United Nations High Commissioner for Refugees
Al-Risala, June 1991, pp. 39–47
By Maulana Wahiduddin Khan
کے تحت رجسٹرڈ ہیں، ان کو ادارہ کی طرف سے پناہ گزیں کے طور پر ماہانہ الاؤنس (3,000 Bt.) مگر تھائی لینڈ کی حکومت ان برمی طلبہ کے خلاف ہوگئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بار بار کی تنبیہ کے باوجود یہ لوگ پر امن قیام پر راضی نہیں۔ وہ تھائی لینڈ کو میں بنا کر برمی حکومت کے خلاف سرگرمیوں (anti-Rangoon political activity) میں مصروف ہیں۔ تھائی لینڈ میں مقیم برمی طلبہ دو جہازوں کو ہائی جیک کر چکے ہیں ایک اکتوبر ۱۹۹۰ میں دوسرا نومبر ۱۹۹۰ میں ۔ انھوں نے کہا: They had made the move to publicize the Burmese people's struggle to democracy.
برمی طلبہ کی تنظیم (All Burma Students Democratic Front) کے لیڈر نے کہا کہ ہماری تنظیم کا کوئی تعلق ہائی جیکنگ کے اس قابل مذمت واقعہ سے نہیں ہے۔ وہ ہمارے کچھ برے افراد (few bad individuals) نے کیا تھا۔ اسی قسم کے جواب ہندوستان میں مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر بھی دیتے ہیں۔ مگر جواب ان کے لئے عذر نہیں۔ کیوں کہ "برے افراد" کا ہاتھ پکڑنے کی ذمہ داری سب سے پہلے ان کی قوم پر آتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنے برے افراد کے ہاتھ نہ پکڑے تو خدائی قانون کے مطابق اُن افراد کی برائی کی قیمت پوری قوم کو بھگتنی پڑے گی۔ ایک امریکی جرنلسٹ ملے۔ ان سے خلیج کے بحران کی بابت گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ سفارتی ذرائع سے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش مشکل ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ جنگ ہو تو اس میں بہت سی جانیں ضائع ہوں گی اور اس سے امریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچے گا :
A diplomatic solution may be messy, but fighting would cost too many lives and damage America’s interests. اس جواب سے امریکی ذہن کا اندازہ ہوتا ہے۔ خلیج کا مسئلہ ۲ اگست ۱۹۹۰ کو پیدا ہوا۔ فوجیں اس کے فوراً بعد خلیج میں پہنچ گئیں۔ وہ جدید ترین سامانِ جنگ کے ساتھ عراق اور کویت کی سرحدوں پر موجود ہیں۔ مگر اب تک امریکہ نے کوئی جنگی اقدام نہیں کیا۔ کیوں کہ ان کا مذہب "انٹرسٹ" ہے، اور انٹرسٹ کے نقطہ نظر سے جنگی کارروائی کا فائدہ مشتبہ نظر آتا ہے۔ برعکس اگر کوئی مسلم ملک اتنی بڑی طاقت کے ساتھ وہاں موجود ہوتا تو اب تک جنگ کا آغاز اور اختتام دونوں ہو چکا ہوتا۔ خواہ اس کے نتیجہ میں "شہیدوں" کی لاش کے سوا اور کوئی چیز مسلم دنیا کے حصہ میں نہ آئے (۱۹ نومبر ۱۹۹۰)
ایک اور امریکی جرنلسٹ سے گفتگو ہوئی ۔ وہ ہندوستان کے سیاسی حالات سے اس نے کہا کہ آپ کے ملک میں منڈل کمیشن اور رام جنم بھومی کے مسائل پیش آئے۔ سابق وزیر اعظم مسٹر وی پی سنگھ لوگوں کو مطمئن نہ کر سکے۔ چنانچہ پارلیمنٹ میں انھیں عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنا پڑا جس میں انھیں ۳۴۶ کے مقابلہ میں صرف ۱۴۲ ووٹ ملے۔ انھوں نے ۷ نومبر کو اپنا استعفا صدر کے پاس بھیج دیا۔ امریکہ کے لوگوں میں بھی صدر بش کے خلاف ناراضگی (resentment)
