Al-Risala · June 1991

Technology for the benefit of mankind

Al-Risala, June 1991, pp. 37–39

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے سوچا کہ ایک مصلح بھی وہی زبان بولتا ہے جو ایک تاجر بولتا ہے۔ مگر دونوں میں ایک فرق ہے۔ تاجر کا اصل مقصد تجارت ہے۔ مگر وہ شخصی الفاظ نہ بول کر عمومی انسانی الفاظ بولتا ہے۔ مگر مصلح جو لفظ بولتا ہے وہی

اس کا اصل مقصد بھی ہوتا ہے۔ گویا تاجر کی شخصیت میں ثنویت ہوتی ہے اور مصلح کی شخصیت میں وحدت۔ قدیم زمانہ میں دو قسم کی سواریاں رائج تھیں۔ ایک بری اور دوسری بحری۔ موجودہ زمانہ میں تیسری سواری وجود میں آئی ہے جو باعتبار نوعیت ابتدائی دونوں قسم کی سواریوں سے یکسر مختلف ہے۔ آج ہوائی سواری اس سے بھی زیادہ عام ہے جتنا قدیم زمانہ میں بری یا بحری سواری عام تھی۔ قدیم سواریوں میں تکمیل سفر کے بعد آدمی ” اندر سے باہر“ آتا تھا۔ جدید سواری میں وہ ” اوپر سے نیچے“

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اولاد آدم ایک دوسرے کی دشمن ہوگی۔ یہ دشمنی (عداوت) ایک اخلاقی برائی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہی دشمنی (کاپیٹیشن) دنیا کی تمام ترقیوں کا واحد سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہوئی۔ ابتدائی قسم کا ہوائی جہاز سب سے پہلے دو شخصوں نے، ۱۷ دسمبر ۱۹۰۳ء کو اڑایا تھا۔ مگر اس فن کی ترقی صرف اس وقت شروع ہوئی جب کہ فرانس اور جرمنی نے اس میں جنگی افادیت (war potential) کو محسوس کیا۔ ان دونوں ملکوں نے اس ”فلائنگ مشین“ کو ترقی دین شروع کیا۔ تاکہ وہ بوقت جنگ اس کو استعمال کر سکیں۔ اگست ۱۹۱۴ میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی تو فرانس نے تقریباً دو ہزار ہوائی جہاز تیار کر لئے تھے اور جرمنی کے پاس ایک ہزار جنگی جہاز تھے۔ ہوائی جہاز کی صنعت نے ابتدائی جنگ کی برکت سے ترقی کی۔ ۱۹۱۹ میں جب پہلی باقاعدہ کمرشیل فلائٹ کا آغاز نہ ہوا تو وہ بھی زیادہ تر استعماری عزائم کے تحت تھا ۔ جنگ پسندوں نے ابتدائی ہوائی جہاز کو ترقی دی، اس کے بعد امن پسندوں کو بھی اس کا ایک حصہ مل گیا۔

رابرٹ رنسی (Robert Runcie) ۱۹۲۱ میں پیدا ہوئے۔ وہ کیتھولک چرچ میں آرک بشپ آف کینٹر بری کے منصب پر ہیں۔ سفر کی بابت انھوں نے ایک دلچسپ بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ قرون وسطی میں لوگ مذہب کے لئے سفر کرتے تھے۔ جب کہ آج وہ اس لئے سفر کرتے ہیں کہ سفر ان کا مذہب ہے :

In the middle ages people were tourists because of their religion, ہماری پہلی منزل بینکا ک تھی جو تھائی لینڈ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہاں ایئر پورٹ پر تقریباً

ایک گھنٹہ گزرا۔ ایئر پورٹ بہت صاف اور منظم تھا۔ ٹائیلٹ سے لے کر باہر کے مقامات تک کہیں کوئی تنکا یا دھبہ نظر نہیں آیا۔

طالب علمی کے زمانہ میں مجھے ڈاک ٹکٹ جمع کرنے کا شوق تھا، مجھے ایک ٹکٹ ملا جس پر سیام لکھا ہوا یہ غالباً ۱۹۳۹ء کی بات ہے۔ اس وقت جو ملک "سیام" کہا جاتا تھا، اس کا موجودہ نام تھائی لینڈ ہے۔ پچاس برس پہلے یہ ٹکٹ صرف کاغذی ٹکڑے کی حیثیت رکھتا تھا۔ آج وہ ٹکٹ اگر موجود ہو تو وہ نہایت قیمتی شمار ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچاس برس پہلے وہ صرف ڈاک کا ایک ٹکٹ تھا، مگر آج وہ تاریخ کی ایک دستاویز بن چکا ہے۔

تھائی لینڈ کی راجدھانی بینکاک ہے۔ بینکاک کی آبادی پچاس لاکھ سے زیادہ ہے۔ تھائی لینڈ کی تمام سیاسی اور تمدنی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ چنانچہ تھائی لینڈ کے تمام روزنامے بینکاک سے اسی طرح یہاں کے بیشتر ہفت روزہ اور ماہنامہ پرچے بھی۔ یہ پرچے تھائی، انگلش اور چینی زبانوں میں ہوتے ہیں۔

جہاز بینکاک سے ٹوکیو کے لئے روانہ ہوا تو راستہ میں پڑھنے کے لئے تھائی لینڈ کا انگریزی اخبار نیشن (The Nation) تھا۔ اس کے شمارہ ۱۹ نومبر ۱۹۹۰ء کا مطالعہ کیا۔ ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ برما کی فوجی حکومت نے مخالف برمی طلبہ کی داروگیر کی تو ۲۰۰ طلبہ وہاں سے بھاگ کر تھائی لینڈ آگئے ان میں سے تقریباً ۸۰۰ طلبہ اقوام متحدہ کے ادارہ مہاجرین: (UNHCR)

Printed page