Al-Risala · July 1991

کائناتی امکانات

Al-Risala, July 1991, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

لوہے کا ایک ٹکڑا مقناطیس کے پاس لے جائیں تو لوہا اپنے آپ مقناطیس کی طرف کھنچ اٹھے گا۔ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ نے کچھ خاص صفات (properties) رکھ دی ہیں۔ انھیں صفات کی وجہ سے یہ ممکن ہوا ہے کہ آدمی ان چیزوں کو مختلف صورتوں میں تبدیل کر کے انھیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرے ۔ اور اپنے لیے ایک شاندار تمدن کی تعمیر کر سکے ۔ آخرت کا عقیدہ اسی کائناتی امکان کی ایک توسیع ہے۔ کائنات کے امکانات آج " تمدن " کی صورت اختیار کر رہے ہیں۔ یہی امکانات جب " جنت " کی صورت اختیار کر لیں تو اسی کا نام آخرت ہے۔

تمدن وہ تعمیری نتیجہ ہے جو انسان کی کوششوں سے ظہور میں آتا ہے ۔ جنت وہ تعمیری دنیا ہے جو خدا کے فرشتوں کے ذریعہ آخری معیاری صورت میں بنائی جائے گی۔ کائناتی امکانات آج خوبصورت مکان ، متحرک مشین، شاندار شہر ، پُر راحت سامان کی صورت میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ سے آئندہ اسی قسم کی چیزیں زیادہ کامل اور زیادہ معیاری صورت میں بنائی جائیں گی۔ موجودہ دنیا میں ہو رہا ہے ، دوسرا واقعہ آنے والی آخرت کی دنیا میں ہو گا۔ ہزار سال پہلے انسان نے جو گھوڑا گاڑی بنائی ، وہ بھی کائناتی امکانات کا ایک استعمال تھا۔ آج کا انسان جو آٹومیٹک موٹر کار بناتا ہے ، وہ بھی کائناتی امکانات کا ایک استعمال ہے۔ حالاں کہ دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ اسی طرح ان امکانات کا ایک اور زیادہ بڑا استعمال ابھی باقی ہے، اور وہ جنتی دنیا کی تعمیر ہے۔ یہ آخری دنیا موت کے بعد آنے والی زندگی میں بنائی جائے گی۔ یہ ان خوش نصیب افراد کا حصہ ہوگی جنھوں نے موجودہ امتحان کی زندگی میں اس کا استحقاق پیدا کیا ہو ۔ فطرت کے امکانات کا بار بار بہتر دنیاؤں میں ڈھل جانا ایک ایسا واقعہ ہے جس کا تجربہ آج ہی انسان کو ہو رہا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہے کہ فطرت کے یہ امکانات مزید اور زیادہ بہتر دنیا میں ڈھل سکتے ہیں۔ ایک نئی شاندار تر دنیا کی تخلیق کر سکتے ہیں۔ اس معلوم امکان کو جب مذہب کی زبان میں بیان کیا جائے تو اسی کا نام جنت ہے۔

Printed page