ایک سفر
Al-Risala, June 1991, pp. 36–37
By Maulana Wahiduddin Khan
جغرافی اعتبار سے کرہ ارض کو دو نصف حصہ (Hemisphere) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نصف حصہ (Eastern Hemisphere) اور دوسرا مغربی نصف حصہ (Western Hemisphere) پہلے نصف میں یورپ، ایشیا، افریقہ، آسٹریلیا شامل ہیں۔ دوسرے نصف میں امریکہ اور بحر الکاہل
پچھلے ۲۰ سال کے دوران مجھے بار بار بیرونی دنیا کے سفر پیش آئے ہیں۔ مگر میرے اب تک کے تمام سفر مشرقی نصف کرہ میں ہوئے ہیں۔ مغربی نصف کرہ میں سفر کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ موجودہ سفر اسی مغربی نصف کرہ ارض میں ہوا۔ یعنی دہلی سے ٹوکیو، اور ٹوکیو سے لاس اینجلنز۔ اور پھر اسی راستہ سے دہلی کے لئے اس طرح اب میرے اسفار میں پورا کرہ ارض طے ہو گیا۔ یہ انسان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا کیسا عجیب معاملہ ہے کہ وہ فضا کی بلندیوں میں اڑتے ہوئے پورے کرہ ارض کا احاطہ کر لیتا ہے، بغیر اس کے کہ کوئی پہاڑ یا کوئی سمندر اس کی راہ میں حائل ہوا ہو۔
امریکی حکومت ویزا دینے کے بارہ میں بہت فراخ دل ہے۔ میرے سفر کے سلسلہ میں ایک مہینہ کے ویزا کی درخواست دی گئی تھی۔ مگر نئی دہلی کے امریکی سفارت خانہ نے بطور خود ایک سال کا ملٹی پل ویزا (Multiple visa) دے دیا۔ ۱۹۸۹ میں نئی دہلی کے امریکی سفارت خانہ نے 58500 ویزا جاری کئے تھے۔
مگر اسی کے ساتھ بے اصولی کرنے والوں کے لئے امریکی انتظامیہ بے حد سخت بھی ہے۔ جو لوگ ویزا کے لئے غلط قسم کے کاغذات پیش کریں۔ ان پر ساری عمر کے لئے امریکہ میں داخلہ بند کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً بعض لوگ اسٹوڈنٹ ویزا پر امریکہ گئے ۔ وہاں پہنچ کر انھوں نے غیر قانونی طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔ اس طرح کے واقعات کی بنا پر یہ قاعدہ بنایا گیا ہے کہ جو شخص ویزا کی درخواست میں غلط اندراج کرے یا فرضی ڈاکومنٹ پیش کرے ، اس کو ساری زندگی کبھی امریکہ میں داخلہ کا ویزا نہ دیا جائے (ہندوستان ٹائمس ۱۳ جون ۱۹۹۰)
۱۸ اور ۱۹ نومبر ۱۹۹ کے درمیانی رات کو ۱۲ بجے گھر سے ایرپورٹ کے لئے روانہ ہوا۔
میں دو جگہ ٹرکوں کی لمبی لائن لگی ہوئی تھی۔ معلوم ہوا کہ آجکل ڈیزل کی سپلائی کم کر دی گئی ہے۔ نیز رات کو صرف چند پٹرول پمپ کھلے ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ لمبی لائن ہے۔ ہر لائن میں سو کے قریب ٹرک کھڑے ہوئے نظر آئے۔ میں نے سوچا کہ یہاں ٹرک ہے۔ انجن لگی ہوئی گاڑی ہے۔ ڈرائیور بھی اس کے اندر بیٹھا ہوا ہے۔ غرض ہر چیز موجود ہے ، صرف ایک چیز ”ایندھن“ نہیں ہے، اس کی وجہ سے تمام گاڑیاں کھڑی ہو گئیں۔ ایک ”ٹرک“ ایندھن کے بغیر نہیں چل سکتا۔ پھر اتنی بڑی کائنات کس طرح ایندھن کے بغیر ۳۰ بلین سال سے چل رہی ہے۔ آدمی اگر اس پر سوچے تو اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے
دہلی سے جاپان ایئر لائنز کی فلائٹ ۴۹۲ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں پڑھنے کے لئے ایئر کمپنی کا میگزین و نڈس (Winds) موجود تھا۔ میں فلائٹ میگزین بہت دلچسپی کے ساتھ پڑھتا مگر اس میں کوئی خاص چیز میرے پڑھنے کے لئے نہ تھی۔ تین سو صفحہ کا یہ رنگین چھپا ہوا میگزین زیادہ تراشتہارات سے بھرا ہوا تھا۔ چند معمولی قسم کے مضمون تھے۔ مثلاً ایک مضمون جاپان کی رسلنگ پر تھا۔ ایک مضمون کا عنوان تھا :