Al-Risala · June 1991

قومی مسئلہ

Al-Risala, June 1991, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

دسمبر ۱۹۹۰ میں میں امریکہ اور جاپان کے سفر پر تھا۔ تین ہفتہ کے اس سفر کے دوران میری ملاقات کویت کے ایک باشندہ سے ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کویت میں نہایت آرام کی زندگی گزار رہے تھے ۔ ۲ اگست ۱۹۹۰ کو جب عراقی صدر صدام حسین نے دولاکھ مسلح فوج کویت میں داخل کردی اور اس پر قبضہ کر لیا تو اچانک انھوں نے پایا کہ ان کی جان ، مال ، عزت ، سب کچھ غیر محفوظ ہے۔ اپنا سب کچھ چھوڑ کر کویت سے بھاگے ۔ طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرتے ہوئے وہ باہر کے ایک ملک میں پہنچ گئے جہاں انھیں پناہ گزیں کی حیثیت سے قیام کرنا پڑا۔ گفتگو کے دوران مذکورہ کویتی مسلمان نے کہا کہ آپ لوگ انڈیا میں ہم سے بہت بہتر ہیں۔ ایک بڑے ملک کے شہری ہیں۔ آپ کے ساتھ یہ حادثہ پیش نہیں آسکتا کہ کسی بیرونی ملک کی فوجیں اچانک آپ کے ملک میں گھس آئیں اور آپ کے اوپر زبردستی قبضہ کر لیں۔ جب کہ کویت ایک بہت چھوٹا ملک ہے۔ وہ کسی بھی وقت دوسروں کی دستبرد سے محفوظ نہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ دیکھئے۔ اسی صدام حسین نے اس سے پہلے ایران پر حملہ کیا اور آٹھ سال (۱۹۸۸ - ۱۹۸۰) تک اس سے لڑتا رہا۔ مگر وہ ایران کا کچھ بگاڑ نہ سکا۔ کیوں کہ ایران ایک بڑا ملک تھا۔ اور اب اسی صدام حسین نے صرف ایک دن کے اندر پورے کویت پر قبضہ کر لیا۔ کیوں کہ کویت ایک چھوٹا ملک

Printed page