ایک اور مثال
Al-Risala, June 1991, pp. 32–33
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح ایک اور سفر میں میری ملاقات بنگلہ دیش کے ایک مسلمان سے ہوئی۔ جارہے تھے تاکہ وہاں اپنے لئے کوئی معاشی کام تلاش کریں۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں نے پاکستان سے لڑ کر اپنا ملک الگ بنایا تھا۔ اور اس کو آپ لوگ ”سونار بنگلہ “ کہتے تھے۔ پھر اب پاکستان میں کیوں آپ اپنا مستقبل بنانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ سب لیڈروں کے نعرے تھے۔ یہ ہے کہ بنگلہ دیش بننے سے پہلے ہم لوگ آج سے بہت زیادہ بہتر تھے۔
اس معاملہ پر غور کیجئے تو زندگی کی ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ آزاد بنگلہ دیش کی تحریک کیوں چلی اور ۱۹۴۷ میں بنگلہ دیش پاکستان سے الگ کیوں ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ۱۹۷۱ میں جب تقسیم ہوئی اور مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کی صورت میں ایک علیحدہ ملک بنا تو اس وقت پنجابی لوگ فوج اور دوسرے سرکاری عہدوں پر چھائے ہوئے تھے۔ یہ صورت حال پاکستان بننے کے بعد بھی برقرار رہی۔ اس سے بنگلہ دیش والوں میں ناراضگی پیدا ہوئی ۔ انھوں نے سمجھا کہ ہم انگریزوں کی غلامی سے نکل کر پنجابیوں کی غلامی میں آگئے ہیں۔ چنانچہ وہاں دوبارہ آزادی کی نئی تحریک چل پڑی۔ مگر یہ تحریک محض ایک جذباتی تحریک تھی۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ بنگلہ دیش کے لوگوں کے پچھڑے پن کا سبب ان کا تعلیم میں پچھڑا پن تھا۔ یہ دوسروں کی غلامی کا مسئلہ نہ تھا بلکہ خود اپنی کمی اور کوتا ہی کا مسئلہ تھا۔ اس کا صحیح حل یہ تھا کہ وہ پاکستان میں شریک رہتے ہوئے اپنی تعلیمی کمی کو دور کرنے کے لئے محنت کرتے۔ مگر بنگلہ دیش کے سطحی لیڈروں نے ان کی اس بے چینی کا سیاسی استحصال کیا۔ اور اپنی کمزوریوں کا الزام پاکستان پر ڈال کر نفرت کی ایک دھواں دھار تحریک چلادی۔
کے نتیجہ میں بنگلہ دیش نے سیاسی آزادی تو حاصل کر لی ۔ مگر اس سیاسی آزادی کے بعد جو ملک بنا وہ صرف ایک کمزور اور بدحال ملک تھا۔ عالمی نقشہ میں اس کی کوئی قیمت نہ تھی۔ جب اصل سبب دور نہ کیا گیا ہو تو انقلاب صرف ایک نئی بربادی کے ہم معنیٰ ثابت ہوتا ہے۔
اس وقت پنجاب ، آسام ، اور کشمیر میں علیحدگی پسندی کی جو تحریکیں چل رہی ہیں ، ان سب کی مشترک غلطی یہی ہے ۔ ان صوبوں کے لوگوں کو کچھ شکایتیں ہیں ۔ یہ شکایتیں بالفرض درست ہوں ، تب بھی ان کے اسباب کچھ اور ہیں۔ مگر ان صوبوں کے لیڈروں نے ساری ذمہ داری " نئی دہلی " پر ڈال کر علیحدگی کی تحریک چلا دی۔ اگر بالفرض یہ تحریکیں کامیاب ہو جائیں اور انھیں ان کی مطلوبہ آزادی مل جائے تو یہ ان کے لئے موجودہ صورت حال سے بھی زیادہ برا ہو گا۔ وہ ایک کمزور اور بدحال ملک کی حیثیت سے زندہ رہیں گے ۔ وہ صرف نیا بنگلہ دیش بنائیں گے ، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ اس دنیا میں جب بھی کسی شخص یا گروہ کو کوئی محرومی پیش آتی ہے تو وہ خود اپنی کسی کمی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ دوسروں سے لڑنے کے بجائے خود اپنی کمی کو دور کرے۔ اگر اس نے اپنی داخلی کمی کو دور کر لیا تو اس کی خارجی کمی اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