مگر ہمارے صدرِ جارج بش خوش قسمت ہیں کہ وہ وزیرِ اعظم یں۔ اگر وہ وزیرِ اعظم ہوتے تو یقیناً آج اُنہیں بھی عدم اعتماد کی تحریک کے سامنا کرنا پڑتا:
Mr Bush is lucky that he is not a Prime Minister.-- he would surely have been facing a non-confidence motion. اس سے ہندوستان اور امریکہ کے نظام حکومت کا فرق کا اندازہ ہوتا ہے۔ وزیر اعظم اور صدر حکومت کا عہدہ الگ الگ ہے۔ امریکہ میں یہ دونوں عہدے ایک شخص کی ذات میں جمع ہوتے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر دنیا کا سب سے زیادہ طاقتور انسان ہوتا ہے۔ 19 نومبر کو دو پہر سے کچھ پہلے ٹوکیو پہنچا۔ یہاں جہاز نہ بدلنا تھا، اس لئے چند گھنٹے ٹوکیو ایئر پورٹ پر یہاں میں نے ایئر پورٹ کے ایک شخص سے "ٹوانلٹ" کے بارہ میں پوچھا۔ وہ غالباً انگریزی نہیں جانتا تھا، وہ مجھے بتائے بغیر آگے چلا گیا۔ اتنے میں ایک صاحب میرے قریب آئے۔ انھوں نے اردو میں بولتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو ٹوائلٹ جانا ہے، آئیے میں آپ کو لے چلتا ہوں۔ ہم ایک سیڑھی سے نیچے اترے تو وہاں نہایت صاف ستھرا ٹوائلٹ موجود تھا۔
میں نے فراغت کے بعد وضو کیا۔ باہر نکلا تو مذکورہ صاحب دوبارہ ملے۔ انھوں نے بتایا کہ میرا نام محمد راشد ہے۔ میں دہلی میں رہتا ہوں اور ایکسپورٹ کا کام کرتا ہوں۔ کئی بار جاپان آ چکا ہوں۔ ایک اردو داں کو پا کر خوشی ہوئی۔ میں نے کہا کہ مجھے نماز پڑھنا ہے۔ یہاں قبلہ کی سمت معلوم کرنا بے حد مشکل اندازہ کر کے ایک طرف پڑھ لیتا ہوں۔ انھوں نے فورا اپنے بیگ سے ایک "قبلہ نما" اور ایک کتا بچہ نکالا۔ اور اندازہ کر کے بتا یا کہ یہ قبلہ کارخ ہے۔ چنانچہ میں نے اس کے مطابق ایئر پورٹ پر نماز ادا کی۔
میں نے سوچا کہ یہ بھی کیسی عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ اسلام کے لئے ایک مرکزی رخ مقرر کیا اور اسی کے ساتھ دنیا میں ایسے ذرائع پیدا کر دئے کہ دنیا کے کسی بھی گوشہ میں اور کسی بھی مقام پر اس مرکزی رخ کو بالکل ٹھیک ٹھیک معلوم کیا جاسکے۔ اتنے اعلیٰ اجتماعی انتظام کے بعد بھی اگر مسلمان متحد نہ ہوں تو یہ سادہ طور پر محض ایک کوتاہی نہیں ہے بلکہ یہ خداوندِ عالم کی ناقدری ہے۔ ٹوکیو ایئر پورٹ پر اور جاپانی جہاز میں بہت سے تجربات ہوئے جن کا ذکر میں سفر نامہ کے آخر میں کروں گا۔
ٹوکیو سے لاس اینجلس کے لئے جاپان ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر ۶۲ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ گھنٹہ کی مسلسل پرواز تھی جو پوری کی پوری بحر الکاہل کے اوپر طے ہوئی ۔ کُرہ ارض کا تقریبا اے فی صد حصہ سمندروں سے گھرا ہوا ہے۔ ان میں سب سے بڑا سمندر بحر الکاہل (Pacific Ocean) ہے ۔ متصل سمندروں کو چھوڑتے ہوئے صرف بحر الکاہل تمام سمندروں کا ۴۵ فیصد حصہ ہے ۔ اس کی اوسط گہرائی ۱۲۹۲۵ فٹ ایک ساحل سے دوسرے ساحل تک اس کا فاصلہ تقریباً گیارہ ہزار میل ہے۔
