مسئلہ کیا ہے
Al-Risala, June 1991, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
مجھے کویت کے باشندہ کی یہ بات بہت درست معلوم ہوئی۔ پھر میں نے سوچا کہ جب ایسا ہے تو انڈیا کے سرحدی صوبوں ۔ پنجاب ، کشمیر، آسام ، میں علیحدگی کی تحریکیں کیوں چل رہی ہیں۔ حالانکہ یہ صوبے اگر انڈیا سے الگ ہو جائیں تو وہ کویت سے بھی زیادہ کمزور اور بے سہارا ہوں گے۔ ایسی حالت میں علیحدگی کے پر شُور مطالبہ کا کیا حاصل۔ جن لوگوں کو ایک بڑے ملک کا شہری ہونے کا درجہ حاصل ہے ، وہ اپنے کو چھوٹے ملک کا شہری بنانے پر کیوں تلے ہوئے ہیں۔ اس سوال پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس نادانی کا اصل سبب وہ چیز ہے جس کو مذہب
میں عدم قناعت کہا گیا ہے۔ یعنی ملی ہوئی چیز کو کم سمجھنا، اور جو چیز نہیں ملی اس کو زیادہ خیال کرنا۔ آسام اور پنجاب اور کشمیر والوں کو آج بھی بہت کچھ ملا ہوا ہے۔ مگر وہ اس پر قانع نہیں۔ ہیں کہ کچھ لوگوں کو بعض اعتبار سے ان سے زیادہ حاصل ہے۔ وہ نہ ملے ہوئے پر نظر جمانے کی وجہ سے ملے ہوئے کی قدر نہیں کر پاتے ۔ وہ نہ ملے ہوئے کو لینے کی فکر میں اپنے ملے ہوئے کو بھی برباد کر رہے ہیں۔
شیخ محمد عبد اللہ یہ سوچتے تھے کہ انڈیا سے الحاق شدہ کشمیر میں وہ صرف ”چیف منسٹر“ بن سکتے اور اگر کشمیر ایک علیحدہ ملک کی حیثیت حاصل کرلے تو وہ اس کے ”پرائم منسٹر“ کہے جائیں گے۔ اس تخیل نے ان کے اندر آزاد کشمیر کا نظریہ پیدا کیا۔ یہی نظریہ ہے جس نے دوبارہ زندہ ہو کر کشمیر میں موجودہ خون ریز تحریک کی صورت اختیار کر لی ہے۔
اسی قسم کے سنہرے خواب ہیں جو کشمیر، پنجاب، آسام ، ہر جگہ کے لیڈروں کو علیحدگی کی تحریک پر اکسائے ہوئے ہیں ۔ مگر یہ صرف خام خیالی ہے۔ اگر بالفرض یہ علاقے انڈیا سے الگ ہو جائیں اور وہاں کے لیڈر اپنے چھوٹے چھوٹے ملکوں کے پرائم منسٹر بن جائیں تو مسئلہ ختم نہیں ہو جائے گا بلکہ وہ شدید تر صورت اختیار کرلے گا۔ کیوں کہ ان کے مفروضہ آزاد ملک میں بھی پرائم منسٹر صرف ایک ہی شخص بنے گا۔ بقیہ تمام لوگ بدستور غیر پرائم منسٹر بن کر رہنے پر مجبور ہوں گے۔ اس کے نتیجہ میں دوبارہ نئی صورت میں مفادات کا ٹکراؤ شروع ہو جائے گا۔
اس کے بعد یہ ہوگا کہ آج جو ٹکراؤ " صوبہ اور مرکز" کے درمیان ہے، وہ خود صوبہ، آزاد ملک کے ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان شدید ترشکل میں پیدا ہو جائے گا۔ کے نتیجے میں طرح طرح کی خرابیاں جنم لیں گی۔ " آزاد ملک " ترقی کی طرف سفر کرنے کے بجائے آپس کی لڑائیوں اور بے شمار نئے نئے مسائل کے درمیان پھنس کر رہ جائے گا۔ جس کی ایک قریبی مثال آج بھی بنگلہ دیش کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سیاست کو نتیجہ رخی (result-oriented) ہونا چاہیے۔ صحیح ترین اصول یہ ہے کہ جو چیز حاصل ہونے والی نہیں اس میں مشغول ہو کر اپنی قوت کو ضائع نہ کرو ، بلکہ حاصل ہونے والی چیز میں اپنی محنت کو لگاؤ ۔ کیوں کہ سیاست دراصل ممکن کا