خوں بہا بھی تو شریعت میں ہے اک امر حسن
Al-Risala, July 1991, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
بعد کے زمانہ میں جب کہ اسلام کی تاریخ میں بادشاہوں کا دور شروع ہو گیا، اس قسم کے واقعات کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ بڑے بڑے سلطانور کے دربار میں وقت کے علماء ان کی مرضی کے خلاف اسلام کے مسائل بیان کرتے تھے اور کسی سلطان کو جرات نہیں ہوتی تھی کہ اس کے مقابلہ میں انکار اور سرکشی کا مظاہرہ کر سکے۔
اس کی وجہ اسلامی انقلاب کی شدت ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ تاریخ میں جو انقلاب آیا وہ اتنا گہرا اور اتنا شدید تھا کہ ظاہری سطح پر تبدیلیوں کے باوجود مسلم معاشرہ سے کبھی اس کی چھاپ ختم نہ ہوسکی۔ ظالم سلاطین کو بھی ہمت نہ ہوتی تھی کہ کھلے طور پر وہ اسلام اور قرآن کے حکم کی خلاف ورزی کریں۔
تاہم ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ حکمرانوں کے اندر اس مزاج کو باقی رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے سامنے کلمہ حق کہا جائے مگر ان کے اقتدار سے ٹکراؤ نہ کیا جائے۔ کلمہ حق کی حد پر رہنے سے یہ روایت باقی رہتی ہے اور سیاسی اکھڑ پچھاڑ کرنے سے یہ روایتی حد ٹوٹ جاتی ہے۔