اس عظیم سمندر کے مقابلے میں تمام انسانوں کی مجموعی تعداد ایک چیونٹی سے زیادہ حقیقت نہیں مگر یہی انسان اس کے اوپر فاتحانہ پرواز کرتے ہوئے ایک مقام سے دوسرے مقام تک انسان کے اوپر اللہ تعالی کا یہ کیسا عجیب احسان ہے۔ میں نے نیچے سمندر کی لہروں کو دیکھا تو ایسا محسوس ہوا جیسے یہ لہریں کہہ رہی ہوں کہ اے انسان ، ان احسانات کو سوچ کر تیرے اندر شکر خداوندی کا سیلاب امڈ پڑنا چاہئے ۔ مگر دنیا میں شاید ہی کوئی انسان ہو جس نے سمندر کی ان بیتاب لہروں میں اس کے ربانی پیغام کو سنا ہو۔
میں ہمیشہ صرف ایک ہینڈ بیگ کے ساتھ سفر کرتا ہوں ۔ مگر اس بار میرے ساتھ کتابوں کے دو بڑے بنڈل تھے جس کی فرمائش امریکہ کی ایک تنظیم کی طرف سے کی گئی تھی ۔ ۱۹ نومبر کی شام کو میں لاس اینجلس کے ہوائی اڈہ پر اترا تو سب سے پہلے مجھے ان دونوں بنڈلوں کو حاصل کرنا تھا۔ ایک جگہ ہوائی اڈہ کی مخصوص گاڑیاں کھڑی تھیں جن پر سامان رکھ کر لوگ باہر لے جاتے ہیں۔ میں نے ایک گاڑی لینا چاہا تو وہ ایک اڈ سے چپکی ہوئی نظر آئی۔ معلوم ہوا کہ اس کا کرایہ ایک ڈالر ادا کرنا ہے۔ میں نے ایک مخصوص مشین کے اندر ایک ڈالر کا نوٹ ڈالا۔ اس کے بعد گاڑی اپنے آپ چھوٹ کر باہر آگئی۔ جس دنیا میں اس طرح کی فوری نتائج نکلتے ہوں وہاں موت کے بعد نکلنے والے نتائج پر یقین کرنا کتنا مشکل کام ہے۔ کتابوں کا بنڈل لے کر ایئر پورٹ کے بیرونی گیٹ پر آیا تو وہاں جناب ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی موجود وہ اسلامک سوسائٹی آف آرنج کاؤنٹی کے ڈائرکٹر ہیں اور بڑی عجیب خوبیوں کے آدمی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس قسم کے ادارہ کے لئے آئیڈیل ڈائرکٹر ہیں۔ ان کے ساتھ بذریعہ روڈ گارڈن گروو پہنچا جہاں مجھے قیام کرنا تھا۔
ایک شخص جو لاس اینجلس کے شاندار ہوائی اڈہ پر اترے اور اس کے بعد پر رونق سڑکوں "سالانہ جون 1991ء
پر سفر کرتا ہوا اپنی منزل کی طرف روانہ ہو، وہ مشکل سے یہ سوچ سکتا ہے کہ اس خوب صورت دنیا میں کچھ سیاہ دھبے بھی ہیں۔ مگر واقعہ یہی ہے۔
ایک رپورٹ (ٹائم ۱۸ جون ۱۹۹۰) کے مطابق، لاس اینجلس میں ماں باپ سے باغی یا بچھڑے ہوئے لڑکے بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ ان کے ۵۰۰ سے زیادہ گینگ ہیں جن سے تقریبا ۸۰ ہزار لڑکے وابستہ ان لوگوں کے پاس پستول اور بندوق جیسے ہتھیار ہوتے ہیں۔ وہ قتل اور چوری اور منشیات جیسے جرائم میں مبتلا رہتے ہیں۔
ٹائم میگزین کے رپورٹر نے ایک پندرہ سالہ لڑکے سے پوچھا کہ تم نے فلاں آدمی کو کیوں اس نے کہا کہ وہ ایک دشمن تھا۔ وہ دشمن کیوں تھا، لڑکا اس کا کوئی جواب نہ دے سکا۔ نے کہا کہ مجھے اس قسم کے فعل پر کوئی ندامت نہیں۔ وقتی طور پر کچھ احساس ابھرتا ہے، اس کو ختم کرنے کے لئے میں قتل سے پہلے شراب پی لیتا ہوں (صفحہ ۲۰)
