ایک خبر
Al-Risala, July 1991, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۲ فروری ۱۹۹۱ کے ٹائمس آف انڈیا اور دوسرے اخبارات میں واشنگٹن کی ڈیٹ لائن کے ساتھ پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ چھپی تھی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ۱۱ فروری کو دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ایک دوسرے سے خلیج کے مسئلہ پر بات چیت کی۔ حالاں کہ دونوں کے درمیان نصف کره ارض کا فاصلہ تھا۔ ان میں سے ایک شخص واشنگٹن میں تھا اور دوسرا شخص عمان میں۔ واشنگٹن میں اے بی سی ٹیلی ویژن کا نمائندہ تھا اور عمان میں بیٹھا ہوا شخص وہ تھا جس کو دنیا اردن کے شاہ حسین کے نام سے جانتی گفتگو اور ملاقات جدید ٹیلی ویژن سسٹم پر ہوئی جو سٹلائٹ کے ذریعہ دونوں کی تصویریں اور ان کی گفتگو ایک دوسرے کو بلا تاخیر پہنچا رہا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیا میں یہ امکان اس لیے رکھا ہے تاکہ انسان یہ سوچے کہ جس دنیا میں انسان اور انسان کے درمیان اس قسم کی بعید ملاقات ممکن ہے، کیا وہاں خود خدا اور انسان کے درمیان اس قسم کی ملاقات ممکن نہ ہوگی۔ قرآن اور حدیث میں اس سوال کا جواب موجود ہے۔ اور وہ یہ کہ ایسی ملاقات ممکن ہے اور بلاشبہ ممکن ہے۔ شرط یہ ہے کہ آدمی اس کے ضروری تقاضوں کو پورا کرے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سجدہ کرو اور اپنے رب سے قریب ہو جاؤ (واسجد واقترب) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا اور بندے کی نزدیکی کے لیے ”سجدہ“ وہی کام کرتا ہے جو انسان اور انسان کی نزدیکی کے لیے سٹلائٹ اور ٹیلی ویژن کرتا ہے۔
حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ احسان یہ ہے کہ تم خدا کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو (كأنك تراه) اسی طرح ایک اور حدیث میں بتایا گیا ہے کہ بندہ جب عبادت اور دعا میں مشغول ہوتا ہے تو وہ اس وقت اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے (بینا جبی ربہ) اس سے معلوم ہوا کہ بندہ اپنے رب کو اس طرح پا سکتا ہے گویا کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔
حتیٰ کہ اس پر یہ تجربہ بھی گزر سکتا ہے کہ وہ محسوس کرے کہ وہ اپنے رب سے ہم کلام ہے۔ قربت اور مشاہدہ اور ہم کلامی تمام تر ایک روحانی تجربہ ہے نہ کہ کوئی مادی واقعہ۔ خدا سے ملنا، حدیث کے الفاظ میں، گویا کہ خدا سے ملنا ہے، اور خدا کو دیکھنا گویا کہ خدا کو دیکھنا۔