حل کیا ہے
Al-Risala, January 1991, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
اس معاملہ میں سوچنے کا ایک طریقہ خالص فرقہ وارانہ ہے۔ یعنی ہندو مسلمانوں کو قصور وار نہ ٹھہرائیں اور مسلمان ہندوؤں کا قصور ثابت کریں۔ یہ طریقہ صرف متعصبانہ ذہنوں کو اپیل کر سکتا ہے ، عام انسان اس کو کوئی اہمیت نہیں دے سکتا۔
دوسرا طریقہ وہ ہے جس کو " منطقی انصاف " کہا جا سکتا ہے۔ یعنی معاملہ کو بالکل منطقی انداز میں دیکھ کر یہ طے کرنا کہ کس کی کتنی غلطی ہے اور کون کتنا قصور وار ہے۔ تمام سنجیدہ لوگ اسی انداز میں لکھ اور بول رہے مثال کے طور پر مسٹر موہن چراغی نے لکھا ہے:
" میری طرح کروڑوں ہندو اپنے ہم مذہب جنونی لوگوں کے دیوانہ پن سے گردن جھکانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ کیا اتنے بڑے ملک میں جہاں لاکھوں مندر اور تیر تھ استھان ہیں ، ایک اور مندر نہ بننے سے ہندو دھرم کا ناش ہو جاتا۔ قصور صرف ہند و فرقہ پرستوں کا نہیں ہے ، مجرم وہ سلمان لیڈر بھی ہیں جنھوں نے مسلمانوں کی غربت ، افلاس ، بیکاری اور مایوسی کا فائدہ اٹھا کر اپنے مفادات کے لئے بابری مسجد کو ہندوستان میں اسلام کی علامت قرار دے کر ہندو فرقہ پرستی کو پنپنے کا موقع دیا۔ کبھی یوم جمہوریہ کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کر کے ، کبھی لانگ مارچ کا نعرہ بلند کر کے اور کبھی آدم فوج بنانے کا اعلان کرکے، وشو ہندو پریشد کے زندہ رہنے کا سامان کیا۔ مجرم تو وہ سیاست داں اور حاکم بھی ہیں جو رام جنم بھومی۔ بابری مسجد کے ڈھانچہ پر سیاسی محل کھڑے کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں " ( قومی آواز ۲ نومبر ۱۹۹۰ )
خالص منطقی اعتبار سے یہ بات صدفی صد درست ہے۔ مگر اپنی ساری درستگی کے باوجود یہ اصل مسئلہ کا حل نہیں۔ پیچیدہ اجتماعی مسائل میں اس قسم کا منطقی انصاف کبھی واقعہ نہیں بنتا۔ یہ انداز نظری اعتبار سے جتنا صحیح ہے ، عملی اعتبار سے وہ اتنا ہی غیر مفید ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے پیچیدہ جھگڑوں کا عملی حل صرف یہ ہے کہ کوئی ایک فریق تنہا ریسک لینے پر آمادہ ہو جائے ، وہ تنہا ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے معاملہ کو یک طرفہ طور پر ختم کر دے ۔ جب دو طرفہ بنیاد پر مسئلہ کو حل نہ کہا جا سکتا ہو تو اس کے بعد مسئلہ کو حل کرنے کی ایک ہی قابلِ عمل صورت ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ اس کو یک طرفہ بنیاد پر حل کیا جائے۔ ایسی حالت میں میں اپنے مسلمان بھائیوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس قربانی کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔ وہ ملک کی ترقی کے لئے اور نتیجہ خود اپنی ترقی کے لئے ، یہ قربانی دیں کہ وہ یک طرفہ طور پر اپنے اندر سے وقار کی مذکورہ نفسیات کو ختم کر دیں۔ قرآن کے الفاظ میں وہ ، کلمۂ جاہلیت کے مقابلہ میں کلمۂ تقویٰ کا ثبوت دیں (الفتح ۲۷) ، موجودہ حالات میں اس مسئلہ کا یہی واحد ممکن حل ہے۔
ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان جب بھی کوئی نزاع پیدا ہو تو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس کو یا تو نظر انداز کر دیں یا اسی محدود دائرہ میں رکھ کر اس کو حل کرنے کی کوشش کریں جس محدود دائرہ میں وہ مسئلہ ابتدائی پیدا ہوا تھا۔ مسلمان کسی بھی حال میں ہرگز ایسا نہ کریں کہ اس کو پوری ملت کے وقار کا سوال بنا دیں۔ یہ طریقہ مسلمانوں کے لئے یک طرفہ قربانی کے ہم معنی ہوگا۔ دن مسلمانوں نے یہ قربانی دے دی ، اسی دن ملک میں ترقی کا نیا سفر شروع ہو جائے گا۔ اور جو سفر شروع ہو جائے وہ آخر کار اپنی منزل پر پہنچ کر رہتا ہے۔
نزاعی مسئلہ کے حل کا یہی وہ یک طرفہ طریقہ ہے جس کا مظاہرہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ (۶۲۸ء) کے موقع پر کیا تھا۔ اس اصول کو ایک لفظ میں حدیبیہ اصول (Hudaybiya principle) کہا جا سکتا ہے۔ اس نازک موقع پر اگر مسلمان اس اصول کا مظاہرہ کریں تو وہ نہ صرف ملک کور ہنمائی دیں گے ، نہ صرف اپنا ملی مسئلہ حل کریں گے بلکہ وہ دنیا کے سامنے اسلام کے ایک قیمتی اصول کی شہادت دیں گے۔ اور بلاشبہ اسلام کی شہادت سے زیادہ بڑا عمل اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