ٹائم نے اپنی تین صفحہ کی با تصویر رپورٹ ان الفاظ پر ختم کی ہے کہ لاس اینجلس کے اندرون شہر کے یہ نوجوان، زمین کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ سماج کے بیچ میں رہتے ہیں۔ وہ مصیبت زدگی اور محرومی کا جواب قدیم قبائل کی بھونڈی نقل کی طرف واپسی کے ذریعہ دے رہے ہیں: ...while inner-city youth of Los Angles, at the center of the most advanced society of earth, respond to adversity and deprivation by regressing to a primitive parody of tribes (p. 22). امریکہ کے لئے میرا موجودہ سفر ایسے وقت میں ہوا جب کہ امریکی فوجیں اگست ۱۹۹۰ سے خلیج میں عراق کا محاصرہ کئے ہوئے ہیں۔ قدرتی طور پر آجکل یہاں کے اخبارات میں سب سے زیادہ اسی کا چرچا ہوتا ہے۔ ایک اخبار میں اس موضوع پر مفصل مضمون تھا۔ اس کے چند حصے یہ ہیں : صدام حسین ایک غیر فوجی آدمی ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ امریکہ خلیج سے نو ہزار میل کی دوری پر ہے۔ فوجوں کو یہاں پہنچنے میں کئی دن لگ جائیں گے۔ وہ امریکہ کی مدد پہنچنے سے پہلے کویت اور سعودی عرب دونوں کو زیر کرنے میں کامیاب ہو چکے ہوں گے۔ مگر عراق کے اقدام کے بعد امریکہ نے انتہائی سرعت کے ساتھ ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کو خلیج میں پہنچا کر تمام دنیا کو حیران کر دیا۔
نہ صرف عراق کو گھیر لیا ہے بلکہ اس کے خلاف کارروائی کے لئے اپنے ہدف مقرر کر لئے ہیں۔ امریکہ کا بمبار ۵۲ وہ فوجی طیارہ ہے جو چالیس ٹن وزنی بم اٹھا سکتا ہے۔ ایسے ۳۰ طیارے عراق کی تمام اہم تنصیبات کو چند گھنٹوں کے اندر تباہ کر سکتے ہیں ۔ یہ ویت نام نہیں جہاں غیر موافق جغرافیہ کی وجہ سے امریکہ کو ہدف نہیں ملتا تھا۔ یہ تو صحرا ہے جہاں ہدف خود طیارے کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔
صدام حسین کو معلوم ہو چکا ہے کہ امریکہ کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ ان کے طیاروں اور میزائلوں کو فضا میں ابھرنے سے پہلے ہی تباہ کر سکتا ہے۔ اسی لئے انھوں نے امریکہ کے ”آپریشن ڈیزرٹ شیلڈ“ کا مقابلہ آپریشن ہیومن شیلڈ“ سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ صرف صدام حسین کی انتہائی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔ "ٹائم" میگزین ۳۱ دسمبر ۱۹۹۰ کے بیان کے مطابق، یکم فروری ۱۹۹۱ تک امریکی فوجیں چار لاکھ تیس ہزار کی تعداد میں خلیج میں پہنچ چکی ہوں گی)
امریکہ کو دریافت کرنے والے کی حیثیت سے کولمبس کو زیادہ شہرت حاصل ہے۔ مگر امریکہ کا نام کولمبس کے نام پر نہیں۔ اس کا نام اٹلی کے ایک تاجر امریگو (Amerigo Vespucci) کے نام پر ہے۔ کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ وہ ۱۴۹۷ میں امریکہ پہنچا تھا۔ جب کہ کولمبس اس سے کئی سال پہلے امریکہ کے ساحل پر اتر چکا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کولمبس کی دریافت کے باوجود امریکہ کو ایشیا ہی کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا۔ کی مہم نے یہ ثابت کر دیا کہ امریکہ ایک علیحدہ براعظم ہے:
He established that the newly discovered lands West of the Atlantic were not a part of Asia but constituted a separate land mass (19/97). کولمبس کا نام مشہور ہے مگر امریکہ اس کے نام پر نہیں۔ آمیریگو کا نام مشہور نہیں مگر امریکہ کو اسی کی نسبت سے امریکہ کہا جاتا ہے۔ ایک کی ذات نے شہرت پائی اور دوسرے کے کام نے۔
