Al-Risala · July 1991

اسلامی انقلاب کا اثر

Al-Risala, July 1991, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

مغل شہنشاہ جہانگیر (۱۶۲۷۔ ۱۵۶۹) کا واقعہ ہے جس کو مولاناشبلی نعمانی نے نہایت موثر انداز میں نظم کیا ہے۔ ان کی یہ تاریخی نظم عدل جہانگیری کے عنوان سے ان کے مجموعہ کلام میں شامل ہے۔ واقعہ کے مطابق جہانگیر کی محبوب ملکہ نور جہاں نے ایک شخص کو بلا سبب طپنچہ مار کر قتل کر دیا۔ یہ معاملہ شرعی مفتی کے سامنے پیش ہوا۔ علامہ شبلی کے الفاظ میں :

مفتی شرع نے بے خوف و خطر صاف کہا شرع کہتی ہے کہ قاتل کی اڑا دو گردن مفتی کے اس فتویٰ کے بعد نور جہاں ، جہانگیر اور تمام درباری اپنے کو بے دست و پا محسوس کرنے بظاہر اس کے سوا کوئی صورت نہ تھی کہ نور جہاں کو اس جرم کی سزا دی جائے اور مقتول کے بدلے اس کو قتل کر دیا جائے ۔ آخر کار مقتول کے ورثاء دیت لینے پر راضی ہو گئے اور اس طرح نور جہاں کی جان کیوں کہ :

Printed page