Al-Risala · June 1991

اتحاد کی طاقت

Al-Risala, June 1991, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹائیکو برا (Tycho Brahe) ۱۵۲۶ میں پیدا ہوا، اور ۱۶۰۱ میں پراگ میں اس کی وفات ہوئی۔ جو ہانس کپلر (Johannes Kepler) ۱۵۷۱ میں پیدا ہوا، اور ورٹمبرگ میں ۱۶۳۰ میں اس کی وفات ہوئی۔ دونوں فلکیات کے شعبہ میں تحقیق کر رہے تھے، مگر دونوں میں سے کوئی بھی اس حیثیت میں نہ تھا کہ وہ عالم افلاک میں کوئی بڑی حقیقت دریافت کر سکے۔

ٹائیکو براہہ اور کپلر دونوں ہم عصر تھے۔ مگر ایک چیز دونوں کے لئے کسی بڑی فلکیاتی دریافت میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ وہ یہ کہ دونوں میں سے کوئی بھی اپنے موضوع کے ہر گوشہ پر مہارت نہ رکھتا تھا۔ ٹائیکو براہہ نے کثرت سے فلکیات کا مشاہدہ کیا تھا۔ وہ اپنے مشاہدات کو قلم بند کرتا تھا، فلکیاتی مشاہدات کے بارہ میں یہ تحریری ذخیرہ اس کے پاس کافی مقدار میں جمع ہو گیا تھا۔ مگر علم الافلاک کا دوسرا پہلو یعنی سے تعلق رکھتا ہے، اور ٹائیکو براہہ ریاضی میں کمزور تھا۔ اس بنا پر اس کو یہ قدرت حاصل نہ تھی کہ اپنے مشاہدات کو ریاضی کی کلیات میں مربوط کر سکے۔

دوسری طرف کپلر کا معاملہ یہ تھا کہ وہ فلکیاتی مشاہدہ میں کوئی مہارت نہ رکھتا تھا۔ وہ بہت کم مشاہدہ کرتا تھا۔ اس کے زمانہ میں اگر چہ دور بین دریافت ہو چکی تھی، مگر علاوہ دور بین سے کام نہ لے سکا تھا۔ اس کی خصوصیت صرف یہ تھی کہ وہ ریاضیات کا ماہر تھا اور حسابی طور پر اس نے فلکیات کے بارہ میں بہت سے قیمتی نظریات وضع کئے تھے۔

یہاں ٹائیکو براہہ کی فراخ دلی نے کام کیا۔ ٹائیکو براہہ اور کپلر میں اگر چہ ذاتی حتی کہ کپلر نے اپنے ایک خط میں ٹائیکو براہہ پر منافقت کا الزام لگایا تھا اور اس کو بہت برا بھلا کہا تھا، مگر ٹائیکو براہہ ہے، اپنی تیز مزاجی کے باوجود ، کپلر پر غصہ نہیں آخر وقت میں اس نے سوچا کہ میرے علمی ذخیرہ کا سب سے بہتر وارث کپلر ہی ہو سکتا چنانچہ اس نے کپلر کی گستاخیوں کو بھلاتے ہوئے اس کو اپنے پاس بلایا اور ۱۶۰۱ میں

اپنی موت سے پہلے اپنا پورا تحریری ذخیرہ بلا معاوضہ کیپلر کے حوالہ کر دیا۔ جب ٹائیکو براہے کے مشاہدات کا سارا سرمایہ کیپلر کے پاس آگیا تو کیپلر کی کمی کی تلافی ہو گئی۔ اب اس نے اپنے دماغ کی تمام ریاضیاتی قوت کو ان مشاہدات کے ساتھ مربوط کرنے میں لگا دیا۔ اس کا نتیجہ ان تین کلیات کی صورت میں نکلا جو کیپلر کے سہ گانہ قوانین حرکتKepler's کے نام سے مشہور ہیں۔ ان قوانین کو Kepler's laws of planetary motion) استعمال کرتے ہوئے بعد کو سر آئزک نیوٹن (۱۶۲۷ - ۱۷۲۷) نے قوت کشش کے بارہ میں اپنی دریافت مکمل کی۔ یہی موجودہ دنیا میں کسی بڑی کامیابی کا راز ہے۔ ہر آدمی کی اپنی محدودیت ہوتی ہے۔ اس بنا پر کوئی بھی شخص تنہا کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ کوئی بڑا کام اس وقت انجام پاتا ہے جب کہ کئی لوگ اپنی صلاحیتوں اور اپنی کوششوں کو ایک رخ پر لگانے کے لئے راضی ہو جائیں۔ متحدہ کوشش کے بغیر اس دنیا میں کسی بڑے واقعہ کو ظہور میں لانا ممکن نہیں۔ مگر متحدہ کوشش کی ایک قیمت ہے ۔ اور وہ قیمت ہے ________۔ اختلاف کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اتحاد کی بات پر ایک دوسرے سے جڑنا۔ اختلاف کے باوجود لوگوں کے ساتھ متحد ہو جانا۔

انسان کے اندر اختلاف کا پایا جانا لازمی ہے ۔ اس دنیا میں اخلاص کے باوجود لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ اختلاف سے بچنا کسی طرح ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں عملی بات صرف یہ ہے کہ لوگ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا حوصلہ پیدا کریں۔ اجتماعی مفاد کے لئے انفرادی پہلوؤں کو بھلا دیں۔ بڑی چیز کی خاطر چھوٹی چیزوں کو نظر انداز کر دیں۔ کے تقاضے کے لئے اپنی ذات کے تقاضوں کو دفن کر دیں۔

اسی کا نام بلند حوصلگی اور اعلیٰ ظرفی ہے۔ اور اس بلند حوصلگی اور اعلیٰ ظرفی کے بغیر اس دنیا میں کسی بڑے منصوبہ کو تکمیل تک پہنچا نا ممکن نہیں۔

Printed page