امریکہ کا نقشہ آپ سامنے رکھیں تو آپ پائیں گے کہ اس میں ریاستوں کی حد بندی بالکل حسابی انداز میں سیدھی لکیروں کی صورت میں کی گئی ہے۔ نقشہ کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ امریکہ ایک ترقی یافتہ
اس کے برعکس ہندوستان کا نقشہ دیکھئے ۔ اس میں ریاستی سرحدوں کی تقسیم ٹیڑھی میڑھی (zig zag) صورت میں نظر آئے گی ۔ ہندوستان کے کچھ اہل علم کی رائے ہے کہ اس معاملہ میں انڈیا کے
نقشہ کو جدید معیار پر لایا جائے ۔ مثال کے طور پر ٹائمس آف انڈیا ( ۲۳ جون ۱۹۹۰) میں مسٹر پر دیپ شنائے (Pradeep Shenoy) کا مضمون چھپا تھا۔ انھوں نے ہندوستان میں ریاستوں کا نقشہ امریکی انداز میں مقرر کرنے کی تجویز پیش کی تھی ۔ ان کا مجوزہ نقشہ نیچے درج کیا جاتا ہے ۔
۱۹۴۷ سے پہلے کانگریس پارٹی نے عوام کو اپنے ساتھ لینے کے لئے جو وعدے کئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ ریاستوں کی تقسیم لسانی بنیاد پر کی جائے ۔ یہ خالص مصلحت پرستانہ سیاست تھی۔ اس کی قیمت ہندوستان کو یہ دینی پڑی کہ آزادی کے بعد لسانی ریاستوں کا مطالبہ نہایت شدت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔ اب اس کے موافق نہ تھے۔ مگر انھوں نے محسوس کیا کہ اگر ہم نے اس مطالبہ کو نہ مانا تو کانگریس کے لئے ریاستوں میں الیکشن جتنا مشکل ہو جائے گا ۔ دوبارہ مصلحت پرستانہ سیاست کے تحت ملک کی تقسیم زبان کی بنیاد پر کر دی گئی۔
امریکہ میں قیام کے دوران میں زیادہ تر جناب صغیر اسلم صاحب کے ساتھ رہا۔ ان کو میں نے الرسالہ کا ایک مضمون یاد دلایا۔ میں نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ اس طرح رہنا چاہتا ہوں کہ میں آپ کے لئے کسی بھی اعتبار سے مسئلہ نہ بنوں بلکہ کامل طور پر ”مسٹر نو پرابلم" بن کر رہوں ۔ مثلاً کھانے میں آپ میرے an ideal division
لے کسی بھی قسم کا کوئی اہتمام نہ کریں۔ جو کچھ آپ روزمرہ کھاتے تھے، بس وہی مجھ کو کھلائیں۔ ان کی اہلیہ خوش قسمتی سے نہایت سادہ مزاج کی ہیں، اس لئے اس شرط پر عمل کرنے میں کوئی زحمت پیش نہیں آئی۔ صغیر اسلم صاحب کے ساتھ لمبی مدت تک رہ کر مجھے اندازہ ہوا کہ ان کے مزاج میں اور میرے مزاج میں بہت زیادہ مطابقت ہے۔ یہاں کے لوگوں میں وہ اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک منفرد انسان نظر انھوں نے ایک روز کہا :
After the Almighty God made me, He threw the mould away. میں نے کہا کہ اس میں اتنی تبدیلی کر لیجیے کہ اس مولڈ سے اللہ تعالیٰ نے دو انسان بنائے۔ ایک آپ کو اور دوسرے مجھ کو۔ آپ اس مولڈ کا (finished product) ہیں اور میں اس مولڈ کا
