آخری بات
Al-Risala, June 1991, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
ملک کے موجودہ حالات میں کچھ لوگ مایوسی کا شکار ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں۔ وہ صرف تشویشناک ذہن کے ساتھ ملک کے غیر یقینی مستقبل کا انتظار کر رہے ہیں۔ طبقہ وہ ہے جس کو پرامید طبقہ کہا جا سکتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات ایک تخلیقی ابال کی حیثیت (transitional turmoil) یا ایک تحویلی شورش (creative ferment) مگر ان کے پاس بھی کہنے کے لئے کوئی واضح اور مثبت بات نہیں۔ دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ پہلا گروہ اگر مجہول ناامیدی میں مبتلا ہے تو دوسرا گروہ مجہول امید میں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ حالات لوگوں کی بے شعوری کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں۔ اور لوگوں کو باشعور بنا کر ہی ان حالات کو درست کیا جا سکتا ہے۔ قوم کو باشعور بنانا ایک مستقل کام ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں (مثلاً امریکہ اور جاپان) میں بہت بڑے پیمانہ پر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ یہ ممالک موجودہ ترقی کے درجہ تک پہنچ سکیں۔
مگر ہندوستان میں قوم کی شعوری تعمیر کا کام سرے سے انجام نہیں دیا گیا ۔ نہ ۱۹۴۷ سے پہلے اور نہ ۱۹۴۷ کے بعد۔ مجھے پچھلے سو سال کے اندر کوئی ایک بھی ایسی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی جس کو حقیقی معنوں میں تعمیر شعور کی مہم کا عنوان دیا جاسکے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری قومی امیدیں ناکام ہوئی ہیں، اور یہی وہ مقام ہے جہاں عمل کر کے ہم اپنی قومی امیدوں کو دوبارہ اپنے حق میں واقعہ بنا سکتے ہیں۔ حج کا سفر خدا کی طرف سفر ہے۔ حج حق تعالیٰ سے ملاقات دوسری عبادتیں اللہ تعالیٰ کی یاد ہیں جب کہ حج خود اللہ تعالیٰ تک پہنچ جانا ہے۔ عام عبادت اگر غیب کی سطح پر خدا کی عبادت ہے تو حج شہود کی سطح پر خدا کی عبادت کرنا ہے۔
صفحات ۱۱۳ قیمت ۳۰، مختصر صفحات ۴۸ قیمت ۵ روپیہ)