیا، اور ہندوستان ٹائمز (۶ مارچ ۱۹۹۱) کے صفحہ اول پر شائع ہوا ہے۔ مقابل کے صفحہ پر ہم اس کو نقل کر رہے ہیں۔

اس تصویر کے نیچے جو تشریحی الفاظ چھاپے گئے ہیں وہ یہ ہیں: "کویت کے ولی عہد سعد الصباح خلیج کی جنگ کے بعد ۴ مارچ کو جلاوطنی سے واپس آئے ۔ ہوائی جہاز سے اترنے کے بعد کویت ایئر پورٹ پر وہ اپنے وطن کی زمین کو چوم رہے ہیں۔ " امریکی نیوز ایجنسی کے نمائندہ نے دیکھا کہ سعد الصباح سات مہینہ کے بعد اپنے وطن واپس آئے تو ہوائی جہاز سے باہر آنے کے بعد انھوں نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی۔ اس نے اپنے ذہن کے تحت سمجھا کہ بچھڑے ہوئے وطن کو دوبارہ پا کر وہ اس کی زمین کو چوم رہے ہیں۔ حالاں کہ اصل واقعہ یہ تھا کہ انھیں اللہ کا انعام یاد آیا اور وہ سجدہ شکر کے طور پر زمین پر گر پڑے۔ سعد الصباح کے لئے وہ اللہ کے سامنے مومنانہ سجدہ تھا، مگر غیر مسلم اخبار نویس کے ذہن میں وہ زمین کا سجدہ بن گیا۔ انسانوں کے درمیان اکثر غلط فہمیاں اسی طرح پیدا ہوتی ہیں۔ غلط فہمی حقیقتاً غلط توجیہہ کا دوسرا نام ہے۔ آدمی دوسرے کے بارے میں ایک بات سنتا ہے یا دوسرے کے کسی واقعہ کو دیکھت اور پھر اپنے ذاتی ذہن کے مطابق بطور خود اس کو ایک معنی پہنا دیتا ہے۔ ایسے موقع پر صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی نے جو کچھ دیکھا یا سنا ہے، اس کے بارے میں وہ مزید تحقیق کرکے پوری بات معلوم کرے۔ اور پھر پوری معلومات کی روشنی میں کوئی رائے قائم کرے۔ ایسا نہیں کرتا۔ وہ پیش آمدہ معاملہ کے بارہ میں غیر ذمہ دارانہ طور پر ایک رائے قائم کر لیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بھیانک غلطی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ "سجدہ الہی" کو "سجدہ زمین" سمجھ لیتا ہے۔ وہ ایک موحدانہ واقعہ کو مشرکانہ واقعہ بنا دیتا ہے۔

ایسا اگر جان بوجھ کر کیا جائے تو وہ بہتان ہے جو اللہ کے نزدیک بہت بڑا جرم ہے۔ اگر حقیقتِ حال آدمی کے علم میں نہ ہو تب بھی وہ یقینی طور پر قصور وار ہے۔ کیوں کہ شریعت میں اس قسم کی بات کی تحقیق کا لازمی حکم دیا گیا ہے۔ ایسے کسی معاملہ میں آدمی اگر اپنی زبان کھولنا چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ پہلے اس کی ضروری تحقیق کرے۔ اور اگر وہ کسی وجہ سے تحقیق نہیں کرسکتا ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ میں چپ رہے، نہ کہ ناکافی معلومات کو لے کر اس پر بولنے لگے۔

Printed page