یہاں پہلے دن میں ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی کے ساتھ ٹھہرا تھا۔ اس کے بعد آخر وقت تک میرا قیام جناب صغیر اسلم صاحب کے یہاں رہا۔ یہ دونوں صاحبان بہت زیادہ میرے ہم مذاق ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ نہایت سنجیدہ اور متواضع انسان ہیں۔ ان سے گفتگو کر کے بہت خوشی ہوتی ہے۔ وہ یہاں اسلامک سوسائٹی کے ڈائرکٹر ہیں۔ اسی کے ساتھ اپنے گھر پر بھی انھوں نے اسلامی ماحول بنارکھا ہے۔ وہ اس بات کی ایک مثال ہیں کہ کس طرح آدمی ہر ماحول کے اندر اپنا ماحول بناسکتا ہے۔ ایک صاحب جو " اسلامی حکومت" قائم کرنے کے علمبردار ہیں، انھوں نے ڈاکٹر صاحب پر نقد کرتے ہوئے کہا کہ آپ اتنے دنوں سے امریکہ میں ہیں۔ نے یہاں کیا کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا : آپ میرے کام کو میرے معیار سے جانچئے نہ کہ اپنے بنائے ہوئے معیار سے۔ میں نے تو الحمد للہ بہت کچھ کیا ہے۔ یہ آپ کو بتانا ہے کہ آپ اتنے دنوں سے اسلامی حکومت کی تحریک چلا رہے ہیں۔ آپ نے کیا کیا۔
صغیر اسلم صاحب بزنس کرتے ہیں۔ وہ بہت خوبیوں کے آدمی ہیں۔ ان کا ایک اصول مجھے بہت اس کو میں اپنے لفظوں میں " چلو یہ بھی ٹھیک ہے، پرنسپل " کہتا ہوں۔ جب بھی کسی سے کوئی اختلافی بات پیدا ہو تو فورا وہ یہ کہہ کر بات کو وہیں ختم کر دیتے ہیں کہ " چلو یہ بھی ٹھیک ہے! " یہ اصول وہی ہے جس کو اعراض کہا جاتا ہے ۔
مسٹر شاہد چوہدری نے ۱۴ فروری ۱۹۹۱ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ان کا تعلق جس پر چہ سے ہے وہ بیک وقت دو زبانوں میں چھپتا ہے ۔ ہندی میں اس کا نام مایا ہے اور انگریزی میں اس کا نام پروب انڈیا ہے۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر خلیج کے مسئلہ سے تھا۔ اندر دھنش ویڈیو میگزین (نئی دہلی) کی ٹیم ۱۵ فروری ۱۹۹۱ کو اسلامی مرکز میں آئی اور اپنے ویڈیو میگزین کے لئے صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ پندرہ منٹ کا انٹرویو تھا۔ سوال و جواب زیادہ تر بابری مسجد کے مسئلہ کے بارے تھے۔ "خاتونِ اسلام" کا عربی ترجمہ اضافے کے ساتھ تیار ہو گیا ہے۔ یہ ترجمہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں اور مولانا رئیس احمد ندوی نے کیا ہے۔ اس میں کچھ اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ انشاء اللہ عنقریب اس کو چھپوایا جا سکے گا۔ نئی دہلی کے ایک انگریزی ماہنامہ (Indian Indications) نے مسلم مسائل پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو دو صفحات پر اس کے شمارہ فروری ۱۹۹۱ میں شائع ہوا ہے۔ بنگلور کے حلقہ الرسالہ نے "انسان اپنے آپ کو پہچان" اور "حقیقت کی تلاش" کا ترجمہ کنڑ ا زبان میں چھپوایا۔ بنگلور میں غیر مسلم حضرات کا ایک کتابوں کا بڑا اسٹور ہے جس کا نام سپنا بک اسٹور ہے۔ ان کو یہ کتابیں دکھائی گئیں۔ انھوں نے پسند کر کے کچھ کتابیں اپنے یہاں رکھیں ۔ یہ کتابیں جلد ہی فروخت ہو گئیں۔ خود صاحب اسٹور نے بھی ان کو پسند کیا۔ چنانچہ انھوں نے سارا اسٹاک لے لیا۔ انھوں نے بتایا کہ لوگوں نے ان کتابوں کو بہت پسند کیا۔ اور بہت کم مدت میں ساری کتابیں فروخت ہوگئیں۔ ملیالم پر چوں میں برابر الرسالہ کے مضامین ترجمہ کر کے شائع کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملیالم زبان میں مرکز کی کئی کتابوں کے ترجمے شائع ہو چکے ہیں۔ مثلاً : مذہب اور جدید چیلنج ، حقیقت کی تلاش ، اسلام کا تعارف ، پیغمبر انقلاب ، اسلام اور عصر حاضر ، تاریخ کا سبق ۔